تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ:} یعنی جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے وہ اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے بخل کیا ہے اور اسے مال نہیں دیا، حالانکہ درحقیقت وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اور اپنے آپ پر وہ مال خرچ نہیں کر رہا، کیونکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کہنے پر خرچ کرتا تو اس کا سارا فائدہ اسی کو ہونا تھا۔ اب اس نے بخل کیا تو اپنی ذات سے بخل کیا اور خود ہی محروم رہا۔
➌ { وَ اللّٰهُ الْغَنِيُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ: ” الْغَنِيُّ “} اور {” الْفُقَرَآءُ “} پر الف لام آنے سے حصر پیدا ہو گیا، یعنی اللہ ہی غنی ہے اور کوئی غنی نہیں اور تم ہی محتاج ہو اللہ تعالیٰ کو کوئی محتاجی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں خرچ کرنے کا حکم اپنی کسی ضرورت کے لیے نہیں دیا، وہ تو غنی ہے، محتاج تم ہی ہو اور تم جو کچھ خرچ کرو گے وہ بے حساب اضافے کے ساتھ تمھی کو لوٹا دے گا، جیسا کہ فرمایا: «مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً وَ اللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصُۜطُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [البقرۃ: ۲۴۵] ”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے اور اللہ بند کرتا اور کھولتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ “
➍ {وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (۵۴) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والدليل على أنَّ الله لو طلب منكم أموالكم وأحفاكم بسؤالها أنَّكم تمتنعون منها، أنَّكم {تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقوا في سبيل الله}: على هذا الوجه الذي فيه مصلحكتم الدينيَّة والدنيويَّة، {فمنكم من يبخلُ}؛ أي: فكيف لو سألكم وطلب منكم أموالكم في غير أمرٍ تَرَوْنَه مصلحة عاجلة؟! أليس من باب أولى وأحرى امتناعكم من ذلك؟!
ثم قال: {ومَن يبخلْ فإنَّما يبخلُ عن نفسِهِ}: لأنَّه حرم نفسه ثوابَ الله تعالى، وفاته خيرٌ كثيرٌ، ولن يضرَّ الله بترك الإنفاق شيئاً، فإن {الله}: هو {الغني وأنتم الفقراءُ}: تحتاجون إليه في جميع أوقاتكم لجميع أموركم، {وإن تَتَوَلَّوا}: عن الإيمان بالله وامتثال ما يأمركم به؛ {يستبدِلْ قوماً غيرَكم ثمَّ لا يكونوا أمثالَكُم}: في التولِّي، بل يطيعونَ الله ورسولَه ويحبُّون الله ورسوله؛ كما قال تعالى: {يا أيُّها الذينَ آمنوا من يَرْتَدَّ منكم عن دينِهِ فسوف يأتي الله بقوم يحبُّهم ويحبُّونَه}.