تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ احْفَظُوْۤا اَيْمَانَكُمْ:} یعنی قسم توڑنے سے پرہیز کرو، لیکن اگر اسے توڑ دو تو اس کا کفارہ ادا کرو۔ ہاں، اگر وہ قسم کوئی ناجائز کام کرنے کی ہے تو وہ ہر گز پوری نہ کرو بلکہ توڑ دو، اس کا کفارہ ہے یا نہیں، اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، بہتر ہے کہ ادا کر دو اور اگر یہ قسم کسی جائز کام کے چھوڑنے کی ہے تو اسے توڑ کر کفارہ ادا کر دو۔ عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ اور اس کے علاوہ دوسرے کام کو بہتر سمجھو تو بہتر کام کر لو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“ [بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالٰی: «لا یؤاخذکم اللہ…» : ۶۶۲۲]
➌ اگر کسی نے کوئی نذر مانی ہو اور اسے پورا نہ کر سکے تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے۔ [مسلم، النذر، باب فی کفارۃ النذر: ۱۶۴۵، عن کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لغو قسموں سے مراد ایسی قسمیں ہیں جو انسان تکیہ کلام کے طور پر (نیت سے نہیں) کہہ دیتا ہے جیسے: «لا والله» «بلي والله» نیز آپ فرماتی ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کبھی قسم نہیں توڑتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے کفارہ کی آیت نازل فرمائی اس وقت وہ کہنے لگے میں جب قسم کھا لوں پھر اس کے خلاف کو اچھا سمجھوں تو اللہ کی رخصت منظور کر کے وہ کام کرلیتا ہوں جسے اچھا سمجھتا ہوں۔ [بخاري كتاب التفسير]
2۔ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر کسی نے قسم کھانا ہو تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔ [بخاري كتاب الايمان والنذور۔ مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب النهي عن الحلف بغير الله تعالىٰ]
3۔ آپ نے فرمایا جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ [ابو داؤد۔ كتاب الايمان والنذور باب۔ فى كراهية الحلف بالابائ]
4۔ آپ نے فرمایا نہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، نہ ماؤں کی اور نہ شریکوں کی اور اللہ کی قسم بھی اس وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔ [ابو داؤد۔ كتاب الايمان والنذور باب۔ فى كراهيه الحلف بالاباء نسائي۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب الحلف بالامهات]
5۔ آپ نے فرمایا کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کو ستانا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔ [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب اليمين الغموس ﴿وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ﴾ النحل:94]
6۔ آپ نے فرمایا جو شخص کسی کام کے کرنے کی قسم کھائے پھر انشاء اللہ کہے تو اس پر (قسم توڑنے کا) کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ [ترمذي۔ ابو اب النذور والايمان۔ باب فى الاستثناء فى اليمين]
7۔ سیدنا براء بن عازب فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم نے قسم دینے والے کی قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور باب واقسموا بالله جهد ايمانهم]
8۔ آپ نے فرمایا قسم میں قسم دلانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ [مسلم۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب اليمين على نية المستحلف]
9۔ آپ نے فرمایا اگر تم کسی کام کے کرنے کی قسم کھالو، پھر کسی اور کام میں بہتری سمجھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔ [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب: ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ﴾ [البقرة:225] مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب ندب من حلف يمينا]
[132۔1]
