ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفتح (48) — آیت 10

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۱۰﴾
بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پھر جس نے عہد توڑا تو در حقیقت وہ اپنی ہی جان پر عہد توڑتا ہے اور جس نے وہ بات پوری کی جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ اسے جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔ En
جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا
En
جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وه یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جو شخص عہد شکنی کرے وه اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ:} سیاق کے لحاظ سے اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے اور مفسرین نے اس کا مصداق اسی کو قرار دیا ہے، اگرچہ { يُبَايِعُوْنَكَ } کے لفظ میں ہر وہ بیعت شامل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی، خواہ بیعت رضوان ہو یا اس سے پہلے یا بعد کی کوئی بیعت۔ اسے بیعت اس لیے کہتے ہیں کہ مسلمان اس عہد کے ذریعے سے اپنی جان اور اپنا مال جنت کے بدلے میں فروخت کر دیتا ہے۔ اسلام کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس نے اسلام قبول کیا وہ اپنی جان اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کر چکا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۱۱۱] بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جاؤ جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور اس کا شرف بیان کرنے کے لیے فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ» ‏‏‏‏ بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «‏‏‏‏مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ» [النساء: ۸۰] اور جو رسول کی اطاعت کرے تو بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ کیونکہ رسول، اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے، اس لیے اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس کے ہاتھ پر بیعت اس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے بیعت ہے۔
➋ {يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ: يَدُ اللّٰهِ } کا لفظی معنی ہے اللہ کا ہاتھ اور اللہ کے ہاتھ کی کیفیت مخلوق کے علم و ادراک سے بلند ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے فرمائے ہوئے الفاظ پر اکتفا کرنا چاہیے کہ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ رہی یہ بات کہ کیسے ہے؟ تو یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ مفسرین نے یہاں مختلف تاویلیں کی ہیں اور سب تاویلوں کا باعث یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں جیسا سمجھا اور اس کا ہاتھ اوپر ہونے کو اپنا ہاتھ اوپر ہونے کی طرح سمجھا، اس لیے اس کا انکار کر دیا یا تاویل کر دی۔ حالانکہ یہ بات بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بھی یہ آیات سنیں، کسی نے تاویل کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، نہ کسی نے انکار کیا، جو الفاظ جس طرح آئے اسی طرح مان لیے۔ ہمیں بھی اس چکر میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے اور ان کے ہاتھوں کے اوپر کس طرح ہے۔
بیعتِ رضوان وہ بیعت ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کی تھی۔ ان کی تعداد اکثر صحیح روایات کے مطابق چودہ سو تھی، بعض صحابہ نے پندرہ سو بھی بیان کی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ چودہ سو اور پندرہ سو دونوں روایتیں موجود ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تطبیق یہ دی ہے کہ ان کی تعداد چودہ سو اور پندرہ سو کے درمیان تھی، بعض اوقات زائد کو چھوڑ کر چودہ سو بیان کر دیے اور بعض اوقات درمیان کا عدد پورا کرکے پندرہ سو بیان کر دیے۔ احادیث میں ہے کہ ان تمام صحابہ نے یہ بیعت کی، صرف جد بن قیس نامی شخص نے بیعت نہیں کی۔
