وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مِیۡثَاقَہُ الَّذِیۡ وَاثَقَکُمۡ بِہٖۤ ۙ اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾
اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
En
اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے
En
تم پر اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہده ہوا ہے جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کا جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7) {وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ……:} اس آیت میں نعمت سے مراد اسلام ہے، میثاق اور اقرار سے مراد وہ عہد ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہر آدمی سے مسلمان ہونے پر لیا کرتے تھے، چونکہ وہ اﷲ کے حکم سے تھا، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا(منکرین حدیث کو غور کرنا چاہیے)۔ اس سے مراد وہ عہد بھی ہو سکتا ہے جو اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد سے لیا تھا، جو ان کی فطرت میں داخل ہے اور یہ بھی کہ یہود کو متنبہ فرمایا ہو کہ آخری نبی کی پیروی کا جو عہد تم سے لیا گیا ہے اسے پورا کرو، مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے [29] تم پر کیا اور اس پختہ عہد کو بھی (یاد رکھو) جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے ﴿سَمِعنَا وَ اَطَعنَا﴾ [30] (ہم نے سن لیا اور اطاعت قبول کی) کہا تھا۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو (کیونکہ) اللہ دلوں کی باتیں بھی خوب جانتا ہے
[29] یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ قبائلی عصبیتوں نے تمہیں عداوتوں اور لڑائیوں میں پھنسا کر تمہاری زندگی تم پر حرام کر دی تھی اور تم ان حالات سے نجات کی راہ سوچتے تھے مگر ایسی کوئی راہ تمہیں نظر نہیں آتی تھی۔ پھر اللہ نے تم پر پے در پے کئی احسانات کیے۔ تمہیں اسلام کی توفیق بخشی پھر اسی اسلام کی وجہ سے تمہاری دیرینہ اور مسلسل عداوتوں کا خاتمہ کر کے تمہیں ایک دوسرے کا مونس و غمخوار اور بھائی بھائی بنا دیا۔ [30] بیعت عقبہ کا عہد:۔
یعنی وہ پختہ عہد جو تم نے عقبہ کی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا کہ ہم ہر حال میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے واضح رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ کے بعد بھی جس شخص سے بیعت لی اسی عہد پر بیعت لی۔ اور خلفائے راشدین بھی اسی عہد پر مسلمانوں سے بیعت لیتے رہے۔ امیر کی اطاعت سے ہی جماعت کا نظم و نسق اور امت میں اتحاد قائم رہ سکتا ہے اسی لیے حضور نے امیر کی اطاعت کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ تفصیل کے لیے سورۃ نساء کی آیت 59 کا حاشیہ نمبر 91 ملاحظہ فرمایا جائے۔ بیعت عقبہ کے عہد اور اس کے پس منظر کو ہم ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ 10 نبوی میں ابو طالب کی وفات ہو گئی۔ پھر اس کے چند ہی دن بعد آپ کی ہمدرد اور غمگسار بیوی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ بھی وفات پا گئیں گھر کی دنیا میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہارا تھیں اور باہر کی دنیا میں ابو طالب۔ چند دنوں کے وقفہ سے یہ دونوں سہارے چھن گئے۔ گویا آپ پر غم و الم ٹوٹ پڑا۔ اسی وجہ سے اس سال کا نام ہی عام الحزن پڑ گیا۔ ابو طالب کی وفات کے بعد مشرکین مکہ کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور وہ مسلمانوں پر مزید تشدد کی تجویز سوچنے لگے اور یہ بھی کہ اب پیغمبر اسلام کو ٹھکانے لگانے کا بہترین موقع میسر آگیا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت تو پہلے ہی حبشہ کی طرف ہجرت کر چکی تھی اور جو باقی تھے ان کی اب زندگی بھی خطرہ میں تھی۔ ان حالات میں آپ نے مناسب سمجھا کہ اب مکہ سے باہر کسی مقام پر تبلیغ کے لیے مرکز بنانا چاہیے۔ اور اس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے جڑواں شہر طائف کا انتخاب کیا جو ایک زرخیز اور شاداب علاقہ تھا۔ اہل مکہ کے رئیسوں کی وہاں جائیدادیں بھی تھیں اور رشتے ناطے کے علاوہ تجارتی تعلقات بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام زید بن حارثہ کو اپنے ہمراہ لیا اور طائف کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستہ میں جہاں موقع میسر آتا تبلیغ کرتے جاتے تا آنکہ بیس دن کی پیدل مسافت کے بعد آپ طائف پہنچ گئے۔ طائف میں بنو ثقیف آباد تھے اور تین بھائی مسعود، حبیب اور عبد یا لیل اس شہر کے سردار اور رؤسائے مکہ کے ہمسر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ کا پیغام سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اہل مکہ سے گوناگوں تعلقات کی بنا پر پہلے سے ہی مکہ اور اہل مکہ کے حالات سے واقف تھے چنانچہ انہوں نے بھی قریش مکہ ہی کی روش اختیار کی اور نہ صرف یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ٹھکرا دیا بلکہ بڑی بدتمیزی سے پیش آئے اور گستاخانہ جواب دیئے۔ ایک بھائی نے کہا: اگر واقعی تمہیں اللہ نے بھیجا ہے تو بس پھر وہ کعبہ کا غلاف نچوانا چاہتا ہے۔ دوسرے نے کہا: کیا اللہ میاں کو رسالت کے لیے تیرے سوا کوئی مناسب آدمی نہ مل سکا۔ تیسرا بولا: اللہ کی قسم! میں تجھ سے بات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو پھر آپ کو جواب دینا مناسب نہیں ہے اور اگر تم (نعوذ باللہ) جھوٹے ہو تو پھر اس قابل نہیں کہ تم سے بات کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت بردباری سے انہیں جواب دیا کہ اگر تم مجھے رسول ماننے کو تیار نہیں تو کم از کم میری راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو دعوت دینا اور وعظ و نصیحت شروع کر دی۔ ان بدبختوں نے اپنے غلاموں، خادموں اور شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھیج دیا کہ وہ آپ کو طائف سے باہر نکال دیں۔ چنانچہ ان اوباشوں کا غول آپ کے پیچھے لگ گیا۔ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے، شور مچاتے اور پتھر مارتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نڈھال ہو جاتے تو یہ غنڈے آپ کو بازو سے پکڑ کر اٹھا دیتے اور پھر ٹخنوں پر پتھر مارتے اور تالیاں بجا بجا کر ہنستے۔ خون بے تحاشا بہہ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں اندر اور باہر سے لتھڑ گئیں۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باغ کے احاطہ میں پناہ لی۔ یہ باغ رئیس مکہ عتبہ بن ربیعہ اور اس کے بھائی شیبہ کا تھا۔ عتبہ ایک رحم دل انسان تھا۔ اس نے یہ حالت دیکھی تو اپنے غلام عداس کے ہاتھ ایک پلیٹ میں انگور بھجوائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہی پہلے بسم اللہ پڑھا پھر انگور کھانا شروع کئے۔ عداس کہنے لگا۔ اللہ کی قسم! یہ کلمہ یہاں کے لوگ تو کبھی نہیں کہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہاں کے رہنے والے ہو اور تمہارا مذہب کیا ہے؟ وہ بولا میں عیسائی ہوں اور نینوا کا باشندہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: گویا تم مرد صالح یونس بن متیٰ کے شہر کے ہو۔ وہ میرا بھائی ہے۔ وہ بھی نبی تھا اور میں بھی نبی ہوں۔ غلام نے یہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ عتبہ اور شیبہ نے یہ ماجرا دیکھا تو جب عداس واپس آیا تو اسے ملامت کی اور کہا کہ تم یہ کیا حرکت کر رہے تھے۔ تم نے اپنا مذہب خراب کر لیا ہے۔ عداس نے جواب دیا کہ اس شخص نے مجھے ایک ایسی بات بتائی ہے جو صرف ایک نبی ہی بتا سکتا ہے۔
اس سفر میں آپ کو جتنی اذیت اٹھانی پڑی اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہو جاتا ہے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت دن گزرا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے تیری قوم (قریش) کی طرف سے جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ میرا ہی دل جانتا ہے۔ سب سے زیادہ سخت دن مجھ پر طائف کا دن گزرا ہے جب میں نے اپنے تئیں عبد یا لیل بن کلال پر پیش کیا۔ اس نے میری دعوت کو قبول نہ کیا تو میں افسردہ خاطر ہو کر واپس ہوا اور مجھے اس وقت قدرے افاقہ ہوا جب میں قرن ثعالب (ایک مقام کا نام) پہنچ گیا۔ میں نے اوپر سر اٹھایا تو دیکھا کہ ابر کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اور اس میں جبریل موجود ہیں۔ جبریل نے مجھے پکارا اور کہا کہ تمہاری قوم نے جو تجھے جواب دیا وہ اللہ نے سن لیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ جیسا چاہیں اسے حکم دیں۔ اتنے میں پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے سلام کہا اور کہنے لگا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ چاہیں تو میں مکہ اور طائف کے پہاڑوں کو ملا کر سب کو چکنا چور کر دوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ایسا مت کرو) بلکہ مجھے امید ہے کہ ان کی اولاد میں سے اللہ ایسے لوگ پید اکرے گا جو صرف اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔
[بخاري۔ كتاب باب اذا قال احدكم آمين و الملئكة فى السماء مسلم كتاب الجهاد والسير۔ باب مالقي النبى من اذي المشركين و المنافقين]
اس متفق علیہ حدیث سے معلوم ہوا کہ طائف کا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سخت اور مشکل ترین دن تھا۔ حتیٰ کہ احد کے دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے تھے اس سے سخت دن تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جس صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ اور انتقام کا اختیار مل جانے کے باوجود جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عفو و درگزر سے کام لیا وہ بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ عظمت کی دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش مکہ کی طرف سے اسلام لانے سے تو مایوس ہو ہی چکے تھے اس واقعہ طائف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم و اندوہ میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ واپس آئے تو دامن حرمین میں ٹھہر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بچے مکہ میں تھے اور مکہ والے آپ کے جانی دشمن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو خزاعہ کے ایک آدمی کے ہاتھ اخنس بن شریق کو پیغام بھیجا کہ وہ مکہ میں آپ کو پناہ دے۔ اخنس نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ میں حلیف ہوں اور حلیف پناہ نہیں دے سکتا۔ پھر آپ نے یہی پیغام سہیل بن عمرو کو بھیجا۔ اس نے بھی یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ بنو عامر کی دی ہوئی پناہ بنو کعب پر لاگو نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے یہی پیغام مطعم بن عدی کو بھیجا۔ جس نے پناہ دینا منظور کر لیا۔ اور اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں کو بلا کر کہا کہ ہتھیار بند ہو کر خانہ کعبہ کے گوشوں پر جمع ہو جاؤ۔ کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دی ہے۔ اس انتظام کے بعد اس نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لا سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور حرم میں داخل ہو گئے۔ مطعم بن عدی نے اپنی سواری پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ قریش کے لوگو! میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دی ہے۔ [سيرة النبى 1: 356 بحواله ابن سعد ص 142] اس کے بعد آپ حجر اسود پر پہنچے۔ اسے چوما۔ نماز پڑھی۔ پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔ اس دوران مطعم کے بیٹوں نے ہتھیار بند ہو کر آپ کا پہرہ دیا۔ اس کے بعد مکی دور کا باقی حصہ آپ مطعم کی پناہ میں مکہ میں قیام پذیر رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر مطعم کے اس احسان کو نہیں بھولے۔ جنگ بدر میں بہت سے مشرک قید ہو گئے تھے۔ ان میں سے بعض کی سفارش کے لیے مطعم کے بیٹے سیدنا جبیر (جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر آج مطعم زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے متعلق بات کرتے تو میں ان سب کو چھوڑ دیتا۔“
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ البدر]
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے مکہ واپس آئے تو حج کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ آپ بغرض تبلیغ منیٰ تشریف لے گئے۔ اور مدینہ کے قبیلہ اوس کے آدمیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مدینہ میں قبیلہ اوس اور خزرج میں سال ہا سال سے خانہ جنگی چلی آرہی تھی۔ جس سے سنجیدہ طبقہ سخت نالاں تھا لیکن اسے اس سے نجات کی کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی۔ یہ لوگ در اصل حج کے علاوہ اس غرض سے بھی آئے تھے کہ خزرج کے خلاف قریش مکہ کی مدد حاصل کریں جب ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اور اس کے احکام بتائے تو اوس کے قبیلہ کا ایک ذہین آدمی کہنے لگا۔ واللہ! جس کام کے لیے تم آئے ہو اس سے یہ کام بہتر ہے۔ یعنی ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں وہ بات نظر آ گئی جس کی انہیں مدتوں سے تلاش تھی کہ خانہ جنگیوں سے کس طرح چھٹکارا مل سکتا ہے۔ چنانچہ ذی الحجہ 10 نبوی میں اسی مقام پر جسے عقبہ کہتے ہیں۔ پانچ اور بعض روایات کے مطابق چھ آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ امید کی پہلی کرن تھی جو اس عام الحزن کے آخر میں نمودار ہوئی۔ ان آدمیوں کے ذریعہ قبیلہ خزرج میں بھی اسلام کی اشاعت ہوئی۔ یہ لوگ ایک تو باہمی خانہ جنگی سے پریشان تھے۔ کہ مدینہ کے یہودی قبائل ایک دوسرے سے حلیف بن کر انہیں لڑاتے رہتے تھے چنانچہ اگلے سال یعنی ذی الحجہ 11ھ میں اسی مقام پر اوس اور خزرج کے بارہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اسلام لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر باضابطہ بیعت کی جو بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی شرائط یہ تھیں کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے، چوری اور زنا کے مرتکب نہ ہوں گے۔ لڑکیوں کو زندہ درگور نہیں کریں گے۔ کسی پر تہمت نہیں لگائیں گے۔ کسی کی غیبت نہ کریں گے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم مانیں گے۔ یہ بیعت گئی رات نہایت خفیہ انداز میں ہوئی تھی۔ ان نو مسلم صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ کسی معلم کو بھیجا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیرؓ کو قرآن کے احکام سکھانے اور تبلیغ کے لیے مدینہ روانہ فرمایا۔ مصعب مدینہ میں اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام پذیر ہوئے جو مدینہ کے ایک معزز رئیس تھے۔ یہ وہی مصعب بن عمیر ہیں جو مکہ کے ایک امیر گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ بڑے خوش شکل اور حسین نوجوان تھے اور قیمتی لباس پہنتے تھے۔ مگر جب اسلام قبول کیا تو ماں نے ان کا دانہ پانی بھی بند کر دیا اور گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ انہوں نے دین حق کی خاطر سب کو برداشت کیا اور امیری پر فقیری کو ترجیح دی۔ انہیں مدینہ میں اسلام کا پہلا داعی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ غزوہ بدر میں لشکر اسلام کی علمبرداری کے منصب پر فائز ہوئے اور غزوہ احد میں شہادت پائی تھی ان کی کوششوں سے مدینہ سے قبا تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر بھی مشرف بہ اسلام ہو گئے ان دو سرداروں کے ذریعہ اسلام کی قوت میں خاصا اضافہ ہوا چنانچہ اگلے سال مدینہ کے 75 افراد جن میں دو عورتیں بھی شامل تھیں۔ مکہ میں حج کے موقع پر ایام تشریق میں عقبہ کے مقام پر (جو منیٰ اور مکہ کے درمیان ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ یہ بیعت بھی تہائی رات گزرنے کے بعد نہایت خفیہ انداز سے ہوئی اور بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس بیعت کی سب سے اہم شرط جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے وہ عبادہ بن صامتؓ کی زبانی سنیے۔ جو بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ دونوں میں شریک تھے اور ان کی اس ہدایت کو بخاری اور مسلم دونوں نے ذکر کیا ہے: عبادہ بن صامتؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جو حکم دیں گے ہم مانیں گے۔ چاہے آسانی ہو یا تنگی ہو، خواہ وہ ہمیں اچھی لگے یا ناگوار محسوس ہو۔ خواہ آپ دوسروں کو ہم پر ترجیح دیں اور جس کو بھی آپ امیر مقرر فرمائیں گے ہم اس کا حکم مانیں گے اس سے بحث نہیں کریں گے اور ہر صورت میں حق بات ہی کہیں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
[بخاری۔ کتاب الاحکام۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ]