یا کسی صحابی نے ایک مرغی کو غلاظت میں چونچ مارتے دیکھ لیا تو آئندہ مرغی نہ کھانے پر قسم اٹھائی تھی۔ ایسی قسموں کو بھی توڑ کر ان کا کفارہ ادا کرنا چاہئے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں سے حدیث نمبر 1۔ اور حدیث نمبر 9 سے واضح ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بالکل صحیح بات یہ ہے کہ لغو قسموں سے مراد بغیر قصد کی قسمیں ہیں اور اس کی دلیل «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» ۱؎ [5-المائدہ:89] ہے یعنی ’ جو قسمیں بالقصد اور بالعزم ہوں ان پر گرفٹ ہے اور ان پر کفارہ ہے ‘۔
کفارہ دس مسکینوں کا کھانا جو محتاج فقیر ہوں جن کے پاس بقدر کفایت کے نہ ہو اوسط درجے کا کھانا جو عموماً گھر میں کھایا جاتا ہو وہی انہیں کھلا دینا۔ مثلاً دودھ روٹی، گھی روٹی، زیتون کا تیل روٹی۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی خوراک بہت اعلی ہوتی ہے بعض لوگ بہت ہی ہلکی غذا کھاتے ہیں تو نہ وہ ہو نہ یہ ہو، تکلف بھی نہ ہو اور بخل بھی نہ ہو، سختی اور فراخی کے درمیان ہو، مثلاً گوشت روٹی ہے، سرکہ اور روٹی ہے، روٹی اور کھجوریں ہیں۔ جیسی جس کی درمیانی حثییت، اسی طرح قلت اور کثرت کے درمیان ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صبح شام کا کھانا، حسن رحمة الله اور محمد بن حنفیہ رحمة الله کا قول ہے کہ دس مسکینوں کو ایک ساتھ بٹھا کر روٹی گوشت کھلا دینا کافی ہے یا اپنی حیثیت کے مطابق روٹی کسی اور چیز سے کھلا دینا۔ بعض نے کہا ہے ہر مسکین کو آدھا صاع گہیوں کھجوریں وغیرہ دے دینا، امام ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ گہیوں تو آدھا صاع کافی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز کا پورا صاع دیدے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ہر مسکین کو ایک مد گہیوں مع سالن کے دیدے“، امام شافعی رحمة الله بھی یہی فرماتے ہیں لیکن سالن کا ذکر نہیں ہے اور دلیل ان کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { رمضان شریف کے دن میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو ایک کمتل (خاص پیمانہ) میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1936] اس میں پندرہ صاع آتے ہیں تو ہر مسکین کے لیے ایک مد ہوا۔
امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ گہیوں کا ایک مد اور باقی اناج کے دو مد دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
(یہ یاد رہے کہ صاع انگریزی اسی روپے بھر کے سیر کے حساب سے تقریباً پونے تین سیر کا ہوتا ہے اور ایک صاع کے چار مد ہوتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مترجم)
یا ان دس کو کپڑا پہنانا، امام شافعی رحمة الله کا قول ہے کہ ہر ایک کو خواہ کچھ ہی کپڑا دیدے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو کافی ہے، مثلاً کرتہ ہے، پاجامہ ہے، تہمد ہے، پگڑی ہے یا سر پر لپیٹنے کا رومال ہے۔ پھر امام صاحب کے شاگردوں میں سے بعض تو کہتے ہیں ٹوپی بھی کافی ہے۔
موزے پہنانے کے بارے میں بھی اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ جائز نہیں۔ امام مالک اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کم سے کم اتنا اور ایسا کپڑا ہو کہ اس میں نماز جائز ہو جائے مرد کو دیا ہے تو اس کی اور عورت کو دیا ہے تو اس کی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
غرض کفارہ قسم میں ہر چیز سوائے جانگئے کے جائز ہے۔ بہت سے مفسرین فرماتے ہیں ایک ایک کپڑا ایک ایک مسکین کو دیدے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے ”ایسا کپڑا جو پورا کار آمد ہو مثلاً لحاف چادر وغیرہ نہ کہ کرتہ دوپٹہ وغیرہ۔“
ابن سیرین اور حسن رحمة الله علیہم دو دو کپڑے کہتے ہیں، سعید بن مسیب کہتے ہیں ”عمامہ جسے سر پر باندھے اور عبا جسے بدن پر پہنے۔“ ابوموسیٰ قسم کھاتے ہیں پھر اسے توڑتے ہیں تو دو کپڑے بحرین کے دے دیتے ہیں۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر مسکین کیلئے ایک عبا }۔ ۱؎ [میزان:8741:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے، یا ایک غلام کا آزاد کرنا، امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ یہ مطلق ہے کافر ہو یا مسلمان۔
