ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 38

وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم کی اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ En
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
En
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ:} واجب الاجتناب چیزوں کے بعد ان اوصاف کا ذکر فرمایا جن سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔ وہ چار ہیں، جن پر عمل اتحادِ امت کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ اجابت اور استجابت دونوں کا معنی قبول کرنا ہے، مگر استجابت میں حروف زائد ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا رب انھیں جس کام کے لیے بلاتا ہے وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، نہ دیر کرتے ہیں نہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور ان کے رب کا ان سے تقاضا بھی یہی ہے۔ دیکھیے سورۂ انفال (۲۴)۔
➋ { وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ:} ان چار اوصاف میں سے سب سے پہلے نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ یہی نماز قائم کرنا ہے جو سب کے سامنے مسلم و کافر کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵، ۱۱)۔
➌ { وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ: شَارَ يَشُوْرُ شَوْرًا } (ن) { وَاشْتَارَ الْعَسَلَ} چھتے سے شہد نکالنا۔ مشورے کو مشورہ اور شوریٰ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ بہت سے لوگوں کی رائے حاصل کرنے کا نام ہے۔ یہ دوسرا وصف ہے۔ وہ کام جن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکام موجود ہیں ان میں مشورے کی ضرورت ہے نہ اجازت کی، ان میں استجابت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کی بہتر سے بہتر رائے سے آگاہ ہو کر بہترین بات تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اپنے آپ کو عقلِ کل نہیں سمجھتا کہ اپنی رائے کو حرف آخر قرار دے کر اس پر اصرار کرے اور فرعون کی طرح کہے: «‏‏‏‏مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ» [المؤمن: ۲۹] میں تو تمھیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔ کیونکہ یہ رویہ کوئی متکبر شخص ہی اختیار کرتا ہے، جو دوسروں کو اور ان کی رائے کو کوئی وزن نہ دے، مومن کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا» ‏‏‏‏ [القصص: ۸۳] یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا۔ مومن ہمیشہ خائف رہتا ہے کہ اس سے فہم کی غلطی ہو جائے یا لاعلمی کی وجہ سے یا شیطان یا نفس کے دخل سے غلط فیصلہ کر بیٹھے، اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مشورہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے صحابہ سے مشورے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ان امور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ کیا جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح حکم نہیں تھا۔
➍ آج کل بہت سے لوگ شوريٰ سے مراد جمہوریت اور ووٹ لیتے ہیں، حالانکہ مشورہ تو خلیفہ بھی کرتا ہے، بادشاہ بھی، جیسے ملکہ سبا نے کیا اور چھوٹے سے چھوٹے کنبے کا سربراہ بھی، کیونکہ اس کے بغیر کوئی کام درست طریقے سے چل ہی نہیں سکتا۔ اگر نہ کرنا چاہے تو جمہوری وزیر اعظم بھی مشورے کے بجائے اپنی پارٹی کے ارکان کو اپنی استبدادی رائے پر مجبور کر سکتا ہے، جیسا کہ ہم اپنے ملک میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مشورے اور جمہوریت کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آلِ عمران کی آیت (۱۵۹): «وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ سورۂ نمل کی آیت (۳۲) کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
➎ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} یہ تیسرا وصف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38۔ 1 یعنی اس کے حکم کی اطاعت، اس کے رسول کا اتباع اور اسکے حکم کو نہ ماننے سے پرہیز کرتے ہیں 38۔ 2 نماز کی پابندی اور اقامت کا بطور خاص ذکر کیا کہ عبادت میں اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ اور جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے کام باہمی مشورہ [56] سے طے پاتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
