تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ…:} کفار کے جن اقوال کا یہاں ذکر ہوا ان سب کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کو جھٹلانا تھا، مثلاً یہ کہنا کہ یہ سحر ہے، افترا ہے، اس میں کوئی خیر نہیں وغیرہ۔ فرمایا جب وہ اس قرآن کے ذریعے سے سیدھا راستہ حاصل نہ کر سکے تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے۔ یعنی اگر وہ ضد اور عناد پر اڑے رہے تو کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے اور نہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل تسلیم کریں گے، بلکہ ان کے سامنے پہلے انبیاء اور اہلِ علم کی شہادت پیش کی گئی تو وہ تمام پیغمبروں اور کتابوں کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ ان کے اس رویے کا باعث صرف ان کا کفر اور تکبر ہے، جب تک وہ اس پر قائم رہیں گے یہی بات کہتے رہیں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ افْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا (4) وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا» [الفرقان: ۴، ۵] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ اور انھوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوا لی ہیں، تو وہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[16] جھوٹ تو وہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ذات کو ہی حق کا معیار سمجھتے تھے اور قرآن ان کے معیار کے خلاف تھا۔ اور پرانا اس لیے کہتے تھے کہ سابقہ انبیائے کرام کی تعلیم بھی بعینہٖ وہی کچھ تھی جو اس نبی آخر الزمان کی تھی۔ وہ اسے نیا جھوٹ کہہ ہی نہیں سکتے تھے اور نہ انہیں یہ کہنا گوارا تھا کہ یہ پرانا سچ ہے۔ کیونکہ ابتدا سے انبیائے کرام یہی سچی تعلیم دیتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بھی مطلب بیان ہو گیا ہے کہ اس شاہد نے اپنے نبی پر اور اس کی کتاب پر یقین کر لیا لیکن تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالیٰ ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔
«شَاھِدٌ» کا لفظ ہم جنس ہے اور یہ اپنے معانی کے لحاظ سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام سے پہلے کی ہے۔
اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ» [28-القصص:53] یعنی ’ جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں ‘۔
اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:108،107] یعنی ’ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم عطا فرمایا گیا ہے ان پر جب تلاوت کی جاتی ہے تو وہ بلا پس و پیش سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، اس کے وعدے یقناً سچے اور ہو کر رہنے والے ہیں ‘۔
مسروق اور شعبی رحمہا اللہ فرماتے ہیں یہاں اس آیت سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نہیں، اس لئے کہ آیت مکہ میں اترتی ہے اور آپ مدینے کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، یوسف بن عبداللہ بن سلام، ہلال بن بشار، سدی، ثوری، مالک بن انس بن زبیر رحمہم اللہ علیہم کا قول ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ کفار کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن بہتری کی چیز ہوتی، تو ہم جیسے شریف انسان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں، ان پر بھلا یہ نیچے کے درجے کے لوگ جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب رضی اللہ عنہم اور انہی جیسے اور گرے پڑے لونڈی غلام کیسے سبقت کر جاتے۔ پھر تو اللہ سب سے پہلے ہمیں ہی نوازتا۔ حالانکہ یہ قول بالبداہت باطل ہے۔
اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [سورةالأنعام6:53] یعنی انہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہدایت پا گئے؟ اگر یہ چیز بھلی ہوتی تو ہم اس کی طرف لپک کر جاتے۔ پس یہ خیال ان کا خام تھا لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیک سمجھ والے، سلامت روی والے، ہمیشہ بھلائی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔
اسی لیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اس لیے کہ اگر اس میں بہتری ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی۔ چونکہ اپنی بدنصیبی کے باعث یہ گروہ قرآن پر ایمان نہیں لایا اس لیے یہ اپنی خجالت دفع کرنے کو قرآن کی اہانت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو پرانے لوگوں کی پرانی غلط باتیں ہیں، یہ کہہ کر وہ قرآن اور قرآن والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر ہے جس کی بابت حدیث میں ہے کہ { تکبر نام ہے حق کو ہٹا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا }۔ [صحیح مسلم:91]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال الكفار بالحقِّ معاندين له ورادِّين لدعوته: {لو كان خيراً ما سبقونا إليه}؛ أي: ما سَبَقَنا إليه المؤمنون، أي: لكنّا أول مبادرٍ به وسابق إليه! وهذا من البهرجة في مكان؛ فأيُّ دليل يدلُّ على أنَّ علامة الحقِّ سبق المكذبين به للمؤمنين؟! هل هم أزكى نفوساً؟! أم أكمل عقولاً؟! أم الهدى بأيديهم؟! ولكن هذا الكلام الذي صدر منهم يعزُّون به أنفسهم، بمنزلة من لم يقدرْ على الشيء ثم طَفِقَ يذمُّه، ولهذا قال: {وإذْ لم يَهْتَدوا به فسيقولونَ هذا إفكٌ قَديمٌ}؛ أي: هذا السبب الذي دعاهم إليه أنهم لما لم يهتدوا بهذا القرآن، وفاتهم أعظمُ المواهب وأجلُّ الرغائب؛ قدحوا فيه بأنَّه كذبٌ، وهو الحقُّ الذي لا شكَّ فيه ولا امتراء يعتريه، {الذي} قد وافق الكتب السماويَّة، خصوصاً أكملها وأفضلها بعد القرآن، وهي التوراة التي أنزلها الله على {موسى إماماً ورحمة}؛ أي: يقتدي بها بنو إسرائيل ويهتدون بها، ويحصُلُ لهم خير الدنيا والآخرة.
{وهذا}: القرآن {كتابٌ مصدقٌ}: للكتب السابقة، شهد بصدِقها وصدَّقها بموافقته لها، وجَعَلَه الله {لساناً عربيًّا}: ليسهل تناوله ويتيسر تذكُّره؛ {لينذر الذين ظلموا}: أنفسهم بالكفر والفسوق والعصيان إن استمرُّوا على ظلمهم بالعذاب الوبيل، ويبشر المحسنين في عبادة الخالق وفي نفع المخلوقين بالثواب الجزيل في الدُّنيا والآخرة، ويذكِّر الأعمال التي ينذر عنها والأعمال التي يبشر بها.