ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 10

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی مِثۡلِہٖ فَاٰمَنَ وَ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی، پھر وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا( تو تمھارا انجا م کیا ہوگا) بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے) ۔ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
En
آپ کہہ دیجئے! اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اسے نہ مانا ہو اور بنی اسرائیل کا ایک گواه اس جیسی کی گواہی بھی دے چکا ہو اور وه ایمان بھی ﻻچکا ہو اور تم نے سرکشی کی ہو، تو بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو راه نہیں دکھاتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ …: اَرَءَيْتُمْ } کا لفظی معنی ہے کیا تم نے دیکھا۔ اہلِ عرب اسے { أَخْبِرُوْنِيْ} (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ یعنی کیا تم نے دیکھا؟ اگر دیکھا ہے تو مجھے بتاؤ۔ { وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ } میں اس جیسے کی شہادت سے مراد یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس کی شہادت دی ہو۔ کیونکہ بعض اوقات کسی چیز کی مثل سے مراد خود وہ چیز ہوتی ہے، جیسے کہتے ہیں: {مِثْلُكَ لَا يَفْعَلُ هٰذَا} تیرے جیسا یہ کام نہیں کرتا یعنی تو یہ کام نہیں کرتا۔ اس لیے آگے { فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ } کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس جیسے پر ایمان لایا، بلکہ اس کا مطلب ہے پھر وہ اس پر ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا۔ لفظ {مِثْلٌ} کو خود کسی کی ذات کے لیے استعمال کرنے کی ایک مثال ایک تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا» [الأنعام: ۱۲۲] { أَيْ كَمَنْ هُوَ ({نَفْسُهُ}) فِي الظُّلُمَاتِ } یہاں اس شخص کی طرح ہے جس کی مثل اندھیروں میں ہے سے مراد ہے اس شخص کی طرح ہے جو (خود) اندھیروں میں ہے۔ اسی طرح: «‏‏‏‏فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۳۷] (پس اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے) سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ اس چیز پر ایمان لے آئیں جس پر تم ایمان لائے ہو…۔ (اضواء البیان) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۱۱): «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔
اس آیت میں { اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ } سے لے کر { وَ اسْتَكْبَرْتُمْ } تک شرط ہے، جس کی جزا محذوف ہے اور وہ بعد والے جملے { اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ } سے ظاہر ہو رہی ہے: {أَيْ فَمَنْ أَظْلَمُ مِنْكُمْ} تو تم سے بڑھ کر ظالم کون ہے۔ اس کی تائید سورۂ حم السجدۃ (۵۲) سے بھی ہوتی ہے۔
قرآن کو جھٹلانے کے لیے کفار کے مختلف اعتراضات اور ان کے جوابات ذکر کرنے کے بعد اب انھیں اس پر ایمان نہ لانے کے انجامِ بد سے ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ بتاؤ کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کرو، حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والا بھی اس کے حق ہونے کی شہادت دے چکا ہو، پھر وہ خود بھی اس پر ایمان لے آیا ہو مگر (تم یہ جان لینے کے باوجود کہ یہ حق ہے) محض تکبر اور جھوٹی بڑائی قائم رکھنے کے لیے اسے ماننے سے انکار کر دو (تو یقینا تم ظالم ہو گے اور اللہ تعالیٰ تمھیں ہدایت کی توفیق نہیں دے گا) کیونکہ جو لوگ تکبر کرتے ہوئے حق سے انکار کر دیں ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ بھی سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق نہیں دیتا۔
➋ اس آیت میں { شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ } سے کون مراد ہے؟ مفسرین کے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ سب سے مشہور قول یہ ہے کہ اس سے مراد عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس کی دلیل سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں: [مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ لِأَحَدٍ يَمْشِيْ عَلَی الْأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ وَ فِيْهِ نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ: «‏‏‏‏وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ» ] [بخاري، مناقب الأنصار، مناقب عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللہ عنہ: ۳۸۱۲] میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا کسی ایسے شخص کے بارے میں جو زمین پر چل پھر رہا ہو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتیوں میں سے ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انھی کے بارے میں یہ آیت اتری: «‏‏‏‏وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ» [الأحقاف: ۱۱] اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی۔ مگر اس میں یہ اشکال ہے کہ یہ سورت مکی ہے جب کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ مدینہ میں مسلمان ہوئے۔ جو حضرات اس شاہد سے مراد عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ لیتے ہیں وہ اس کا حل یہ بتاتے ہیں کہ بے شک سورت مکی ہے مگر یہ آیت مدنی ہو سکتی ہے، یا ہو سکتا ہے کہ مکہ میں پہلے ہی بنی اسرائیل میں سے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا پیش گوئی کے طور پر ذکر کر دیا گیا ہو۔ مگر زیادہ قرین قیاس بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے بنی اسرائیل میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق ہونے کی شہادت دی اور آپ پر ایمان لائے۔ کیونکہ اصولِ تفسیر میں یہ بات طے ہے کہ بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم یہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت فلاں مسئلے یا فلاں شخص کے بارے میں اتری، حالانکہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ آیت اس شخص یا اس مسئلے پر منطبق ہوتی اور صادق آتی ہے۔
دوسرا اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام یا بقول بعض عیسیٰ علیہ السلام ہیں، کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق ہونے کی شہادت تورات اور انجیل میں دی۔ خصوصاً عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی اور آپ پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے آپ کی تصدیق کی، فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ» ‏‏‏‏ [الصف: ۶] اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں،جو میرے بعد آئے گا،اس کا نام احمد ہے۔ تورات و انجیل میں تحریف کے باوجود اب بھی ان میں ایسی آیات موجود ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی گئی ہے اور آپ کی تصدیق کی گئی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ صف (۶) اور سورۂ اعراف (۱۵۷) کی تفسیر۔
چوتھا قول جو زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ کا تجارت کے سلسلے میں مدینہ، خیبر اور شام میں آنا جانا عام تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے سورۂ قریش میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ ان سفروں میں ان کی ملاقات اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ سے بھی ہوتی تھی اور وہ ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتے تھے اور ان میں سے منصف لوگ حق بات کی شہادت سے گریز نہیں کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مکی سورتوں میں بھی اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اہلِ کتاب کے اہلِ علم بھی اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کتاب کی تصدیق کرتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں، اس لیے { وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ } میں لفظ { شَاهِدٌ } جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا اسم جنس ہے اور اس سے مراد ان تمام لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں موجود ہونے کے وقت آپ کے سچا نبی ہونے کی شہادت دی، جیسا کہ نجاشی رضی اللہ عنہ کا آپ پر ایمان لانا اور آپ کے حق ہونے کی شہادت دینا سب کو معلوم ہے، اگرچہ مدینہ میں ایمان لانے والے اسرائیلی صحابہ بھی اس سے باہر نہیں ہیں۔ اب مکی سورتوں کی وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں اہلِ کتاب کی شہادت کو بطور تائید ذکر کیا گیا ہے: «‏‏‏‏قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ» [الرعد: ۴۳] کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔ اور فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا (107) وَّ يَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» ‏‏‏‏ [بني إسرائیل: ۱۰۷، ۱۰۸] بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہمارے رب کا وعدہ یقینا ہمیشہ پورا کیا ہوا ہے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ [القصص: ۵۳] اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہی ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، بے شک ہم اس سے پہلے فرماں بردار تھے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏اَوَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ» [الشعراء: ۱۹۷] اور کیا ان کے لیے یہ ایک نشانی نہ تھی کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 اس شاہد بنی اسرائیل سے کون مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ بطور جنس کے ہے۔ بنی اسرائیل میں سے ہر ایمان لانے والا اس کا مصداق ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مکہ میں رہنے والا کوئی بنی اسرائیلی مراد ہے کیونکہ یہ سورت مکی ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد عبد اللہ بن سلام ہیں اور وہ اس آیت کو مدنی قرار دیتے ہیں (صحیح بخاری) امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے (اس جیسی کتاب کی گواہی) کا مطلب تورات کی گواہی جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہے۔ کیونکہ قرآن بھی توحید و معاد کے اثبات میں تورات ہی کی مثل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کی گواہی اور ان کے ایمان لانے کے بعد اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد تمہارے انکار استکبار کا بھی کوئی جواز نہیں ہے تمہیں اپنے اس رویے کا انجام سوچ لینا چاہئے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ آپ ان سے کہئے: ”بھلا دیکھو، اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کر دیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے ایسی ہی گواہی بھی دے دی [14] چنانچہ وہ تو ایمان لے آیا اور تم اکڑ بیٹھے؟ (تو تمہارا کیا انجام ہو گا؟) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تابع قرآن اور جنتیوں کے حالات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان مشرکین کافرین سے کہو کہ اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر بھی تم اس کا انکار کر رہے ہو، تو بتلاؤ تو تمہارا کیا حال ہو گا؟ وہ اللہ جس نے مجھے حق کے ساتھ تمہاری طرف یہ پاک کتاب دے کر بھیجا ہے، وہ تمہیں کیسی کچھ سزائیں کرے گا؟، تم اس کا انکار کرتے ہو، اسے جھوٹا بتلاتے ہو حالانکہ اس کی سچائی اور صحت کی شہادت وہ کتابیں بھی دے رہی ہیں جو اس سے پہلے وقتاً فوقتاً اگلے انبیأء علیہ السلام پر نازل ہوتی رہیں اور بنی اسرائیل کے جس شخص نے اس کی سچائی کی گواہی دی، اس نے حقیقت کو پہچان کر اسے مانا اور اس پر ایمان لایا۔ لیکن تم نے اس کی اتباع سے جی چرایا اور تکبر کیا۔
یہ بھی مطلب بیان ہو گیا ہے کہ اس شاہد نے اپنے نبی پر اور اس کی کتاب پر یقین کر لیا لیکن تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ کفر کیا۔ اللہ تعالیٰ ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔
«شَاھِدٌ» کا لفظ ہم جنس ہے اور یہ اپنے معانی کے لحاظ سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام سے پہلے کی ہے۔
اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ» [28-القصص:53]‏‏‏‏ یعنی ’ جب ان پر تلاوت کی جاتی ہے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں ‘۔
اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:108،107]‏‏‏‏ یعنی ’ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم عطا فرمایا گیا ہے ان پر جب تلاوت کی جاتی ہے تو وہ بلا پس و پیش سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، اس کے وعدے یقناً سچے اور ہو کر رہنے والے ہیں ‘۔
مسروق اور شعبی رحمہا اللہ فرماتے ہیں یہاں اس آیت سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نہیں، اس لئے کہ آیت مکہ میں اترتی ہے اور آپ مدینے کی ہجرت کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کسی شخص کے بارے میں جو زندہ ہو اور زمین پر چل پھر رہا ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس کا جنتی ہونا نہیں سنا، بجز سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے، انہی کے بارے میں «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [سورةالأحقاف46:10]‏‏‏‏ نازل ہوئی ہے [صحیحین وغیرہ]‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، یوسف بن عبداللہ بن سلام، ہلال بن بشار، سدی، ثوری، مالک بن انس بن زبیر رحمہم اللہ علیہم کا قول ہے کہ اس سے مراد سیدنا ابن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ کفار کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن بہتری کی چیز ہوتی، تو ہم جیسے شریف انسان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں، ان پر بھلا یہ نیچے کے درجے کے لوگ جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب رضی اللہ عنہم اور انہی جیسے اور گرے پڑے لونڈی غلام کیسے سبقت کر جاتے۔ پھر تو اللہ سب سے پہلے ہمیں ہی نوازتا۔ حالانکہ یہ قول بالبداہت باطل ہے۔
اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [سورةالأنعام6:53]‏‏‏‏ یعنی انہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہدایت پا گئے؟ اگر یہ چیز بھلی ہوتی تو ہم اس کی طرف لپک کر جاتے۔ پس یہ خیال ان کا خام تھا لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نیک سمجھ والے، سلامت روی والے، ہمیشہ بھلائی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔
اسی لیے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اس لیے کہ اگر اس میں بہتری ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی۔ چونکہ اپنی بدنصیبی کے باعث یہ گروہ قرآن پر ایمان نہیں لایا اس لیے یہ اپنی خجالت دفع کرنے کو قرآن کی اہانت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو پرانے لوگوں کی پرانی غلط باتیں ہیں، یہ کہہ کر وہ قرآن اور قرآن والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر ہے جس کی بابت حدیث میں ہے کہ { تکبر نام ہے حق کو ہٹا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا }۔ [صحیح مسلم:91]‏‏‏‏