تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ:} ”اور تم سے تمھارے اموال نہیں مانگے گا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تم سے تمھارے اموال پورے کے پورے نہیں مانگے گا۔ ہاں، وہ تمھارے اموال میں سے ایک حصہ خرچ کرنے کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ اس مطلب کے کئی قرینے ان آیات میں موجود ہیں جن میں سے ایک قرینہ {” أَمْوَالٌ“} کی اضافت ضمیر {”كُمْ“} کی طرف ہے۔ ظاہر ہے ”تمھارے اموال“ میں وہ تمام اموال آ جاتے ہیں جو تمھاری ملکیت ہیں۔ دوسرا قرینہ {” يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ “} ہے، کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ تمھیں تمھارے اجر پورے پورے دے گا۔ تو جس طرح {” اُجُوْرَكُمْ “} سے پورے اجر مراد ہیں اسی طرح {” اَمْوَالَكُمْ “} سے بھی پورے اموال مراد ہیں۔ تیسرا قرینہ اس آیت سے اگلی آیت میں لفظ {” فَيُحْفِكُمْ “} ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے ان کے اموال کا {”إِحْفَاءٌ“} نہیں چاہتا، یعنی پورے نہیں مانگنا۔ ان تمام قرائن کی وجہ سے {” لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ “} کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ تم سے تمھارے سارے اموال نہیں مانگے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لیے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔
پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا: مال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گزرتا ہے۔
پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اس کے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے، نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں، نہ وہ اس سے۔
ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے شانے پر رکھ کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم اگر دین، ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2546]، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ محمد کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تزهيدٌ منه تعالى لعباده في الحياة الدُّنيا؛ بإخبارِهم عن حقيقة أمرِها؛ بأنها لعبٌ ولهوٌ؛ لعبٌ في الأبدان ولهوٌ في القلوب، فلا يزال العبدُ لاهياً في ماله وأولاده وزينتِهِ ولذاتِهِ من النساء والمآكل والمشارب والمساكن والمجالس والمناظر والرياسات، لاعباً في كلِّ عمل لا فائدةَ فيه، بل هو دائرٌ بين البطالة والغفلة والمعاصي، حتى يستكملَ دُنياه ويَحْضُرُه أجلُه؛ فإذا هذه الأمورُ قد ولَّت وفارقتْ ولم يحصُلِ العبدُ منها على طائل، بل قد تبيَّن له خسرانُه وحرمانُه وحضر عذابُه؛ فهذا موجبٌ للعاقل الزهد فيها وعدم الرغبة فيها والاهتمام بشأنها، وإنَّما الذي ينبغي أن يهتمَّ به ما ذكره بقوله: {وإن تؤمنوا وتَتَّقوا}: بأنْ تؤمنوا بالله وملائكتِهِ وكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، وتقوموا بتقواه التي هي من لوازم الإيمان ومقتضياته، وهي العمل بمرضاته على الدوام، مع ترك معاصيه؛ فهذا الذي ينفع العبد، وهو الذي ينبغي أن يُتنافسَ فيه وتُبذل الهمم والأعمالُ في طلبه، وهو مقصودُ الله من عباده؛ رحمةً بهم ولطفاً؛ ليثيبَهم الثوابَ الجزيل، ولهذا قال: {وإن تؤمنوا وتَتَّقوا يؤتِكُم أجورَكم ولا يَسْألْكُم أموالَكم}؛ أي: لا يريدُ تعالى أن يكلفكم ما يشقُّ عليكم ويُعْنِتَكُم من أخذِ أموالكم وبقائكم بلا مال أو يَنْقُصَكم نقصاً يضرُّكم، ولهذا قال: {إن يسألْكُموها فيُحْفِكُم تبخَلوا ويخرِجْ أضغانَكُم}؛ أي: ما في قلوبكم من الضَّغن إذا طُلِبَ منكم ما تكرهون بذلَه.