قرآن کریم نے ان چیزوں کا بیان سب سے زیادہ آسان چیز سے شروع کیا ہے اور بتدریج اوپر کو پہنچایا ہے۔ پس سب سے سہل کھانا کھلانا ہے۔ پھر اس سے قدرے بھاری کپڑا پہنانا ہے اور اس سے بھی زیادہ بھاری غلام کو آزاد کرنا ہے۔ پس اس میں ادنٰی سے اعلٰی بہتر ہے۔ اب اگر کسی شخص کو ان تینون میں سے ایک کی بھی قدرت نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔
سعید بن جبیر اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”جس کے پاس تین درہم ہوں وہ تو کھانا کھلا دے ورنہ روزے رکھ لے“، اور بعض متاخرین سے منقول ہے کہ ”یہ اس کے لیے ہے جس کے پاس ضروریات سے فاضل چیز نہ ہو معاش وغیرہ پونجی کے بعد جو فالتو ہو اس سے کفارہ ادا کرے۔“
امام مالک رحمة الله کا قول بھی یہی ہے کیونکہ قرآن کریم میں روزوں کا حکم مطلق ہے تو خواہ پے در پے ہوں خواہ الگ الگ ہوں تو سب پر یہ صادق آتا ہے جیسے کہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے بارے میں آیت «فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» ۱؎ [2-البقرة:184] فرمایا گیا ہے وہاں بھی پے در پے کی یا علیحدہ علیحدہ کی قید نہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام میں ایک جگہ صراحت سے کہا ہے کہ قسم کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے چاہیئں یہی قول حنیفہ اور حنابلہ کا ہے۔
اس لیے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ان کی قرأت آیت «فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُّتَتَابِعَاتٍ» ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے، اس صورت میں اگرچہ اس کا متواتر قرأت ہونا ثابت نہ ہو۔ تاہم خبر واحد یا تفسیر صحابہ رضی اللہ عنہم سے کم درجے کی تو یہ قرأت نہیں پس حکماً یہ بھی مرفوع ہے۔
ابن مردویہ کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ { سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں، تو اختیار پر ہے خواہ گردن آزاد کر خواہ کپڑا پہنا دے خواہ کھانا کھلا دے اور جو نہ پائے وہ پے در پے تین روزے رکھ لے } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:555/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ’ تم جب قسم کھا کر توڑ دو تو یہ کفارہ ہے لیکن تمہیں اپنی قسموں کی حفاظت کرنی چاہیئے انہیں بغیر کفارے کے نہ چھوڑنا چاہیئے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: في أيمانكم التي صدرت على وجه اللغو، وهي الأيمان التي حلف بها المقسم من غير نيَّة ولا قصدٍ، أو عقدها يظنُّ صدقَ نفسه، فبان بخلاف ذلك، {ولكن يؤاخذكم بما عقَّدتم الأيمان}؛ أي: بما عزمتم عليه وعقدت عليه قلوبكم؛ كما قال في الآية الأخرى: {ولكن يؤاخِذُكُم بما كَسَبَتْ قلوبُكم}، {فكفَّارتُهُ}؛ أي: كفارة اليمين الذي عقدتموها بقصدكم: {إطعام عشرة مساكين}، وذلك الإطعام {من أوسط ما تُطْعِمون أهليكم أو كسوتهم}؛ أي: كسوة عشرة مساكين، والكسوة هي التي تجزي في الصلاة، {أو تحرير رقبة}؛ [أي: عتق رقبة] مؤمنةٍ؛ كما قُيِّدت في غير هذا الموضع؛ فمتى فعل واحداً من هذه الثلاثة؛ فقد انحلَّت يمينه. {فمن لم يجِدْ} واحداً من هذه الثلاثة، {فصيام ثلاثة أيَّام ذلك}: المذكور {كفارة أيمانكم إذا حلفتم}: تكفِّرها وتمحوها وتمنع من الإثم، {واحفظوا أيمانَكم}: عن الحلف بالله كاذباً وعن كثرة الأيمان، واحفظوها إذا حلفتم عن الحِنْث فيها؛ إلا إذا كان الحِنْث خيراً؛ فتمام الحفظ أن يفعل الخير، ولا يكون يمينه عرضةً لذلك الخير.
{كذلك يبيِّن الله لكم آياتِهِ}: المبيِّنة للحلال من الحرام، الموضِّحة للأحكام. {لعلَّكم تشكرون}: الله؛ حيث علَّمكم ما لم تكونوا تعلمون؛ فعلى العبد شكر الله تعالى على ما مَنَّ به عليه من معرفة الأحكام الشرعيَّة وتبيينها.