ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 37

وَ الَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ ﴿ۚ۳۷﴾
اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب بھی غصے ہوتے ہیں وہ معاف کر دیتے ہیں۔ En
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
En
اور کبیره گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کردیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ:} ایمان و توکل کے بعد پہلے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے اجتناب ضروری ہے، وہ ہیں کبائر و فواحش اور غضب۔ كبائر کی تعریف کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۳۱)۔ { الْفَوَاحِشَ فَاحِشَةٌ } کی جمع ہے، کوئی بھی قول یا فعل جس کی قباحت حد سے بڑھی ہوئی ہو، مثلاً زنا، قوم لوط کا عمل اور شدید بخل وغیرہ۔ (دیکھیے سورۂ بقرہ: ۲۶۸) آیت میں كبائر کا لفظ عام ہے، جس میں فواحش بھی آ جاتے ہیں، مگر فواحش کا ذکر ان سے نفرت دلانے کے لیے خاص طور پر الگ بھی فرمایا۔ شیخ عبد الرحمان السعدی نے فرمایا کہ فواحش ان بڑے گناہوں کو کہتے ہیں جن کی رغبت انسانی طبیعت میں پائی جاتی ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۳۲)۔
➋ { وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ:} غصے کی حالت میں معاف کر دینے کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو نہایت مضبوط ارادے کے مالک ہوں، کیونکہ عموماً غصے میں آدمی عقل و ہوش سے عاری ہو جاتا ہے۔ اس حال میں اپنے آپ پر قابو رکھنا آدمی کی کمالِ عقل اور ضبطِ نفس کی دلیل ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ الشَّدِيْدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيْدُ الَّذِيْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ] [بخاري، الأدب، باب الحذر من الغضب: ۶۱۱۴] پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، پہلوان صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں عفو و درگزر کی خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۵۹) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِيْ شَيْءٍ يُؤْتٰی إِلَيْهِ حَتّٰی يُنْتَهَكَ مِنْ حُرُمَاتِ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ] [بخاري، الحدود، باب کم التعزیر و الأدب؟: ۶۸۵۳] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی معاملے کا انتقام نہیں لیا جو آپ سے کیا گیا۔ ہاں! اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کی خاطر انتقام لیتے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۳۳، ۱۳۴) خلفائے راشدین میں بھی یہ وصف بدرجہ کمال موجود تھا، جیسا کہ ان کی سیرت سے ظاہر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37۔ 1 یعنی لوگوں سے عفو و درگزر کرنا ان کے مزاج و طبیعت کا حصہ ہے نہ کہ انتقام اور بدلہ لینا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے ' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا، ہاں اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا توڑا جانا آپ کے لئے ناقابل برداشت تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ اور جو بڑے بڑے گناہوں [53] اور بے حیائی [54] کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آئے تو معاف کر دیتے [55] ہیں
[53] بڑے بڑے گناہوں کی تفصیل کے لیے سورۃ نساء کی آیت نمبر 31 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے:
[54] فحاشی اور اس کا دائرہ :۔
فحاشی سے مراد ہر وہ کام ہے جو انسان کی قوت شہوانیہ سے تعلق رکھتا ہو۔ اسلام نے جنسی چھیڑ چھاڑ اور حاجت پوری کرنے کے لیے شرعی نکاح کی راہ کھول دی ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی طریقے ممکن ہیں ان سب پر پابندی لگا دی ہے۔ مثلاً زنا، اغلام، لواطت، مشت زنی، عورتوں کی عورتوں سے ہمبستری۔ جانوروں سے بد فعلی وغیرہ۔ سب حرام اور بد ترین جرم ہیں۔ اور ان سب کو ﴿فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ کہا جاتا ہے اور جو باتیں زنا سے قریب لے جانے والی ہیں وہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ مثلاً بد نظری یا غیر محرم کی طرف دیکھنا، عورتوں کا اپنی زینت اور حسن کے مقامات کی کھلے بندوں نمائش کرنا۔ آزادانہ اختلاط مرد و زن، فحش گالی گلوچ، غیر مرد اور غیر عورت کی خلوت، یا عورتوں کا بغیر محرم کے سفر کرنا وغیرہ وغیرہ۔ علاوہ ازیں فحش قسم کی خبروں کو پھیلانا بھی فحاشی میں داخل ہے آج کل فحاشی کی اشاعت کی اور بھی بہت سی صورتیں پیدا ہو چکی ہیں۔ مثلاً تھیٹر، سنیما گھر، کلب ہاؤس، ہوٹل، ریڈیو پر زہد شکن گانے، ٹی وی پر شہوت انگیز پروگرام، فحاشی پھیلانے والا لٹریچر، ناول، افسانے اور ڈرامے وغیرہ۔ اخبارات و اشتہارات وغیرہ میں عورتوں کی عریاں تصاویر۔ غرضیکہ فحاشی کی اشاعت کا دائرہ آج کل بہت وسیع ہو چکا ہے۔ ایمانداروں کا کام یہ ہے کہ ایسے فحاشی کے سب کاموں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کریں۔