اس بیعت کا باعث یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ سے اہلِ مکہ کی طرف بات چیت کے لیے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو بیت اللہ کا عمرہ ادا کرنے سے نہ روکیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے میں دیر ہوئی تو افواہ پھیل گئی کہ انھیں قتل کر دیا گیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑنے کا پختہ ارادہ فرما لیا اور صحابہ کو بیعت کی دعوت دی۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو دفعہ بیعت کرنے کا ذکر کیا تو (ان کے شاگرد) یزید نے پوچھا: اے ابو مسلم! آپ اس دن کس چیز پر بیعت کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: موت پر۔ [بخاري، الجہاد والسیر، باب البیعۃ في الحرب علٰی أن لا یفروا:۲۹۶۰] جبکہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ اس بات پر بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔ [مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش…: ۶۸ /۱۸۵۶] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے موت پر بیعت کی اور بعض نے اس بات پر کہ ہم کسی صورت میدان سے فرار اختیار نہیں کریں گے اور دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے، کیونکہ کسی صورت نہ بھاگنے کا مطلب موت کے لیے تیار رہنا ہی ہے۔ چونکہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر یقینی نہیں تھی، بلکہ ان کے زندہ ہونے کا بھی امکان تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اس بیعت میں شریک فرما لیا۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلٰی مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰی هٰذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلٰی يَدِهِ، فَقَالَ هٰذِهِ لِعُثْمَانَ] [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عثمان بن عفان أبي عمرو القرشي رضی اللہ عنہ: ۳۶۹۹] اگر وادیٔ مکہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص عزت والا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بجائے اسے بھیجتے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا اور بیعتِ رضوان عثمان رضی اللہ عنہ کے مکہ جانے کے بعد ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ پھر اسے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا: یہ عثمان کی بیعت ہے۔ کفار کو جب اس بیعت کے متعلق پتا چلا تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا اور صلح کی کوششیں شروع کر دیں جس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ ہوئی۔
➍ {فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ:} یہ بات مسلم ہے کہ ان صحابہ میں سے کسی نے اس بیعت میں کیا ہوا عہد نہیں توڑا، خصوصاً اس لیے کہ یہ بیعت خونِ عثمان کے قصاص کے لیے لڑائی کے متعلق لی گئی تھی اور اس کا دورانیہ بیعت سے لے کر صلح ہونے تک تھا۔ اس بیعت سے حاصل شدہ رضوانِ الٰہی کے لیے اتنا ہی کافی ہے، اگرچہ بعدمیں بھی ان صحابہ میں سے کسی سے میدان جہاد سے فرار ثابت نہیں۔
➎ { وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ …:} اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو پورا کرنے والوں کے لیے اجرِ عظیم ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راضی ہو جانے کی بشارت کے بعد جو لوگ ان مبارک ہستیوں سے بغض یا عداوت رکھیں ان کی بدنصیبی میں کیا شک ہے۔
➏ {بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ:} جمہور قراء نے { عَلَيْهُ } کی ہاء پر کسرہ پڑھا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضمیر اصل میں {هُوَ} ہے، واؤ حذف کرنے کے بعد بھی یہ مضموم ہی رہتی ہے، جیسے { لَهُ } اور { ضَرَبَهُ } میں ہے، البتہ اس سے پہلے یاء ہو تو اس کی رعایت سے اس پر کسرہ پڑھا جاتا ہے، جیسے {فِيْهِ، إِلَيْهِ، عَلَيْهِ} وغیرہ میں ہے۔ یہاں حفص نے جو اس پر ضمہ پڑھا ہے آلوسی نے اس کی دو مناسبتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک کی تفصیل یہ ہے کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت اور عہد کا ذکر ہے جو لفظ { اللّٰهَ } کو ایسے طریقے سے ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے جس سے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار ہوتا ہو کہ کتنی عظیم ہستی سے عہد کیا گیا ہے اور معلوم ہے کہ لفظ { اَللّٰهُ } سے پہلے اگر کسرہ ہو تو اس کے لام کو باریک پڑھاجاتا ہے، اسے تفخیم کے ساتھ (پر کر کے) نہیں پڑھا جاتا۔ اس لیے { عَلَيْهُ } کی ہاء پر کسرہ کے بجائے ضمہ لایا گیا ہے، تاکہ لفظ { اللّٰهَ } کی ادائیگی پوری شان و شوکت اور جلال و عظمت کے اظہار کے ساتھ ہو۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ { عَلَيْهُ } میں ہاء اصل میں {هُوَ} ہے، جیسا کہ پیچھے گزرا، لہٰذا اس کا اصل اعراب ضمہ ہے نہ کہ کسرہ، اس لیے اصل ضمہ کو باقی رکھنا اصل عہد کے قائم رکھنے اور پورا کرنے کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یعنی یہ بیعت دراصل اللہ ہی کی ہے کیونکہ اسی نے جہاد کا حکم دیا ہے اور اس پر اجر بھی وہی عطا فرمائے گا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ اپنے نفسوں اور مالوں کا جنت کے بدلے اللہ کے ساتھ سودا ہے التوبہ۔ 111 یہ اسی طرح ہے جیسے (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ) 4۔ النساء:80) 10۔ 2 آیت سے وہی بیعت رضوان مراد ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان شہادت کی خبر سن کر ان کا انتقام لینے کے لئے حدیبیہ میں موجود 14 یا 15 سو مسلمانوں نے لی تھی۔ 10۔ 3 نَکْث، (عہد شکنی) سے مراد یہاں بیعت کا توڑ دینا یعنی عہد کے مطابق لڑائی میں حصہ نہ لینا ہے۔ یعنی جو شخص ایسا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ 10۔ 4 کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرے گا، ان کے ساتھ ہو کر لڑے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی فتح و غلبہ عطا فرما دے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ بلا شبہ جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں [10] پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اب جو شخص اس عہد کو توڑے تو اسے توڑنے کا وبال اسی پر ہو گا اور جو شخص اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو عنقریب اللہ اسے بڑا اجر عطا کرے گا۔
[10] بیعت رضوان خون پر بیعت تھی :۔
یہ بیعت اس شرط پر لی جا رہی تھی کہ اگر شہادت عثمانؓ کی خبر درست ہو تو مسلمان ان کا قصاص لینے کے لئے جانیں لڑا دیں گے اور جب تک یہ مقصد پورا نہ ہو جائے ان میں کوئی زندہ واپس نہ جائے گا۔ اس کی بیعت کی صورت یہ تھی کہ بیعت کرنے والا نیچے ہاتھ رکھتا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھ کر عہد لیتے تھے۔
سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی صورت :۔
سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی خبر چونکہ یقینی نہ تھی بس افواہ ہی تھی اور ان کے زندہ سلامت ہونے کا امکان موجود تھا۔ لہٰذا آپ نے سیدنا عثمانؓ کی طرف سے بھی خود ہی بیعت کی۔ اپنا ہی ایک ہاتھ نیچے رکھا اور دوسرا اوپر رکھ کر بیعت مکمل کی۔ گویا آپ کو سیدنا عثمانؓ پر اتنا اعتماد تھا کہ اگر وہ زندہ ہیں تو یقیناً ایسی بیعت سے کبھی پیچھے نہیں رہ سکتے۔
یہ بیعت دراصل اللہ ہی سے عہد تھا :۔
نیز اللہ تعالیٰ نے بیعت کرنے والوں سے فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ تمہارے ہاتھ کے اوپر دوسرا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا ہاتھ ہے جس سے تم عہد کر رہے ہو۔ بلکہ یہ اللہ کے نائب رسول کا ہاتھ ہے۔ جو اس وقت اپنی ذات کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کے نائب ہونے کی حیثیت سے تم سے بیعت لے رہا ہے۔
بیعت کی مختلف صورتیں :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کئی بار بیعت لی ہے۔ سب سے پہلی بیعت بیعت عقبہ تھی جس میں اہل مدینہ نے یہ اقرار کیا تھا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائیں تو وہ ہر تنگی ترشی میں ان کی مدد کرینگے اور ان کی جان کی حفاظت کریں گے۔ یہاں جہاد یا خون پر بیعت کا ذکر ہے اور بعض مقامات پر بھلائی کے کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے اجتناب کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے اور ایسی بیعت آپ مردوں سے بھی لیتے تھے اور عورتوں سے بھی۔
امیر کی سمع و اطاعت کی بیعت لازم ہے خواہ یہ بالواسطہ ہو :۔
یہاں ایک عام سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیعت ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ضروری صرف وہ بیعت ہے جو امیرالمومنین سے سمع و طاعت کے اصول پر کی جاتی ہے اور یہ بالواسطہ بھی ہو سکتی ہے۔ اور اس سے مقصود صرف مسلمانوں کی جمعیت اور سیاسی قوت کو مضبوط بنانا اور مشترکہ طور پر اللہ کے دین کو سر بلند کرنا اور رکھنا ہوتا ہے۔
پیروں فقیروں کی بیعت؟
