ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 27

لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿۲۷﴾
بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی کہ تم مسجد حرام میں ضرور بالضرور داخل ہو گے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے، ڈرتے نہیں ہو گے، تو اس نے جانا جو تم نے نہیں جانا تو اس نے اس سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔ En
بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی
En
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) ➊ { لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ:} اس کی ترکیب دو طرح سے کی جاتی ہے، ایک یہ کہ { صَدَقَ اللّٰهُ } فعل اور فاعل ہے، { رَسُوْلَهُ } اس کا مفعول بہ ہے اور { الرُّءْيَا } سے پہلے حرف جار {فِيْ} محذوف ہے، جس کے حذف کی وجہ سے { الرُّءْيَا } منصوب ہے، اسے منصوب بنزع الخافض کہتے ہیں: {أَيْ فِي الرُّؤْيَا۔} ترجمہ اسی ترکیب کے مطابق کیا گیا ہے کہ بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی یا سچ کہا۔ اس کی مثال یہ آیت ہے: «‏‏‏‏مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۲۳] {أَيْ فِيْ مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ} مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنھوں نے اس بات میں سچ کہا جس پر انھوں نے اللہ سے عہد کیا۔ دوسری ترکیب یہ ہے کہ { صَدَقَ اللّٰهُ } فعل و فاعل ہے، { رَسُوْلَهُ } پہلا مفعول ہے اور { الرُّءْيَا } دوسرا مفعول ہے۔ یعنی بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو حق کے ساتھ سچا خواب دکھایا۔ اس صورت میں { صَدَقَ } دو مفعولوں کی طرف متعدی ہو گا۔ { بِالْحَقِّ } کا مطلب ہے واقع کے عین مطابق۔
➋ { لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ …:} حدیبیہ روانہ ہونے سے پہلے مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت امن و اطمینان کے ساتھ کسی خوف کے بغیر مکہ میں داخل ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کر رہے ہیں، پھر کوئی سر منڈوا رہا ہے اور کوئی کتروا رہا ہے۔ پیغمبر کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے اور کسی صورت جھوٹا نہیں ہو سکتا، اس لیے مسلمان بہت خوش ہوئے اور عموماً انھوں نے سمجھا کہ اسی سال مکہ میں داخلہ ہو گا، مگر جب مکہ میں داخل ہوئے بغیر حدیبیہ سے واپس پلٹے تو بعض صحابہ کے دلوں میں اس کے متعلق کچھ تردّد پیدا ہوا کہ خواب پورا نہیں ہوا۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کرکے واضح فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب ہم نے دکھایا اور یہ بالکل سچ ہے جو یقینا پورا ہو گا۔ چنانچہ اس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال مکہ معظمہ میں داخل ہوئے اور امن و اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا کرکے واپس آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود خواب میں اس کے پورا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا تھا، جب کہ خواب کی تعبیر بعض اوقات کئی سال بعد جا کر ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھنے کے کئی سال بعد والدین اور بھائیوں کے مصر میں آنے پر کہا: «‏‏‏‏يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا» ‏‏‏‏ [یوسف: ۱۰۰] اے میرے باپ! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے، بے شک میرے رب نے اسے سچا کر دیا۔ یہاں بعض مسلمانوں نے اپنے طور پر سمجھ لیا تھا کہ اسی سال مکہ معظمہ میں داخلہ ہو گا۔ چنانچہ صحیح بخاری کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ جب صلح طے ہو چکی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: [فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللّٰهِ حَقًّا؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ فَلِمَ نُعْطَی الدَّنِيَّةَ فِيْ دِيْنِنَا إِذًا؟ قَالَ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيْهِ وَهُوَ نَاصِرِيْ، قُلْتُ أَوَ لَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوْفُ بِهٖ؟ قَالَ بَلٰی، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيْهِ الْعَامَ؟ قَالَ قُلْتُ لاَ، قَالَ فَإِنَّكَ آتِيْهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهٖ، قَالَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ! أَلَيْسَ هٰذَا نَبِيَّ اللّٰهِ حَقًّا؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ بَلٰی قُلْتُ فَلِمَ نُعْطَی الدَّنِيَّةَ فِيْ دِيْنِنَا إِذًا؟ قَالَ أَيُّهَا الرَّجُلُ! إِنَّهُ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِيْ رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ، فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللّٰهِ! إِنَّهُ عَلَی الْحَقِّ، قُلْتُ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوْفُ بِهٖ؟ قَالَ بَلٰی، أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيْهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ لاَ، قَالَ فَإِنَّكَ آتِيْهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهٖ، قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُمَرُ فَعَمِلْتُ لِذٰلِكَ أَعْمَالاً] [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد…: ۲۷۳۱،۲۷۳۲] تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا، کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں! میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں! میں نے کہا: تو ایسے میں ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ میری مدد کرنے والا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا میں نے تمھیں یہ بتایا تھا کہ ہم اسی سال اس میں جائیں گے؟ میں نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یقینا اس میں جانے والے اور اس کا طواف کرنے والے ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے کہا: اے ابوبکر! کیا یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں! میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟ کہا: کیوں نہیں! میں نے کہا: تو پھر ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے؟ انھوں نے کہا: اے (اللہ کے) بندے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا اللہ کے رسول ہیں اور آپ اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ آپ کی مدد کرنے والا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ میں نے کہا: کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ انھوں نے کہا: تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں بتایا تھا کہ تم اسی سال وہاں جاؤ گے؟ میں نے کہا: نہیں! انھوں نے کہا: تو تم یقینا اس میں جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ زہری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے اس (جلد بازی کے کفارے) کے لیے کئی اعمال کیے۔
صحیح بخاری میں ایک اور جگہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے عمر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ گفتگو اور ان کا یہی جواب مروی ہے، اس کے آخر میں ہے: [فَنَزَلَتْ سُوْرَةُ الْفَتْحِ فَقَرَأَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی عُمَرَ إِلٰی آخِرِهَا، فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ نَعَمْ] [بخاري، الجزیۃ والموادعۃ، باب إثم من عاھد ثم غدر: ۳۱۸۲] اس موقع پر سورۂ فتح اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سورت آخر تک پڑھ کر سنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (یہ فتح ہے)۔
➌ { اِنْ شَآءَ اللّٰهُ:} یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ان شاء الله تو استثنا کے لیے کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام ہو جائے گا ورنہ نہیں، حتیٰ کہ قسم کے بعد اگر ان شاء الله کہہ لیا جائے تو قسم بھی واقع نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں جزم اور پختگی نہیں ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں شک یا استثنا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو یہاں { اِنْ شَآءَ اللّٰهُ } کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اہلِ علم نے اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ { اِنْ شَآءَ اللّٰهُ } اس خبر کی تاکید اور اس کا یقین دلانے کے لیے ہے، استثنا کے لیے کسی طرح بھی نہیں۔ (ابن کثیر) ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تاتاریوں کے مقابلے پر مسلمانوں کو ان کی فتح کا یقین دلاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا، ساتھ ہی فرمایا: {إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَحْقِيْقًا لَا تَعْلِيْقًا۔} ابن عاشور نے فرمایا: {إِنْ شَآءَ اللّٰهُ} کا ایک استعمال یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے متعلق اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ آئندہ دیر سے واقع ہونے والی ہو، جیسے کسی سے کہا جائے کہ یہ کام کر دو تو وہ کہے، میں ان شاء الله یہ کام کر دوں گا۔ تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ وہ اس کام کو ابھی یا مستقبل قریب میں کرے گا بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسے کچھ مدت بعد کرے گا، لیکن کرے گا ضرور۔
ابن جزی صاحب التسہیل کی بیان کردہ توجیہوں میں سے تین توجیہیں یہ ہیں، ایک یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو ادب سکھانے کے لیے ہے کہ وہ اپنے آئندہ ہر کام کے لیے ان شاء اللہ کہا کریں۔ (جیسا کہ سورۂ کہف (24،23) میں فرمایا: «وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (23) اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ» ) دوسری یہ کہ یہ استثنا ہر انسان کو الگ الگ پیشِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے، کیونکہ ممکن ہے ان میں سے کوئی شخص اس داخلے سے پہلے فوت ہو جائے، یا بیمار ہونے کی وجہ سے نہ جا سکے۔ تیسری یہ کہ یہاں { اِنْ شَآءَ اللّٰهُ إِذَا شَاءَ اللّٰهُ} کے معنی میں ہے کہ یقینا تم مسجد حرام میں داخل ہو گے جب اللہ چاہے گا۔ آلوسی نے اس کی ایک مثال { إِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَلَاحِقُوْنَ } دی ہے۔ یہ تمام جواب ہی درست، پختہ اور مضبوط ہیں۔
➍ { اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ:} حج اور عمرہ میں احرام کھولنے پر سر منڈوایا یا کترایا جاتا ہے۔ { مُحَلِّقِيْنَ } کو پہلے لانے میں اس کے افضل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے حق میں تین دفعہ دعا کی اور کتروانے والوں کے حق میں ایک دفعہ دعا کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِيْنَ، قَالُوْا وَلِلْمُقَصِّرِيْنَ، قَالَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِيْنَقَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ وَ لِلْمُقَصِّرِيْنَ] [بخاري، الحج، باب الحلق والتقصیر عند الإحلال: ۱۷۲۸] اے اللہ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔ صحابہ نے کہا: اور کتروانے والوں کو بھی۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کے بار بار سوال پر) تین دفعہ پہلی دعا ہی کی، پھر فرمایا: اور کتروانے والوں کو بھی بخش دے۔
➎ { مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِيْنَ:} اپنے سروں کو منڈوانے والے اور کتروانے والے۔ { رُءُوْسَكُمْ } کا لفظ دلیل ہے کہ سر کو منڈوانا یا کتروانا ہے، ڈاڑھی کو نہیں۔
➏ { لَا تَخَافُوْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ { اٰمِنِيْنَ } ان لوگوں کو کہتے ہیں جنھیں کوئی خوف نہ ہو، پھر { لَا تَخَافُوْنَ } دوبارہ لانے کی کیا ضرورت تھی؟ جواب یہ ہے کہ { اٰمِنِيْنَ لَتَدْخُلُنَّ } کی ضمیر سے حال ہے، یعنی تم داخلے کے وقت امن کی حالت میں ہو گے اور { لَا تَخَافُوْنَ } آئندہ کے لیے وعدہ ہے کہ آئندہ بھی تمھیں دشمن کے حملے یا اس کی کسی سازش کا خوف نہیں ہو گا۔
➐ { فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں جو دکھایا تھا کہ تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہو گے وغیرہ وہ بالکل سچ فرمایا تھا۔ تمھارے خیال میں یہ داخلہ اسی سال ہونا چاہیے تھا، مگر اُسے تمھارے اس سال مکہ میں داخل نہ ہونے میں وہ حکمتیں معلوم تھیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ ان حکمتوں سے مراد کچھ وہ حکمتیں ہیں جن کا پیچھے ذکر ہوا، مثلاً صلح کی بدولت بے شمار لوگوں کا مسلمان ہونا، مکہ میں موجود ان مومن مردوں اور مومن عورتوں کو نقصان سے محفوظ رکھنا، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا، مکہ میں داخلے سے پہلے پہلے فتوحات اور غنائم کے ذریعے سے مسلمانوں کی مالی اور عددی حالت کو مستحکم کرنا وغیرہ اور کچھ وہ حکمتیں مراد ہیں جنھیں علیم و حکیم ہی جانتا ہے۔
