تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
زمین و آسمان کی پیدائش میں ایک حکمت ان کی اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [الطلاق: ۱۲] ”اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“ سورۂ طلاق کی اس آیت میں {” لِتَعْلَمُوْۤا “} (تاکہ تم جان لو) کا ”لام“ {” خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ “} کے متعلق ہے۔
آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت مخلوق کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل کے لحاظ سے بہتر کون ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [ھود: ۷] ”اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ یہی بات سورۂ کہف (۷) اور سورۂ ملک (۲،۳) میں فرمائی۔ اسی کی وضاحت سورۂ ذاریات میں فرمائی: «وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (56) مَاۤ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ» [الذاریات: ۵۶،۵۷] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔ نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔“
حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت ان کی اس بات پر دلالت ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے گی، جیسا کہ فرمایا: «وَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ يَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى» [النجم: ۳۱] ”اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی اس کا بدلا دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی بھلائی کے ساتھ بدلا دے۔“ اس کی وضاحت سورۂ یونس کی آیت (۴) سے بھی ہوتی ہے۔ کفار چونکہ سمجھتے تھے کہ آسمان و زمین کی پیدائش کا کوئی مقصد نہیں، نہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد ہوئی ہے، نہ حساب ہو گا اور نہ جزا و سزا کا کوئی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق تو زمین و آسمان کا یہ سب سلسلہ باطل اور بے مقصد ہوا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس بات کی سخت تردید فرمائی، فرمایا: «وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِ» [صٓ: ۲۷] ”اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو بے کارپیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنھوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا آگ کی صورت میں بڑی ہلاکت ہے۔“ یہی بات سورۂ مومنون (۱۱۵، ۱۱۶)، آل عمران (۱۹۰، ۱۹۱) اور سورۂ دخان (۳۸، ۳۹) میں بیان ہوئی ہے۔
➋ { وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی ہم نے کائنات کا یہ نظام دائمی اور ابدی نہیں بنایا، بلکہ اس کا ایک وقت مقرر ہے، جس کے بعد ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلا ملے گا۔
➌ { وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ:} ”انذار“ کا معنی آگاہ کرنا ہے جس کے ساتھ ڈرانا بھی ہو۔ یعنی اگرچہ کفار کو آگاہ کر دیا گیا کہ زمین و آسمان کی پیدائش بے مقصد نہیں، نہ یہ سلسلہ دائمی ہے بلکہ یہ تمھاری آزمائش کے لیے ہے اور ایک مقرر وقت پر تم سب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاؤ گے، اس کے باوجود جس آخرت اور جس اخروی عذاب سے انھیں ڈرایا گیا وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہیں، نہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اس سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا بيَّن إنزال كتابه المتضمِّن للأمر والنهي؛ ذكر خلقه السماواتِ والأرض، فجمع بين الخَلْق والأمر، {ألا له الخلقُ والأمر}؛ كما قال تعالى: {الله الذي خَلَقَ سبع سماواتٍ ومن الأرض مِثْلَهُنَّ يتنزَّلُ الأمرُ بينَهُنَّ}، وكما قال تعالى: {ينزِّلُ الملائكة بالرُّوح من أمرِهِ على مَن يشاءُ من عبادِهِ أنْ أنذِروا أنَّه لا إله إلا أنا فاتَّقونِ. خلقَ السمواتِ والأرض بالحقِّ}؛ فالله تعالى هو الذي خَلَقَ المكلَّفين، وخلق مساكِنَهم، وسخَّر لهم ما في السماوات وما في الأرض، ثم أرسل إليهم رسله، وأنزل عليهم كُتُبَه، وأمرهم ونهاهم، وأخبرهم أنَّ هذه الدارَ دارُ أعمال وممرٌّ للعمال، لا دار إقامة لا يرحلُ عنها أهلُها، وهم سينتقلون منها إلى دار الإقامة والقرارة وموطن الخلود والدوام، وإنَّما أعمالُهم التي عملوها في هذه الدار سيجدون ثوابها في تلك الدار كاملاً موفَّراً، وأقام تعالى الأدلَّة الدالَّة على تلك الدار، وأذاق العباد نموذجاً من الثواب والعقاب العاجل؛ ليكون أدعى لهم إلى طلب المحبوب والهرب من المرهوب، ولهذا قال هنا: {ما خَلَقْنا السمواتِ والأرضَ وما بينهما إلاَّ بالحقِّ}؛ أي: لا عبثاً ولا سدىً، بل ليعرف العبادُ عظمة خالقهما، ويستدلُّوا على كماله، ويعلموا أنَّ الذي خلقهما على عظمهما قادرٌ على أن يعيدَ العباد بعد موتِهِم للجزاء، وأنَّ خلقهما وبقاءهما مقدرٌ إلى أجل مسمًّى.
فلما أخبر بذلك، وهو أصدق القائلين، وأقام الدليل، وأنار السبيل؛ أخبر مع ذلك أنَّ طائفةً من الخلق قد أبوا إلا إعراضاً عن الحقِّ وصدوفاً عن دعوة الرسل، فقال: {والذين كفروا عمَّا أُنذروا معرضون}. وأمَّا الذين آمنوا؛ فلمَّا علموا حقيقة الحال؛ قبلوا وصايا ربِّهم، وتلقَّوْها بالقبول والتسليم، وقابلوها بالانقياد والتعظيم، ففازوا بكلِّ خير، واندفع عنهم كلُّ شرٍّ.