رہی وہ بیعت جو پیرو مشائخ نے لازمی بنا رکھی ہے۔ تو یہ ہرگز واجب نہیں البتہ مشروع ضرور ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ پیر یا شیخ خود پوری طرح شریعت کا پابند ہو۔ اور اگر پیر صاحب خود ہی شریعت کے پابند نہ ہوں تو ان کی بیعت جائز نہ ہو گی بلکہ عذاب کا باعث بن جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر فرماتا ہے جو بیعت کے بعد عہد شکنی کرے اس کا وبال خود اسی پر ہو گا، اللہ کا وہ کچھ نہ بگاڑے گا اور جو اپنی بیعت کو نبھا جائے وہ بڑا ثواب پائے گا یہاں جس بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت الرضوان ہے جو ایک ببول کے درخت تلے حدیبیہ کے میدان میں ہوئی تھی اس دن بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد تیرہ سو، چودہ سو یا پندرہ سو تھی ٹھیک یہ ہے کہ چودہ سو تھی اس واقعہ کی حدیثیں ملاحظہ ہوں۔
بخاری شریف میں ہے ہم اس دن چودہ سو تھے ۱؎ [سنن ترمذي:961،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { آپ نے اس پانی میں ہاتھ رکھا پس آپ کی انگلیوں کے درمیان سے اس پانی کی سوتیں ابلنے لگیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4840]‏‏‏‏
یہ حدیث مختصر ہے اس حدیث سے جس میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم سخت پیاسے ہوئے، پانی تھا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا انہوں نے جا کر حدیبیہ کے کنویں میں اسے گاڑ دیا اب تو پانی جوش کے ساتھ ابلنے لگا یہاں تک کہ سب کو کافی ہو گیا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس روز تم کتنے تھے؟ فرمایا: چودہ سو لیکن اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی اس قدر تھا کہ سب کو کافی ہو جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4840]‏‏‏‏
بخاری کی روایت میں ہے کہ پندرہ سو تھے ۱؎ [صحیح بخاری:25]‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں پندرہ سو بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:80]‏‏‏‏
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فی الواقع تھے تو پندرہ سو اور یہی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا پہلا قول تھا پھر آپ کو کچھ وہم سا ہو گیا اور چودہ سو فرمانے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سوا پندرہ سو تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4153]‏‏‏‏
لیکن آپ سے مشہور روایت چودہ سو کی ہے اکثر راویوں اور اکثر سیرت نویس بزرگوں کا یہی قول ہے کہ چودہ سو تھے ایک روایت میں ہے اصحاب شجرہ چودہ سو تھے اور اس دن آٹھواں حصہ مہاجرین کا مسلمان ہوا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4155]‏‏‏‏
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حدیبیہ والے سال رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ سات سو صحابہ کو لے کر زیارت بیت اللہ کے ارادے سے مدینہ سے چلے، قربانی کے ستر اونٹ بھی آپ کے ہمراہ تھے، ہر دس اشخاص کی طرف سے ایک اونٹ، ہاں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کے ساتھی اس دن چودہ سو تھے۔ ابن اسحاق اسی طرح کہتے ہیں اور یہ ان کے اوہام میں شمار ہے۔ بخاری و مسلم میں جو محفوظ ہے وہ یہ کہ ایک ہزار کئی سو تھے جیسے ابھی آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس بیعت کا سبب سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ { پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا کہ آپ کو مکہ بھیج کر قریش کے سرداروں سے کہلوائیں کہ آپ لڑائی بھڑائی کے ارادے سے نہیں آئے بلکہ آپ بیت اللہ شریف کے عمرے کے لیے آئے ہیں۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! میرے خیال سے تو اس کام کے لیے آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجیں کیونکہ مکہ میں میرے خاندان میں سے کوئی نہیں یعنی بنوعدی بن کعب کا قبیلہ نہیں جو میری حمایت کرے آپ جانتے ہیں کہ قریش سے میں نے کتنی کچھ اور کیا کچھ دشمنی کی ہے اور وہ مجھ سے وہ کس قدر خار کھائے ہوئے ہیں مجھے تو وہ زندہ ہی نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرما کر سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو ابوسفیان اور سرداران قریش کے پاس بھیجا آپ جا ہی رہے تھے کہ راستے میں یا مکہ میں داخل ہوتے ہی ابان بن سعید بن عاص مل گیا اور اس نے آپ کو اپنے آگے سواری پر بٹھا لیا اپنی امان میں انہیں اپنے ساتھ مکہ میں لے گیا آپ قریش کے بڑوں کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بیت اللہ شریف کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیجئے آپ نے جواب دیا کہ یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے میں طواف کر لوں، اب ان لوگوں نے سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو روک لیا، ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس وحشت اثر خبر نے مسلمانوں کو اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا صدمہ پہنچایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تو ہم بغیر فیصلہ کئے یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور ان سے بیعت لی ایک درخت تلے یہ بیعت الرضوان ہوئی۔ لوگ کہتے ہیں یہ بیعت موت پر لی تھی یعنی لڑتے لڑتے مر جائیں گے۔ لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ موت پر بیعت نہیں لی تھی بلکہ اس اقرار پر کہ ہم لڑائی سے بھاگیں گے نہیں، جتنے مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم اس میدان میں تھے سب نے آپ سے بہ رضا مندی بیعت کی سوائے جد بن قیس کے جو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص تھا یہ اپنی اونٹنی کی آڑ میں چھپ گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ غلط تھی۔ } ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:315/2]‏‏‏‏
اس کے بعد قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزیٰ اور مکرز بن حفص کو آپ کے پاس بھیجا یہ لوگ ابھی یہیں تھے کہ بعض مشرکین میں سے کچھ تیز کلامی شروع ہو گئی نوبت یہاں تک پہنچی کہ سنگ باری اور تیر باری بھی ہوئی اور دونوں طرف کے لوگ آمنے سامنے ہو گئے۔
ادھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ کو روک لیا، ادھر یہ لوگ رک گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کر دی کہ روح القدس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیعت کا حکم دے گئے، آؤ اللہ کا نام لے کر بیعت کر جاؤ۔
اب کیا تھا مسلمان بے تابانہ دوڑے ہوئے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت درخت تلے تھے، سب نے بیعت کی اس بات پر کہ وہ ہرگز ہرگز کسی صورت میں میدان سے منہ موڑنے کا نام نہ لیں گے اس سے مشرکین کانپ اٹھے اور جتنے مسلمان ان کے پاس تھے سب کو چھوڑ دیا اور صلح کی درخواست کرنے لگے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیہقی:133/4:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏
بیہقی میں ہے کہ { بیعت کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الٰہی! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام کو گئے ہوئے ہیں پس آپ نے خود اپنا ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا گویا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی۔ }
پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ان کے اپنے ہاتھ سے بہت افضل تھا۔ ۱؎ (‏‏‏‏ضعیف: اس میں حکم بن عبدالملک ضعیف ہے)
اس بیعت میں سب سے پہل کرنے والے سیدنا ابوسنان اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے سب سے آگے بڑھ کر فرمایا: اے اللہ کے رسول! ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کر لوں آپ نے فرمایا: کس بات پر بیعت کرتے ہو؟ جواب دیا جو آپ کے دل میں ہو اس پر۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیہقی:137/4:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏ آپ کے والد کا نام وہب تھا۔
صحیح بخاری میں نافع سے مروی ہے کہ { لوگ کہتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لڑکے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے پہلے اسلام قبول کیا دراصل واقعہ یوں نہیں۔ بات یہ ہے کہ حدیبیہ والے سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری کے پاس بھیجا کہ جا کر اپنے گھوڑے لے آؤ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہ تھا یہ اپنے طور پوشیدگی سے لڑائی کی تیاریاں کر رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت ہو رہی ہے تو یہ بیعت سے مشرف ہوئے پھر گھوڑا لینے گئے اور گھوڑا لا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لے رہے ہیں اب سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اس بنا پر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹے کا اسلام باپ سے پہلے کا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4187]‏‏‏‏