اور اس شرط کی اہمیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان 75 آدمیوں میں سے انصار کی مرضی کے مطابق 12 نقیب یا امیر مقرر فرما دیئے تھے تاکہ اسلام کی انقلابی تحریک کا جو کام ہو وہ نظم و ضبط کے تحت ہو۔ اور عبادہ بن صامتؓ خود بھی نقیب مقرر کئے گئے تھے۔ کتب سیر میں جو مزید تفصیلات ملتی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آنے کی دعوت دی تو سیدنا عباسؓ نے ان سے کہا: اے گروہ انصار! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان میں معزز محترم ہیں۔ دشمنوں کے مقابلہ میں ہم ہمیشہ ان کے لیے سینہ سپر رہے۔ اب وہ تمہارے پاس جانا چاہتے ہیں۔ اگر مرتے دم تک ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ورنہ ابھی جواب دے دو۔ انصار نے اس بات کا سیدنا عباسؓ کو تو جواب نہیں دیا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جو عہد لیں ہم حاضر ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کا عہد کرو تم دین حق کی اشاعت میں میری پوری پوری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے ہاں آ بسوں تو تم اپنے اہل و عیال کی طرح میری اور میرے ساتھیوں کی حمایت کرو گے۔ انصار نے پوچھا کہ اس کے عوض ہمیں کیا ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت“ ایک انصاری ابو الٰہیشم نے بات کاٹ کر کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ جب آپ کو قوت اور اقتدار حاصل ہو جائے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن واپس چلے جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا۔ ایسا نہیں ہو گا۔ میرا مرنا اور میرا جینا تمہارے ہی ساتھ ہو گا۔ عہد و بیان کی یہ جزئیات طے ہونے کے بعد سب سے پہلے براء بن عازب بن معرورؓ نے پھر سب ساتھیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یہ عہد و پیمان اگرچہ انتہائی راز داری اور خفیہ طریقہ سے طے پائے تھے۔ تاہم مشرکین مکہ کو اس کی بھنک پڑ گئی۔ چنانچہ کافروں کا ایک وفد قبیلہ خزرج کے ہاں پہنچ گیا۔ خزرج کے مشرکین چونکہ خود بھی اس معاہدہ کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے لہٰذا انہوں نے اس وفد کو یقین دہانی کرا دی کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ لہٰذا یہ وفد واپس لوٹ آیا۔ البتہ اس واقعہ کا یہ اثر ضرور ہوا کہ خزرج کے مسلمان چوکنے ہو گئے اور انہوں نے جھٹ مدینہ کی راہ لی۔ بعد میں مشرکین مکہ کو معلوم ہو گیا کہ معاہدہ والی بات محض افواہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی تھی۔ لہٰذا وہ خزرج کے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ مگر مسلمان تیز رفتاری سے آگے جا چکے تھے۔ البتہ سعد بن عبادہؓ جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اسلام لا چکے تھے پکڑے گئے۔ مشرکوں نے انہیں زد و کوب کرنا چاہا تو مطعم بن عدی اور حرب بن امیہ آڑے آ گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ قریش کے تجارتی قافلے سعد بن عبادہ کی پناہ میں ہی مدینہ کے پاس سے گزرتے تھے لہٰذا مشرکوں کو اپنا غیظ و غضب ضبط کرنا پڑا۔ اس طرح تمام مسلمان بخیر و عافیت مدینہ پہنچ گئے۔ مصعب بن عمیرؓ کے بعد عبد اللہ ابن ام مکتومؓ مدینہ پہنچے۔ یہ دونوں حضرات مدینہ کے مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کے بعد عمار بن یاسرؓ، بلال بن رباحؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ مدینہ پہنچے، ان کے بعد سیدنا عمرؓ بیس مسلمانوں کے ہمراہ مکہ کے قریشیوں کو للکارتے ہوئے ہجرت کے لیے نکلے اور مدینہ پہنچے اور آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور عامر بن فہیرہؓ مدینہ تشریف لائے۔
[بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ اعلیٰ بروایت براء بن عازب]
اس طرح اسلام کی انقلابی تحریک کا مرکز مکہ سے مدینہ منتقل ہو گیا۔
اس سفر میں آپ کو جتنی اذیت اٹھانی پڑی اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہو جاتا ہے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت دن گزرا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے تیری قوم (قریش) کی طرف سے جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ میرا ہی دل جانتا ہے۔ سب سے زیادہ سخت دن مجھ پر طائف کا دن گزرا ہے جب میں نے اپنے تئیں عبد یا لیل بن کلال پر پیش کیا۔ اس نے میری دعوت کو قبول نہ کیا تو میں افسردہ خاطر ہو کر واپس ہوا اور مجھے اس وقت قدرے افاقہ ہوا جب میں قرن ثعالب (ایک مقام کا نام) پہنچ گیا۔ میں نے اوپر سر اٹھایا تو دیکھا کہ ابر کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اور اس میں جبریل موجود ہیں۔ جبریل نے مجھے پکارا اور کہا کہ تمہاری قوم نے جو تجھے جواب دیا وہ اللہ نے سن لیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ جیسا چاہیں اسے حکم دیں۔ اتنے میں پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے سلام کہا اور کہنے لگا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ چاہیں تو میں مکہ اور طائف کے پہاڑوں کو ملا کر سب کو چکنا چور کر دوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ایسا مت کرو) بلکہ مجھے امید ہے کہ ان کی اولاد میں سے اللہ ایسے لوگ پید اکرے گا جو صرف اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔
[بخاري۔ كتاب باب اذا قال احدكم آمين و الملئكة فى السماء مسلم كتاب الجهاد والسير۔ باب مالقي النبى من اذي المشركين و المنافقين]
اس متفق علیہ حدیث سے معلوم ہوا کہ طائف کا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سخت اور مشکل ترین دن تھا۔ حتیٰ کہ احد کے دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے تھے اس سے سخت دن تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جس صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ اور انتقام کا اختیار مل جانے کے باوجود جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عفو و درگزر سے کام لیا وہ بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ عظمت کی دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش مکہ کی طرف سے اسلام لانے سے تو مایوس ہو ہی چکے تھے اس واقعہ طائف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم و اندوہ میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ واپس آئے تو دامن حرمین میں ٹھہر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بچے مکہ میں تھے اور مکہ والے آپ کے جانی دشمن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو خزاعہ کے ایک آدمی کے ہاتھ اخنس بن شریق کو پیغام بھیجا کہ وہ مکہ میں آپ کو پناہ دے۔ اخنس نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ میں حلیف ہوں اور حلیف پناہ نہیں دے سکتا۔ پھر آپ نے یہی پیغام سہیل بن عمرو کو بھیجا۔ اس نے بھی یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ بنو عامر کی دی ہوئی پناہ بنو کعب پر لاگو نہیں ہوتی۔ پھر آپ نے یہی پیغام مطعم بن عدی کو بھیجا۔ جس نے پناہ دینا منظور کر لیا۔ اور اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں کو بلا کر کہا کہ ہتھیار بند ہو کر خانہ کعبہ کے گوشوں پر جمع ہو جاؤ۔ کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دی ہے۔ اس انتظام کے بعد اس نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لا سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور حرم میں داخل ہو گئے۔ مطعم بن عدی نے اپنی سواری پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ قریش کے لوگو! میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دی ہے۔ [سيرة النبى 1: 356 بحواله ابن سعد ص 142] اس کے بعد آپ حجر اسود پر پہنچے۔ اسے چوما۔ نماز پڑھی۔ پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔ اس دوران مطعم کے بیٹوں نے ہتھیار بند ہو کر آپ کا پہرہ دیا۔ اس کے بعد مکی دور کا باقی حصہ آپ مطعم کی پناہ میں مکہ میں قیام پذیر رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر مطعم کے اس احسان کو نہیں بھولے۔ جنگ بدر میں بہت سے مشرک قید ہو گئے تھے۔ ان میں سے بعض کی سفارش کے لیے مطعم کے بیٹے سیدنا جبیر (جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر آج مطعم زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے متعلق بات کرتے تو میں ان سب کو چھوڑ دیتا۔“
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ البدر]
