تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ:} ہجرت کے بعد اگرچہ سورۂ حج کی آیت (۳۹): «اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا» (ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا)کے ساتھ کفار سے قتال کی اجازت ہو چکی تھی، مگر اس کی فرضیت کا واضح حکم ابھی نہیں آیا تھا۔ مخلص مومن جو کفار کے ظلم و ستم سے شدید تنگ دل تھے اور فتح یا شہادت کے متمنی تھے، کہتے رہتے تھے کہ جہاد کے حکم والی کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی۔
➌ { فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ:} محکم سورت سے مراد ایسی سورت ہے جس میں دیا جانے والا حکم واضح ہو، جس میں کوئی تاویل نہ کی جا سکے اور نہ وہ منسوخ ہو۔ مراد اس سے یہی سورۂ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے جس کا نام سورۂ قتال بھی ہے، کیونکہ اس میں {”جَاهِدُوْا“} (جہاد کرو) یا {” قَاتِلُوْا “} (لڑو) کے بجائے قتال کا حکم {” فَضَرْبَ الرِّقَابِ “} کے بالکل صریح الفاظ کے ساتھ دیا گیا کہ کفار سے مڈ بھیڑ ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو اور خوب خون ریزی کے بعد انھیں قیدی بناؤ وغیرہ۔
➍ { رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ …:} یعنی جب قتال کے واضح حکم والی سورت نازل کی گئی تو منافقین کا یہ حال ہوا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”مسلمان سورت مانگتے تھے، یعنی کافروں کی ایذا سے عاجز ہو کر آرزو کرتے کہ اللہ جہاد کا حکم دے تو جو ہم سے ہو سکے کر گزریں۔ جب جہاد کا حکم آیا تو منافق اور کچے لوگوں پر بھاری ہوا، خوف زدہ اور بے رونق آنکھوں سے پیغمبر کی طرف دیکھنے لگے کہ کاش! ہم کو اس حکم سے معاف رکھیں۔ بے حد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی، جیسے مرتے وقت آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے۔“ (موضح) اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۷۷) اور سورۂ احزاب (۱۹)۔
➎ { فَاَوْلٰى لَهُمْ:} مفسرین نے اس لفظ کی مختلف تفسیریں کی ہیں جن میں سب سے واضح اور تکلف سے خالی یہ ہے کہ یہ {” وَلِيَ يَلِيْ وَلْيًا “} (س) سے اسم تفضیل ہے، جس کا معنی ہے زیادہ لائق، زیادہ قریب، بہتر۔ اب اس کی ترکیب دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو اس سے پہلے جملے سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی {”فَالْمَوْتُ أَوْلٰي لَهُمْ“} ”پس موت ہی ان کے لیے بہتر ہے، یا موت ہی ان کے لائق ہے۔“ دوسری تفسیر حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ {” فَاَوْلٰى لَهُمْ “} خبر مقدم ہے اور اگلی آیت میں {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ “} مبتدا مؤخر ہے۔ ان کے الفاظ میں عبارت یوں ہے: {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ أَوْلٰي لَهُمْ، أَيْ وَكَانَ الْأَوْلٰي لَهُمْ أَنْ يَّسْمَعُوْا وَ يُطِيْعُوْا “} یعنی ان کے لیے بہتر تھا کہ وہ سنتے اور اطاعت کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔
پھر فرمایا ’ قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو ‘، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔
پس فرمایا ’ ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں ‘۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے { جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے }۔۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
بخاری وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5991]
مسند احمد میں ہے کہ { صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:189/2:ضعیف]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے { رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
{ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پس فرماتا ہے ’ غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔
ابن جریر میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ويقولُ الذين آمنوا}: استعجالاً ومبادرةً للأوامر الشاقَّة: {لولا نُزِّلَتْ سورةٌ}؛ أي: فيها الأمر بالقتال، {فإذا أنزِلَتْ سورةٌ محكمةٌ}؛ أي: ملزم العمل بها، {وذُكِرَ فيها القتالُ}: الذي هو أشقُّ شيء على النفوس؛ لم يثبتْ ضعفاء الإيمان على امتثال هذه الأوامر، ولهذا قال: {رأيتَ الذين في قلوبِهِم مرضٌ ينظُرون إليك نَظَرَ المغشيِّ عليه من الموت}: من كراهتهم لذلك وشدَّته عليهم، وهذا كقوله تعالى: {ألم تَرَ إلى الذين قيل لهم كُفُّوا أيدِيَكم وأقيموا الصلاة وآتوا الزَّكاة فلمَّا كُتِبَ عليهم القتالُ إذا فريقٌ منهم يخشَوْن الناس كخشية الله أو أشدَّ خشيةً}.
ثم ندبهم تعالى إلى ما هو الأليقُ بحالهم، فقال: {فأولى لهم. طاعةٌ وقولٌ معروفٌ}؛ أي: فأولى لهم أن يمتثلوا الأمر الحاضر المحتَّم عليهم، ويَجْمَعوا عليه هِمَمَهم، ولا يطلبوا أن يَشْرَعَ لهم ما هو شاقٌّ عليهم، وليفرَحوا بعافية الله تعالى وعفوِهِ، {فإذا عزم الأمر}؛ أي: جاءهم أمر جدٍّ وأمر محتَّم، ففي هذه الحال، لو {صَدَقوا الله}: بالاستعانة به وبذل الجهد في امتثاله، {لكان خيراً لهم}: من حالهم الأولى، وذلك من وجوه: منها: أنَّ العبد ناقصٌ من كلِّ وجه، لا قدرة له إلاَّ إن أعانه الله؛ فلا يطلب زيادة على ما هو قائم بصدده. ومنها: أنَّه إذا تعلَّقت نفسُه بالمستقبل؛ ضعف عن العمل بوظيفة وقته الحاضر وبوظيفة المستقبل، أما الحال؛ فلأنَّ الهمَّة انتقلت عنه إلى غيره، والعمل تبعٌ للهمَّة. وأما المستقبل؛ فإنَّه لا يجيء حتى تفتُرَ الهمَّة عن نشاطها، فلا يُعان عليه. ومنها: أنَّ العبد المؤمِّل للآمال المستقبلة، مع كسله عن عمل الوقت الحاضر، شبيهٌ بالمتألِّي الذي يجزم بقدرته على ما يستقبل من أموره؛ فأحرى به أن يُخْذَلَ ولا يقوم بما همَّ به و [وطّن] نفسه عليه؛ فالذي ينبغي أن يجمع العبد همَّه وفكرتَه ونشاطَه على وقته الحاضر، ويؤدِّي وظيفته بحسب قدرته، ثم كلَّما جاء وقتٌ؛ استقبله بنشاط وهمَّةٍ عاليةٍ مجتمعةٍ غير متفرِّقة، مستعيناً بربِّه في ذلك؛ فهذا حريٌّ بالتوفيق والتسديد في جميع أموره.