ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 9

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹﴾
اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے کہ بے شک ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے
En
اللہ تعالیٰ کا وعده ہے کہ جو ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ان کے لئے وسیع مغفرت اور بہت بڑا اجر و ﺛواب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 8 میں تا آیت 10 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لیے بخشش [31۔ 1] اور بہت بڑا اجر ہے
[31۔ 1] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے اعمال کا ذکر فرمایا۔ ایک ایمان کا، دوسرے اعمال صالحہ کا اور دو طرح کا ہی وعدہ فرمایا ایک مغفرت کا اور دوسرے اجر عظیم کا۔ جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔ ان کی بھی مغفرت ہو جائے گی رہا اجر عظیم تو وہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی بجا لاتے رہے ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