[56] مشورہ اور اس کے متعلقات :۔
مشورہ سے متعلق قابل ذکر امور یہ ہیں:
(1) مشورہ انفرادی امور میں کیا جا سکتا ہے جیسا کہ آپ نے واقعہ افک کے دوران کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور اجتماعی امور میں بھی جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔
(2) مشورہ صرف اسی سے لینا چاہئے جو مشورہ دینے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ ہر کس و ناکس سے نہ مشورہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کوئی لیتا ہے۔ اجتماعی امور میں مومنوں کا امیر مجلس شوریٰ منتخب کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔
(3) مشورہ صرف ایسے امور میں کیا جا سکتا ہے۔ جہاں کتاب و سنت میں کوئی صریح حکم موجود نہ ہو۔ اور اس کا تعلق بالعموم تدبیری امور سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسارٰی بدر کے معاملہ میں صحابہ سے مشورہ کیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا جنگ احد کے متعلق یہ مشورہ کیا تھا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یعنی صرف مدافعت کی جائے یا کھلے میدان میں لڑی جائے۔
(4) مشورہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلہ کے سب پہلو سامنے آجائیں۔ اور جو پہلو اقرب الی الحق ہو اسے اختیار کیا جائے۔ مختصر لفظوں میں اس کا مقصد دلیل کی تلاش ہوتا ہے۔
(5) اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہر صاحب مشورہ کو اپنی رائے کے اظہار کی پوری آزادی دی جائے۔
(6) یہ تشخیص کرنا کہ اقرب الی الحق کون سا پہلو ہے؟ میر مجلس کا کام ہے۔ اس کا انحصار آراء کی کثرت اور قلت پر نہیں۔ بلکہ اگر ایک دو شخصوں کی رائے بھی اقرب الی الحق ہو تو اسے ہی اختیار کیا جائے گا۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اساریٰ بدر کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ اگر سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ دونوں ایک رائے پر متفق ہو جاتے تو میں اسی کے مطابق عمل کرتا۔ یا جنگ احد کے متعلق آپ کو یہ مشورہ دینے والے کہ جنگ کھلے میدان میں لڑی جائے چند جوشیلے نوجوان مسلمان تھے لیکن آپ نے ان کی قلت کے باوجود انہی کی رائے کو اختیار کیا۔
(7) آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ [159:3] جب کسی فریق کے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو یا دونوں طرف دلائل یکساں ہوں تو اس وقت کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں کثرت ہی بذات خود ایک دلیل بن جاتی ہے۔ اس طرح قطع نزاع تو ہو جاتا ہے مگر اس صورت میں وضوح حق ضروری نہیں۔ اور اس کی مثال بالکل قرعہ اندازی کی سی ہوتی ہے۔
اسلام میں خلیفہ کا انتخاب :۔
رہی یہ بات کہ آیا امیر کا انتخاب بھی مشورہ سے ہو گا یا یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ تو اکثر علماء کا خیال ہے یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ اس پر پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے جبکہ مسلمانوں کی ریاست کا تصور تک نہ تھا اور دوسری دلیل یہ ہے کہ مسلمانوں کا اولین امیر خود نبی ہوتا ہے اور اس کے انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ خلفائے راشدین کا انتخاب کسی ایک مخصوص طریق پر نہیں ہوا۔ پہلے خلیفہ کا انتخاب صرف مدینہ میں بعض صحابہ کے اجتماع میں ہوا۔ سیدنا عمر نے نام پیش کر کے بیعت کی۔ پھر سب نے بیعت کر لی۔ دوسرے خلیفہ سیدنا عمرؓ کو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے نامزد کیا۔ تیسرے خلیفہ سیدنا عثمانؓ کو ایک چھ رکنی کمیٹی نے منتخب کیا اور چوتھے خلیفہ کو سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں نے زبردستی نامزد کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے۔ خلیفہ یا امیر المؤمنین کا سب مسلمانوں کے مشورہ کے تحت منتخب ہونا ضروری نہیں۔ مسلمانوں کا امیر جس راستے سے آئے اگر ان کو کتاب و سنت کے مطابق چلاتا ہے تو وہ ان کا فی الواقع امیر ہے، ورنہ نہیں۔ [مزيد تفصيلات كے ليے ميري تصنيف خلافت و جمهوريت ملاحظه فرمائيے]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [3- آل عمران: 159]‏‏‏‏ یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