ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 33

مَنۡ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ وَ جَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِیۡبِۣ ﴿ۙ۳۳﴾
جو رحمان سے بغیر دیکھے ڈر گیا اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔ En
جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا
En
جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ واﻻ دل ﻻیا ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) ➊ { مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ:} یعنی رحمان کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتا ہے اور اس وقت بھی ڈرتا ہے جب وہ لوگوں سے غائب ہوتا ہے، کوئی اس کے پاس نہیں ہوتا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ خشیت کے ساتھ لفظ رحمان لانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رحمان کا لفظ لانے میں اس شخص کی تعریف مقصود ہے کہ وہ اللہ کی رحمت اور اس کے معاف کر دینے کی صفت کا علم رکھنے کے باوجود اس سے ڈرتا ہے۔ (زمخشری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰی فِيْ ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ] سات آدمی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان میں سے پانچویں کے بارے میں فرمایا: [وَ رَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّيْ أَخَافُ اللّٰهَ] اور وہ آدمی ہے جسے اونچے حسب اور جمال والی عورت نے دعوت دی تو اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اور آخر میں فرمایا: [وَ رَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ] [بخاري، الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳] اور ایک وہ آدمی جس نے اکیلے ہونے کی حالت میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔
➋ { وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبٍ:} یعنی اس کے دل کا رجوع اللہ ہی کی طرف رہتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33۔ 1 مُنِیْبِ، اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کا اطاعت گزار دل۔ یا بمعی سلیم، شرک و مصیت کی نجاستوں سے پاک دل۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ جو رحمن سے بن دیکھے [39] ڈرتا رہا اور رجوع کرنے والا دل [40] لے کر حاضر ہوا
[39] اگرچہ اس کی صفت رحمٰن ہے پھر بھی اس کی عظمت و جلال کی وجہ سے وہ اس سے ڈرتا رہا۔ اس خیال سے کہ شاید اس کا عمل اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتا ہے یا نہیں۔
[40] منیب۔ اناب کے معنی گناہ کے کاموں سے لوٹنا یا باز آنا۔ گناہ کا اعتراف اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔ یعنی اس کا دل ہی ایسا تھا جسے گناہ کے کاموں سے نفرت تھی اور اگر اتفاق سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