➑ { فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا:} تو اس نے تمھارے مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔ اس فتح قریب سے مراد بعض نے فتح خیبر لی ہے اور بعض نے صلح حدیبیہ۔ زیادہ درست یہی ہے کہ مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟] یا رسول اللہ! کیا وہ فتح ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَعَمْ] ہاں! [مسلم، الجہاد و السیر، باب صلح الحدیبیۃ: ۱۷۸۵] جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے اور { اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا } سے مراد بھی یہی ہے۔ دونوں بھی مراد ہو سکتی ہیں، البتہ فتح مکہ مراد نہیں ہو سکتی، کیونکہ مکہ میں داخلہ اس فتح سے پہلے بھی ہونے والا تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھا گیا نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے عمرے کے لیے فورا ہی آمادہ ہوگئے اور اس کے لیے عام مندی کرا دی گئی اور چل پڑے بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی جس کی تفصل ابھی گزری دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا۔ 27۔ 2 یعنی اگر حدیبیہ کے مقام پر صلح نہ ہوتی تو جنگ سے مکہ میں مقیم کمزور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا صلح کے ان فوائد کو اللہ ہی جانتا تھا۔ 27۔ 3 اس سے فتح خیبر و فتح مکہ کے علاوہ، صلح کے نتیجے میں جو بہ کثرت مسلمان ہوئے وہ بھی مراد ہے، کیونکہ وہ بھی فتح کی ایک عظیم قسم ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ڈیڑھ ہزار تھے، اس کے دو سال بعد جب مسلمان مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو ان کی تعداد دس ہزار تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ بلا شبہ اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب [41] دکھایا تھا جو ایک حقیقت تھا کہ تم انشاء اللہ مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے اور اس وقت تم سر منڈاؤ گے اور بال کتراؤ گے اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا۔ وہ اس بات کو جانتا تھا جسے [42] تم نہیں جانتے تھے لہذا اس فتح [43] سے پہلے اس نے ایک قریبی فتح (خیبر) تمہیں عطا فرما دی۔
[41] عمرہ کے خواب کی حقیقت :۔
کافر یا منافقین تو درکنار خود بعض مسلمانوں کو بھی اس بات میں تردد تھا کہ نبی کا خواب تو وحی ہوتا ہے۔ پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ ہمیں عمرہ سے روک دیا گیا ہے۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو منظور فرما رہے ہیں۔ اس کا ایک جواب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرؓ کو دے دیا تھا کہ: ”میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ عمرہ اسی سال ہو گا“ (یعنی خواب میں وقت کی تعیین نہیں کی گئی تھی) اور دوسرا جواب خود اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ پیغمبر کا خواب فی الواقع سچا تھا اور ہم نے ہی دکھایا تھا وہ ضرور پورا ہو گا۔ تم یقیناً امن و امان کے ساتھ حرم میں داخل ہو کر عمرہ ادا کرو گے۔ تم سر منڈاؤ گے اور بال کتراؤ گے۔ یہاں پہلے سر منڈانے کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سر منڈانا، بال کتروانے سے افضل ہے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ سے اگلے سال مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا اور یہ سب باتیں پوری ہوئیں۔
ایفائے عہد کی مثال :۔
از روئے معاہدہ حدیبیہ طے یہ ہوا تھا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لئے آئیں اور تین دن کے اندر اندر عمرہ کر کے واپس اپنے وطن چلے جائیں۔ اور جب مسلمان آ گئے تو قریش مکہ یہ برداشت نہ کر سکے کہ مسلمان ان کی نظروں کے سامنے بلاتکلف کعبہ میں داخل ہو کر عمرہ کے ارکان آزادی سے بجا لا سکیں۔ لہٰذا انہوں نے صرف حرم کعبہ کو خالی کرنے کے بجائے اس شہر کو ہی خالی کر دیا اور خود آس پاس پہاڑیوں پر تین دن کے لئے جامقیم ہوئے۔ اس دوران اگر مسلمان چاہتے تو بڑی آسانی سے مکہ پر قبضہ کر سکتے تھے۔ مگر مسلمان ایفائے عہد میں اس قسم کی موقع شناسی کو بد ترین جرم تصور کرتے تھے۔ لہٰذا کسی کو بھی ایسا خیال تک نہ آیا اور تین دن کی طے شدہ مدت کے بعد مسلمان عمرہ کر کے واپس چلے گئے۔
