(آیت 47) {خُذُوْهُفَاعْتِلُوْهُاِلٰىسَوَآءِالْجَحِيْمِ: ”عَتَلَيَعْتِلُ“} (ض، ن) سختی سے گھسیٹ کر لے جانا۔ {”سَوَآءِ“} کا معنی درمیان ہے، کیونکہ درمیان کی چیز ہر طرف سے برابر ہوتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
47۔ 1 یہ جہنم پر مقرر فرشتوں سے کہا جائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
47۔ (پھر حکم ہو گا کہ) اسے پکڑ لو پھر اسے گھسیٹتے گھسیٹتے جہنم کے درمیان تک لے جاؤ
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