[55] غصہ اور اس کا جائز استعمال :۔
اس جملہ میں قوت غضبیہ پر کنٹرول رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غصہ میں عموماً آدمی کی عقل پر جذبات غالب آجاتے ہیں اور بعض دفعہ وہ ایسی غلط حرکتیں کر بیٹھتا ہے جن پر اسے بعد میں سخت ندامت ہوتی ہے۔ مومن کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی وہ اپنی ذات سے متعلق انتقام کے معاملہ میں اللہ سے ڈر کر درگزر اور چشم پوشی سے کام لیتے ہیں اور اگر کسی بات پر غصہ آ جائے تو اسے پی جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ غصہ اتنی بری چیز نہیں کہ انسان کو کسی وقت بھی نہ آئے بلکہ جہاں دین کی تضحیک ہو رہی ہو اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا جا رہا یا خلاف شرع کام ہو رہا ہو وہاں انسان کو غصہ آنا ہی چاہئے۔ غصہ اگر کلیتاً بری ہی چیز ہوتی تو اللہ اسے پیدا ہی نہ کرتا۔ اسے ہم دوسرے الفاظ میں دینی حمیت یا غیرت بھی کہہ سکتے ہیں اور ایسے مقام پر غصہ بعض دفعہ بڑے بڑے اٹھتے ہوئے فتنوں کو دبا دیتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ایسا ہی تھا۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”اللہ کی قسم! آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا جب وہ آپ کے سامنے لایا گیا۔ البتہ اگر کسی نے اللہ کی قابل احترام باتوں کی توہین کی تو آپ نے اللہ کے لیے اس سے بدلہ لیا“ [بخاري۔ كتاب الحدود۔ باب اقامة الحدود والانتقام لحرمات الله]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غصہ آیا تو آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا جیسے کسی نے چہرہ پر انار نچوڑ دیا جو مثلاً فاطمہ مخزومی قریشی کی چوری کا مقدمہ پیش ہوا تو قریشیوں نے سیدنا اسامہ بن زید کو سفارش کے لیے کہا۔ سیدنا اسامہ نے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا اور فرمایا:”اسامہ! تم اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟“ [بخاري۔ كتاب الحدود۔ باب كراهية الشفاعة فى الحد]
اسی طرح ایک دفعہ سیدنا معاذ بن جبلؓ نے عشا کی نماز میں سورۃ بقرۃ شروع کر دی ایک دیہاتی نے نماز توڑ کر اپنی الگ نماز پڑھ لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ پر سخت ناراض ہوئے اور تین بار فرمایا: «افتّان انت يا معاذ؟» ”معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو؟“ [بخاري۔ كتاب الادب۔ باب من لم ير اكفار من قال ذلك متاوّلا او جاهلا] اور ایسی اور بھی مثالیں بہت ہیں۔
غصہ کو ضبط کرنے کا حکم :۔
رہا ذاتی انتقام کا مسئلہ تو اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو کشتی میں پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ کو ضبط میں رکھے“ [بخاري۔ كتاب الادب۔ باب الحذر من الغضب]
نیز سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کر۔ اس نے دوبارہ، سہ بارہ یہی بات پوچھی تو آپ ہر بار یہی کہتے رہے کہ غصہ مت کیا کر“ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب الحذر من الغضب]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں، اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیئے۔
اس جملہ کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیئے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے۔[صحیح بخاری:3560]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔[صحیح بخاری:6031]‏‏‏‏
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [3- آل عمران: 159]‏‏‏‏ یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔
پس سب نے باتفاق رائے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ [12-يوسف:92]‏‏‏‏۔
اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔
اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔[صحیح بخاری:4135]‏‏‏‏
اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔[صحیح بخاری:5763]‏‏‏‏
اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔[صحیح بخاری:3169]‏‏‏‏
معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