ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 11

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ کَانَ خَیۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِذۡ لَمۡ یَہۡتَدُوۡا بِہٖ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَاۤ اِفۡکٌ قَدِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے اگر یہ کچھ بھی بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے اورجب انھوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی تو ضرور کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔ En
اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے
En
اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ {وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَيْرًا …: لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا } میں لام کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے مخاطب ہو کر کہا، بلکہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں کہا۔ پچھلی آیت میں مشرکین کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کا تکبر ذکر فرمایا تھا، اب ان کے تکبر اور خود پسندی کی ایک مثال ذکر فرمائی جس کی بنا پر وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دنیا کی نعمتوں پر اس قدر مغرور ہیں کہ اس کی ہر نعمت کا مستحق صرف اپنے آپ ہی کو سمجھتے ہیں۔ بلال، عمار، عبد اللہ بن مسعود، سمیہ اور زنیرہ رضی اللہ عنھم جیسے مسکین اور ضعیف مسلمانوں کو وہ اللہ تعالیٰ کے کسی انعام کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے اسلام کے ہر خیر سے خالی ہونے کی دلیل یہ تصنیف کی کہ اگر اسلام میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کی طرف نہ آتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی: [اَلْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱]تکبر حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ مشرکین مسلمانوں کو کس قدر حقیر جانتے تھے، اس کا اندازہ اس آیت سے بھی ہوتا ہے: «‏‏‏‏وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا» [الأنعام: ۵۳] اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟ نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں کا اندازِ تحقیر ملاحظہ فرمائیں، انھوں نے نوح علیہ السلام سے کہا: «‏‏‏‏مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاْيِ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ» [ھود: ۲۷] ہم تجھے نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا ایک بشر اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں، سطحی رائے کے ساتھ اور ہم تمھارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تمھیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔
➋ { وَ اِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ…:} کفار کے جن اقوال کا یہاں ذکر ہوا ان سب کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کو جھٹلانا تھا، مثلاً یہ کہنا کہ یہ سحر ہے، افترا ہے، اس میں کوئی خیر نہیں وغیرہ۔ فرمایا جب وہ اس قرآن کے ذریعے سے سیدھا راستہ حاصل نہ کر سکے تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے۔ یعنی اگر وہ ضد اور عناد پر اڑے رہے تو کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے اور نہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل تسلیم کریں گے، بلکہ ان کے سامنے پہلے انبیاء اور اہلِ علم کی شہادت پیش کی گئی تو وہ تمام پیغمبروں اور کتابوں کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیں گے کہ یہ قدیم جھوٹ ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ ان کے اس رویے کا باعث صرف ان کا کفر اور تکبر ہے، جب تک وہ اس پر قائم رہیں گے یہی بات کہتے رہیں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ افْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا (4) وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا» [الفرقان: ۴، ۵] اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔ اور انھوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو اس نے لکھوا لی ہیں، تو وہ پہلے اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب ؓ جیسے مسلمانوں کو، جو غریب و قلاش کے لوگ تھے لیکن اسلام قبول کرنے میں انہیں سب سے پہلے شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہتری ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت و ذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کرلیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ اس لیے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا اور جب ہم نے اسے نہ اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے جیسے وہ اسے اساطیر الاولین بھی کہتے تھے حالانکہ دنیاوی مال ودولت میں ممتاز ہونا عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں (جیسے ان کو مغالظہ ہوا یا شیطان نے مغالطے میں ڈالا) عند اللہ مقبولیت کے لیے تو ایمان و اخلاص کی ضرورت ہے اور اس دولت ایمان و اخلاص سے وہ جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ جیسے وہ مال ودولت آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اور کافر ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں: اگر یہ (دین) کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ (ایمان والے) اسے قبول کرنے میں ہم سے سبقت [15] نہ لے جاتے۔ اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) سے ہدایت نہیں پائی لہذا اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ [16] ہے۔
