تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” الْخَمْرُ “} کی تفسیر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، چنانچہ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ] ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے (خواہ کسی بھی چیز سے بنی ہو)۔“ [مسلم، الأشربۃ، باب بیان أن کل مسکر خمر…: ۲۰۰۳] خلافت اسلامیہ کو برباد کرنے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک بڑا سبب ہے کہ بعض علماء نے صرف انگور اور کھجور کی شراب پینے پر حد لازم قرار دی، باقی ہر نشہ آور چیز پینے پر حد ختم کر دی، خواہ وہ کسی چیز سے بنی ہو اور خواہ اس سے نشہ کیوں نہ آ جائے۔ اب جن اسلامی خلافتوں میں ام الخبائث کی کئی قسمیں پینے پر حد معاف ہو وہاں رعایا، لشکر اور خلفاء کا کیا حال ہو گا؟
➌ اس آیت اور اس سے اگلی آیت سے شراب اور جوئے کی حرمت سات وجہوں سے ثابت ہوتی ہے، اسی لیے اسے ”ام الخبائث“ قرار دیا گیا ہے: (1) {” رِجْسٌ “} گندی چیز ہے۔ (2) عمل شیطان ہے۔ (3) {” فَاجْتَنِبُوْهُ “} امر کا صیغہ فرض کے لیے ہوتا ہے، چنانچہ اس سے اجتناب فرض ہے، لہٰذا پینا حرام ہے۔ (4) {” لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ “} اس کے ترک سے فلاح کی امید ہے، ورنہ نہیں۔ (5) شیطان اس کے ذریعے سے تمھارے درمیان عداوت اور بغض ڈالنا چاہتا ہے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے والا ہر کام حرام ہے۔ (6) اور تمھیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے۔ یہ بھی اس کی حرمت کی ایک وجہ ہے۔ (7) ”تو کیا تم باز آنے والے ہو؟“ یہ سوال کی صورت میں امر ہے اور امر فرض کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا صحابہ رضی اللہ عنہم نے سن کر کہا {”اِنْتَهَيْنَا اِنْتَهَيْنَا“} یعنی ہم باز آگئے، ہم باز آگئے۔ چنانچہ صحابہ نے شراب کے مٹکے توڑ دیے اور شراب گلیوں میں بہنے لگ گئی۔ اتنی صراحتوں کے باوجود کفار کے نمائندے کئی لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں شراب کہاں حرام ہے؟
➍ {” الْمَيْسِرُ “} علماء نے لکھا ہے کہ جس چیز میں بھی ہار جیت پر شرط لگائی جائے وہ جوا ہے، لاٹری، قسمت کی پڑی، انعامی بانڈ، انعامی معمے، انعامی سکیمیں سب جوئے کی قسمیں ہیں۔ کئی ظالم جوئے والی سکیموں پر عمرے یا حج کا انعام رکھ کر لوگوں کو پھنساتے ہیں، یاد رکھیں حرام مال اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا نہ حرام کے ساتھ کی ہوئی عبادت قبول ہے۔ انشورنش (بیمہ) سود اور جوئے کا بدترین مرکب ہے، بولی والی کمیٹی سراسر سود ہے اور شطرنج وغیرہ میں گو شرط نہ بھی لگائی جائے، پھر بھی یہ حرام ہے، کیونکہ یہ نماز سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
2۔ سیدنا ؓ کہتے ہیں کہ احد کے دن صبح کچھ لوگوں نے شراب پی تھی۔ اسی حال میں وہ شہید ہوئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ سیدنا عمر ص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ منبر پر کھڑے ہو کر فرما رہے تھے لوگو! شراب حرام ہوئی شراب پانچ چیزوں سے بنا کرتی ہے۔ انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے اور جس مشروب سے عقل میں فتور آئے وہ خمر (شراب) ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