عمرہ قضا کو کس لحاظ سے عمرہ قضا کہا جاتا ہے؟
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حدیبیہ میں چونکہ مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ لہٰذا اس عمرہ کی قضا لازم تھی۔ جو انہوں نے اگلے سال ادا کی۔ اور مغالطہ غالباً لفظ قضا سے ہوا۔ حالانکہ یہاں قضا اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ عمرہ جس کے متعلق معاہدہ حدیبیہ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مسلمان اس سال نہیں بلکہ اگلے سال آ کر کریں گے جس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے سال کوئی ایسا اعلان نہیں فرمایا کہ جو لوگ پچھلے سال عمرہ سے روک دیئے گئے تھے وہ عمرہ کے لئے تیار ہو جائیں اور مسلمان بھی جو حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے اس معاملہ میں آزاد تھے۔ جو آسکتے تھے وہ آگئے اور جو نہ آسکے وہ نہیں آئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بھی اس کی وضاحت موجود ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قضا اس پر لازم ہے جو عورت سے صحبت کر کے حج توڑے، اور جسے کوئی عذر لاحق ہو جائے، دشمن روک دے یا اور کچھ بیماری وغیرہ کا عذر ہو تو وہ اپنا احرام کھول دے اور قضا نہ دے۔ اور اگر اس کے ساتھ قربانی ہو اور اسے حرم میں نہ بھیج سکے تو وہیں ذبح کر دے اور اگر حرم تک بھیج سکتا ہے تو جب تک قربانی وہاں نہ پہنچ جائے، وہ احرام نہیں کھول سکتا اور امام مالک وغیرہ نے کہا کہ جب وہ رک جائے تو جہاں کہیں چاہے وہیں قربانی ذبح کر دے اور سر منڈا لے اور اس پر قضا لازم نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں قربانیاں ذبح کیں اور سر منڈائے اس سے پہلے کہ وہ طواف کریں اور قربانی بیت اللہ کو پہنچے۔ پھر کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں کہ آپ نے ان میں سے کسی کو قضا کا حکم دیا ہو یا دہرانے کو کہا ہو۔ اور حدیبیہ حرم کی حد سے باہر ہے۔ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ ابواب المحصر۔ باب من قال لیس علی المحصر بدل]
[42] یعنی یہ کہ یہ عمرہ اگلے سال ہو گا۔ اس سال نہیں ہو گا۔
[43] یعنی یہ فتح خیبر تمہاری حدیبیہ کے مقام پر پیش آنے والی پریشانیوں پر صبر و برداشت اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے صلہ کے طور پر تمہیں دی جا رہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا، آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے مدینہ شریف میں ہی کر دیا تھا۔ حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر نہایت شاق گزرا۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے، آپ نے فرمایا: یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہو گا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں یہ تو نہیں فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: پھر جلدی کیا ہے؟ تم بیت اللہ میں جاؤ گے ضرور اور طواف بھی یقیناً کرو گے۔‏‏‏‏ پھر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ سے یہی کہا اور ٹھیک یہی جواب پایا۔
اس آیت میں جو «ان شاءاللہ» ہے یہ استثناء کے لیے نہیں بلکہ تحقیق اور تاکید کے لیے ہے اس مبارک خواب کی تاویل کو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا اور پورے امن و اطمینان کے ساتھ مکہ میں گئے اور وہاں جا کر احرام کھولتے ہوئے بعض نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے بال کتروائے۔
صحیح حدیث میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا اور کتروانے والوں پر بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بھی یہی فرمایا پھر لوگوں نے وہی کہا آخر تیسری یا چوتھی دفعہ میں آپ نے کتروانے والوں کے لیے بھی رحم کی دعا کی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1727]‏‏‏‏
پھر فرمایا بےخوف ہو کر یعنی مکہ جاتے وقت بھی امن و امان سے ہوں گے اور مکہ کا قیام بھی بےخوفی کا ہو گا۔ چنانچہ عمرۃ القضاء میں یہی ہوا یہ عمرہ ذی قعدہ سنہ ۷ ہجری میں ہوا تھا۔ حدیبیہ سے آپ ذی قعدہ کے مہینے میں لوٹے، ذی الحجہ اور محرم تو مدینہ شریف میں قیام رہا، صفر میں خیبر کی طرف گئے اس کا کچھ حصہ تو ازروئے جنگ فتح ہوا اور کچھ حصہ ازروئے صلح مسخر ہوا یہ بہت بڑا علاقہ تھا اس میں کھجوروں کے باغات اور کھیتیاں بکثرت تھیں۔
