تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
یہ بعینہٖ اوپر مذکور شرکیہ عقیدہ ہے، اﷲ تعالیٰ سب مسلمانوں کو توحید الٰہی کا عقیدہ رکھنے کی ہدایت اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
➋ {قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا ……:} یعنی وہ مالک کل اور مختار کل ہے اور سب چیزوں پر اسے قدرت اور برتری حاصل ہے، وہ چاہے تو سب کو آن کی آن میں فنا کر سکتا ہے، اگر مسیح علیہ السلام خدا ہوتے تو کم از کم خود کو اور اپنی والدہ کو تو بچا سکتے تھے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کر لیا اور ان کو بھی مقرر وقت پر فوت کرے گا، وہ موت سے بچ نہیں سکیں گے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (کبیر،قرطبی)
➌ {يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} یعنی وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے، آدم علیہ السلام کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دینا اس کے لیے کیا مشکل تھا، محض باپ کے بغیر پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کسی جگہ انبیاء کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھائیں۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[42] عیسائی حضرات عیسیٰؑ اور سیدہ مریمؑ دونوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰؑ اپنے آپ کو (بقول نصاریٰ) صلیب پر چڑھنے سے اور سیدہ مریمؑ یہود کی تہمت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے تو پھر ان کی الوہیت کیسی تھی؟ اور اگر اللہ ان دونوں کو اور ان کے علاوہ جتنے بھی انسان اس زمین پر موجود ہیں سب کو آن کی آن میں نیست و نابود کر دے تو کوئی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے؟ کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اور مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔
[47] یعنی اس نے عیسیٰؑ کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حوا کو ماں کے بغیر اور سیدنا آدمؑ کی وساطت سے پیدا کیا اور سیدنا آدمؑ کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اور چوتھی اور سب سے عام شکل یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر طرح سے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
[مسلم کتاب الذکر۔ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن]
اور جب سورۃ شعراء کی آیت: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا مثلاً اے عباس بن عبد المطلب! میں تیرے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے صفیہ! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی) میں آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال میں سے جو تم چاہو مجھ سے (دنیا میں) طلب کر لو۔ میں تمہارے کسی کام نہ آ سکوں گا۔
[بخاری۔ کتاب التفسیر سورۃ شعراء۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب۔ وانذر عشیر تک الاقربین]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں ‘۔
اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل علیہ السلام کو کہا ہے «(أَنْتَ ابْنِي بِكْرِي)» پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔
اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «(إِنِّي ذَاھِبٌ اِلـٰی اَبِیْ وَاَبِیْکُمْ)» اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا۔ پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔
کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ ”کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی۔“
یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے، ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں نہیں لے جائے گا }۔“ ۱؎ [مسند احمد:104/3:صحیح]
نعمان بن آصا، بحر بن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11616:ضعیف]
ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلونٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے ’ وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى أخذ الميثاق على أهل الكتابين وأنَّهم لم يقوموا به بل نقضوه؛ ذَكَرَ أقوالهم الشنيعة، فَذَكَرَ قولَ النَّصارى، القول الذي ما قاله أحدٌ غيرهم، بأنَّ الله هو المسيح بن مريم، ووجه شُبهتهم أنَّه ولد من غير أبٍ، فاعتقدوا فيه هذا الاعتقاد الباطل، مع أن حوَّاء نظيره، خُلِقَتْ بلا أمٍّ، وآدم أولى منه خلق بلا أبٍ ولا أمٍّ؛ فهلاَّ ادَّعوا فيهما الإلهية كما ادَّعوها في المسيح! فدلَّ على أنَّ قولهم اتباع هوى من غير برهانٍ ولا شبهةٍ، فردَّ الله عليهم بأدلةٍ عقليَّةٍ واضحةٍ، فقال: {قُل فمن يملِكُ من الله شيئاً إن أراد أن يُهْلِكَ المسيح ابن مريم وأمَّه ومن في الأرض جميعاً}؛ فإذا كان المذكورون لا امتناع عندهم يمنَعُهم لو أراد الله أن يُهْلِكَهم ولا قدرة لهم على ذلك؛ دلَّ على بطلان إلهية من لا يمتنع من الإهلاك ولا في قوَّته شيء من الفكاك. ومن الأدلَّة أنَّ {لله} وحدَه {ملكُ السموات والأرض}، يتصرَّف فيهم بحكمِهِ الكونيِّ والشرعيِّ والجزائيِّ، وهم مملوكون مدبَّرون؛ فهل يَليقُ أن يكون المملوك العبد الفقير إلهاً معبوداً غنيًّا من كلِّ وجه؟! هذا من أعظم المحال، ولا وجه لاستغرابهم لخلق المسيح عيسى بن مريم من غير أبٍ؛ فإنَّ الله {يَخْلُقُ ما يشاءُ}: إن شاء منِ أبٍ وأمٍّ كسائر بني آدم وإن شاء من أب بلا أم كحواء، وإن شاء من أمٍّ بلا أبٍ كعيسى، وإن شاء من غير أبٍ ولا أمٍّ كآدم؛ فنوَّع خليقتَهَ تعالى بمشيئتِهِ النافذة التي لا يستعصي عليها شيءٌ، ولهذا قال: {واللهُ على كلِّ شيءٍ قديرٌ}.