[15] یہود کی اپنے متعلق غلط فہمی :۔
بایں ہمہ وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ کسی چیز کے حق ہونے کا معیار ہماری ذات والا صفات ہے۔ حق وہی ہو سکتا ہے جسے ہم حق قرار دے دیں۔ پھر جب ہم ہی اسے حق نہیں سمجھتے تو چند کمزور درجہ کے لوگوں کے اس کو حق سمجھنے سے وہ چیز حق کیسے بن سکتی ہے۔ اگر یہ دین کوئی اچھی چیز ہوتی تو ہم جیسے عقلمند اور معزز لوگ ان لونڈی غلاموں سے پیچھے کیسے رہ جاتے؟
[16] جھوٹ تو وہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ذات کو ہی حق کا معیار سمجھتے تھے اور قرآن ان کے معیار کے خلاف تھا۔ اور پرانا اس لیے کہتے تھے کہ سابقہ انبیائے کرام کی تعلیم بھی بعینہٖ وہی کچھ تھی جو اس نبی آخر الزمان کی تھی۔ وہ اسے نیا جھوٹ کہہ ہی نہیں سکتے تھے اور نہ انہیں یہ کہنا گوارا تھا کہ یہ پرانا سچ ہے۔ کیونکہ ابتدا سے انبیائے کرام یہی سچی تعلیم دیتے رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تابع قرآن اور جنتیوں کے حالات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان مشرکین کافرین سے کہو کہ اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو، تو بتلاؤ تو تمہارا کیا حال ہو گا؟ وہ اللہ جس نے مجھے حق کے ساتھ تمہاری طرف یہ پاک کتاب دے کر بھیجا ہے، وہ تمہیں کیسی کچھ سزائیں کرے گا؟، تم اس کا انکار کرتے ہو، اسے جھوٹا بتلاتے ہو حالانکہ اس کی سچائی اور صحت کی شہادت وہ کتابیں بھی دے رہی ہیں جو اس سے پہلے وقتاً فوقتاً اگلے انبیأء علیہ السلام پر نازل ہوتی رہیں اور بنی اسرائیل کے جس شخص نے اس کی سچائی کی گواہی دی، اس نے حقیقت کو پہچان کر اسے مانا اور اس پر ایمان لایا۔ لیکن تم نے اس کی اتباع سے جی چرایا اور تکبر کیا۔
یہ بھی مطلب بیان ہو گیا ہے کہ اس شاہد نے اپنے نبی پر اور اس کی کتاب پر یقین کر لیا لیکن تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالیٰ ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔
«شَاھِدٌ» کا لفظ ہم جنس ہے اور یہ اپنے معانی کے لحاظ سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام سے پہلے کی ہے۔
اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ» [28-القصص:53]‏‏‏‏ یعنی ’ جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں ‘۔
اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:108،107]‏‏‏‏ یعنی ’ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم عطا فرمایا گیا ہے ان پر جب تلاوت کی جاتی ہے تو وہ بلا پس و پیش سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، اس کے وعدے یقناً سچے اور ہو کر رہنے والے ہیں ‘۔
مسروق اور شعبی رحمہا اللہ فرماتے ہیں یہاں اس آیت سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نہیں، اس لئے کہ آیت مکہ میں اترتی ہے اور آپ مدینے کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کسی شخص کے بارے میں جو زندہ ہو اور زمین پر چل پھر رہا ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس کا جنتی ہونا نہیں سنا، بجز سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے، انہی کے بارے میں «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [سورةالأحقاف46:10]‏‏‏‏ نازل ہوئی ہے [صحیحین وغیرہ]‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، یوسف بن عبداللہ بن سلام، ہلال بن بشار، سدی، ثوری، مالک بن انس بن زبیر رحمہم اللہ علیہم کا قول ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ کفار کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن بہتری کی چیز ہوتی، تو ہم جیسے شریف انسان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں، ان پر بھلا یہ نیچے کے درجے کے لوگ جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب رضی اللہ عنہم اور انہی جیسے اور گرے پڑے لونڈی غلام کیسے سبقت کر جاتے۔ پھر تو اللہ سب سے پہلے ہمیں ہی نوازتا۔ حالانکہ یہ قول بالبداہت باطل ہے۔
اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [سورةالأنعام6:53]‏‏‏‏ یعنی انہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہدایت پا گئے؟ اگر یہ چیز بھلی ہوتی تو ہم اس کی طرف لپک کر جاتے۔ پس یہ خیال ان کا خام تھا لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیک سمجھ والے، سلامت روی والے، ہمیشہ بھلائی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔
اسی لیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اس لیے کہ اگر اس میں بہتری ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی۔ چونکہ اپنی بدنصیبی کے باعث یہ گروہ قرآن پر ایمان نہیں لایا اس لیے یہ اپنی خجالت دفع کرنے کو قرآن کی اہانت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو پرانے لوگوں کی پرانی غلط باتیں ہیں، یہ کہہ کر وہ قرآن اور قرآن والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر ہے جس کی بابت حدیث میں ہے کہ { تکبر نام ہے حق کو ہٹا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا }۔ [صحیح مسلم:91]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

حق کا انکار کرنے والے، اس سے عناد رکھنے والے اور اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے کفار کہتے ہیں۔ ﴿ لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ اگر یہ بہتر ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ یعنی مومنین ہم پر سبقت نہ لے جا سکتے، ہم اس بھلائی کی طرف سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اور اس کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے ہوتے۔ ان کا یہ قول ایک لحاظ سے باطل ہے… کون سی دلیل اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حق کی علامت یہ ہے کہ اہل تکذیب اہل ایمان پر سبقت لے جائیں؟ کیا وہ زیادہ پاک نفس اور عقل و خرد میں زیادہ کامل ہیں؟ کیا ہدایت ان کے ہاتھ میں ہے؟ مگر یہ کلام جو ان سے صادر ہوا، جسے وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اس شخص کے کلام کی مانند ہے جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ اس چیز کی مذمت کرنا شروع کر دے۔اسی لیے فرمایا: ﴿ وَاِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ۠ هٰؔذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہتے ہیں کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر انھوں نے اس قرآن سے راہ نمائی حاصل نہ کی اور یوں وہ عظیم ترین نوازشات اور جلیل ترین عطیات سے محروم ہو گئے۔اسے جھوٹ کہہ کر اس میں جرح و قدح کی، حالانکہ یہ حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
یہ قرآن ان کتب سماویہ کی موافقت بھی کرتا ہے جو اس سے قبل نازل ہو چکی ہیں، خاص طور پر تورات کی جو قرآن کریم کے بعد افضل ترین کتاب ہے۔ ﴿ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّرَحْمَةً موسیٰ علیہ السلام کی کتاب جو راہنما اور رحمت ہے۔ یعنی بنی اسرائیل اس کتاب کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔
﴿ وَهٰؔذَا یعنی یہ قرآن ﴿ كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کی صداقت کی گواہی دیتا ہے اور ان کی موافقت کر کے ان کی تصدیق کرتا ہے ﴿ لِّسَانًا عَرَبِیًّا اللہ تعالی نے اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ اس کو اخذ کرنا سہل اور اس سے نصیحت حاصل کرنا آسان ہو ﴿ لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا تاکہ یہ ان لوگوں کو برے انجام سے خبردار کرے جنھوں نے کفر، فسق اور نافرمانی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اگر وہ اپنے ظلم پر جمے رہیں تو ان کو دردناک عذاب سے ڈرائے۔ اور اپنے خالق کی عبادت میں احسان کرنے اور مخلوق کو نفع پہنچانے والوں کے لیے، دنیا و آخرت میں ثواب جزیل کی خوشخبری دے۔اور ان اعمال کا ذکر کرے جن سے ڈرایا گیاہے اور ان اعمال کا ذکر کرے جن پر خوشخبری دی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قال الكفار بالحقِّ معاندين له ورادِّين لدعوته: {لو كان خيراً ما سبقونا إليه}؛ أي: ما سَبَقَنا إليه المؤمنون، أي: لكنّا أول مبادرٍ به وسابق إليه! وهذا من البهرجة في مكان؛ فأيُّ دليل يدلُّ على أنَّ علامة الحقِّ سبق المكذبين به للمؤمنين؟! هل هم أزكى نفوساً؟! أم أكمل عقولاً؟! أم الهدى بأيديهم؟! ولكن هذا الكلام الذي صدر منهم يعزُّون به أنفسهم، بمنزلة من لم يقدرْ على الشيء ثم طَفِقَ يذمُّه، ولهذا قال: {وإذْ لم يَهْتَدوا به فسيقولونَ هذا إفكٌ قَديمٌ}؛ أي: هذا السبب الذي دعاهم إليه أنهم لما لم يهتدوا بهذا القرآن، وفاتهم أعظمُ المواهب وأجلُّ الرغائب؛ قدحوا فيه بأنَّه كذبٌ، وهو الحقُّ الذي لا شكَّ فيه ولا امتراء يعتريه، {الذي} قد وافق الكتب السماويَّة، خصوصاً أكملها وأفضلها بعد القرآن، وهي التوراة التي أنزلها الله على {موسى إماماً ورحمة}؛ أي: يقتدي بها بنو إسرائيل ويهتدون بها، ويحصُلُ لهم خير الدنيا والآخرة.

{وهذا}: القرآن {كتابٌ مصدقٌ}: للكتب السابقة، شهد بصدِقها وصدَّقها بموافقته لها، وجَعَلَه الله {لساناً عربيًّا}: ليسهل تناوله ويتيسر تذكُّره؛ {لينذر الذين ظلموا}: أنفسهم بالكفر والفسوق والعصيان إن استمرُّوا على ظلمهم بالعذاب الوبيل، ويبشر المحسنين في عبادة الخالق وفي نفع المخلوقين بالثواب الجزيل في الدُّنيا والآخرة، ويذكِّر الأعمال التي ينذر عنها والأعمال التي يبشر بها.