(آیت 20) {وَاِنِّيْعُذْتُبِرَبِّيْوَرَبِّكُمْاَنْتَرْجُمُوْنِ:} یہ اس وقت کی بات ہے جب موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اندر ہی اندر دور تک پھیل گئی، حتیٰ کہ فرعون کی قوم کے کئی آدمی بھی پوشیدہ طور پر ان پر ایمان لے آئے، اس وقت فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ فرعونیوں کا ارادہ انھیں سنگسار کرکے بدترین طریقے سے قتل کرنے کا ہے، تو اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو، کیونکہ وہ میرا ہی نہیں تمھارا بھی مالک ہے، تم اس سے زبردست ہو کر مجھے رجم نہیں کر سکتے۔ سورۂ مومن (۲۶، ۲۷) میں فرعون کے قتل کے اعلان اور موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور اللہ کی پناہ میں جانے کا مفصل ذکر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 اس دعوت و تبلیغ کے جواب میں فرعون نے موسیٰ ؑ کو قتل کی دھمکی دی، جس پر انہوں نے اپنے رب سے پناہ طلب کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ اور میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے لی کہ تم مجھے [15] سنگسار کر سکو
[15] فرعون کا سیدنا موسیٰؑ کو قتل کرنے کا ارادہ :۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب اندر ہی اندر سیدنا موسیٰؑ کی دعوت پھیل رہی تھی۔ بنی اسرائیل کے علاوہ قوم فرعون کے بھی بہت سے آدمی درپردہ سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لا چکے تھے اور فرعون کو اپنی سلطنت کے چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور اس نے اپنے درباریوں سے اور قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ ”مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں ورنہ وہ تمہارا دین بھی تباہ کر دے گا اور ملک میں سخت بد امنی پھیلا دے گا“ اس کے جواب میں موسیٰؑ نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی پناہ میں آچکا ہوں۔ لہٰذا تم میرا بال بھی بیکا نہ کر سکو گے۔ مجھے رجم کرنا تو دور کی بات ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