وَ کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡہَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِ ۙ وَ الۡعَیۡنَ بِالۡعَیۡنِ وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَ الۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَ الۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اور ہم نے اس میں ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں میں برابر بدلہ ہے، پھر جو اس (قصاص) کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
En
اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں
En
اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کردے تو وه اس کے لئے کفاره ہے، اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ﻇالم ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 45) ➊ {وَ كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ:} اس آیت میں بھی یہود کو ڈانٹ ہے، یعنی انھوں نے جس طرح رجم (سنگ ساری) کے حکم کو تبدیل کر دیا تھا اسی طرح ان پر نفوس (جانوں) اور جروح (زخموں) میں برابری رکھی گئی تھی، جو اب بھی تورات کی کتاب خروج، باب (۲۱) فقرہ (۲۳۔ ۲۵) میں موجود ہے، مگر انھوں نے اس کو تبدیل کر کے معطل کر ڈالا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہودی قبائل میں سے بنو نضیر طاقتور اور بنو قریظہ کمزور تھے، اس لیے یہودی بنو نضیر کا قصاص تو بنو قریظہ سے لے لیتے لیکن بنو قریظہ کا قصاص بنو نضیر سے نہیں لیتے تھے، بلکہ ان کے مقتول کی دیت ادا کر دیتے۔ (ابن جریر) ”ھدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اس آیت میں مذکور مسائل کے حجت ہونے پر اجماع ہے، پس عورت کے بدلے قاتل مرد ہی قتل کیا جائے گا، خواہ چھوٹے قبیلے کا ہو یا بڑے کا، قصاص میں سب برابر ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُسْلِمُوْنَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ] ”مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔“ [أبو داوٗد، الجہاد، باب فی السریۃ ترد علی أھل العسکر:۲۷۵۱۔ أحمد: 123/1۔ نسائی: ۲۷۵۰۔ ح: ۹۹۵ ابن ماجہ: ۲۶۸۳، وقال الألبانی حسن صحیح] بعض لوگوں نے اس آیت (جان کے بدلے جان) سے نکالا ہے کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کیا جائے گا، مگر صحیح بخاری (۶۹۱۵) میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ صریح فرمان موجود ہے: [وَاَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ] ”کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر مومن کا کفو (برابر) نہیں ہو سکتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان بعض لوگوں کے خلاف امت کا اجماع نقل فرمایا ہے جو کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کرنے کے قائل ہیں۔ (ابن کثیر)
➋ اس وقت مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے قرآن و سنت کے صریح خلاف ایسے احکام ایجاد کر لیے جن کی موجودگی میں قصاص تقریباً نا ممکن ہے۔ انھوں نے یہ قاعدہ بنا دیا کہ تیز دھار آلے کے ساتھ قتل کرے یا آگ سے جلائے تو قصاص ہے ورنہ نہیں۔ چنانچہ خواہ جان بوجھ کر قتل کے ارادے سے بھاری سے بھاری پتھر مار مار کر قتل کر دے تو قصاص نہیں ہو گا بلکہ دیت ہو گی، حالانکہ یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کا سر پتھروں سے اسی طرح کچلا تھا جس طرح اس نے ایک بچی کا سر کچلا تھا۔ [بخاری، الدیات، باب سؤال القاتل حتی یقرّ……: ۶۸۷۶] لہٰذا قرآن و حدیث کے مطابق قتل کے ارادے سے اگر جان بوجھ کر قتل کرنا ثابت ہو جائے تو پھر قصاص ہے، خواہ کسی طرح بھی قتل کرے۔ مگر ان بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی کو ڈبو کر مار دے، یا بھوکا رکھ کر مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر مار دے، غرض بہت سی صورتیں بیان کر کے کہتے ہیں کہ ان میں قصاص نہیں، کیونکہ آلہ تیز دھار نہیں۔ ظاہر ہے جن عدالتوں میں ان لوگوں کا حکم چلتا ہو، وہاں قصا ص کا نشانہ صرف وہی لوگ بنتے ہوں گے جو ان حیلوں کو نہیں جانتے ہوں گے، پھر جب قانون ہی میں انصاف نہ رہے تو کوئی قوم اﷲ کی نصرت کے وعدے کی حق دار کیسے رہ سکتی ہے؟
➌ {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ:} عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگایا جائے، پھر وہ اسے معاف کر دے تو جتنا اس نے معاف کیا اﷲ تعالیٰ اتنا ہی اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔“ [أحمد: 316/5، ح: ۲۲۷۶۷۔ السنن الکبریٰ للنسائی، التفسیر: ۱۱۱۴۶]
