قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴﴾
کہہ دے کیا تم نے دیکھا جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین میں سے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ لاؤ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب، یا علم کی کوئی نقل شدہ بات، اگر تم سچے ہو۔
En
کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے۔ یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ۔ یا علم (انبیاء میں) سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)
En
آپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو، میرے پاس ﻻؤ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 4) ➊ { قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں تفصیل سے بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے کی اور اس کے سوا تمام معبودوں کے باطل ہونے کی سب سے بڑی اور واضح دلیل اس کا کائنات کو پیدا کرنا ہے۔ یہ عقلی دلیل ہے جسے کوئی صاحبِ عقل ردّ نہیں کر سکتا، کفار کی اس کے جواب سے بے بسی واضح کرنے کے لیے اسے مناظرانہ انداز میں پیش کرنے کا حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ مجھے بتاؤ کہ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم پکارتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ زمین کی وہ کون سی چیز ہے جو انھوں نے پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو وہ دکھاؤ؟ ظاہر ہے وہ ایسی کوئی چیز دکھا ہی نہیں سکتے، تو پھر کسی اور معبود کی عبادت کیوں کرتے ہیں۔ یہاں ایک لمبی بات کو مختصر کر دیا ہے، اصل یہ تھا کہ مجھے دکھاؤ کہ زمین و آسمان کی کون سی چیز ہے جو پوری کی پوری انھوں نے پیدا کی ہو، یا زمین و آسمان کی کوئی چیز دکھاؤ جو پوری نہ سہی اس کے بنانے یا چلانے میں ان کا حصہ ہی ہو۔ پہلے جملے میں سے صرف زمین کا ذکر فرمایا آسمان کو حذف کر دیا، دوسرے جملے میں آسمانوں کا ذکر فرمایا زمین کو حذف کر دیا۔ یہ بات خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے کہ دونوں جملوں میں دونوں مراد ہیں، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔
بعض مفسرین نے یہاں لکھا ہے کہ آیت میں زمین کی کسی چیز کو پیدا کرنے کی نفی اور آسمانوں کی چیز میں شرکت کی نفی اس لیے فرمائی ہے کہ بظاہر زمین کی بعض اشیاء میں ان کی شرکت ہے جو آسمانوں میں بظاہر بھی نہیں۔ مگر یہ درست نہیں، کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں زمین و آسمان دونوں کی کسی چیز میں ان کی شرکت کی نفی فرمائی ہے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے جو اوپر کی گئی ہے۔ دیکھیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ» [سبا:۲۲] ”کہہ دے پکارو ان کو جنھیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔“
➋ {اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ ……: ” اَثٰرَةٍ “ ”أَثَرَ يَأْثِرُ أَثَرًا وَ أَثَارَةً وَ أَثْرَةً“} (ض، ن) {الْحَدِيْثَ“} بات کو نقل کرنا۔ {”مَأْثُوْرٌ“} بمعنی ”منقول“ {” اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ “} نقل شدہ یا پہلے لوگوں کا باقی ماندہ علم۔ یہ شرک کی تردید کی نقلی دلیل ہے، یعنی شرک کی عقلی دلیل پیش نہیں کر سکتے تو کوئی معتبر نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب مثلاً تورات یا انجیل وغیرہ سے شرک کا ثبوت لے آؤ، وہ دلیل جو کسی قابلِ اعتماد طریقے سے ہم تک پہنچی ہو، کیونکہ اس کے بغیر اس کا آسمانی کتاب ہونا ثابت ہی نہیں ہوتا۔ یا پہلے انبیاء کی احادیث میں سے منقول کوئی حدیث لے آؤ، جو محض ظن و تخمین سے منقول نہ ہو بلکہ اس سے علم و یقین حاصل ہوتا ہو۔ اس طرح کہ وہ صحیح سند یا تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہو، کیونکہ وہم و گمان پر مبنی چیز کو علم نہیں کہا جاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا» [النجم: ۲۸] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ “ مگر تمھیں ایسی کوئی معتبر قدیم آسمانی کتاب یا کسی نبی کی حدیث نہیں ملے گی جس میں شرک کا شائبہ تک موجود ہو، کیونکہ ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی، فرمایا: «وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [النحل: ۳۶] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ اور فرمایا: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [الأنبیاء: ۲۵] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ”اگر یہاں کتاب سے مراد کتابِ الٰہی اور بقیہ علم سے مراد انبیاء و صلحاء کا چھوڑا ہوا علم نہ بھی لیا جائے تو دنیا کی کسی علمی کتاب اور دینی یا دنیوی علوم کے کسی ماہر کی تحقیقات میں بھی آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ زمین یا آسمان کی فلاں چیز کو خدا کے سوا فلاں بزرگ یا دیوتا نے پیدا کیا ہے، یا انسان جن نعمتوں سے اس کائنات میں متمتع ہو رہا ہے ان میں سے فلاں نعمت خدا کے بجائے فلاں معبود کی آفریدہ ہے۔“ مگر یہ بات کلی طور پر درست نہیں، کیونکہ کئی دہریہ سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور خود بخود ہی چل رہی ہے۔ زمانے کو خالق و مالک قرار دینے والے لوگ اپنی اس جہالت کو تحقیق ہی کہتے ہیں۔ اس لیے کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہی لینا چاہیے، کیونکہ دوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَيِّنَتٍ مِّنْهُ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا» [فاطر: ۴۰] ”کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انھوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یاآسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔“ ان آیات سے معلوم ہوا کہ دین میں دلیل کے طور پر آسمانی کتاب پیش کی جا سکتی ہے یا آسمانی وحی پر مشتمل احادیث، ان کے علاوہ کسی کی تصنیف کو یا اس کے اقوال کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
بعض مفسرین نے یہاں لکھا ہے کہ آیت میں زمین کی کسی چیز کو پیدا کرنے کی نفی اور آسمانوں کی چیز میں شرکت کی نفی اس لیے فرمائی ہے کہ بظاہر زمین کی بعض اشیاء میں ان کی شرکت ہے جو آسمانوں میں بظاہر بھی نہیں۔ مگر یہ درست نہیں، کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں زمین و آسمان دونوں کی کسی چیز میں ان کی شرکت کی نفی فرمائی ہے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے جو اوپر کی گئی ہے۔ دیکھیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ» [سبا:۲۲] ”کہہ دے پکارو ان کو جنھیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔“
➋ {اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ ……: ” اَثٰرَةٍ “ ”أَثَرَ يَأْثِرُ أَثَرًا وَ أَثَارَةً وَ أَثْرَةً“} (ض، ن) {الْحَدِيْثَ“} بات کو نقل کرنا۔ {”مَأْثُوْرٌ“} بمعنی ”منقول“ {” اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ “} نقل شدہ یا پہلے لوگوں کا باقی ماندہ علم۔ یہ شرک کی تردید کی نقلی دلیل ہے، یعنی شرک کی عقلی دلیل پیش نہیں کر سکتے تو کوئی معتبر نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب مثلاً تورات یا انجیل وغیرہ سے شرک کا ثبوت لے آؤ، وہ دلیل جو کسی قابلِ اعتماد طریقے سے ہم تک پہنچی ہو، کیونکہ اس کے بغیر اس کا آسمانی کتاب ہونا ثابت ہی نہیں ہوتا۔ یا پہلے انبیاء کی احادیث میں سے منقول کوئی حدیث لے آؤ، جو محض ظن و تخمین سے منقول نہ ہو بلکہ اس سے علم و یقین حاصل ہوتا ہو۔ اس طرح کہ وہ صحیح سند یا تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہو، کیونکہ وہم و گمان پر مبنی چیز کو علم نہیں کہا جاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا» [النجم: ۲۸] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ “ مگر تمھیں ایسی کوئی معتبر قدیم آسمانی کتاب یا کسی نبی کی حدیث نہیں ملے گی جس میں شرک کا شائبہ تک موجود ہو، کیونکہ ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی، فرمایا: «وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [النحل: ۳۶] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ اور فرمایا: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [الأنبیاء: ۲۵] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ”اگر یہاں کتاب سے مراد کتابِ الٰہی اور بقیہ علم سے مراد انبیاء و صلحاء کا چھوڑا ہوا علم نہ بھی لیا جائے تو دنیا کی کسی علمی کتاب اور دینی یا دنیوی علوم کے کسی ماہر کی تحقیقات میں بھی آج تک اس امر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ زمین یا آسمان کی فلاں چیز کو خدا کے سوا فلاں بزرگ یا دیوتا نے پیدا کیا ہے، یا انسان جن نعمتوں سے اس کائنات میں متمتع ہو رہا ہے ان میں سے فلاں نعمت خدا کے بجائے فلاں معبود کی آفریدہ ہے۔“ مگر یہ بات کلی طور پر درست نہیں، کیونکہ کئی دہریہ سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور خود بخود ہی چل رہی ہے۔ زمانے کو خالق و مالک قرار دینے والے لوگ اپنی اس جہالت کو تحقیق ہی کہتے ہیں۔ اس لیے کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہی لینا چاہیے، کیونکہ دوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَيِّنَتٍ مِّنْهُ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا» [فاطر: ۴۰] ”کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انھوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یاآسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔“ ان آیات سے معلوم ہوا کہ دین میں دلیل کے طور پر آسمانی کتاب پیش کی جا سکتی ہے یا آسمانی وحی پر مشتمل احادیث، ان کے علاوہ کسی کی تصنیف کو یا اس کے اقوال کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 ارایتم یعنی اخبرونی یا ارونی یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں یا شخصیات کی تم عبادت کرتے ہو مجھے بتلاؤ یا دکھلاؤ کہ انہوں نے زمین و آسمان کی پیدائش میں کیا حصہ لیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین کی پیدائش میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ان سب کا خالق صرف ایک اللہ ہے تو پھر تم ان غیر حق معبودوں کو اللہ کی عبادت میں کیوں شریک کرتے ہو۔ 4۔ 2 یعنی کسی نبی پر نازل شدہ میں یا کسی منقول روایت میں یہ بات لکھی ہو تو وہ لا کر دکھاؤ تاکہ تمہاری صداقت واضح ہو سکے۔ بعض نے اثارہ من علم کے معنی واضح علمی دلیل کے کئے ہیں اس صورت میں کتاب سے نقلی دلیل اور اثارہ من علم سے عقلی دلیل مراد ہوگی یعنی کوئی عقلی اور نقلی دلیل پیش کرو پہلے معنی اس کے اثر سے ماخوذ ہونے کی بنیاد پر روایت کے کیے گئے ہیں یا بقیۃ من علم پہلے انبیاء علیم السلام کی تعلیمات کا باقی ماندہ حصہ جو قابل اعتماد ذریعے سے نقل ہوتا آیا ہو اس میں یہ بات ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ آپ ان سے کہئے: بھلا دیکھو اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین کی کیا چیز انہوں نے پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کچھ حصہ [4] ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب الٰہی یا علمی [5] روایت میرے پاس لاؤ۔
[4] مشرکین سے شرک پر عقلی دلیل کا مطالبہ :۔
