ہُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَ الۡہَدۡیَ مَعۡکُوۡفًا اَنۡ یَّبۡلُغَ مَحِلَّہٗ ؕ وَ لَوۡ لَا رِجَالٌ مُّؤۡمِنُوۡنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤۡمِنٰتٌ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡہُمۡ اَنۡ تَطَـُٔوۡہُمۡ فَتُصِیۡبَکُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ لِیُدۡخِلَ اللّٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ لَوۡ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبۡنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۲۵﴾
یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی،اس حال میں کہ وہ اس سے روکے ہوئے تھے کہ اپنی جگہ تک پہنچیں۔ اور اگر کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنھیں تم نہیں جانتے تھے (اگر یہ نہ ہوتا) کہ تم انھیں روند ڈالو گے تو تم پر لا علمی میں ان کی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کر دیا جاتا) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کر لے، اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، سزا دیتے، دردناک سزا ۔
En
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے
En
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 25) ➊ {هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ:} اس سے اہلِ مکہ کی اس زیادتی کا بیان مقصود ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عار قرار دیا اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کے بجائے کفر پر اڑ گئے اور انھوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخلے اور اس کے طواف سے اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کرنے سے روک دیا اور لڑائی پر آمادہ ہو گئے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان لڑنے کی نیت سے نہیں آئے تھے، نہ وہ پوری طرح ہتھیار لائے تھے، بلکہ وہ حالت احرام میں تھے۔ لڑنا تو ایک طرف رہا وہ اس حالت میں کسی کو ایذا بھی نہیں دے سکتے تھے۔
➋ {وَ الْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ: ” الْهَدْيَ “} مصدر بمعنی اسم مفعول: {”أَيْ اَلْأَنْعَامُ الْمَهْدِيَّةُ“} وہ چوپائے جو کعبہ میں قربانی کے لیے لائے جاتے ہیں۔ یہ لفظ مصدر ہونے کی وجہ سے واحد جمع اور مذکر و مؤنث سب پر استعمال ہوتا ہے۔ {” مَعْكُوْفًا “ ”عَكَفَ يَعْكُفُ“} (ن) سے اسم مفعول ہے۔ {”عَكَفَ“} لازم بھی آتا ہے جس کا معنی ”ایک جگہ ٹھہرنے کو لازم کر لینا “ ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ» [البقرۃ: ۱۸۷] ”جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“ یہاں متعدی استعمال ہوا ہے: {”عَكَفَهُ أَيْ حَبَسَهُ۔“ ” مَعْكُوْفًا “} جسے ایک جگہ روک کر رکھا گیا ہو۔ {” الْهَدْيَ “} پر نصب اس لیے آیا ہے کہ اس کا عطف {” صَدُّوْكُمْ “} میں ضمیر مخاطب پر ہے اور {” مَعْكُوْفًا “ ” الْهَدْيَ “} سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا، اس حال میں کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچنے سے روکے ہوئے تھے۔ یعنی قربانیوں کو بھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جو عمرہ اور حج کی قربانیوں کے حلال ہونے. کی اصل جگہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ہدی یعنی قربانی کے اونٹ لے کر آئے تھے، جب کفار نے اس سال مکہ میں داخلے اور عمرہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اسے آئندہ سال کے لیے مؤخر کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر وہ جانور قربان کر دیے اور سر منڈا کر احرام کھول دیا۔