➍ {وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} یعنی اگر قرآن و حدیث کا انکار تو نہیں کرتا مگر اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو یہ ظالم ہے۔
➋ اس وقت مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے قرآن و سنت کے صریح خلاف ایسے احکام ایجاد کر لیے جن کی موجودگی میں قصاص تقریباً نا ممکن ہے۔ انھوں نے یہ قاعدہ بنا دیا کہ تیز دھار آلے کے ساتھ قتل کرے یا آگ سے جلائے تو قصاص ہے ورنہ نہیں۔ چنانچہ خواہ جان بوجھ کر قتل کے ارادے سے بھاری سے بھاری پتھر مار مار کر قتل کر دے تو قصاص نہیں ہو گا بلکہ دیت ہو گی، حالانکہ یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کا سر پتھروں سے اسی طرح کچلا تھا جس طرح اس نے ایک بچی کا سر کچلا تھا۔ [بخاری، الدیات، باب سؤال القاتل حتی یقرّ……: ۶۸۷۶] لہٰذا قرآن و حدیث کے مطابق قتل کے ارادے سے اگر جان بوجھ کر قتل کرنا ثابت ہو جائے تو پھر قصاص ہے، خواہ کسی طرح بھی قتل کرے۔ مگر ان بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی کو ڈبو کر مار دے، یا بھوکا رکھ کر مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر مار دے، غرض بہت سی صورتیں بیان کر کے کہتے ہیں کہ ان میں قصاص نہیں، کیونکہ آلہ تیز دھار نہیں۔ ظاہر ہے جن عدالتوں میں ان لوگوں کا حکم چلتا ہو، وہاں قصا ص کا نشانہ صرف وہی لوگ بنتے ہوں گے جو ان حیلوں کو نہیں جانتے ہوں گے، پھر جب قانون ہی میں انصاف نہ رہے تو کوئی قوم اﷲ کی نصرت کے وعدے کی حق دار کیسے رہ سکتی ہے؟
➌ {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ:} عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگایا جائے، پھر وہ اسے معاف کر دے تو جتنا اس نے معاف کیا اﷲ تعالیٰ اتنا ہی اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔“ [أحمد: 316/5، ح: ۲۲۷۶۷۔ السنن الکبریٰ للنسائی، التفسیر: ۱۱۱۴۶]
➍ {وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} یعنی اگر قرآن و حدیث کا انکار تو نہیں کرتا مگر اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو یہ ظالم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45۔ 1 جب تورات میں جان کے بدلے جان اور زخموں میں قصاص کا حکم دیا گیا تو پھر یہودیوں کے ایک قبیلے (بنو نفیر) کا دوسرے قبیلے (بنو قرظہ) کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ کرنا اور اپنے مقتول کی دیت دوسرے قبیلے کے مقتول کی بنسبت دوگنا رکھنے کا کیا جواز ہے؟ جیسا کہ اس کی تفصیل پچھلے صفحات میں گزری۔ 45۔ 2 یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس قبیلے میں مذکورہ فیصلہ کیا تھا، یہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف تھا اور اس طرح انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ گویا انسان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ احکامات الہی کو اپنائے اسی کے مطابق فیصلے کرے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس سے رہنمائی حاصل کرے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو بارگاہ الہی میں ظالم متصور ہوگا فاسق متصور ہوگا اور کافر متصور ہوگا۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے تینوں لفظ استعمال کر کے اپنے غضب اور ناراضگی کا بھرپور اظہار فرما دیا۔ اس کے بعد بھی انسان اپنے ہی خود ساختہ قوانین یا اپنی خواہشات ہی کو اہمیت دے تو اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوگی؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس آیت کے لیے تفسیر کیلانی دستیاب نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قتل کے بدلے تقاضائے عدل ہے ٭٭
یہودیوں کو اور سرزنش کی جا رہی ہے کہ ’ ان کی کتاب میں صاف لفظوں میں جو حکم تھا یہ کھلم کھلا اس کا بھی خلاف کر رہے ہیں اور سرکشی اور بے پرواہی سے اسے بھی چھوڑ رہے ہیں ‘۔ نضری یہودیوں کو تو قرظی یہودیوں کے بدلے قتل کرتے ہیں لیکن قریظہ کے یہود کو بنو نضیر کے یہود کے عوض قتل نہیں کرتے بلکہ دیت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے شادی شدہ زانی کی سنگساری کے حکم کو بدل دیا ہے اور صرف کالا منہ کر کے رسوا کر کے مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے وہاں تو انہیں کافر کہا یہاں انصاف نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ظالم کہا۔
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا «وَالْعَيْنُ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3976،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
