ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 39

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔ En
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
En
اور جب ان پر ﻇلم (و زیادتی) ہو تو وه صرف بدلہ لے لیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39) {وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ …:} یہ چوتھا وصف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے ان کا وصف غصے کے وقت معاف کر دینا ذکر فرمایا ہے اور یہاں انتقام کو ان کی خوبی قرار دیا ہے، تطبیق کیا ہے؟ اس کا بہترین جواب مشہور تابعی ابراہیم نخعی نے دیا ہے، انھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا طرزِ عمل بیان کرتے ہوئے فرمایا: { كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ يَكْرَهُوْنَ أَنْ يَّسْتَذِلُّوْا وَ كَانُوْا إِذَا قَدَرُوْا عَفَوْا۔} [ابن کثیر بحوالہ ابن أبي حاتم: ۱۸۴۸۶، وقال حکمت بن بشیر سندہ صحیح] مومن یہ بات ناپسند کرتے تھے کہ ذلت قبول کریں، مگر جب قدرت پاتے تو معاف کر دیتے تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر معاف کرنا مجرم کے جرم سے باز آنے کا باعث ہو تو عفو افضل ہے، لیکن اگر معاف کرنے سے اس کی سرکشی میں اور جرم پر جرأت میں اضافہ ہو تو انتقام لینا چاہیے۔ دلیل اس کی لفظ { الْبَغْيُ } (سرکشی) ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے:
{إِذَا أَنْتَ أَكْرَمْتَ الْكَرِيْمَ مَلَكْتَهُ
وَ إِنْ أَنْتَ أَكْرَمْتَ اللَّئِيْمَ تَمَرَّدَا}
جب تم کسی معزز آدمی کی عزت کرو گے تو اس کے مالک بن جاؤ گے اور اگر تم کمینے کی عزت کرو گے تو وہ سرکش ہو جائے گا۔
ابن کثیر نے فرمایا، یعنی ان میں اس شخص سے انتقام لینے کی قوت ہوتی ہے جو ان پر ظلم اور زیادتی کرے، نہ وہ عاجز ہوتے ہیں نہ ذلیل، بلکہ جو سرکشی کرے اس سے انتقام کی قدرت رکھتے ہیں، اس کے باوجود جب قابو پا لیتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا: «‏‏‏‏لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ» ‏‏‏‏ [یوسف: ۹۲] آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمھیں بخشے۔ حالانکہ وہ ان کے مؤاخذے پر اور اس سلوک کا بدلا لینے پر پوری قدرت رکھتے تھے جو انھوں نے ان کے ساتھ کیا تھا اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا جنھوں نے آپ سے دشمنی کی انتہا کر دی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہو سکتی تھیں: [لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ] [السنن الکبرٰی للنسائي: ۱۱۲۹۸] اور جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسی (۸۰) آدمیوں کو معاف کر دیا جو کوہِ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لیے اترے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غورث بن حارث کو معاف کر دیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکال لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کر دیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۱۳۶) اسی طرح لبید بن اعصم کو معاف کر دیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری: ۵۷۶۵) اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تمھیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قصاص میں اسے قتل کر دیا۔ (دیکھیے بخاری: ۳۱۶۹۔ ابو داود: ۴۵۰۹، ۴۵۱۱) ایسی احادیث اور بھی بہت ہیں۔ (و للہ الحمد) یہ تمام واقعات بخاری و مسلم دونوں میں یا ان میں سے ایک میں موجود ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور جب ان پر زیادتی [57] ہوتی ہے تو وہ بدلہ لے لیتے ہیں
[57] ظلم کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اور ظالم سے بدلہ لینا :۔
یعنی متکبر اور جابر قسم کے لوگ ان پر زیادتی کرتے ہیں تو وہ ان کے آگے دبتے نہیں بلکہ ان کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ کمزوری نہیں دکھاتے جیسا کہ مکہ میں مسلمانوں نے کافروں کے مصائب برداشت کئے مگر ان کے آگے جھکے نہیں۔ اور اگر ان میں بدلہ لینے کی ہمت ہو تو بدلہ لے کے چھوڑتے ہیں۔ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب غالب ہوں تو اگر چاہیں تو مغلوب کو معاف بھی کر دیں اور چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لے لیں جتنی ان پر زیادتی ہوئی ہو اور معاف کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں کسی ظالم یا متکبر کے سامنے جھکتے یا دبتے نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [3- آل عمران: 159]‏‏‏‏ یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