یہیں کے یہودیوں کو آپ نے بطور خادم یہاں رکھ کر ان سے یہ معاملہ طے کیا کہ وہ باغوں اور کھیتوں کی حفاظت اور خدمت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ دے دیا کریں، خیبر کی تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان ہی صحابہ رضی اللہ عنہم میں کی جو حدیبیہ میں موجود تھے ان کے سوا کسی اور کو اس جنگ میں آپ نے حصہ دار نہیں بنایا، سوائے ان لوگوں کے جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے، جو حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ سب اس فتح خیبر میں بھی ساتھ تھے۔
ابودجانہ، سماک بن خرشہ رحمہا اللہ علیہ کے سوا، جیسے کہ اس کا پورا بیان اپنی جگہ ہے۔ یہاں سے آپ سالم و غنیمت لیے ہوئے واپس تشریف لائے اور ماہ ذوالقعدہ سنہ ۷ ہجری میں مکہ کی طرف باارادہ عمرہ اہل حدیبیہ کو ساتھ لے کر آپ روانہ ہوئے، ذوالحلفیہ سے احرام باندھا قربانی کے لیے ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور لبیک پکارتے ہوئے ظہران کے قریب پہنچ کر سیدنا محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ گھوڑے سواروں کے ساتھ ہتھیار بند آگے آگے روانہ کیا۔
اس سے مشرکین کے اوسان خطا ہو گئے اور مارے رعب کے ان کے کلیجے اچھلنے لگے۔ انہیں یہ خیال گزرا کہ یہ تو پوری تیاری اور کامل ساز و سامان کے ساتھ آئے ہیں تو ضرور لڑائی کے ارادے سے آئے ہیں۔ انہوں نے شرط توڑ دی کہ دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہو گی، چنانچہ یہ لوگ دوڑے ہوئے مکہ میں گئے اور اہلِ مکہ کو اس کی اطلاع دی۔
َنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرالظہران میں پہنچے جہاں سے کعبہ کے بت دکھائی دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نیزے بھالے تیر کمان بطن یاجج میں بھیج دئیے، مطابق شرط کے صرف تلواریں پاس رکھ لیں اور وہ بھی میان میں تھیں ابھی آپ راستے میں ہی تھے جو قریش کا بھیجا ہوا آدمی مکرز بن حفص آیا اور کہنے لگا: حضور آپ کی عادت تو عہد توڑنے کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟، وہ کہنے لگا کہ آپ تیر اور نیزے لے کر آ رہے ہیں آپ نے فرمایا: نہیں تو ہم نے وہ سب یاجج بھیج دیے ہیں۔‏‏‏‏
اس نے کہا: یہی ہمیں آپ کی ذات سے امید تھی، آپ ہمیشہ سے بھلائی اور نیکی اور وفاداری ہی کرنے والے ہیں، سرداران کفار تو بوجہ غیظ و غضب اور رنج و غم کے شہر سے باہر چلے گئے کیونکہ وہ تو آپ کو اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے اور لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ مرد، عورت، بچے تمام راستوں پر اور کوٹھوں پر اور چھتوں پر کھڑے ہو گئے اور ایک استعجاب کی نظر سے اس مخلص گروہ کو اس پاک لشکر کو اس اللہ کی فوج کو دیکھ رہے تھے۔
آپ نے قربانی کے جانور ذی طوٰی میں بھیج دئیے تھے، خود آپ اپنی مشہور و معروف سواری اونٹنی قصوا پر سوار تھے، آگے آگے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جو برابر لبیک پکار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے «باسم الذی لا دین الا دینہ» *** «بسم الذی محمد رسولہ» *** «خلوا بنی الکفار عن سبیلہ» *** «الیوم نضربکم علی تاویلہ» *** «کما ضربنا کم علی تنزیلہ» *** «ضربا یزیل الھام عن مقیلہ» *** «ویذھل الخلیل عن خلیلہ» *** «قد انزل الرحمن فی تنزیلہ» *** «فی صحف تتلی علی رسولہ» *** «بان خیرالقتل فی سبیلہ» *** «یا رب انی مومن بقیلہ» ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:320/3:مرسل]‏‏‏‏