➌ {وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ …: ” تَطَـُٔوْهُمْ “ ”وَطِئَ يَطَأُ وَطْأً“} (س) روندنا، پامال کرنا۔ یہ مضارع معلوم سے جمع مذکر حاضر ہے۔ {” مَعَرَّةٌ“} عیب، گناہ، نقصان۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس موقع پر جنگ نہ ہونے دینے کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں: ایک یہ کہ مکہ میں مشرکین کے ساتھ کئی مومن مرد اور مومن عورتیں بھی موجود تھیں، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہو چکے تھے مگر انھوں نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا اور کچھ وہ تھے جو کھلم کھلا مسلمان ہو چکے تھے مگر بے بسی کی وجہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اگر مکہ پر حملہ ہوتا تو مشرکین کے ساتھ وہ مومن مرد اور مومن عورتیں بھی روند دیے جاتے جو مسلمانوں کے لیے عیب کا باعث ہوتا کہ انھوں نے اپنے ہی بھائی بہنوں کو قتل کر دیا، حالانکہ ان کا یہ قتل لاعلمی کی بنا پر ہوتا۔ عیب کا باعث ہونے سے مراد کفار کی طرف سے عیب لگانا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ہی بھائی مار دیے اور وہ رنج و الم بھی جو اپنے بھائیوں کو قتل کرنے سے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا، ورنہ جنگ کے دوران کفار میں رہنے والے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر نہ دیت ہے نہ کفارہ اور نہ ہی ملامت۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ روک کر یہ نوبت ہی نہ آنے دی کہ مسلمانوں پر کوئی الزام آ سکے۔ واضح رہے کہ {” وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ “} سے {” بِغَيْرِ عِلْمٍ “} تک جملہ شرط ہے، جزا اس کی محذوف ہے، کیونکہ وہ خود واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر یہ مانع نہ ہوتا ”تو تمھارے ہاتھ نہ روکے جاتے، بلکہ اہلِ مکہ پر حملہ کر دیا جاتا۔“
➍ { لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ:} یہ اس وقت جنگ سے مسلمانوں کے ہاتھ روک دینے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا تھا، جو کفار اور مسلمانوں کی صلح اور باہمی میل جول ہی سے ممکن تھا۔ اگر لڑائی ہو جاتی تو انھیں سوچنے سمجھنے اور اسلام قبول کرنے کا موقع ہی نہ ملتا اور نہ معلوم کتنے ہی کفر کی حالت میں مارے جاتے۔ پھر واقعی اس صلح کی بدولت بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہوئے، سنہ ۶ہجری میں آنے والے مسلمان صرف چودہ سو تھے، دو سال کے قلیل عرصے میں مکہ فتح کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد دس ہزار تھی اور مکہ فتح ہونے اور مشرکین کو عام معافی کے اعلان پر پورا مکہ مسلمان ہو گیا۔ (والحمد للہ)
➎ {لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” تَزَيَّلُوْا “ ” تَزَيَّلَ يَتَزَيَّلُ تَزَيُّلاً “} (تفعّل) ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ یعنی اگر اس موقع پر مکہ میں رہنے والے مسلم و کافر کی پوری طرح تمیز ہوتی اور وہ لوگ جو مسلمان ہو چکے تھے یا آئندہ ان کی قسمت میں مسلمان ہونا لکھا تھا، کفار سے الگ اور نمایاں ہوتے تو ہم اہلِ مکہ کے کفار کو ایسی درد ناک سزا دیتے کہ یا تو لڑائی میں مارے جاتے یا قید ہو کر ذلیل و خوار ہوتے۔
➏ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ایمان والوں کا وجود دنیا میں کفار کے لیے بھی باعث رحمت ہے، اس طرح کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے بعض اوقات کفار بھی عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال (۳۳)۔
➋ {وَ الْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ: ” الْهَدْيَ “} مصدر بمعنی اسم مفعول: {”أَيْ اَلْأَنْعَامُ الْمَهْدِيَّةُ“} وہ چوپائے جو کعبہ میں قربانی کے لیے لائے جاتے ہیں۔ یہ لفظ مصدر ہونے کی وجہ سے واحد جمع اور مذکر و مؤنث سب پر استعمال ہوتا ہے۔ {” مَعْكُوْفًا “ ”عَكَفَ يَعْكُفُ“} (ن) سے اسم مفعول ہے۔ {”عَكَفَ“} لازم بھی آتا ہے جس کا معنی ”ایک جگہ ٹھہرنے کو لازم کر لینا “ ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ» [البقرۃ: ۱۸۷] ”جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“ یہاں متعدی استعمال ہوا ہے: {”عَكَفَهُ أَيْ حَبَسَهُ۔“ ” مَعْكُوْفًا “} جسے ایک جگہ روک کر رکھا گیا ہو۔ {” الْهَدْيَ “} پر نصب اس لیے آیا ہے کہ اس کا عطف {” صَدُّوْكُمْ “} میں ضمیر مخاطب پر ہے اور {” مَعْكُوْفًا “ ” الْهَدْيَ “} سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا، اس حال میں کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچنے سے روکے ہوئے تھے۔ یعنی قربانیوں کو بھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جو عمرہ اور حج کی قربانیوں کے حلال ہونے. کی اصل جگہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ہدی یعنی قربانی کے اونٹ لے کر آئے تھے، جب کفار نے اس سال مکہ میں داخلے اور عمرہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اسے آئندہ سال کے لیے مؤخر کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر وہ جانور قربان کر دیے اور سر منڈا کر احرام کھول دیا۔