علماء کرام کا قول ہے کہ اگلی شریعت چاہے ہمارے سامنے بطور تقرر بیان کی جائے اور منسوخ نہ ہو تو وہ ہمارے لیے بھی شریعت ہے۔ جیسے یہ احکام سب کے سب ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہیں۔
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا «وَالْعَيْنُ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3976،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
علماء کرام کا قول ہے کہ اگلی شریعت چاہے ہمارے سامنے بطور تقرر بیان کی جائے اور منسوخ نہ ہو تو وہ ہمارے لیے بھی شریعت ہے۔ جیسے یہ احکام سب کے سب ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہیں۔
امام نووی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس مسئلے میں تین مسلک ہیں ایک تو وہی جو بیان ہوا، ایک اس کے بالکل برعکس ایک یہ کہ صرف ابراہیمی شریعت جاری اور باقی ہے اور کوئی نہیں۔ اس آیت کے عموم سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مرد عورت کے بدلے بھی قتل کیا جائے گا کیونکہ یہاں لفظ نفس ہے جو مرد عورت دونوں کو شامل ہے۔“
چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { مرد عورت کے خون کے بدلے قتل کیا جائے گا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4857،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ { مسلمانوں کے خون آپس میں مساوی ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2751،قال الشيخ الألباني:صحیح] بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ ”مرد جب کسی عورت کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ صرف دیت لی جائے گی۔“ لیکن یہ قول جمہور کے خلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ ”ذمی کافر کے قتل کے بدلے بھی مسلمان قتل کر دیا جائے گا اور غلام کے قتل کے بدلے آزاد بھی قتل کر دیا جائے گا۔“ لیکن یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔
بخاری مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا نہ کیا جائے گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:111]
اور سلف کے بہت سے آثار اس بارے میں موجود ہیں کہ وہ غلام کا قصاص آزاد سے نہیں لیتے تھے اور آزاد غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔ حدیثیں بھی اس بارے میں مروی ہیں لیکن صحت کو نہیں پہنچیں۔ امام شافعی رحمة الله تو فرماتے ہیں ”اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمة الله کے خلاف اجماع ہے۔“ لیکن ان باتوں سے اس قول کا بطلان لازم نہیں آتا تاوقتیکہ آیت کے عموم کو خاص کرنے والی کوئی زبردست صاف ثابت دلیل نہ ہو۔
چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { مرد عورت کے خون کے بدلے قتل کیا جائے گا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4857،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ { مسلمانوں کے خون آپس میں مساوی ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2751،قال الشيخ الألباني:صحیح] بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ ”مرد جب کسی عورت کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ صرف دیت لی جائے گی۔“ لیکن یہ قول جمہور کے خلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ ”ذمی کافر کے قتل کے بدلے بھی مسلمان قتل کر دیا جائے گا اور غلام کے قتل کے بدلے آزاد بھی قتل کر دیا جائے گا۔“ لیکن یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔
بخاری مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا نہ کیا جائے گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:111]
اور سلف کے بہت سے آثار اس بارے میں موجود ہیں کہ وہ غلام کا قصاص آزاد سے نہیں لیتے تھے اور آزاد غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔ حدیثیں بھی اس بارے میں مروی ہیں لیکن صحت کو نہیں پہنچیں۔ امام شافعی رحمة الله تو فرماتے ہیں ”اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمة الله کے خلاف اجماع ہے۔“ لیکن ان باتوں سے اس قول کا بطلان لازم نہیں آتا تاوقتیکہ آیت کے عموم کو خاص کرنے والی کوئی زبردست صاف ثابت دلیل نہ ہو۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { حضرت انس رضی اللہ عنہ بن نضر کی پھوپھی ربیع نے ایک لونڈی کے دانت توڑ دیئے، اب لوگوں نے اس سے معافی چاہی لیکن وہ نہ مانی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلہ لینے کا حکم دے دیا، اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا اس عورت کے سامنے کے دانت توڑ دیئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اے انس! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم موجود ہے }۔ یہ سن کر فرمایا نہیں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کے دانت ہرگز نہ توڑے جائیں گے، چنانچہ ہوا بھی یہی کہ لوگ راضی رضامند ہوگئے اور قصاص چھوڑ دیا بلکہ معاف کر دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بعض بندگان رب ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ اسے پوری ہی کر دے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2703]