سابقہ آیات میں مشرکین مکہ کے انکار آخرت کا رد پیش کیا گیا ہے۔ اس آیت اور اس سے مابعد کی آیات میں ان کے شرک پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ان سے پوچھا یہ جا رہا ہے کہ اللہ کے سوا جن کی تم پوجا کرتے ہو اس کی کوئی وجہ تو بتاؤ۔ عبادت کے لائق تو وہی ہستی ہو سکتی ہے جس کا کائنات کی پیدائش میں کچھ عمل دخل ہو۔ بتاؤ اس کائنات کی کون سی چیز انہوں نے پیدا کی ہے۔ یا زمین یا آسمانوں کا کون سا حصہ انہوں نے بنایا تھا؟ اور اگر انہوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی تو پھر وہ اس کی ملکیت کیسے بن گئی جس میں تصرف کے اختیارات انہیں حاصل ہوں۔
[5] کتاب اللہ یا آثار سے نقلی دلیل کا مطالبہ :۔
ایک طرف تو تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ کائنات کی تخلیق میں تمہارے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں، کوئی شراکت نہیں۔ دوسری طرف یہ بھی رٹ لگائے جاتے ہو کہ ان کو کائنات میں تصرف کے اختیار حاصل ہیں۔ یہ ہماری بگڑی بنا بھی سکتے ہیں اور اگر ان کی گستاخی کی جائے تو یہ انتقام بھی لے سکتے ہیں۔ تو یہ بات عقلی لحاظ سے غلط ہے۔ پھر اگر عقلی دلیل پیش نہیں کر سکتے تو کوئی نقلی دلیل ہی پیش کر دو۔ کہیں بھی اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی بات لکھی ہوئی دکھا دو کہ اللہ کے سوا کائنات میں دوسروں کو بھی کچھ اختیارات حاصل ہیں۔ یا اللہ کے فلاں قسم کے اختیارات مثلاً رزق دینے کے فلاں بت یا دیوتا یا بزرگ کو تفویض کر رکھے ہیں اور فلاں قسم کے مثلاً زندگی بخشنے کے اختیارات فلاں کو سپرد کر دیئے ہیں اور اگر کتاب الٰہی میں ایسی تحریر موجود نہ ہو تو کسی علمی اثر میں ہی دکھا دو۔ آثار سے کیا مراد ہے؟ علمی اثر سے مراد کتاب اللہ کی وہ تفاسیر و شروح ہیں جو مستند ہوں۔ (جیسے ہمارے پاس کتاب اللہ تو قرآن کریم ہے اور عملی اثر احادیث ہیں۔ جن میں سلسلہ اسناد بھی درج ہوتا ہے جس سے یہ تحقیق کی جا سکتی ہے کہ فلاں حدیث کس درجہ کی ہے اور آیا وہ مقبول ہے یا مردود) اور اگر تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہو اور نہ نقلی تو پھر سمجھ لو کہ تمہارے عقائد محض ظن اور اوہام پر مبنی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ کردہ نہیں جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پکارے اور اس سے حاجتیں طلب کرے جن حاجتوں کو پورا کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں نہ کسی چیز کو لے دے سکتے ہیں اس لیے کہ وہ تو پتھر ہیں، جمادات میں سے ہیں۔ قیامت کے دن جب سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے تو یہ معبودان باطل اپنے عابدوں کے دشمن بن جائیں گے اور اس بات سے کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے تھے صاف انکار کر جائیں گے۔
جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81]، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25]، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔
جیسے اللہ عزوجل کا اور جگہ ارشاد ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مريم:82،81]، یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی عزت کا باعث بنیں۔ واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا انکار کر جائیں گے اور ان کے پورے مخالف ہو جائیں گے یعنی جب کہ یہ ان کے پورے محتاج ہوں گے اس وقت وہ ان سے منہ پھیر لیں گے۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی امت سے فرمایا تھا «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25]، یعنی تم نے اللہ کے سوا بتوں سے جو تعلقات قائم کر لیے ہیں اس کا نتیجہ قیامت کے دن دیکھ لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے انکار کر جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہاری جگہ جہنم مقرر اور متعین ہو جائے گی اور تم اپنا مددگار کسی کو نہ پاؤ گے۔