تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ:} ان چار اوصاف میں سے سب سے پہلے نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ یہی نماز قائم کرنا ہے جو سب کے سامنے مسلم و کافر کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵، ۱۱)۔
➌ { وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ:” شَارَ يَشُوْرُ شَوْرًا “} (ن) {” وَاشْتَارَ الْعَسَلَ“} چھتے سے شہد نکالنا۔ مشورے کو مشورہ اور شوریٰ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ بہت سے لوگوں کی رائے حاصل کرنے کا نام ہے۔ یہ دوسرا وصف ہے۔ وہ کام جن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکام موجود ہیں ان میں مشورے کی ضرورت ہے نہ اجازت کی، ان میں استجابت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کی بہتر سے بہتر رائے سے آگاہ ہو کر بہترین بات تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اپنے آپ کو عقلِ کل نہیں سمجھتا کہ اپنی رائے کو حرف آخر قرار دے کر اس پر اصرار کرے اور فرعون کی طرح کہے: «مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ» [المؤمن: ۲۹] ”میں تو تمھیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔ “ کیونکہ یہ رویہ کوئی متکبر شخص ہی اختیار کرتا ہے، جو دوسروں کو اور ان کی رائے کو کوئی وزن نہ دے، مومن کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا» [القصص: ۸۳] ”یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا۔“ مومن ہمیشہ خائف رہتا ہے کہ اس سے فہم کی غلطی ہو جائے یا لاعلمی کی وجہ سے یا شیطان یا نفس کے دخل سے غلط فیصلہ کر بیٹھے، اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مشورہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے صحابہ سے مشورے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ان امور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ کیا جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح حکم نہیں تھا۔
➍ آج کل بہت سے لوگ ”شوريٰ “ سے مراد جمہوریت اور ووٹ لیتے ہیں، حالانکہ مشورہ تو خلیفہ بھی کرتا ہے، بادشاہ بھی، جیسے ملکہ سبا نے کیا اور چھوٹے سے چھوٹے کنبے کا سربراہ بھی، کیونکہ اس کے بغیر کوئی کام درست طریقے سے چل ہی نہیں سکتا۔ اگر نہ کرنا چاہے تو جمہوری وزیر اعظم بھی مشورے کے بجائے اپنی پارٹی کے ارکان کو اپنی استبدادی رائے پر مجبور کر سکتا ہے، جیسا کہ ہم اپنے ملک میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مشورے اور جمہوریت کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آلِ عمران کی آیت (۱۵۹): «وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ» کی تفسیر۔ سورۂ نمل کی آیت (۳۲) کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
➎ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} یہ تیسرا وصف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) مشورہ انفرادی امور میں کیا جا سکتا ہے جیسا کہ آپ نے واقعہ افک کے دوران کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور اجتماعی امور میں بھی جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔
(2) مشورہ صرف اسی سے لینا چاہئے جو مشورہ دینے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ ہر کس و ناکس سے نہ مشورہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کوئی لیتا ہے۔ اجتماعی امور میں مومنوں کا امیر مجلس شوریٰ منتخب کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔
(3) مشورہ صرف ایسے امور میں کیا جا سکتا ہے۔ جہاں کتاب و سنت میں کوئی صریح حکم موجود نہ ہو۔ اور اس کا تعلق بالعموم تدبیری امور سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسارٰی بدر کے معاملہ میں صحابہ سے مشورہ کیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا جنگ احد کے متعلق یہ مشورہ کیا تھا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یعنی صرف مدافعت کی جائے یا کھلے میدان میں لڑی جائے۔
(4) مشورہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلہ کے سب پہلو سامنے آجائیں۔ اور جو پہلو اقرب الی الحق ہو اسے اختیار کیا جائے۔ مختصر لفظوں میں اس کا مقصد دلیل کی تلاش ہوتا ہے۔
(5) اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہر صاحب مشورہ کو اپنی رائے کے اظہار کی پوری آزادی دی جائے۔
(6) یہ تشخیص کرنا کہ اقرب الی الحق کون سا پہلو ہے؟ میر مجلس کا کام ہے۔ اس کا انحصار آراء کی کثرت اور قلت پر نہیں۔ بلکہ اگر ایک دو شخصوں کی رائے بھی اقرب الی الحق ہو تو اسے ہی اختیار کیا جائے گا۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اساریٰ بدر کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ اگر سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ دونوں ایک رائے پر متفق ہو جاتے تو میں اسی کے مطابق عمل کرتا۔ یا جنگ احد کے متعلق آپ کو یہ مشورہ دینے والے کہ جنگ کھلے میدان میں لڑی جائے چند جوشیلے نوجوان مسلمان تھے لیکن آپ نے ان کی قلت کے باوجود انہی کی رائے کو اختیار کیا۔
(7) آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ﴾ [159:3] جب کسی فریق کے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو یا دونوں طرف دلائل یکساں ہوں تو اس وقت کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں کثرت ہی بذات خود ایک دلیل بن جاتی ہے۔ اس طرح قطع نزاع تو ہو جاتا ہے مگر اس صورت میں وضوح حق ضروری نہیں۔ اور اس کی مثال بالکل قرعہ اندازی کی سی ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين استجابوا لربِّهم}؛ أي: انقادوا لطاعته، ولبَّوْا دعوته، وصار قصدُهُم رضوانَه وغايتُهُم الفوزَ بقربِهِ، ومن الاستجابة لله إقامُ الصَّلاة وإيتاءُ الزَّكاة؛ فلذلك عطفَهما على ذلك من باب عطف العامِّ على الخاصِّ الدالِّ على شرفه وفضله، فقال: {وأقاموا الصلاةَ}؛ أي: ظاهرها وباطنها فرضها ونفلها، {ومما رَزَقْناهم يُنفِقونَ}: من النفقات الواجبة؛ كالزكاة والنفقة على الأقارب ونحوهم، والمستحبَّة؛ كالصدقات على عموم الخلق. {وأمرُهُم}: الدينيُّ والدنيويُّ، {شورى بينهم}؛ أي: لا يستبدُّ أحدٌ منهم برأيه في أمر من الأمور المشتركة بينهم، وهذا لا يكون إلاَّ فرعاً عن اجتماعهم وتوالُفِهم وتوادُدِهم وتحابُبِهم؛ وكمال عقولهم أنَّهم إذا أرادوا أمراً من الأمور التي تحتاجُ إلى إعمال الفكرِ والرأي فيها؛ اجتمعوا لها وتشاوروا وبحثوا فيها، حتى إذا تبيَّنت لهم المصلحةُ؛ انتهزوها وبادروها، وذلك كالرأي في الغزو والجهاد وتولية الموظَّفين لإمارةٍ أو قضاءٍ أو غيره، وكالبحث في المسائل الدينيَّة عموماً؛ فإنَّها من الأمور المشتركة، والبحثُ فيها لبيان الصَّواب مما يحبُّه الله، وهو داخلٌ في هذه الآية.