وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَۃٌ ۚ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ مُّحۡکَمَۃٌ وَّ ذُکِرَ فِیۡہَا الۡقِتَالُ ۙ رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یَّنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ نَظَرَ الۡمَغۡشِیِّ عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ؕ فَاَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿ۚ۲۰﴾
اور وہ لوگ جو ایمان لائے کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر کیا جاتا ہے تو تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے اس شخص کا دیکھنا ہوتا ہے جس پر موت کی غشی ڈالی گئی ہو۔ پس ان کے لیے بہتر ہے۔
En
اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی؟ لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بےہوشی (طاری) ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے
En
اور جو لوگ ایمان ﻻئے وه کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وه آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اس شخص کی نظر ہوتی ہے جس پر موت کی بیہوشی طاری ہو، پس بہت بہتر تھا ان کے لئے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 20) ➊ { وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور ایمان والوں کا حال ان آیات کو سننے کے وقت فرمایا جو توحید، قیامت اور دوسرے اعتقادی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ چنانچہ {” وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ “} میں منافقین کا حال بیان فرمایا اور {” وَ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى “} میں ایمان والوں کا حال بیان فرمایا۔ اب عمل سے تعلق رکھنے والی آیات مثلاً جہاد، نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کے متعلق ان کا طرزِ عمل بیان فرمایا۔ وہ یہ کہ مخلص مومن ہمیشہ ایسے کاموں کے بارے میں وحی کے نزول کے منتظر اور امیدوار رہتے، تاکہ ان پر عمل کرکے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکیں، جب اس کے نزول میں تاخیر ہوتی تو کہتے کہ ایسی کوئی آیت یا سورت کیوں نازل نہیں کی گئی اور منافقین کا یہ حال تھا کہ جب مشقت والی ایسی کوئی سورت یا آیت اترتی تو ان پر بہت شاق گزرتی، خصوصاً جہاد کا ذکر آنے پر تو خوف اور دہشت کے مارے ان کی آنکھیں کھلی رہ جاتیں۔
➋ { وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ:} ہجرت کے بعد اگرچہ سورۂ حج کی آیت (۳۹): «اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا» (ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا)کے ساتھ کفار سے قتال کی اجازت ہو چکی تھی، مگر اس کی فرضیت کا واضح حکم ابھی نہیں آیا تھا۔ مخلص مومن جو کفار کے ظلم و ستم سے شدید تنگ دل تھے اور فتح یا شہادت کے متمنی تھے، کہتے رہتے تھے کہ جہاد کے حکم والی کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی۔
➌ { فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ:} محکم سورت سے مراد ایسی سورت ہے جس میں دیا جانے والا حکم واضح ہو، جس میں کوئی تاویل نہ کی جا سکے اور نہ وہ منسوخ ہو۔ مراد اس سے یہی سورۂ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے جس کا نام سورۂ قتال بھی ہے، کیونکہ اس میں {”جَاهِدُوْا“} (جہاد کرو) یا {” قَاتِلُوْا “} (لڑو) کے بجائے قتال کا حکم {” فَضَرْبَ الرِّقَابِ “} کے بالکل صریح الفاظ کے ساتھ دیا گیا کہ کفار سے مڈ بھیڑ ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو اور خوب خون ریزی کے بعد انھیں قیدی بناؤ وغیرہ۔
➍ { رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ …:} یعنی جب قتال کے واضح حکم والی سورت نازل کی گئی تو منافقین کا یہ حال ہوا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”مسلمان سورت مانگتے تھے، یعنی کافروں کی ایذا سے عاجز ہو کر آرزو کرتے کہ اللہ جہاد کا حکم دے تو جو ہم سے ہو سکے کر گزریں۔ جب جہاد کا حکم آیا تو منافق اور کچے لوگوں پر بھاری ہوا، خوف زدہ اور بے رونق آنکھوں سے پیغمبر کی طرف دیکھنے لگے کہ کاش! ہم کو اس حکم سے معاف رکھیں۔ بے حد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی، جیسے مرتے وقت آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے۔“ (موضح) اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۷۷) اور سورۂ احزاب (۱۹)۔
➎ { فَاَوْلٰى لَهُمْ:} مفسرین نے اس لفظ کی مختلف تفسیریں کی ہیں جن میں سب سے واضح اور تکلف سے خالی یہ ہے کہ یہ {” وَلِيَ يَلِيْ وَلْيًا “} (س) سے اسم تفضیل ہے، جس کا معنی ہے زیادہ لائق، زیادہ قریب، بہتر۔ اب اس کی ترکیب دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو اس سے پہلے جملے سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی {”فَالْمَوْتُ أَوْلٰي لَهُمْ“} ”پس موت ہی ان کے لیے بہتر ہے، یا موت ہی ان کے لائق ہے۔“ دوسری تفسیر حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ {” فَاَوْلٰى لَهُمْ “} خبر مقدم ہے اور اگلی آیت میں {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ “} مبتدا مؤخر ہے۔ ان کے الفاظ میں عبارت یوں ہے: {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ أَوْلٰي لَهُمْ، أَيْ وَكَانَ الْأَوْلٰي لَهُمْ أَنْ يَّسْمَعُوْا وَ يُطِيْعُوْا “} یعنی ان کے لیے بہتر تھا کہ وہ سنتے اور اطاعت کرتے۔
