ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 3

مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳﴾
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقرر ہ میعاد ہی کے ساتھ پیداکیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔ En
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
En
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ {مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ:} قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سب سے اہم مضمون توحید اور آخرت ہیں۔ ان دونوں کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کے لیے { تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ } کو بطور تمہید ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ایک متفق علیہ بات کا ذکر فرمایا کہ یہ سب مانتے ہیں کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ تسلیم کر لینے کے بعد اس کائنات کے متعلق کوئی بھی بات اسی کی معتبر ہو گی جس نے اسے بنایا ہے۔ چنانچہ اس کا فرمان ہے کہ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز باطل نہیں کہ اس میں کوئی خامی یا غلطی ہو یا وہ بے مقصد ہو یا محض کھیل کے لیے بنائی گئی ہو، بلکہ ان کے پیدا کرنے میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ قرآن مجید نے آسمان و زمین کی پیدائش میں ملحوظ بہت سی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سب سے بڑی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلالت ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ (163) اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ وَّ تَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۶۳، ۱۶۴] اور تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ یعنی یہ حقیقت کہ معبود برحق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے، عقل والوں کو زمین و آسمان کی پیدائش اور ان دونوں میں پائی جانے والی مذکورہ اشیاء پر غور کرنے سے معلوم ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بار بار دہرائی ہے کہ عبادت کا حق دار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ پیدا کرنے والا کون ہے؟ جو پیدا کرنے والا ہے سچا معبود وہی ہے، جو کچھ پیدا ہی نہیں کر سکتا وہ معبود بھی نہیں ہو سکتا۔ خالق ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے اکیلے مستحق عبادت ہونے کی متعدد آیات میں سے چند آیات ملاحظہ فرمائیں، سورۂ بقرہ (۲۱، ۲۲)، اعراف (۱۹۱)، ہود (۷)، رعد (۱۶)، سورۂ نحل (۳ تا ۲۰) (ان آیات میں خلق کے بار بار دہرانے کو ملحوظ رکھیں)، سورۂ حج (۷۳)، فرقان (۲، ۳) اور سورۂ اعلیٰ (۱، ۲)۔
زمین و آسمان کی پیدائش میں ایک حکمت ان کی اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» ‏‏‏‏ [الطلاق: ۱۲] اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ سورۂ طلاق کی اس آیت میں { لِتَعْلَمُوْۤا } (تاکہ تم جان لو) کا لام { خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ } کے متعلق ہے۔
آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت مخلوق کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل کے لحاظ سے بہتر کون ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [ھود: ۷] اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ یہی بات سورۂ کہف (۷) اور سورۂ ملک (۲،۳) میں فرمائی۔ اسی کی وضاحت سورۂ ذاریات میں فرمائی: «‏‏‏‏وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (56) مَاۤ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ» [الذاریات: ۵۶،۵۷] اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔ نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔
حق کے ساتھ پیدا کرنے میں ایک حکمت ان کی اس بات پر دلالت ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے گی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ يَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى» [النجم: ۳۱] اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی اس کا بدلا دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی بھلائی کے ساتھ بدلا دے۔ اس کی وضاحت سورۂ یونس کی آیت (۴) سے بھی ہوتی ہے۔ کفار چونکہ سمجھتے تھے کہ آسمان و زمین کی پیدائش کا کوئی مقصد نہیں، نہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد ہوئی ہے، نہ حساب ہو گا اور نہ جزا و سزا کا کوئی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق تو زمین و آسمان کا یہ سب سلسلہ باطل اور بے مقصد ہوا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس بات کی سخت تردید فرمائی، فرمایا: «وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِ» ‏‏‏‏ [صٓ: ۲۷] اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو بے کارپیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنھوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا آگ کی صورت میں بڑی ہلاکت ہے۔ یہی بات سورۂ مومنون (۱۱۵، ۱۱۶)، آل عمران (۱۹۰، ۱۹۱) اور سورۂ دخان (۳۸، ۳۹) میں بیان ہوئی ہے۔
➋ { وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی ہم نے کائنات کا یہ نظام دائمی اور ابدی نہیں بنایا، بلکہ اس کا ایک وقت مقرر ہے، جس کے بعد ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلا ملے گا۔
➌ { وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ:} انذار کا معنی آگاہ کرنا ہے جس کے ساتھ ڈرانا بھی ہو۔ یعنی اگرچہ کفار کو آگاہ کر دیا گیا کہ زمین و آسمان کی پیدائش بے مقصد نہیں، نہ یہ سلسلہ دائمی ہے بلکہ یہ تمھاری آزمائش کے لیے ہے اور ایک مقرر وقت پر تم سب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاؤ گے، اس کے باوجود جس آخرت اور جس اخروی عذاب سے انھیں ڈرایا گیا وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہیں، نہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اس سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش کا ایک خاص مقصد بھی ہے اور وہ ہے انسانوں کی آزمائش۔ دوسرا اس کے لئے ایک وقت بھی مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو آسمان اور زمین کا موجودہ نظام سارا بکھر جائے گا۔ نہ آسمان، یہ آسمان ہوگا نہ زمین، یہ زمین ہوگی۔ یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات " سورة ابراھیم۔ 3۔ 2 یعنی عدم ایمان کی صورت میں بعث حساب اور جزا سے جو انہیں ڈرایا جاتا ہے وہ اس کی پرواہی نہیں کرتے اس پر ایمان لاتے ہیں نہ عذاب اخروی سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ ہم نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے سب چیزوں کو حقیقی مصلحت کی بنا پر اور ایک مقررہ مدت [2] تک کے لئے پیدا کیا ہے اور جو کافر ہیں وہ اس چیز سے اعراض کر جاتے ہیں جس سے انہیں ڈرایا [3] جاتا ہے۔
[2] اللہ کی حکمت سے معاد پر دلیل :۔
اس کارخانہ کائنات کے نتیجہ کے طور پر قیامت کے قائم ہونے پر عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اور اس کی تفسیر بھی پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔
[3] اللہ کی صفت عدل سے معاد پر دلیل :۔
قیامت کے قیام پر دوسری عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل سے ہے۔ یعنی انسان کو اس دنیا میں ایسے نہیں پیدا کیا گیا کہ جو کچھ وہ چاہے کرتا رہے اور اس سے کچھ بھی محاسبہ نہ ہو۔ اور جب انہیں یہ بات سمجھائی جاتی ہے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور منہ موڑ کر چل دیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ محض ان کا تکبر ہے۔ وہ اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیاں گوارا نہیں کرتے اور اس بات کو اپنی شان سے فروتر سمجھتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالی نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرونہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا پس اس نے خلق و امر کو جمع کر دیا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ (الاعراف:7؍54) جیسا کہ فرمایا: ﴿اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْ٘لَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ (الطلاق:65؍12) اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے۔