4۔ حرمت شراب کے وقت کا منظر:۔ سیدنا انس ص فرماتے ہیں کہ میں ابو طلحہ کے گھر لوگوں کا ساقی بنا ہوا تھا اور ان دنوں شراب فضیخ (گندی کھجوروں کی) ہی تھی۔ میں ابو طلحہ، ابو عبیدہ، ابی بن کعب، ابو ایوب، ابو دجانہ، سہیل بن بیضاء اور اپنے چچاؤں اور کسی دوسرے صحابہ کرام کو کھڑا ہوا شراب پلا رہا تھا اور میں ان سب سے چھوٹا تھا۔ رسول اللہ نے ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ شراب حرام ہوگئی۔ ابو طلحہ نے مجھے کہا جاؤ! باہر جا کر سنو۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے۔ سن لو! شراب حرام ہوگئی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کیا تمہیں کوئی خبر پہنچی ہے؟ وہ کہنے لگے کیسی خبر؟ اس نے کہا شراب حرام ہوگئی ہے۔ ابو طلحہ نے مجھے کہا باہر جا کر مٹکا توڑ دو اور شراب بہا دو میں باہر نکلا اور سل کے ایک بٹے کو اٹھا کر مٹکے کے پیندے میں مارا۔ مٹکا ٹوٹ گیا اور شراب بہہ گئی۔ (اس دن) مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی تھی۔ اس شخص سے یہ خبر سننے کے بعد لوگوں نے نہ اس کی تصدیق کی اور نہ ہی پھر کبھی شراب پی۔ [بخاري كتاب الاشربه۔ باب۔ نزول تحريم الخمر و كتاب المظالم باب صب الخمر فى الطريق۔ مسلم كتاب الاشربه باب تحريم الخمر]
5۔ حرمت شراب سے متعلقہ مسائل:۔ سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص انگور اترنے کے زمانے میں انگور سٹاک کر رکھے تاکہ اسے شراب بنانے والوں کے ہاتھ فروخت کرے اس نے دیدہ دانستہ آگ میں جانے کی کوشش کی [رواه الطبراني فى الاوسط، اسناده حسن]
6۔ آپ سے پوچھا گیا کیا شراب بطور دوا استعمال ہوسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا شراب تو خود بیماری ہے یہ شفا کیا دے گی۔ [ترمذي۔ ابو اب الطب۔ باب ماجاء فى التداويٰ بالمسكر]
7۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسلم۔ كتاب الاشربه۔ باب۔ بيان ان كل مسكر خمر]
8۔ آپ نے فرمایا جس چیز کی کثیر مقدار حرام ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔ [ترمذي۔ ابو اب الاشربه باب ما اسكر كثيرة فقليله حرام]
9۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم شراب کا سرکہ بنا کر اسے استعمال کرسکتے ہیں؟ فرمایا نہیں [مسلم۔ كتاب الاشربه باب۔ تحريم تخليل الخمر]
10۔ ابن عباس ؓ ص فرماتے ہیں کہ قبیلہ ربیعہ کا ایک وفد مدینہ آیا تو آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ فلاں فلاں برتن (آپ نے ایسے برتنوں کا نام لیا جن میں اس زمانہ میں شراب بنائی جاتی تھی) کسی دوسرے استعمال میں نہ لائے جائیں (انہیں بھی توڑ دیا جائے) اور ان میں نبیذ بھی نہ بنائی جائے۔ [ترمذي۔ ابو اب الاشربة۔ فى كراهيه ان ينبذ فى الدباء والنقير والحنتم]
11۔ آپ نے فرمایا میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلات موسیقی کے کوئی دوسرے نام رکھ کر انہیں جائز قرار دے لیں گے۔ [بخاري۔ كتاب الاشربه۔ باب ماجاء فى من يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه]
12۔ سیدہ انس ص فرماتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے دو ٹہنیوں سے اسے چالیس مرتبہ مارا۔ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب حدالخمر]
13۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا پینا حرام ٹھہرایا ہے اس کی خریدو فروخت بھی حرام کردی [مسلم۔ كتاب البيوع۔ باب۔ تحريم بيع الخمر]
14۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب سود سے متعلق سورة بقرہ کی آیات نازل ہوئیں تو آپ مسجد میں آئے ان آیتوں کو پڑھ کر سنایا پھر فرمایا کہ شراب کی خریدو فروخت حرام ہے۔ [بخاري۔ كتاب الصلٰوة۔ باب تحريم تجارة الخمر فى المسجد]