➋ { وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ:} ہجرت کے بعد اگرچہ سورۂ حج کی آیت (۳۹): «اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا» (ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا)کے ساتھ کفار سے قتال کی اجازت ہو چکی تھی، مگر اس کی فرضیت کا واضح حکم ابھی نہیں آیا تھا۔ مخلص مومن جو کفار کے ظلم و ستم سے شدید تنگ دل تھے اور فتح یا شہادت کے متمنی تھے، کہتے رہتے تھے کہ جہاد کے حکم والی کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی۔
➌ { فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ:} محکم سورت سے مراد ایسی سورت ہے جس میں دیا جانے والا حکم واضح ہو، جس میں کوئی تاویل نہ کی جا سکے اور نہ وہ منسوخ ہو۔ مراد اس سے یہی سورۂ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے جس کا نام سورۂ قتال بھی ہے، کیونکہ اس میں {”جَاهِدُوْا“} (جہاد کرو) یا {” قَاتِلُوْا “} (لڑو) کے بجائے قتال کا حکم {” فَضَرْبَ الرِّقَابِ “} کے بالکل صریح الفاظ کے ساتھ دیا گیا کہ کفار سے مڈ بھیڑ ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو اور خوب خون ریزی کے بعد انھیں قیدی بناؤ وغیرہ۔
➍ { رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ …:} یعنی جب قتال کے واضح حکم والی سورت نازل کی گئی تو منافقین کا یہ حال ہوا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”مسلمان سورت مانگتے تھے، یعنی کافروں کی ایذا سے عاجز ہو کر آرزو کرتے کہ اللہ جہاد کا حکم دے تو جو ہم سے ہو سکے کر گزریں۔ جب جہاد کا حکم آیا تو منافق اور کچے لوگوں پر بھاری ہوا، خوف زدہ اور بے رونق آنکھوں سے پیغمبر کی طرف دیکھنے لگے کہ کاش! ہم کو اس حکم سے معاف رکھیں۔ بے حد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی، جیسے مرتے وقت آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے۔“ (موضح) اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۷۷) اور سورۂ احزاب (۱۹)۔
➎ { فَاَوْلٰى لَهُمْ:} مفسرین نے اس لفظ کی مختلف تفسیریں کی ہیں جن میں سب سے واضح اور تکلف سے خالی یہ ہے کہ یہ {” وَلِيَ يَلِيْ وَلْيًا “} (س) سے اسم تفضیل ہے، جس کا معنی ہے زیادہ لائق، زیادہ قریب، بہتر۔ اب اس کی ترکیب دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو اس سے پہلے جملے سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی {”فَالْمَوْتُ أَوْلٰي لَهُمْ“} ”پس موت ہی ان کے لیے بہتر ہے، یا موت ہی ان کے لائق ہے۔“ دوسری تفسیر حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ {” فَاَوْلٰى لَهُمْ “} خبر مقدم ہے اور اگلی آیت میں {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ “} مبتدا مؤخر ہے۔ ان کے الفاظ میں عبارت یوں ہے: {” طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ أَوْلٰي لَهُمْ، أَيْ وَكَانَ الْأَوْلٰي لَهُمْ أَنْ يَّسْمَعُوْا وَ يُطِيْعُوْا “} یعنی ان کے لیے بہتر تھا کہ وہ سنتے اور اطاعت کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 جب جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو مومنین جو جذبہ جہاد سے سرشار تھے جہاد کی اجازت کے خواہش مند تھے اور کہتے تھے کہ اس بارے میں کوئی سورت نازل کیوں نہیں کی جاتی یعنی جس میں جہاد کا حکم ہو۔ 20۔ 2 یعنی ایسی سورت جو غیر منسوح ہو۔ 20۔ 3 یہ ان منافقین کا ذکر ہے جن پر جہاد کا حکم نہایت گراں گزرتا تھا، ان میں بعض کمزور ایمان والے بھی بعض دفعہ شامل ہوجاتے تھے سورة نساء آیت 77 میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے کہ (جنگ سے متعلق) کیوں کوئی سورت نازل نہیں ہوتی؟ پھر جب ایسی محکم سورت نازل کی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا۔ تو آپ نے دیکھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے وہ آپ کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے کسی شخص پر موت کا دورہ پڑ رہا ہو۔ ایسے [24] لوگوں کے لئے ہلاکت ہے۔
[24] جہاد کے حکم پر منافقوں کی حالت زار :۔
مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم تھا کہ سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرتے جاؤ۔ اور اپنی تمام تر توجہ نمازوں کے قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے ذکر کی طرف مبذول کئے رہو۔ اس وقت کئی جرأت مند مسلمان یہ آرزو کیا کرتے تھے کہ کاش انہیں کافروں سے لڑنے کی اجازت مل جائے۔ اور ہم بھی ان سے ان کے مظالم کا بدلہ لے سکیں۔ مدینہ میں پہنچنے کے ایک سال بعد مسلمانوں کو جنگ کی اجازت تو مل گئی۔ لیکن ابھی کوئی صریح حکم نازل نہیں ہوا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ جہاد کے متعلق صریح احکام و ہدایات نازل ہوں پھر جب ایسی ہدایات بھی نازل ہو گئیں تو اس وقت بہت سے منافق بھی مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو چکے تھے علاوہ ازیں کچھ ضعیف الاعتقاد اور کمزور مسلمان بھی تھے۔ جب جہاد کے احکام نازل ہوئے تو یک لخت ان پر موت کا خوف طاری ہو گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یوں دیکھنے لگے جیسے موت انہیں سامنے کھڑی نظر آرہی ہے۔ منافقوں کو تو بس ٹھنڈا ٹھنڈا اسلام قبول تھا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھ لیتے تھے اور روزے بھی رکھ لیتے تھے مگر جب جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو فوراً ہمت ہار بیٹھے۔ اور ہر شخص کو یہ معلوم ہو گیا کہ کون شخص ایمان کے حق میں کس قدر مخلص ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کر دیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:77] یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے، اے ہمارے رب! ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کر دیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔
پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔
پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب ان آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گھبراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔
پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آ جاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے۔
پھر فرمایا ’ قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو ‘، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔
پس فرمایا ’ ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں ‘۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔
پھر فرمایا ’ قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو ‘، یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے۔
پس فرمایا ’ ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں ‘۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے۔ صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں، کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمٰن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا، اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو اس سے راضی نہیں؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ» “ ۱؎ [47-محمد:22] } ۱؎ [صحیح بخاری:4830] اور سند سے ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے { جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے }۔۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے { جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ ہو وہ صلہ رحمی کرے }۔۱؎ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
اور حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن لغیره]
بخاری وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5991]
مسند احمد میں ہے کہ { صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:189/2:ضعیف]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے { رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
{ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بخاری وغیرہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5991]
مسند احمد میں ہے کہ { صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی، اس کی رانیں ہوں گی مثل ہرن کی رانوں کے، وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی، پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:189/2:ضعیف]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے { رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4941،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
{ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے لوگ گئے تو آپ فرمانے لگے: ”تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1694،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کر چکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے“ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6172:صحیح بالشواهد]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب زبانی دعوے بڑھ جائیں، عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے، اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کر دی جاتی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6170:ضعیف] اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔
پس فرماتا ہے ’ غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔
ابن جریر میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل]
پس فرماتا ہے ’ غور و تامل تو کجا ان کے دلوں پر تو قفل لگے ہوئے ہیں ‘۔ کوئی کلام اس میں اثر بھی نہیں کرتا، اندر جائے تو اثر کرے، جائے کہاں سے، جب کہ جانے کی راہ نہ پائے۔
ابن جریر میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:321/11:مرسل]