➌ {وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ …: ” تَطَـُٔوْهُمْ “ ”وَطِئَ يَطَأُ وَطْأً“} (س) روندنا، پامال کرنا۔ یہ مضارع معلوم سے جمع مذکر حاضر ہے۔ {” مَعَرَّةٌ“} عیب، گناہ، نقصان۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس موقع پر جنگ نہ ہونے دینے کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں: ایک یہ کہ مکہ میں مشرکین کے ساتھ کئی مومن مرد اور مومن عورتیں بھی موجود تھیں، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہو چکے تھے مگر انھوں نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا اور کچھ وہ تھے جو کھلم کھلا مسلمان ہو چکے تھے مگر بے بسی کی وجہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اگر مکہ پر حملہ ہوتا تو مشرکین کے ساتھ وہ مومن مرد اور مومن عورتیں بھی روند دیے جاتے جو مسلمانوں کے لیے عیب کا باعث ہوتا کہ انھوں نے اپنے ہی بھائی بہنوں کو قتل کر دیا، حالانکہ ان کا یہ قتل لاعلمی کی بنا پر ہوتا۔ عیب کا باعث ہونے سے مراد کفار کی طرف سے عیب لگانا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ہی بھائی مار دیے اور وہ رنج و الم بھی جو اپنے بھائیوں کو قتل کرنے سے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا، ورنہ جنگ کے دوران کفار میں رہنے والے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر نہ دیت ہے نہ کفارہ اور نہ ہی ملامت۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ روک کر یہ نوبت ہی نہ آنے دی کہ مسلمانوں پر کوئی الزام آ سکے۔ واضح رہے کہ {” وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ “} سے {” بِغَيْرِ عِلْمٍ “} تک جملہ شرط ہے، جزا اس کی محذوف ہے، کیونکہ وہ خود واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر یہ مانع نہ ہوتا ”تو تمھارے ہاتھ نہ روکے جاتے، بلکہ اہلِ مکہ پر حملہ کر دیا جاتا۔“
➍ { لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ:} یہ اس وقت جنگ سے مسلمانوں کے ہاتھ روک دینے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا تھا، جو کفار اور مسلمانوں کی صلح اور باہمی میل جول ہی سے ممکن تھا۔ اگر لڑائی ہو جاتی تو انھیں سوچنے سمجھنے اور اسلام قبول کرنے کا موقع ہی نہ ملتا اور نہ معلوم کتنے ہی کفر کی حالت میں مارے جاتے۔ پھر واقعی اس صلح کی بدولت بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہوئے، سنہ ۶ہجری میں آنے والے مسلمان صرف چودہ سو تھے، دو سال کے قلیل عرصے میں مکہ فتح کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد دس ہزار تھی اور مکہ فتح ہونے اور مشرکین کو عام معافی کے اعلان پر پورا مکہ مسلمان ہو گیا۔ (والحمد للہ)
➎ {لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” تَزَيَّلُوْا “ ” تَزَيَّلَ يَتَزَيَّلُ تَزَيُّلاً “} (تفعّل) ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ یعنی اگر اس موقع پر مکہ میں رہنے والے مسلم و کافر کی پوری طرح تمیز ہوتی اور وہ لوگ جو مسلمان ہو چکے تھے یا آئندہ ان کی قسمت میں مسلمان ہونا لکھا تھا، کفار سے الگ اور نمایاں ہوتے تو ہم اہلِ مکہ کے کفار کو ایسی درد ناک سزا دیتے کہ یا تو لڑائی میں مارے جاتے یا قید ہو کر ذلیل و خوار ہوتے۔