15۔ سیدنا انس ص فرماتے ہیں کہ آپ نے شراب کے سلسلہ میں دس لوگوں پر لعنت فرمائی:
(1) شراب نچوڑنے والا (2) نچڑوانے والا (3) لینے والا (4) اٹھانے والا (5) جس کے لئے لے جائی جائے (6) پلانے والا۔ (7) بیچنے والا (8) اس کی قیمت کھانے والا (9) خریدنے والا (10) جس کے لیے خریدی گئی۔ [ترمذي ابو اب البيوع۔ باب ماجاء فى بيع الخمر و نهي عن ذالك]
شراب اور جوئے سے متعلق اگرچہ اس آیت میں تحریم یا حرام ہونے کا لفظ صراحت سے مذکور نہیں ہوا تاہم انداز بیان سے سب صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ یہ چیزیں حرام ہوگئی ہیں۔ اس انداز بیان میں انما حصر کا لفظ لا کر شراب، جوئے کو الانصاب اور ازلام کے ساتھ ملایا گیا ہے جن کی حرمت کی کئی مقامات پر وضاحت ہے (2) ان چیزوں کو ناپاک کہا گیا (3) انہیں شیطانی عمل قرار دیا گیا (4) ان سے اجتناب کا حکم دیا گیا (5) انہیں باہمی عداوت کا پیش خیمہ قرار دیا گیا (6) اور اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزیں قرار دیا گیا اور آخر میں (7) طنزیہ اور سوالیہ انداز میں پوچھا گیا کہ آیا ان تمام تر قباحتوں کے باوجود بھی تم باز آتے ہو یا نہیں؟ جس کے جواب میں سیدنا عمر ص نے فرمایا تھا کہ ہم باز آئے۔
شراب کی حد کے بارے میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ شراب کی سزا حد ہے یا تعزیر۔ اور اس شبہ کی وجہ یہ ہے کہ دور نبوی میں سزا دینے والی چیز صرف کوڑے ہی نہیں تھے بلکہ بعض دفعہ ہاتھوں سے، جوتوں سے، چھڑی سے، کپڑے سے اور ٹہنی سے مار کر سزا دی جاتی تھی اور بعض احادیث میں چالیس کی تعداد کا بھی ذکر نہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث میں سے حدیث نمبر 3 سے معلوم ہوتا ہے۔ نیز امام بخاری نے ایک باب کے عنوان میں حد کا نام ہی نہیں لیا باب کا عنوان ہے ماجاء فی ضرب شارب الخمر شراب کی سزا کا بیان نیز حدیث نمبر 7 میں سیدنا علی ص کی حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں ذلک ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یسنہ یعنی رسول اللہ نے اس کا کوئی متعین طریقہ بیان نہیں فرمایا یا مقرر نہیں کیا۔
اور جو لوگ اسے تعزیر نہیں بلکہ حد سمجھتے ہیں اور اکثریت کا یہی مذہب ہے ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ کی حدوں کے سوا کسی کو بھی دس کوڑوں سے زیادہ سزا نہ دی جائے۔ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب قدر اسواط التعزير]
اور چونکہ دور نبوی میں بھی شرابی کی سزا چالیس کوڑے مارنا ثابت ہے لہٰذا یہ حد ہے تعزیر نہیں۔ اب ہم ایسی احادیث درج کرتے ہیں جو شرابی کی سزا کے بارے میں بخاری اور مسلم میں وارد ہیں۔
1۔ عتبہ بن حارث کہتے ہیں کہ نعیمان کا بیٹا رسول اللہ کے ہاں لایا گیا۔ اس نے شراب پی تھی۔ جو لوگ اس گھر میں موجود تھے آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے ماریں۔ چناچہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے چھڑیوں اور جوتوں سے مارا تھا۔ [بخاري۔ كتاب الحدود۔ باب ماجاء فى ضرب شارب الخمر]
2۔ سائب بن یزید کہتے ہیں کہ رسول اللہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کی شروع خلافت میں شراب پینے والا جب لایا جاتا تو ہم اٹھ کر اسے ہاتھوں سے، جوتوں سے اور چادروں سے مارتے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر کی خلافت کا آخری دور آگیا تو انہوں نے شرابی کو چالیس کوڑے لگائے مگر جب لوگوں نے سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی تو انہوں نے اسی کوڑے لگائے۔ [بخاري۔ كتاب الحدود۔ باب ماجاء فى ضرب شارب الخمر]
