تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
بعض مفسرین نے یہاں لکھا ہے کہ آیت میں زمین کی کسی چیز کو پیدا کرنے کی نفی اور آسمانوں کی چیز میں شرکت کی نفی اس لیے فرمائی ہے کہ بظاہر زمین کی بعض اشیاء میں ان کی شرکت ہے جو آسمانوں میں بظاہر بھی نہیں۔ مگر یہ درست نہیں، کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں زمین و آسمان دونوں کی کسی چیز میں ان کی شرکت کی نفی فرمائی ہے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے جو اوپر کی گئی ہے۔ دیکھیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ» [سبا:۲۲] ”کہہ دے پکارو ان کو جنھیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔“
➋ {اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ ……: ” اَثٰرَةٍ “ ”أَثَرَ يَأْثِرُ أَثَرًا وَ أَثَارَةً وَ أَثْرَةً“} (ض، ن) {الْحَدِيْثَ“} بات کو نقل کرنا۔ {”مَأْثُوْرٌ“} بمعنی ”منقول“ {” اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ “} نقل شدہ یا پہلے لوگوں کا باقی ماندہ علم۔ یہ شرک کی تردید کی نقلی دلیل ہے، یعنی شرک کی عقلی دلیل پیش نہیں کر سکتے تو کوئی معتبر نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب مثلاً تورات یا انجیل وغیرہ سے شرک کا ثبوت لے آؤ، وہ دلیل جو کسی قابلِ اعتماد طریقے سے ہم تک پہنچی ہو، کیونکہ اس کے بغیر اس کا آسمانی کتاب ہونا ثابت ہی نہیں ہوتا۔ یا پہلے انبیاء کی احادیث میں سے منقول کوئی حدیث لے آؤ، جو محض ظن و تخمین سے منقول نہ ہو بلکہ اس سے علم و یقین حاصل ہوتا ہو۔ اس طرح کہ وہ صحیح سند یا تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہو، کیونکہ وہم و گمان پر مبنی چیز کو علم نہیں کہا جاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا» [النجم: ۲۸] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ “ مگر تمھیں ایسی کوئی معتبر قدیم آسمانی کتاب یا کسی نبی کی حدیث نہیں ملے گی جس میں شرک کا شائبہ تک موجود ہو، کیونکہ ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی، فرمایا: «وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [النحل: ۳۶] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ اور فرمایا: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [الأنبیاء: ۲۵] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ”اگر یہاں کتاب سے مراد کتابِ الٰہی اور بقیہ علم سے مراد انبیاء و صلحاء کا چھوڑا ہوا علم نہ بھی لیا جائے تو دنیا کی کسی علمی کتاب اور دینی یا دنیوی علوم کے کسی ماہر کی تحقیقات میں بھی آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ زمین یا آسمان کی فلاں چیز کو خدا کے سوا فلاں بزرگ یا دیوتا نے پیدا کیا ہے، یا انسان جن نعمتوں سے اس کائنات میں متمتع ہو رہا ہے ان میں سے فلاں نعمت خدا کے بجائے فلاں معبود کی آفریدہ ہے۔“ مگر یہ بات کلی طور پر درست نہیں، کیونکہ کئی دہریہ سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور خود بخود ہی چل رہی ہے۔ زمانے کو خالق و مالک قرار دینے والے لوگ اپنی اس جہالت کو تحقیق ہی کہتے ہیں۔ اس لیے کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہی لینا چاہیے، کیونکہ دوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَيِّنَتٍ مِّنْهُ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا» [فاطر: ۴۰] ”کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انھوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یاآسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔“ ان آیات سے معلوم ہوا کہ دین میں دلیل کے طور پر آسمانی کتاب پیش کی جا سکتی ہے یا آسمانی وحی پر مشتمل احادیث، ان کے علاوہ کسی کی تصنیف کو یا اس کے اقوال کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81]، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25]، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {قل}: لهؤلاء الذين أشركوا بالله أوثاناً وأنداداً لا تملك نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياة ولا نشوراً، قل لهم مبيناً عجز أوثانهم، وأنَّها لا تستحقُّ شيئاً من العبادة: {أروني ماذا خَلَقوا من الأرض أمْ لهم شِرْكٌ في السمواتِ}: هل خلقوا من أجرام السماوات والأرض شيئاً؟ هل خلقوا جبالاً؟ هل أجْرَوْا أنهاراً؟ هل نشروا حيواناً؟ هل أنبتوا أشجاراً؟ هل كان منهم معاونةٌ على خلق شيءٍ من ذلك؟ لا شيء من ذلك بإقرارهم على أنفسهم فضلاً عن غيرهم. فهذا دليلٌ عقليٌّ قاطعٌ على أنَّ كلَّ من سوى الله؛ فعبادتُه باطلةٌ.
ثم ذكر انتفاء الدليل النقليِّ، فقال: {ائتوني بكتابٍ من قبل هذا}: الكتاب، يدعو إلى الشرك، {أو أثارةٍ من علم}: موروث عن الرسل يأمر بذلك. من المعلوم أنَّهم عاجزون أن يأتوا عن أحدٍ من الرسل بدليل يدلُّ على ذلك، بل نجزم ونتيقَّن أنَّ جميع الرسل دَعَوْا إلى توحيد ربِّهم ونَهَوْا عن الشرك به، وهي أعظم ما يؤثَر عنهم من العلم؛ قال تعالى: {ولقد بَعَثْنا في كلِّ أمةٍ رسولاً أنِ اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوتَ}، وكلُّ رسول قال لقومه: {اعبُدوا الله ما لكم من إلهٍ غيرُه}، فعُلِمَ أنَّ جدال المشركين في شركهم غير مستندين على برهانٍ ولا دليل، وإنَّما اعتمدوا على ظنونٍ كاذبةٍ وآراءٍ كاسدةٍ وعقولٍ فاسدةٍ، يدلك على فسادها استقراء أحوالهم وتتبُّع علومهم وأعمالهم والنظرُ في حال من أفْنَوْا أعمارهم بعبادته؛ هل أفادهم شيئاً في الدُّنيا أو في الآخرة.