➏ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ایمان والوں کا وجود دنیا میں کفار کے لیے بھی باعث رحمت ہے، اس طرح کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے بعض اوقات کفار بھی عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال (۳۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25۔ 1 ھدی اس جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی یا معتمر عمرہ کرنے والا اپنے ساتھ مکہ لے جاتا تھا یا وہیں سے خرید کر ذبح کرتا تھا محل سے مراد وہ قربان گاہ ہے جہاں ان کو لے جا کر ذبح کیا جاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں یہ مقام معتمر کے لیے مروہ پہاڑی کے پاس اور حاجیوں کے لیے منی تھا اور اسلام میں ذبح کرنے کی چگہ مکہ منی اور پورے حدود حرم ہیں۔ معکوفا حال ہے یعنی یہ جانور اس انتظار میں رکے ہوئے تھے کہ مکہ میں داخل ہوں تاکہ انہیں قربان کیا جائے مطلب یہ ہے کہ ان کافروں نے ہی تمہیں بھی مسجد حرام سے روکا اور تمہارے ساتھ جو جانور تھے انہیں بھی اپنی قربان گاہ تک نہیں پہنچنے دیا۔ 25۔ 2 یعنی مکہ میں اپنا ایمان چھپائے رہ رہے تھے۔ 25۔ 3 کفار کے ساتھ لڑائی کی صورت میں ممکن تھا کہ یہ بھی مارے جاتے اور تمہیں ضرر پہنچتا معرۃ کے اصل معنی عیب کے ہیں یہاں مراد کفارہ اور وہ برائی اور شرمندگی ہے جو کافروں کی طرف سے تمہیں اٹھانی پڑتی یعنی ایک تو قتل خطا کی دیت دینی پڑتی اور دوسرے کفار کا یہ طعنہ سہنا پڑتا کہ یہ اپنے مسلمان ساتھیوں کو بھی مار ڈالتے ہیں۔ 25۔ 4 یہ لولا کا محذوف جواب ہے یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی تو تمہیں مکہ میں داخل ہونے کی اور قریش مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دی جاتی۔ 25۔ 5 بلکہ اہل مکہ کو مہلت دے دی گئی تاکہ جس کو اللہ چاہے قبول اسلام کی توفیق دے دے۔ 25۔ 6 تزیلوا بمعنی تمیزوا ہے مطلب یہ ہے کہ مکہ میں آباد مسلمان اگر کافروں سے الگ رہائش پذیر ہوتے تو ہم تمہیں اہل مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمہارے ہاتھوں ان کو قتل کرواتے اور اس طرح انہیں دردناک سزا دیتے عذاب الیم سے مراد یہاں قتل قیدی بنانا اور قہر اور غلبہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں [35] کو ان کی قربان گاہ تک پہنچنے سے روکے رکھا۔ اور اگر (مکہ میں) کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے (اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ جنگ کی صورت میں) تم انہیں پامال کر دو گے [36]، پھر (ان کی وجہ سے) تمہیں نا دانستہ کوئی پشیمانی لاحق ہو گی (تو تمہیں لڑنے سے نہ روکا جاتا اور روکا اس لئے گیا) تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں [37] داخل کرے۔ اگر مومن ان سے الگ ہو گئے ہوتے تو ان (اہل مکہ) [38] میں سے جو کافر تھے انہیں ہم دردناک سزا دیتے۔
[35] یہ کل ستر اونٹ تھے جو صحابہ اپنے ہمراہ لائے تھے۔ جب قریشی اس بات پر اڑ گئے کہ کسی قیمت پر مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے تو معاہدہ صلح کے بعد انہیں وہیں حدیبیہ کے مقام پر ذبح کر دیا گیا۔ [36] حدیبیہ میں جنگ نہ لڑنے کا ایک بہت اہم پہلو :۔
مکہ میں کچھ ایسے مسلمان موجود تھے جو قریش مکہ کے مظالم کی وجہ سے اپنا اسلام چھپائے رکھتے تھے۔ اور ان کے پاس ایسے ذرائع بھی موجود نہ تھے کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ چلے جاتے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی فی الواقع معذور تھے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ جنگ کی صورت میں ایسے معذور مسلمانوں کو بھی مجبوراً کافروں کی صفوں میں شامل ہونا پڑتا اور حملہ کی صورت میں انہیں یقیناً نقصان پہنچ سکتا تھا جس کی تمہیں خبر تک نہ ہوتی۔ پھر خبر لگ جانے پر تمہیں الگ افسوس ہوتا کہ کافر الگ انہیں طعنے دینے لگتے کہ تمہارے مسلمان بھائیوں نے تمہارا بھی خیال تک نہ کیا۔
[37] صلح حدیبیہ کا اہل عرب پر تاثر :۔
جنگ روکنے اور بہرحال صلح کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ قبائل عرب میں یہ تاثر عام پھیل گیا کہ مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں۔ اسی بات سے متاثر ہو کو صلح حدیبیہ کے بعد بے شمار لوگ علی وجہ البصیرت اسلام کو حق سمجھ کر اسلام لے آئے۔ ان میں دو نامور شخصیتیں بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ ایک سیدنا خالدؓ بن ولید سیف اللہ اور دوسرے سیدنا عمرو بن عاص جنہوں نے بعد میں مصر کو فتح کیا۔
[38] البتہ اگر مکہ میں معذور مسلمان موجود نہ ہوتے یا انہیں الگ کر لینے کی کوئی صورت نکل آتی تو پھر یقیناً صلح کے بجائے جنگ ہی بہتر تھی۔ اس صورت میں ہم کافروں کو تمہارے ہاتھوں بری طرح پٹوا دیتے۔