اور جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ یُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۰۰ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (النحل:16؍2) اللہ ہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو (اس بات سے) آگاہ کر دو کہ بلاشبہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ تو اللہ تعالی ہی نے مکلفین کو پیدا کیا، ان کے مساکن بنائے، ان کے لیے زمین اور آسمان کی ہر چیز کو مسخر کر دیاپھر ان کی طرف رسول بھیجے، ان پر اپنی کتابیں نازل کیں، انھیں نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا، انھیں خبردار کیا کہ یہ دنیا عمل کا گھر اور اہل عمل کے لیے گزرگاہ ہے، یہ دنیا اقامت کی جگہ نہیں کہ اس کے رہنے والے یہاں سے کوچ نہیں کریں گے، وہ عنقریب یہاں سے جائے قرار اور ہمیشہ رہنے والے دائمی ٹھکانے اور اقامت گاہ میں منتقل ہوں گے۔وہ اس گھر میں، اپنے اعمال کی جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں، کامل اور وافر جزا پائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس گھر کے اثبات کے لیے دلائل قائم کیے اور نمونے کے طور پر اسی دنیا میں بندوں کو ثواب و عقاب کا مزا چکھایا تاکہ امر محبوب کی طلب اور امر مرہوب سے دور بھاگنے کا داعیہ زیادہ شدت سے پیدا ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق پیدا کیا ہے۔ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو عبث اور بے کار پیدا نہیں کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے ان کے خالق کی عظمت کو پہچانیں اور اس کے کمال پر ان سے استدلال کریں اور تاکہ بندے جان لیں کہ وہ ہستی جس نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ بندوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، نیز آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان کی بقا کا وقت ﴿ اَجَلٍ مُّ٘سَمًّى ایک مدت مقررہ تک ہے۔ معین ہے۔
جب اللہ تعالی نے اس حقیقت سے آگاہ فرمایا… اور وہ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے… اس پر دلائل قائم کیے اور راہ حق کو روشن کر دیا، تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مخلوق میں سے ایک گروہ نے حق سے روگردانی کی اور انبیاء و رسل کی دعوت کو ٹھکرایا۔ فرمایا:﴿ وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے، وہ اس سے اعراض کرلیتے ہیں۔ اور رہے اہل ایمان، تو انھیں جب حقیقت حال کا علم ہوا تو انھوں نے اپنے رب کی نصیحتوں کو قبول کر کے ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اطاعت و تعظیم کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ پس وہ ہر بھلائی حاصل کرنے اور ہر برائی کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا بيَّن إنزال كتابه المتضمِّن للأمر والنهي؛ ذكر خلقه السماواتِ والأرض، فجمع بين الخَلْق والأمر، {ألا له الخلقُ والأمر}؛ كما قال تعالى: {الله الذي خَلَقَ سبع سماواتٍ ومن الأرض مِثْلَهُنَّ يتنزَّلُ الأمرُ بينَهُنَّ}، وكما قال تعالى: {ينزِّلُ الملائكة بالرُّوح من أمرِهِ على مَن يشاءُ من عبادِهِ أنْ أنذِروا أنَّه لا إله إلا أنا فاتَّقونِ. خلقَ السمواتِ والأرض بالحقِّ}؛ فالله تعالى هو الذي خَلَقَ المكلَّفين، وخلق مساكِنَهم، وسخَّر لهم ما في السماوات وما في الأرض، ثم أرسل إليهم رسله، وأنزل عليهم كُتُبَه، وأمرهم ونهاهم، وأخبرهم أنَّ هذه الدارَ دارُ أعمال وممرٌّ للعمال، لا دار إقامة لا يرحلُ عنها أهلُها، وهم سينتقلون منها إلى دار الإقامة والقرارة وموطن الخلود والدوام، وإنَّما أعمالُهم التي عملوها في هذه الدار سيجدون ثوابها في تلك الدار كاملاً موفَّراً، وأقام تعالى الأدلَّة الدالَّة على تلك الدار، وأذاق العباد نموذجاً من الثواب والعقاب العاجل؛ ليكون أدعى لهم إلى طلب المحبوب والهرب من المرهوب، ولهذا قال هنا: {ما خَلَقْنا السمواتِ والأرضَ وما بينهما إلاَّ بالحقِّ}؛ أي: لا عبثاً ولا سدىً، بل ليعرف العبادُ عظمة خالقهما، ويستدلُّوا على كماله، ويعلموا أنَّ الذي خلقهما على عظمهما قادرٌ على أن يعيدَ العباد بعد موتِهِم للجزاء، وأنَّ خلقهما وبقاءهما مقدرٌ إلى أجل مسمًّى.

فلما أخبر بذلك، وهو أصدق القائلين، وأقام الدليل، وأنار السبيل؛ أخبر مع ذلك أنَّ طائفةً من الخلق قد أبوا إلا إعراضاً عن الحقِّ وصدوفاً عن دعوة الرسل، فقال: {والذين كفروا عمَّا أُنذروا معرضون}. وأمَّا الذين آمنوا؛ فلمَّا علموا حقيقة الحال؛ قبلوا وصايا ربِّهم، وتلقَّوْها بالقبول والتسليم، وقابلوها بالانقياد والتعظيم، ففازوا بكلِّ خير، واندفع عنهم كلُّ شرٍّ.