ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 16

یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ بِاِذۡنِہٖ وَ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۶﴾
جس کے ساتھ اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے اور انھیں اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ En
جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے
En
جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف ﻻتا ہے اور راه راست کی طرف ان کی رہبری کرتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 15 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں [43] دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے پیچھے چلتے ہیں۔ اور انہیں اپنے اذن سے اندھیروں سے نکال کر روشنی [44] کی طرف لے جاتا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے
[43] قرآن سے گمراہی کیسے؟
یعنی قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کو غلط انداز فکر، غلط رجحانات اور غلط نظریات سے محفوظ رکھتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی روشنی کی طرف لے آتا ہے بشرطیکہ انسان قلب سلیم اور عقل صحیح کے ساتھ قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جو شخص اپنے پہلے سے قائم کردہ غلط نظریات و عقائد قرآن سے کشید کرنے کی کوشش کرے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں قرآن سے دلائل طلب کرنے کی کوشش کرے تو ایسا شخص اسی قرآن سے گمراہ بھی ہو جاتا ہے۔
[44] روشنی کا لفظ تو بطور واحد استعمال فرمایا اور اندھیروں کا لفظ بطور جمع۔ کیونکہ گمراہیوں اور ضلالتوں کی اقسام بے شمار ہیں جبکہ ہدایت کی راہ صرف ایک ہی ہو سکتی ہے۔ قرآن اللہ کے اذن سے اسی ہدایت کی راہ دکھاتا ہے اور مشعل راہ کا کام دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

علمی بددیانت ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے ‘۔
مستدرک حاکم میں ہے جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔‏‏‏‏ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔
پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے ‘۔