دوسری روایت میں ہے کہ ”پہلے انہوں نے نہ تو معافی دی نہ دیت لینی منظور کی۔“ نسائی وغیرہ میں ہے، { ایک غریب جماعت کے غلام نے کسی مالدار جماعت کے غلام کے کان کاٹ دیئے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر عرض کیا کہ ہم لوگ فقیر مسکین ہیں، مال ہمارے پاس نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی جرمانہ نہ رکھا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4590، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ہو سکتا ہے کہ یہ غلام بالغ نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنے پاس سے دے دی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے سفارش کرکے معاف کرا لیا ہو۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”پہلے انہوں نے نہ تو معافی دی نہ دیت لینی منظور کی۔“ نسائی وغیرہ میں ہے، { ایک غریب جماعت کے غلام نے کسی مالدار جماعت کے غلام کے کان کاٹ دیئے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر عرض کیا کہ ہم لوگ فقیر مسکین ہیں، مال ہمارے پاس نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی جرمانہ نہ رکھا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4590، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ہو سکتا ہے کہ یہ غلام بالغ نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنے پاس سے دے دی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے سفارش کرکے معاف کرا لیا ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جان جان کے بدلے ماری جائے گی، آنکھ پھوڑ دینے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی، ناک کاٹنے والے کا ناک کاٹ دیا جائے گا، دانت توڑنے والے کا دانت توڑ دیا جائے گا اور زخم کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:360/10]
اس میں آزاد مسلمان سب کے سب برابر ہیں۔ مرد عورت ایک ہی حکم میں۔ جبکہ یہ کام قصداً کئے گئے ہوں۔ اس میں غلام بھی آپس میں برابر ہیں، ان کے مرد بھی اور عورتیں بھی۔
(قاعدہ:) اعضاء کا کٹنا تو جوڑ سے ہوتا ہے اس میں تو قصاص واجب ہے۔ جیسے ہاتھ، پیر، قدم، ہتھیلی وغیرہ۔ لیکن جو زخم جوڑ پر نہ ہوں بلکہ ہڈی پر آئے ہوں، ان کی بابت امام مالک رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”ان میں بھی قصاص ہے مگر ران میں اور اس جیسے اعضاء میں اس لیے کہ وہ خوف و خطر کی جگہ ہے۔“
ان کے برخلاف ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے دونوں ساتھیوں کا مذہب ہے کہ ”کسی ہڈی میں قصاص نہیں، بجز دانت کے اور امام شافعی رحمة الله کے نزدیک مطلق کسی ہڈی کا قصاص نہیں۔“ یہی مروی ہے سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی اور یہی کہتے ہیں عطاء، شبعی، حسن بصری، زہری، ابراہیم، نخعی اور عمر بن عبدالعزیز رحمة الله علیہم بھی اور اسی کی طرف گئے ہیں سفیان ثوری اور لیث بن سعد رحمة الله علیہم بھی۔
امام احمد رحمہ اللہ سے بھی یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله کی دلیل وہی انس رضی اللہ عنہ والی روایت ہے جس میں ربیع سے دانت کا قصاص دلوانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ ہے۔ لیکن دراصل اس روایت سے یہ مذہب ثابت نہیں ہوتا۔
اس میں آزاد مسلمان سب کے سب برابر ہیں۔ مرد عورت ایک ہی حکم میں۔ جبکہ یہ کام قصداً کئے گئے ہوں۔ اس میں غلام بھی آپس میں برابر ہیں، ان کے مرد بھی اور عورتیں بھی۔
(قاعدہ:) اعضاء کا کٹنا تو جوڑ سے ہوتا ہے اس میں تو قصاص واجب ہے۔ جیسے ہاتھ، پیر، قدم، ہتھیلی وغیرہ۔ لیکن جو زخم جوڑ پر نہ ہوں بلکہ ہڈی پر آئے ہوں، ان کی بابت امام مالک رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”ان میں بھی قصاص ہے مگر ران میں اور اس جیسے اعضاء میں اس لیے کہ وہ خوف و خطر کی جگہ ہے۔“