[38] البتہ اگر مکہ میں معذور مسلمان موجود نہ ہوتے یا انہیں الگ کر لینے کی کوئی صورت نکل آتی تو پھر یقیناً صلح کے بجائے جنگ ہی بہتر تھی۔ اس صورت میں ہم کافروں کو تمہارے ہاتھوں بری طرح پٹوا دیتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسجد حرام بیت اللہ کے اصل حقدار ٭٭
مشرکین عرب جو قریش تھے اور جو ان کے ساتھ اس عہد پر تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کریں گے ان کی نسبت قرآن خبر دیتا ہے کہ دراصل یہ لوگ کفر پر ہیں، انہوں نے ہی تمہیں مسجد الحرام بیت اللہ شریف سے روکا ہے حالانکہ اصلی حقدار اور زیادہ لائق بیت اللہ کے تم ہی لوگ تھے، پھر ان کی سرکشی اور مخالفت نے انہیں یہاں تک اندھا کر دیا کہ اللہ کی راہ کی قربانیوں کو بھی قربان گاہ تک نہ جانے دیا، یہ قربانیاں تعداد میں ستر تھیں جیسے کہ عنقریب ان کا بیان آ رہا ہے۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکے میں ایسے ہیں جو ان ظالموں کی وجہ سے نہ اپنے ایمان کو ظاہر کر سکے ہیں، نہ ہجرت کر کے تم میں مل سکے ہیں اور نہ تم انہیں جانتے ہو، تو یوں دفعۃً اگر تمہیں اجازت دے دی جاتی اور تم اہل مکہ پر چھاپہ مارتے تو وہ سچے پکے مسلمان بھی تمہارے ہاتھوں شہید ہو جاتے اور بےعلمی میں تم ہی مستحق گناہ اور مستحق دیت بن جاتے۔
پس ان کفار کی سزا کو اللہ نے کچھ اور پیچھے ہٹا دیا تاکہ ان کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے اور بھی جن کی قسمت میں ایمان ہے وہ ایمان لے آئیں۔ اگر یہ مومن ان میں نہ ہوتے تو یقیناً ہم تمہیں ان کفار پر ابھی اسی وقت غلبہ دے دیتے اور ان کا نام مٹا دیتے۔
جنید بن سبیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کو میں کافروں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑ رہا تھا لیکن اسی شام کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل پھیر دیا میں مسلمان ہو گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر کفار سے لڑ رہا تھا، ہمارے ہی بارے میں یہ آیت «وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:25] نازل ہوئی ہے۔ ہم کل نو شخص تھے سات مرد و عورتیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1560]
اور روایت میں ہے کہ ہم تین مرد تھے اور نو عورتیں تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ مومن ان کافروں میں ملے جلے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں کو سخت سزا دیتا یہ قتل کر دئیے جاتے۔
پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکے میں ایسے ہیں جو ان ظالموں کی وجہ سے نہ اپنے ایمان کو ظاہر کر سکے ہیں، نہ ہجرت کر کے تم میں مل سکے ہیں اور نہ تم انہیں جانتے ہو، تو یوں دفعۃً اگر تمہیں اجازت دے دی جاتی اور تم اہل مکہ پر چھاپہ مارتے تو وہ سچے پکے مسلمان بھی تمہارے ہاتھوں شہید ہو جاتے اور بےعلمی میں تم ہی مستحق گناہ اور مستحق دیت بن جاتے۔
پس ان کفار کی سزا کو اللہ نے کچھ اور پیچھے ہٹا دیا تاکہ ان کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے اور بھی جن کی قسمت میں ایمان ہے وہ ایمان لے آئیں۔ اگر یہ مومن ان میں نہ ہوتے تو یقیناً ہم تمہیں ان کفار پر ابھی اسی وقت غلبہ دے دیتے اور ان کا نام مٹا دیتے۔
جنید بن سبیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کو میں کافروں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑ رہا تھا لیکن اسی شام کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل پھیر دیا میں مسلمان ہو گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر کفار سے لڑ رہا تھا، ہمارے ہی بارے میں یہ آیت «وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:25] نازل ہوئی ہے۔ ہم کل نو شخص تھے سات مرد و عورتیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1560]
اور روایت میں ہے کہ ہم تین مرد تھے اور نو عورتیں تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ مومن ان کافروں میں ملے جلے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں کو سخت سزا دیتا یہ قتل کر دئیے جاتے۔