ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 5

بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ فَہُمۡ فِیۡۤ اَمۡرٍ مَّرِیۡجٍ ﴿۵﴾
بلکہ انھوں نے سچ کو جھٹلادیا جب وہ ان کے پاس آیا۔ پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں ۔ En
بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب ان کے پاس (دین) حق آ پہنچا تو انہوں نے اس کو جھوٹ سمجھا سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں
En
بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا ہے جبکہ وه ان کے پاس پہنچ چکی پس وه ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ { بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے اپنی جنس میں سے رسول کی آمد کو اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو عجیب قرار دیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب ان کے پاس حق آیا تو اسے سنتے ہی کسی غور و فکر کے بغیر جھٹلا دیا۔
➋ { فَهُمْ فِيْۤ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ: مَرَجَ الْأَمْرُ، أَيْ اِضْطَرَبَ وَالْتَبَسَ وَ فَسَدَ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ } الجھا ہوا معاملہ۔ یعنی سوچے سمجھے بغیر جھٹلا دینے کے بعد اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے بارے میں ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ وہ انھیں جھٹلانے کا کیا جواز پیش کریں، اس لیے وہ کبھی ایک بات کرتے ہیں کبھی دوسری۔ ایک بات پر انھیں قرار نہیں ہے اور وہ سخت ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہتے ہیں، کبھی کاہن، کبھی مجنون (پاگل) اور کبھی ساحر۔ اسی طرح قرآن کو کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تصنیف کیا ہوا کلام کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ کوئی عجمی شخص انھیں سکھا جاتا ہے اور کبھی اسے جادو کہہ دیتے ہیں۔ الغرض، ہر موقع پر کوئی نہ کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی ایسا معاملہ جو ان پر مشتبہ ہوگیا ہے، جس سے وہ ایک الجھاؤ میں پڑگئے ہیں، کبھی اسے جادوگر کہتے ہیں، کبھی شاعر اور کبھی غیب کی خبریں بتانے والا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ چنانچہ یہ لوگ ایک الجھی ہوئی بات [6] میں پڑ گئے
[6] پہلے اعتراض کے متعلق کفار کی بد حواسی :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار اور قرآن کے منزل من اللہ نہ ہونے کی حد تک تو سب کفار مکہ متفق تھے۔ مگر اب انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ پیغمبر اسلام اور قرآن کو کہیں تو کیا کہیں؟ کیونکہ نہ پیغمبر اسلام کوئی عام آدمی تھے اور نہ قرآن کوئی معمولی اور عام کتاب تھی اور یہ باتیں سب کفار کو نظر آرہی تھیں۔ کبھی تو وہ کہتے کہ یہ نبی شاعر ہے اور یہ کتاب شاعری ہے، کبھی کہتے یہ نبی کاہن ہے اور یہ کتاب کہانت ہے، کبھی کہتے یہ نبی جادوگر ہے اور یہ کتاب جادو ہے، کبھی یہ کہتے کہ یہ قرآن تو پرانی کہانیاں ہی ہیں جنہیں یہ نبی خود ہی تالیف کر کے ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ یہ متضاد اور مختلف باتیں خود اس کا ثبوت ہیں کہ یہ لوگ اپنے موقف میں بالکل الجھ کر رہ گئے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَلْ ان کا وہ کلام جو ان سے صادر ہوا ہے، محض عناد اور تکذیب ہے جو صدق کی بلند ترین نوع ہے۔ ﴿ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک الجھاؤ میں پر گئے۔ یعنی وہ ایک مختلف اور مشتبہ معاملے میں پڑے ہوئے ہیں، کسی چیز پر انھیں ثبات حاصل ہے نہ قرار۔ کبھی تو آپ کے بارے میں الزام تراشی کرتے ہوئے کہتے ہیں تو جادوگر ہے کبھی کہتے ہیں تو پاگل ہے اور کبھی کہتے ہیں تو شاعر ہے اسی طرح انھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، ہر کسی نے اپنی فاسد رائے کے تقاضے کے مطابق اس میں کلام کیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس نے حق کی تکذیب کی، وہ مشتبہ معاملے میں پڑا ہوا ہے، اسے کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ قرار آتا ہے۔ اس لیے تو اس کے معاملات کو باہم متناقض اور افک و بہتان پر مبنی پائے گا۔ جو کوئی حق کی اتباع اور اس کی تصدیق کرتا ہے، اس کا معاملہ درست اور اعتدال کی راہ پر ہوتا ہے، اس کا فعل، اس کے قول کی تصدیق کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {بل}: كلامُهم الذي صدر منهم إنَّما هو عنادٌ وتكذيبٌ للحقِّ الذي هو أعلى أنواع الصدق. {لمَّا جاءهم فهم في أمرٍ مَريجٍ}؛ أي: مختلطٍ مشتبهٍ، لا يثبتون على شيءٍ، ولا يستقرُّ لهم قرارٌ، فتارةً يقولون عنك: إنَّك ساحرٌ! وتارةً: مجنونٌ! وتارة: شاعرٌ! وكذلك جعلوا القرآن عِضين، كلٌّ قال فيه ما اقتضاه فيه رأيُه الفاسدُ. وهكذا كلُّ من كذَّب بالحقِّ؛ فإنَّه في أمرٍ مختلطٍ، لا يدرى له وجهٌ ولا قرارٌ، فترى أموره متناقضةً مؤتفكةً؛ كما أنَّ من اتَّبع الحقَّ وصدق به قد استقام أمرُه واعتدل سبيلُه، وصدق فعلُه قيلَه.