یعنی ’ اس اللہ عزوجل کے نام سے جس کے دین کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں۔ اس اللہ کے نام سے جس کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے کافروں کے بچو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاو، آج ہم تمہیں آپ کے لوٹنے پر بھی ویسا ہی ماریں گے، جیسے آپ کے آنے پر مارا تھا، وہ مار جو دماغ کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دے اور دوست کو دوست سے بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ رحم والے نے اپنی وحی میں نازل فرمایا ہے، جو ان صحیفوں میں موجود ہے جو اس کے رسول کے سامنے تلاوت کیے جاتے ہیں کہ سب سے بہتر موت شہادت کی موت ہے، جو اس کی راہ میں ہو۔ اے میرے پروردگار اس بات پے ایمان لا چکا ہوں ‘۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ اس عمرے کے سفر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (‏‏‏‏مر الظہران) میں پہنچے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنا کہ اہل مکہ کہتے ہیں یہ لوگ بوجہ لاغری اور کمزوری کے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواریوں کے چند جانور ذبح کر لیں ان کا گوشت کھائیں اور شوربا پئیں اور تازہ دم ہو کر مکہ میں جائیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں ایسا نہ کرو، تمہارے پاس جو کھانا ہو اسے جمع کرو، چنانچہ جمع کیا دستر خوان بچھایا اور کھانے بیٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ سب نے کھا پی لیا اور توشے دان بھر لیے۔
آپ مکہ شریف آئے سیدھے بیت اللہ گئے قریشی حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چادر کے پلے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیے اور اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: یہ لوگ تم میں سستی اور لاغری محسوس نہ کریں، اب آپ نے رکن کو بوسہ دے کر دوڑنے کی سی چال سے طواف شروع کیا جب رکن یمانی کے پاس پہنچے جہاں قریش کی نظریں نہیں پڑتی تھیں تو وہاں سے آہستہ آہستہ چل کر حجر اسود تک پہنچے۔
قریش کہنے لگے تم لوگ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہو گویا چلنا تمہیں پسند ہی نہیں، تین مرتبہ تو آپ اسی طرح ہلکی دوڑ کی سی چال حجر اسود سے رکن یمانی تک چلتے رہے تین پھیرے اس طرح کئے چنانچہ یہی مسنون طریقہ ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں بھی اسی طرح طواف کے تین پھیروں میں رمل کیا یعنی دلکی چال چلے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1889]‏‏‏‏
بخاری مسلم میں ہے کہ { اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے کی آب و ہوا شروع میں کچھ ناموافق پڑی تھی اور بخار کی وجہ سے یہ کچھ لاغر ہو گئے تھے، جب آپ مکہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے کہا یہ لوگ جو آ رہے ہیں انہیں مدینے کے بخار نے کمزور اور سست کر دیا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس کلام کی خبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی۔ مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک طواف کے تین پہلے پھیروں میں دلکی چال چلیں اور رکن یمانی سے حجر اسود تک جہاں جانے کے بعد مشرکین کی نگاہیں نہیں پڑتی تھیں، وہاں ہلکی چال چلیں پورے ساتوں پھیروں میں رمل کرنے کو نہ کہنا یہ صرف بطور رحم کے تھا، مشرکوں نے جب دیکھا کہ یہ تو سب کے سب کود کود کر پھرتی اور چستی سے طواف کر رہے ہیں تو آپس میں کہنے لگے کیوں جی انہی کی نسبت اڑا رکھا تھا کہ مدینے کے بخار نے انہیں سست و لاغر کر دیا ہے؟ یہ لوگ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ چست و چالاک ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4256]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ شریف پہنچ گئے تھے اور روایت میں ہے کہ مشرکین اس وقت قعیقعان کی طرف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفا مروہ کی طرف سعی کرنا بھی مشرکوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4257]‏‏‏‏
{ سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ہم آپ پر چھائے ہوئے تھے اس لیے کہ کوئی مشرک یا کوئی ناسمجھ آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4255]‏‏‏‏
بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لیے نکلے لیکن کفار قریش نے راستہ روک لیا اور آپ کو بیت اللہ شریف تک نہ جانے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں قربانیاں کیں اور وہیں یعنی حدیبیہ میں سر منڈوا لیا اور ان سے صلح کر لی جس میں یہ طے ہوا کہ آپ اگلے سال عمرہ کریں گے سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ میں نہیں آئیں گے اور وہاں اتنی ہی مدت ٹھہریں گے جتنی اہل مکہ چاہیں پس اگلے سال آپ اسی طرح آئے تین دن تک ٹھہرے پھر مشرکین نے کہا اب آپ چلے جائیں چنانچہ آپ وہاں سے واپس ہوئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4252]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن اہل مکہ حائل ہوئے تو آپ نے ان سے یہ فیصلہ کیا کہ آپ صرف تین دن ہی مکہ میں ٹھہریں گے جب صلح نامہ لکھنے لگے تو لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی تو اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو ہم رسول اللہ جانتے تو ہرگز نہ روکتے بلکہ آپ محمد بن عبداللہ لکھئیے۔ آپ نے فرمایا: میں رسول اللہ ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں، پھر آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لفظ رسول کو مٹا دو۔‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں نہیں، قسم اللہ کی! میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا، چنانچہ آپ نے اس صلح نامہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر باوجود اچھی طرح لکھنا نہ جاننے کے لکھا، کہ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی۔ یہ کہ مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے، صرف تلوار ہو گی اور وہ بھی میان میں اور یہ کہ اہل مکہ میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے گا اسے آپ اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے ساتھیوں میں سے جو مکے میں رہنے کے ارادے سے ٹھہر جانا چاہے گا آپ اسے روکیں گے نہیں، پس جب آپ آئے اور وقت مقررہ گزر چکا تو مشرکین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا آپ حضور سے کہئے کہ اب وقت گزر چکا تشریف لے جائیں، چنانچہ آپ نے کوچ کر دیا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہہ کر آپ کے پیچھے ہو لیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے لیا اور انگلی تھام کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے اور فرمایا: اپنے چچا کی لڑکی کو اچھی طرح رکھو سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا نے بڑی خوشی سے بچی کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اب سیدنا علی اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہما میں جھگڑا ہونے لگا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے انہیں میں لے آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہیں، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میری چچا زاد بہن ہے اور ان کی خالہ میرے گھر میں ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میرے بھائی کی لڑکی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ یوں کیا کہ لڑکی کو تو ان کی خالہ کو سونپا اور فرمایا خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔‏‏‏‏ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو خلق اور خلق میں مجھ سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے۔‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لڑکی سے نکاح کیوں نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:4251]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس خیر و مصلحت کو جانتا تھا اور جسے تم نہیں جانتے تھے اس بنا پر تمہیں اس سال مکہ میں نہ جانے دیا اور اگلے سال جانے دیا اور اس جانے سے پہلے ہی جس کا وعدہ خواب کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تمہیں فتح قریب عنایت فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو تمہارے دشمنوں کے درمیان ہوئی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان دشمنوں پر اور تمام دشمنوں پر فتح دے گا اس نے آپ کو علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ بھیجا ہے، شریعت میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں علم اور عمل پس علم شرعی صحیح علم ہے اور عمل شرعی مقبولیت والا عمل ہے۔ اس کے اخبار سچے، اس کے احکام سراسر عدل و حق والے۔ چاہتا یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے دین ہیں عربوں میں، عجمیوں میں، مسلمین میں، مشرکین میں، ان سب پر اس اپنے دین کو غالب اور ظاہر کرے، اللہ کافی گواہ ہے اس بات پر کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی آپ کا مددگار ہے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»