بخاری کی دوسری روایت میں ہے { لوگ الگ الگ درختوں تلے آرام کر رہے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ہر ایک کی نگاہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہیں اور لوگ آپ کو گھیرے ہوئے ہیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جاؤ ذرا دیکھو تو کیا ہو رہا ہے؟ یہ آئے دیکھا کہ بیعت ہو رہی ہے تو بیعت کر لی، پھر جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر کی چنانچہ آپ بھی فوراً آئے اور بیعت سے مشرف ہوئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4187]‏‏‏‏
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جب ہم نے بیعت کی ہے اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور آپ ایک ببول کے درخت تلے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1856]‏‏‏‏
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { اس موقعہ پر درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ کو آپ کے سر سے اوپر کو اٹھا کر میں تھامے ہوئے تھا ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ نہ بھاگنے پر }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1858-76]‏‏‏‏
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نے مرنے پر بیعت کی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2960]‏‏‏‏
آپ فرماتے ہیں { ایک مرتبہ بیعت کر کے میں ہٹ کر ایک طرف کو کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: سلمہ! تم بیعت نہیں کرتے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو بیعت کر لی، آپ نے فرمایا: خیر آؤ، بیعت کرو، چنانچہ میں نے قریب جا کر پھر بیعت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7208]‏‏‏‏
حدیبیہ کا وہ کنواں جس کا ذکر اوپر گزرا صرف اتنے پانی کا تھا کہ پچاس بکریاں بھی آسودہ نہ ہو سکیں، آپ فرماتے ہیں کہ دوبارہ بیعت کر لینے کے بعد آپ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ میں بے سپر ہوں تو آپ نے مجھے ایک ڈھال عنایت فرمائی۔ پھر لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی پھر آخری مرتبہ میری طرف دیکھ کر فرمایا: سلمہ! تم بیعت نہیں کرتے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پہلی مرتبہ جن لوگوں نے بیعت کی میں نے ان کے ساتھ ہی بیعت کی تھی پھر بیچ میں دوبارہ بیعت کر چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اچھا پھر سہی چنانچہ اس آخری جماعت کے ساتھ بھی میں نے بیعت کی آپ نے پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا: سلمہ! تمہیں ہم نے جو ڈھال دی تھی وہ کیا ہوئی؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! عامر سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ان کے پاس دشمن کا وار روکنے والی کوئی چیز نہیں میں نے وہ ڈھال انہیں دے دی۔ تو آپ ہنسے اور فرمایا: تم بھی اس شخص کی طرح ہو جس نے اللہ سے دعا کی کہ اے الٰہی میرے پاس کسی ایسے کو بھیج دے جو مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو۔‏‏‏‏
پھر اہل مکہ سے صلح کی تحریک کی آمدورفت ہوئی اور صلح ہو گئی، میں سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا خادم تھا ان کے گھوڑے کی اور ان کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ مجھے کھانے کو دے دیتے تھے، میں تو اپنا گھربار بال بچے مال دولت سب راہ اللہ میں چھوڑ کر ہجرت کر کے چلا آیا تھا۔
جب صلح ہو چکی ادھر کے لوگ ادھر اور ادھر کے ادھر آنے لگے، تو میں ایک درخت تلے جا کر کانٹے وغیرہ ہٹا کر اس کی جڑ سے لگ کر سو گیا، اچانک مشرکین مکہ میں سے چار شخص وہیں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ گستاخانہ کلمات سے آپس میں باتیں کرنے لگے، مجھے بڑا برا معلوم ہوا، میں وہاں سے اٹھ کر دوسرے درخت تلے چلا گیا۔
ان لوگوں نے اپنے ہتھیار اتارے درخت پر لٹکا کر وہاں لیٹ گئے تھوڑی دیر گزری ہو گی جو میں نے سنا کہ وادی کے نیچے کے حصہ سے کوئی منادی ندا کر رہا ہے کہ اے مہاجر بھائیو سیدنا ابن زنیم رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے۔ میں نے جھٹ سے تلوار تان لی اور اسی درخت تلے گیا جہاں چاروں سوئے ہوئے تھے، جاتے ہی پہلے تو ان کے ہتھیار قبضے میں کئے اور اپنے ایک ہاتھ میں انہیں دبا کر دوسرے ہاتھ سے تلوار تول کر ان سے کہا: سنو! اس اللہ کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی ہے تم میں سے جس نے بھی سر اٹھایا میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔
جب وہ اسے مان چکے میں نے کہا: اٹھو اور میرے آگے آگے چلو چنانچہ ان چاروں کو لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ادھر میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بھی مکرز نامی عبلات کے ایک مشرک کو گرفتار کر کے لائے اور بھی اسی طرح کے ستر مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کئے گئے تھے۔
آپ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: انہیں چھوڑ دو، برائی کی ابتداء بھی انہی کے سر رہے اور پھر اس کی تکرار کے ذمہ دار بھی یہی رہیں۔‏‏‏‏ چنانچہ ان سب کو رہا کر دیا گیا
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24]‏‏‏‏ میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1807]‏‏‏‏
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے والد بھی اس موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ کا بیان ہے کہ اگلے سال جب ہم حج کو گئے تو اس درخت کی جگہ ہم پر پوشیدہ رہی ہم معلوم نہ کر سکے کہ کس جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ہم نے بیعت کی تھی اب اگر تم پر یہ پوشیدگی کھل گئی ہو تو تم جانو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4162]‏‏‏‏
ایک روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج زمین پر جتنے ہیں ان سب پر افضل تم لوگ ہو۔‏‏‏‏ آپ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں ہوتیں تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4154]‏‏‏‏
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جگہ کی تعین میں بڑا اختلاف ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جن لوگوں نے اس بیعت میں شرکت کی ہے ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4653،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے اس درخت تلے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے سب جنت میں جائیں گے مگر سرخ اونٹ والا، ہم جلدی دوڑے دیکھا تو ایک شخص اپنے کھوئے ہوئے اونٹ کی تلاش میں تھا ہم نے کہا چل بیعت کر اس نے جواب دیا کہ بیعت سے زیادہ نفع تو اس میں ہے کہ میں اپنا گمشدہ اونٹ پا لوں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3863،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو ثنیۃ المرار پر چڑھ جائے اس سے وہ دور ہو جائے گا جو بنی اسرائیل سے دور ہوا، پس سب سے پہلے قبیلہ خزرج کے ایک صحابی اس پر چڑھ گئے پھر تو اور لوگ بھی پہنچ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب بخشے جاؤ گے مگر سرخ اونٹ والا۔‏‏‏‏ ہم اس کے پاس آئے اور اس سے کہا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار طلب کریں تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے میرا اونٹ مل جائے تو میں زیادہ خوش ہوں گا بہ نسبت اس کے کہ تمہارے صاحب میرے لیے استغفار کریں یہ شخص اپنا گمشدہ اونٹ ڈھونڈ رہا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2785]‏‏‏‏
{ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ سنا کہ اس بیعت والے دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے تو کہا: ہاں ہوں گے، آپ نے انہیں روک دیا تو مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» ۱؎ [19-مريم:71]‏‏‏‏ پڑھی یعنی ’ تم میں سے ہر شخص کو اس پر وارد ہونا ہے ‘، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ہی فرمان باری ہے «ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا» ۱؎ [19-مريم:72]‏‏‏‏ ’ یعنی پھر ہم تقویٰ والوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں گرا دیں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2496]‏‏‏‏
{ سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، آپ نے فرمایا: تو جھوٹا ہے، وہ جہنمی نہیں، وہ بدر میں اور حدیبیہ میں موجود رہا۱؎ [صحیح مسلم:2495-162]‏‏‏‏
ان بزرگوں کی ثنا بیان ہو رہی ہے کہ یہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کے ہاتھ ہیں، اس بیعت کو توڑنے والا اپنا ہی نقصان کرنے والا ہے اور اسے پورا کرنے والا بڑے اجر کا مستحق ہے۔
جیسے فرمایا «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18]‏‏‏‏ ’ یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے راضی ہو گیا جبکہ انہوں نے درخت تلے تجھ سے بیعت کی ان کے دلی ارادوں کو اس نے جان لیا پھر ان پر دلجمعی نازل فرمائی اور قریب کی فتح سے انہیں سرفراز فرمایا ‘۔