ان کے برخلاف ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے دونوں ساتھیوں کا مذہب ہے کہ ”کسی ہڈی میں قصاص نہیں، بجز دانت کے اور امام شافعی رحمة الله کے نزدیک مطلق کسی ہڈی کا قصاص نہیں۔“ یہی مروی ہے سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی اور یہی کہتے ہیں عطاء، شبعی، حسن بصری، زہری، ابراہیم، نخعی اور عمر بن عبدالعزیز رحمة الله علیہم بھی اور اسی کی طرف گئے ہیں سفیان ثوری اور لیث بن سعد رحمة الله علیہم بھی۔
امام احمد رحمہ اللہ سے بھی یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله کی دلیل وہی انس رضی اللہ عنہ والی روایت ہے جس میں ربیع سے دانت کا قصاص دلوانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ ہے۔ لیکن دراصل اس روایت سے یہ مذہب ثابت نہیں ہوتا۔
کیونکہ اس میں یہ لفظ ہیں کہ اس کے سامنے کے دانت اس نے توڑ دیئے تھے اور ہو سکتا ہے کہ بغیر ٹوٹنے کے جھڑ گئے ہوں۔ اس حالت میں قصاص اجماع سے واجب ہے۔
ان کی دلیل کا پورا حصہ وہ ہے جو ابن ماجہ میں ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کہنی سے نیچے نیچے ایک تلوار مار دی، جس سے اس کی کلائی کٹ گئی، صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیت ادا کرو اس نے کہا میں قصاص چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسی کو لے لے اللہ تجھے اسی میں برکت دے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کو نہیں فرمایا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2636،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف اور گری ہوئی ہے، اس کے ایک راوی ہشم بن عکلی اعرابی ضعیف ہیں، ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی، دوسرے راوی غران بن جاریہ اعرابی بھی ضعیف ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ زخموں کا قصاص ان کے درست ہو جانے اور بھر جانے سے پہلے لینا جائز نہیں اور اگر پہلے لے لیا گیا پھر زخم بڑھ گیا تو کوئی بدلہ دلوایا نہ جائے گا۔
اس کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں چوٹ مار دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا مجھے بدلہ دلوایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوا دیا، اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو لنگڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نہ مانا، اب تیرے اس لنگڑے پن کا بدلہ کچھ نہیں }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخموں کے بھر جانے سے پہلے بدلہ لینے کو منع فرما دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:217/2:صحیح بالشواهد]
ان کی دلیل کا پورا حصہ وہ ہے جو ابن ماجہ میں ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کہنی سے نیچے نیچے ایک تلوار مار دی، جس سے اس کی کلائی کٹ گئی، صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیت ادا کرو اس نے کہا میں قصاص چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسی کو لے لے اللہ تجھے اسی میں برکت دے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کو نہیں فرمایا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2636،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف اور گری ہوئی ہے، اس کے ایک راوی ہشم بن عکلی اعرابی ضعیف ہیں، ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی، دوسرے راوی غران بن جاریہ اعرابی بھی ضعیف ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ زخموں کا قصاص ان کے درست ہو جانے اور بھر جانے سے پہلے لینا جائز نہیں اور اگر پہلے لے لیا گیا پھر زخم بڑھ گیا تو کوئی بدلہ دلوایا نہ جائے گا۔
اس کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں چوٹ مار دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا مجھے بدلہ دلوایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوا دیا، اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو لنگڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نہ مانا، اب تیرے اس لنگڑے پن کا بدلہ کچھ نہیں }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخموں کے بھر جانے سے پہلے بدلہ لینے کو منع فرما دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:217/2:صحیح بالشواهد]
مسئلہ ٭٭
اگر کسی نے دوسرے کو زخمی کیا اور بدلہ اس سے لے لیا گیا، اس میں یہ مر گیا تو اس پر کچھ نہیں۔ مالک، شافعی، احمد رحمہ اللہ علیہم اور جمہوری صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس پر دیت واجب ہے، اسی کے مال میں سے۔“ بعض اور بزرگ فرماتے ہیں ”اس کے ماں باپ کی طرف کے رشتہ داروں کے مال پر وہ دیت واجب ہے۔“ بعض اور حضرات کہتے ہیں ”بقدر اس کے بدلے کے تو ساقط ہے باقی اسی کے مال میں سے واجب ہے۔“
