ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ ہَمَّ قَوۡمٌ اَنۡ یَّبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ فَکَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمھاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں تو اس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ سے ڈرو اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ En
اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا ہے اسے یاد کرو جب کہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ:} عمومی انعامات کے بعد اب خصوصی انعام کا ذکر ہے۔ (رازی)
➋ {اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ ……:} جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کی طرف رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں ساتھ تھے، جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹے۔ دوپہر کے آرام کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں بہت سے خاردار درخت تھے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے اور لوگ درختوں کے سائے کے لیے درختوں (کی تلاش) میں بکھر گئے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس کے ساتھ لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا، ہم آپ کے پاس آئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے میری تلوار سونت لی، جب کہ میں سویا ہوا تھا، میں جاگ پڑا تو اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی، مجھ سے کہنے لگا، تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا، اﷲ! تو دیکھو یہ بیٹھا ہے۔ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کہا۔ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ ذات الرقاع: ۴۱۳۵]
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک یہودی قبیلے بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھایا اور آپس میں پروگرام بنایا کہ ان کے اوپر چکی کا پاٹ گرا دیا جائے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو خبردار کر دیا اور آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ (ابن کثیر) ممکن ہے قرآن نے اس ایک آیت میں ان متعدد واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہو اور یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک آیت ایک واقعہ کے متعلق نازل ہوتی ہے، پھر یاددہانی کے لیے دوسرے واقعہ میں اس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ (المنار، قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 اس کی شان نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔ مثلًا اس اعرابی کا واقعہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپسی پر ایک درخت کے سائے میں آرام فرما تھے، تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس اعرابی نے تلوار پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سونت لی اور کہنے لگا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا تامل فرمایا اللہ (یعنی اللہ بچائے گا) یہ کہنا تھا کہ تلوار ہاتھ سے گرگئی۔ بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے خلاف جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، دھوکا اور فریب سے نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کے ہاتھوں غلط فہمی سے جو دو عامری شخص قتل ہوگئے تھے، ان کی دیت کی ادائیگی میں یہودیوں کے قبیلے بنو نفیر سے حسب وعدہ جو تعاون لینا تھا، اس کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفقا سمیت تشریف لے گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے یہ سازش تیار کی تھی کہ اوپر سے چکی کا پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گرا دیا جائے، جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ ممکن ہے سارے ہی واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ ایک آیت کے نزول کے کئی اسباب و عوامل ہوسکتے ہیں (تفسیر ابن کثیر و فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اے ایمان والو! اللہ کا وہ احسان بھی یاد کرو جو اس نے تم پر کیا جب (مخالف) قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا تھا تو اللہ نے ان کے ہاتھوں کو تم پر اٹھنے سے روک دیا۔ [32] اور اللہ سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے
[32] پہلا احسان تو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ انہیں اسلام کی توفیق بخشی اور اسلام کی بدولت ان کی قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ ہوا، لڑائیاں ختم ہوئیں اور آپس میں تم بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے لگے دوسرا بڑا احسان یہ تھا کہ حدیبیہ کے مقام پر کافر یہ چاہتے تھے کہ تم پر حملہ آور ہو کر تمہیں صفحہ ہستی سے ناپید کر دیں۔ لیکن اللہ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ وہ اپنا ارادہ پورا نہ کر سکے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
1۔ حدیبیہ کے دن جنگ روکنا اللہ کا احسان تھا۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کے اسی (80) آدمی مسلح ہو کر تنعیم پہاڑ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوئے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب غافل ہوں تو حملہ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر قید کر لیا پھر انہیں چھوڑ دیا تو اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی۔
[مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب ھوالذی کف ایدیکم عنھم]
2۔ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا عامر نے قبیلہ عبلات کے ایک مکرز نامی شخص کو، جو ایک جھول پڑے ہوئے گھوڑے پر سوار اور ستر مشرکوں کا ساتھی تھا گھیر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشرکوں کی طرف دیکھا پھر فرمایا: انہیں چھوڑ دو (عہد نامہ حدیبیہ کی بد عہدی کے) گناہ کی ابتدا بھی انہوں نے کی اور تکرار بھی انہی سے ہوئی۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
[مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب غزوہ ذی قرد]
اگرچہ مندرجہ بالا احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ یا اسی کے گرد و پیش حالات کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ تاہم دور نبوی میں کئی بار ایسے مواقع پیش آتے رہے کہ کبھی کفار مکہ نے جنگ کے ذریعہ اور کبھی یہودیوں نے سازشوں کے ذریعہ اسلام کو ختم کر دینے کی کوششیں کیں۔ پھر کبھی تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مسلمانوں کو دشمنوں کی سازشوں سے مطلع فرما دیا۔ اور کبھی حالات ایسے پیدا کر دیئے کہ کافروں کو حملہ آور ہونے کی جرأت ہی نہ ہو سکی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