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے مکہ واپس آئے تو حج کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ آپ بغرض تبلیغ منیٰ تشریف لے گئے۔ اور مدینہ کے قبیلہ اوس کے آدمیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مدینہ میں قبیلہ اوس اور خزرج میں سال ہا سال سے خانہ جنگی چلی آرہی تھی۔ جس سے سنجیدہ طبقہ سخت نالاں تھا لیکن اسے اس سے نجات کی کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی۔ یہ لوگ در اصل حج کے علاوہ اس غرض سے بھی آئے تھے کہ خزرج کے خلاف قریش مکہ کی مدد حاصل کریں جب ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اور اس کے احکام بتائے تو اوس کے قبیلہ کا ایک ذہین آدمی کہنے لگا۔ واللہ! جس کام کے لیے تم آئے ہو اس سے یہ کام بہتر ہے۔ یعنی ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں وہ بات نظر آ گئی جس کی انہیں مدتوں سے تلاش تھی کہ خانہ جنگیوں سے کس طرح چھٹکارا مل سکتا ہے۔ چنانچہ ذی الحجہ 10 نبوی میں اسی مقام پر جسے عقبہ کہتے ہیں۔ پانچ اور بعض روایات کے مطابق چھ آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ امید کی پہلی کرن تھی جو اس عام الحزن کے آخر میں نمودار ہوئی۔ ان آدمیوں کے ذریعہ قبیلہ خزرج میں بھی اسلام کی اشاعت ہوئی۔ یہ لوگ ایک تو باہمی خانہ جنگی سے پریشان تھے۔ کہ مدینہ کے یہودی قبائل ایک دوسرے سے حلیف بن کر انہیں لڑاتے رہتے تھے چنانچہ اگلے سال یعنی ذی الحجہ 11ھ میں اسی مقام پر اوس اور خزرج کے بارہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اسلام لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر باضابطہ بیعت کی جو بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی شرائط یہ تھیں کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے، چوری اور زنا کے مرتکب نہ ہوں گے۔ لڑکیوں کو زندہ درگور نہیں کریں گے۔ کسی پر تہمت نہیں لگائیں گے۔ کسی کی غیبت نہ کریں گے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم مانیں گے۔ یہ بیعت گئی رات نہایت خفیہ انداز میں ہوئی تھی۔ ان نو مسلم صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ کسی معلم کو بھیجا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیرؓ کو قرآن کے احکام سکھانے اور تبلیغ کے لیے مدینہ روانہ فرمایا۔ مصعب مدینہ میں اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام پذیر ہوئے جو مدینہ کے ایک معزز رئیس تھے۔ یہ وہی مصعب بن عمیر ہیں جو مکہ کے ایک امیر گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ بڑے خوش شکل اور حسین نوجوان تھے اور قیمتی لباس پہنتے تھے۔ مگر جب اسلام قبول کیا تو ماں نے ان کا دانہ پانی بھی بند کر دیا اور گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ انہوں نے دین حق کی خاطر سب کو برداشت کیا اور امیری پر فقیری کو ترجیح دی۔ انہیں مدینہ میں اسلام کا پہلا داعی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ غزوہ بدر میں لشکر اسلام کی علمبرداری کے منصب پر فائز ہوئے اور غزوہ احد میں شہادت پائی تھی ان کی کوششوں سے مدینہ سے قبا تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر بھی مشرف بہ اسلام ہو گئے ان دو سرداروں کے ذریعہ اسلام کی قوت میں خاصا اضافہ ہوا چنانچہ اگلے سال مدینہ کے 75 افراد جن میں دو عورتیں بھی شامل تھیں۔ مکہ میں حج کے موقع پر ایام تشریق میں عقبہ کے مقام پر (جو منیٰ اور مکہ کے درمیان ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ یہ بیعت بھی تہائی رات گزرنے کے بعد نہایت خفیہ انداز سے ہوئی اور بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس بیعت کی سب سے اہم شرط جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے وہ عبادہ بن صامتؓ کی زبانی سنیے۔ جو بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ دونوں میں شریک تھے اور ان کی اس ہدایت کو بخاری اور مسلم دونوں نے ذکر کیا ہے: عبادہ بن صامتؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جو حکم دیں گے ہم مانیں گے۔ چاہے آسانی ہو یا تنگی ہو، خواہ وہ ہمیں اچھی لگے یا ناگوار محسوس ہو۔ خواہ آپ دوسروں کو ہم پر ترجیح دیں اور جس کو بھی آپ امیر مقرر فرمائیں گے ہم اس کا حکم مانیں گے اس سے بحث نہیں کریں گے اور ہر صورت میں حق بات ہی کہیں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
[بخاری۔ کتاب الاحکام۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ]