3۔ سیدنا عمر ص کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانہ میں ایک شخص کو لوگ عبداللہ حمار کہا کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ کو ہنسایا کرتا تھا۔ آپ نے اس کو شراب کی حد بھی لگائی تھی۔ ایک دفعہ (غزوہ خیبر کے دوران) اس نے شراب پی اور لوگ اسے پکڑ لائے۔ آپ نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا جو اسے لگائے گئے۔ اتنے میں ایک شخص (خود سیدنا عمر) بول اٹھے، یا اللہ اس پر لعنت کر کمبخت کتنی مرتبہ شراب کی وجہ سے لایا جا چکا ہے۔ آپ نے فرمایا اس پر لعنت نہ کرو۔ اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا اپنے بھائی کے مقابلہ میں شیطان کی مدد نہ کرو۔ [بخاري۔ كتاب الحدود۔ باب ماجاء فى ضرب شارب الخمر]
4۔ سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس بار مارا۔ اور سیدنا ابوبکر ص نے اپنے دور خلافت میں) بھی ایسا ہی کیا۔ پھر جب سیدنا عمر ص کا دور خلافت آیا تو آپ نے اس بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ سب حدوں میں سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں (یعنی حد قذف جو قرآن میں مذکور ہے) تو سیدنا عمر ص نے شرابی کے لیے اسی کوڑوں کی حد کا حکم دیا۔ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب حد الخمر]
5۔ سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ شراب میں جوتوں اور ٹہنیوں سے چالیس ضربیں مارتے تھے۔ [مسلم۔ كتاب الحدود باب حد الخمر]
6۔ حسین بن منذر سے روایت ہے کہ میری موجودگی میں لوگ ولید بن عقبہ کو سیدنا عثمان ؓ کے پاس لائے۔ ولید نے شراب پی تھی اور اس پر دو آدمیوں نے گواہی بھی دی۔ سیدنا عثمان ؓ نے (ازراہ توقیر و تکریم) سیدنا علی ؓ سے فرمایا کہ اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ۔ اور سیدنا علی ؓ نے سیدنا حسن ؓ (اپنے بیٹے کو) کوڑے لگانے کے لیے کہہ دیا۔ سیدنا حسن ؓ نے جواب دیا جس نے خلافت کا مزہ چکھا ہے اسے ہی اس کا گرم بھی چکھنے دیجئے۔ (یعنی سیدنا عثمان ؓ کو ہی کوڑے لگانے دیجئے۔) اس بات پر سیدنا علی ؓ سیدنا حسن ؓ پر خفا ہوئے اور عبداللہ بن جعفر ؓ سے کہا کہ اٹھ اور ولید کو کوڑے لگا۔ عبداللہ اٹھے اور ولید کو کوڑے لگانا شروع کیے اور سیدنا علی گنتے جاتے تھے۔ جب چالیس کوڑے لگ چکے تو کہنے لگے۔ ذرا ٹھہر جاؤ پھر فرمایا کہ رسول اللہ نے چالیس کوڑے لگائے اور سیدنا ابوبکر ص نے بھی چالیس لگائے اور سیدنا عمر ص نے اسی کوڑے لگائے اور یہ سب سنت ہیں۔ اور میرے نزدیک چالیس لگانا بہتر ہے۔
7۔ سیدنا علی ص نے فرمایا میں اگر کسی پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو مجھے اس کی کچھ پروا نہیں۔ البتہ اگر شراب کی حد میں کوئی مرجائے تو اس کی دیت دلاؤں گا کیونکہ رسول اللہ نے اسے بیان نہیں فرمایا۔ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب حد الخمر۔ بخاري۔ كتاب الحدود۔ باب ماجاء فى ضرب شارب الخمر]
[136] ازلام کے لیے دیکھئے سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 حاشیہ نمبر 16
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عطاء، مجاہد اور طاؤس رحمہ اللہ علیہم سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ ”جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔“
جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیچتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے۔“
ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:ضعیف]
سنن میں ہے کہ { وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4938،قال الشيخ الألباني:حسن] سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
مسند میں ہے { پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے }۔ ۱؎ [مسند احمد:370/5:ضعیف]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔
«اَزْلاَمُ» ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ ’ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ ‘۔
اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذمُّ تعالى هذه الأشياء القبيحة، ويخبر أنها من عمل الشيطان، وأنها رجس؛ {فاجتنبوه}؛ أي: اتركوه، {لعلَّكم تفلحون}؛ فإنَّ الفلاح لا يتمُّ إلاَّ بترك ما حرَّم الله، خصوصاً هذه الفواحش المذكورة، وهي الخمر، وهو كلُّ ما خامر العقل؛ أي: غطاه بسكره، والميسر، وهو جميع المغالَبات التي فيها عوض من الجانبين؛ كالمراهنة ونحوها، والأنصاب، وهي الأصنام والأنداد ونحوها مما يُنصب ويُعبد من دون الله، والأزلام التي [يستقسمون] بها. فهذه الأربعة نهى الله عنها، وزجر، وأخبر عن مفاسدها الداعية إلى تركها واجتنابها:
فمنها: أنها رجسٌ؛ أي: نجس خبث معنى، وإن لم تكن نجسة حِسًّا، والأمور الخبيثة مما ينبغي اجتنابها وعدم التدنُّس بأوضارها.
ومنها: أنها من عمل الشيطان الذي هو أعدى الأعداء للإنسان، ومن المعلوم أن العدوَّ يُحذر منه وتُحذر مصايده وأعماله، خصوصاً الأعمال التي يعملها ليوقع فيها عدوه؛ فإنها فيها هلاكه؛ فالحزم كلُّ الحزم البعد عن عمل العدوِّ المبين، والحذر منها، والخوف من الوقوع فيها.
ومنها: أنه لا يمكن الفلاح للعبد إلاَّ باجتنابها؛ فإنَّ الفلاح هو الفوز بالمطلوب المحبوب والنجاة من المرهوب، وهذه الأمور مانعةٌ من الفلاح ومعوقةٌ له.
ومنها: أنَّ هذه موجبة للعداوة والبغضاء بين الناس، والشيطانُ حريصٌ على بثِّها، خصوصاً الخمر والميسر؛ ليوقع بين المؤمنين العداوة والبغضاء فإنَّ في الخمر من انقلاب العقل وذهاب حجاه ما يدعو إلى البغضاء بينه وبين إخوانه المؤمنين، خصوصاً إذا اقترن بذلك من [السباب] ما هو من لوازم شارب الخمر؛ فإنه ربما أوصل إلى القتل، وما في الميسر من غلبة أحدهما للآخر وأخذ ماله الكثير في غير مقابلة ما هو من أكبر الأسباب للعداوة والبغضاء.
ومنها: أنَّ هذه الأشياء تصدُّ القلب ويَتْبَعُه البدن عن ذكر الله وعن الصلاة اللذين خُلِقَ لهما العبد وبهما سعادتُهُ؛ فالخمرُ والميسر يصدَّانه عن ذلك أعظم صدٍّ، ويشتغل قلبه ويذهل لبُّه في الاشتغال بهما، حتى يمضيَ عليه مدة طويلة وهو لا يدري أين هو؛ فأيُّ معصية أعظم وأقبح من معصيةٍ تدنِّسُ صاحبَها، وتجعلُه من أهل الخبث، وتوقِعُه في أعمال الشيطان وشباكِهِ فينقاد له كما تنقادُ البهيمة الذَّليلة لراعيها، وتحول بين العبد وبين فلاحه، وتوقع العداوة والبغضاء بين المؤمنينَ، وتصدُّ عن ذِكْرِ الله وعن الصَّلاة؛ فهل فوق هذه المفاسد شيء أكبر منها؟!
ولهذا عرض تعالى على العقول السليمة النهي عنها عرضاً بقوله: {فهل أنتم منتهون}؛ لأنَّ العاقل إذا نَظَرَ إلى بعض تلك المفاسد؛ انزجر عنها، وكفَّت نفسُه، ولم يحتج إلى وعظٍ كثيرٍ ولا زجرٍ بليغ.