اِنۡ یَّسۡـَٔلۡکُمُوۡہَا فَیُحۡفِکُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَ یُخۡرِجۡ اَضۡغَانَکُمۡ ﴿۳۷﴾
اگر وہ تم سے ان کا مطالبہ کرے، پھر تم سے اصرار کرے توتم بخل کرو گے اور وہ تمھارے کینے ظاہر کر دے گا۔
En
اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کرکے رہے
En
اگر وه تم سے تمہارا مال مانگے اور زور دے کر مانگے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور وه تمہارے کینے ﻇاہر کر دے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37){ اِنْ يَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا …: ” فَيُحْفِكُمْ “ ” أَحْفٰي يُحْفِيْ إِحْفَاءً “} (افعال) کا معنی کسی چیز کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینا، یا کسی چیز کا اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے سارے اموال مانگ لے تو یہ اس کا حق ہے، کیونکہ وہ سب اسی کے دیے ہوئے ہیں مگر یہ اس کا کرم ہے کہ وہ تم سے تمھارے اموال پورے کے پورے نہیں مانگتا، کیونکہ اگر وہ سب کے سب اصرار کے ساتھ مانگ لے تو تم بخل کرو گے اور تمھارا بخل تمھارے دل میں پیدا ہونے والے تمام کینے ظاہر کر دے گا، جو سارا مال مانگنے کی وجہ سے تمھارے دل میں پیدا ہوں گے، کیونکہ مال تمھارا محبوب ہے اور جس کے محبوب کو اس سے مانگا جائے اس کے دل میں مانگنے والے کے خلاف کینہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تم سے مطالبہ ہی اتنا کیا ہے جس سے تم اتنی سخت آزمائش میں نہ پڑو اور اگر کسی دل میں نفاق یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کینے کی کوئی بات ہو بھی تو اس پر پردہ پڑا رہے۔ آیات کا مقصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور یہ حوصلہ دلانا ہے کہ تم سے کوئی مشکل مطالبہ نہیں کیا جا رہا جو تم پورا نہ کر سکو، اس لیے خوش دلی کے ساتھ جہاد میں اپنے اموال خرچ کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 یعنی ضرورت سے زائد کل مال کا مطالبہ کرے وہ بھی اصرار کے ساتھ اور زور دے کر تو یہ انسانی فطرت ہے کہ تم بخل بھی کرو گے اور اسلام کے خلاف اپنے بغض وعناد کا اظہار بھی اور اس صورت میں خود اسلام کے خلاف بھی تمہارے دلوں میں عناد پیدا ہوجاتا کہ یہ اچھا دین ہے جو ہماری محنت کی ساری کمائی اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ اگر وہ تم سے مال کا مطالبہ کرے پھر تم سے اس مطالبہ [42] پر اصرار کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ تمہارے دلوں کے کھوٹ ظاہر کر دے۔
[42] ﴿يَحْفِكُمْ﴾ ﴿حفا﴾ کا لغوی معنی کسی چیز کی طلب میں مبالغہ اور اصرار ہے پھر اسی مبالغہ اور اصرار سے بعض دفعہ تنگ کرنے کے معنی بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تم سے سارے ہی مال کا مطالبہ کر لیتا کیونکہ یہ مال اسی کا دیا ہوا تھا تو کتنے لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر ایسے ہی لوگ ہوں گے جو بخل اور تنگ دلی کا ثبوت دیں گے اور مال خرچ کرتے وقت ان کے دل کی کبیدگی اور گھٹن از خود ظاہر ہو جائے گی۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لیے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔
پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔
پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔
پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔
پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر تم اس کی اطاعت سے روگرداں ہو گئے اس کی شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لائے گا جو تم جیسی نہ ہو گی بلکہ وہ سننے اور ماننے والے، حکم بردار، نافرمانیوں سے بیزار ہوں گے ‘۔
ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2546]، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔
ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2546]، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