اور اس شرط کی اہمیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان 75 آدمیوں میں سے انصار کی مرضی کے مطابق 12 نقیب یا امیر مقرر فرما دیئے تھے تاکہ اسلام کی انقلابی تحریک کا جو کام ہو وہ نظم و ضبط کے تحت ہو۔ اور عبادہ بن صامتؓ خود بھی نقیب مقرر کئے گئے تھے۔ کتب سیر میں جو مزید تفصیلات ملتی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آنے کی دعوت دی تو سیدنا عباسؓ نے ان سے کہا: اے گروہ انصار! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان میں معزز محترم ہیں۔ دشمنوں کے مقابلہ میں ہم ہمیشہ ان کے لیے سینہ سپر رہے۔ اب وہ تمہارے پاس جانا چاہتے ہیں۔ اگر مرتے دم تک ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ورنہ ابھی جواب دے دو۔ انصار نے اس بات کا سیدنا عباسؓ کو تو جواب نہیں دیا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جو عہد لیں ہم حاضر ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کا عہد کرو تم دین حق کی اشاعت میں میری پوری پوری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے ہاں آ بسوں تو تم اپنے اہل و عیال کی طرح میری اور میرے ساتھیوں کی حمایت کرو گے۔ انصار نے پوچھا کہ اس کے عوض ہمیں کیا ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت“ ایک انصاری ابو الٰہیشم نے بات کاٹ کر کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ جب آپ کو قوت اور اقتدار حاصل ہو جائے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن واپس چلے جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا۔ ایسا نہیں ہو گا۔ میرا مرنا اور میرا جینا تمہارے ہی ساتھ ہو گا۔ عہد و بیان کی یہ جزئیات طے ہونے کے بعد سب سے پہلے براء بن عازب بن معرورؓ نے پھر سب ساتھیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یہ عہد و پیمان اگرچہ انتہائی راز داری اور خفیہ طریقہ سے طے پائے تھے۔ تاہم مشرکین مکہ کو اس کی بھنک پڑ گئی۔ چنانچہ کافروں کا ایک وفد قبیلہ خزرج کے ہاں پہنچ گیا۔ خزرج کے مشرکین چونکہ خود بھی اس معاہدہ کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے لہٰذا انہوں نے اس وفد کو یقین دہانی کرا دی کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ لہٰذا یہ وفد واپس لوٹ آیا۔ البتہ اس واقعہ کا یہ اثر ضرور ہوا کہ خزرج کے مسلمان چوکنے ہو گئے اور انہوں نے جھٹ مدینہ کی راہ لی۔ بعد میں مشرکین مکہ کو معلوم ہو گیا کہ معاہدہ والی بات محض افواہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی تھی۔ لہٰذا وہ خزرج کے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ مگر مسلمان تیز رفتاری سے آگے جا چکے تھے۔ البتہ سعد بن عبادہؓ جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اسلام لا چکے تھے پکڑے گئے۔ مشرکوں نے انہیں زد و کوب کرنا چاہا تو مطعم بن عدی اور حرب بن امیہ آڑے آ گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ قریش کے تجارتی قافلے سعد بن عبادہ کی پناہ میں ہی مدینہ کے پاس سے گزرتے تھے لہٰذا مشرکوں کو اپنا غیظ و غضب ضبط کرنا پڑا۔ اس طرح تمام مسلمان بخیر و عافیت مدینہ پہنچ گئے۔ مصعب بن عمیرؓ کے بعد عبد اللہ ابن ام مکتومؓ مدینہ پہنچے۔ یہ دونوں حضرات مدینہ کے مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کے بعد عمار بن یاسرؓ، بلال بن رباحؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ مدینہ پہنچے، ان کے بعد سیدنا عمرؓ بیس مسلمانوں کے ہمراہ مکہ کے قریشیوں کو للکارتے ہوئے ہجرت کے لیے نکلے اور مدینہ پہنچے اور آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور عامر بن فہیرہؓ مدینہ تشریف لائے۔
[بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ اعلیٰ بروایت براء بن عازب]
اس طرح اسلام کی انقلابی تحریک کا مرکز مکہ سے مدینہ منتقل ہو گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’ تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے ‘۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا { کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ } جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا }۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2586]
پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24]۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3294]
’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔
پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔
پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]