پھر فرماتا ہے ’ جو شخص قصاص سے درگزر کرے اور بطور صدقے کے اپنے بدلے کو معاف کر دے تو زخمی کرنے والے کا کفارہ ہو گیا اور جو زخمی ہوا ہے، اسے ثواب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ‘۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے۔“
ایک مرفوع حدیث میں یہ آیا ہے کہ { اگر چوتھائی دیت کے برابر کی چیز ہے اور اس نے درگزر کر لیا تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ثلث ہے تو تہائی گناہ، آدھی ہے تو آدھے گناہ اور پوری ہے تو پورے گناہ }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:510/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ جو شخص قصاص سے درگزر کرے اور بطور صدقے کے اپنے بدلے کو معاف کر دے تو زخمی کرنے والے کا کفارہ ہو گیا اور جو زخمی ہوا ہے، اسے ثواب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ‘۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے۔“
ایک مرفوع حدیث میں یہ آیا ہے کہ { اگر چوتھائی دیت کے برابر کی چیز ہے اور اس نے درگزر کر لیا تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ثلث ہے تو تہائی گناہ، آدھی ہے تو آدھے گناہ اور پوری ہے تو پورے گناہ }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:510/2:ضعیف]
ایک قریشی نے ایک انصاری کو زور سے دھکا دے دیا جس سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ گیا اور جب وہ بہت سر ہوگیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”اچھا جا تجھے اختیار ہے۔“ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ وہیں تھے فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جس مسلمان کے جسم میں کوئی ایذاء پہنچائی جائے اور وہ صبر کر لے، بدلہ نہ لے تو اللہ اس کے درجے بڑھاتا ہے اور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے }۔ اس انصاری نے یہ سن کر کہا، کیا سچ مچ آپ رضی اللہ عنہ نے خود ہی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، اس نے کہا پھر گواہ رہو کہ میں نے اپنے مجرم کو معاف کر دیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اسے انعام دیا۔“۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی میں بھی یہ روایت ہے لیکن امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہےابو سفر راوی کا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:448/6:صحیح لغیره مرفوعا وهذا اسناد ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ تین گنی دیت وہ دینا چاہتا تھا لیکن یہ راضی نہیں ہوا تھا، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ { جو شخص خون یا اس سے کم کو معاف کر دے، وہ اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا کفارہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:368/10:ضعیف و منقطع]
مسند میں ہے کہ { جس کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے اتنے ہی گناہ معاف فرما دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/316:صحیح]
مسند میں یہ بھی حدیث ہے { اللہ کے حکم کے مطابق حکم نہ کرنے والے ظالم ہیں }۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کفر سے کم ہے، ظلم میں بھی تفاوت ہے اور فسق بھی درجے ہیں۔
ترمذی میں بھی یہ روایت ہے لیکن امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہےابو سفر راوی کا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:448/6:صحیح لغیره مرفوعا وهذا اسناد ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ تین گنی دیت وہ دینا چاہتا تھا لیکن یہ راضی نہیں ہوا تھا، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ { جو شخص خون یا اس سے کم کو معاف کر دے، وہ اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا کفارہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:368/10:ضعیف و منقطع]
مسند میں ہے کہ { جس کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے اتنے ہی گناہ معاف فرما دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/316:صحیح]
مسند میں یہ بھی حدیث ہے { اللہ کے حکم کے مطابق حکم نہ کرنے والے ظالم ہیں }۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کفر سے کم ہے، ظلم میں بھی تفاوت ہے اور فسق بھی درجے ہیں۔