ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 19

اَللّٰہُ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ الۡقَوِیُّ الۡعَزِیۡزُ ﴿٪۱۹﴾
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ En
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
En
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے واﻻ ہے، جسے چاہتا ہے کشاده روزی دیتا ہے اور وه بڑی طاقت، بڑے غلبہ واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ: لَطِيْفٌ} ایسی چیز جوگرفت میں نہ آ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت لطيف اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی۔ اس لحاظ سے اس کا معنی لطف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہو گئی۔ (مفردات) گویا { لَطِيْفٌ} میں دو صفتیں جمع ہیں، ایک نہایت باریک بین اور دوسری نہایت مہربانی والا۔ ان کے ضمن میں کمال علم بھی ہے جس کے بغیر باریک بینی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بندوں پر لطیف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا روحانی ضرورت پوشیدہ نہیں اور وہ اپنی کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندے کی بلکہ ہر مخلوق کی ضرورت جو اس کے حسبِ حال ہو، پوری ہو اور اسے خبر بھی نہ ہو کہ وہ کیسے پوری ہو گئی۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ { بِعِبَادِهٖ } کا لفظ اگرچہ عام ہے مگر اس سے مراد یہاں اللہ کے مومن بندے ہیں اور بعض نے فرمایا کہ{ بِعِبَادِهٖ } میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں، دنیا میں دونوں اس کے لطفِ عام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، البتہ آخرت میں اس کا لطف و کرم مومنوں کے لیے خاص ہو گا۔
➋ { يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ:} اسی لیے ان میں سے بے شمار لوگوں کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے باوجود بھوکا نہیں مارتا، بلکہ ان کی تمام ضرورتیں اپنے لطف و کرم سے پوری کرتا ہے۔ مگر جسے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور جس کی روزی کا دفتر بند کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ یہ بات یہاں ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ اکثر لوگ رزق کے پیچھے رزاق کو بھول جاتے ہیں۔
➌ { وَ هُوَ الْقَوِيُّ:} یعنی وہ جو کرنا چاہے، جسے جتنا رزق دینا چاہے اس کی پوری قوت رکھتا ہے، کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں۔
➍ {الْعَزِيْزُ:} یعنی دوسرے تمام معاملات کی طرح رزق کے معاملے میں بھی کسی کا اس پر زور نہیں کہ وہ دینا چاہے تو کوئی اسے روک سکے، یا نہ دینا چاہے تو کوئی اس سے لے سکے۔ خبر { الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ } پر الف لام سے قصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی دونوں صفتیں صرف اس میں ہیں، کسی اور میں نہیں، جیساکہ فرمایا: [اَللّٰهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ] [بخاري، القدر، باب لا مانع لما أعطی اللّٰہ: ۶۶۱۵] اے اللہ! تو جو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ کوئی دینے والا نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اور جس کا ارادہ آخر کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (1) اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس دنیا میں سے ہی کچھ دے دیں گے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان [29] ہے جسے (جتنا) چاہتا ہے رزق دیتا [30] ہے اور وہ طاقتور اور زبردست ہے۔
[29] لطیف کا مفہوم :۔
لطیف کا معنی عموماً مہربان کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا معنی اردو میں کسی ایک لفظ سے ادا نہیں ہو سکتا۔ اس کے مادہ لطف کے بنیادی معنی میں دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) دقّت نظر، (2) نرمی، (مقاییس اللغہ) اور لطیف کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی دقت نظر یا باریک بینی یا راز یا چھوٹی چھوٹی جزئیات تک سے آگاہی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘ وَهُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَۚ وَهُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ [104:6] میں ہے۔ اور کبھی دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے اس مقام پر دونوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی اور رتی رتی تکالیف کا علم اور اس کی خبر بھی رکھتا ہے پھر از راہ مہربانی ان کا ازالہ بھی کر دیتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی حاجات اور ضروریات کا خیال رکھتا ہے پھر از راہ مہربانی انہیں پورا بھی کرتا رہتا ہے۔
[30] یعنی اللہ تعالیٰ کا لطف تو عام ہے جو بندوں کو یکساں پہنچ رہا ہے۔ لیکن رزق میں معاملہ اس سے الگ ہے۔ وہ ہر ایک کو یکساں نہیں ملتا۔ بلکہ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی کو زیادہ دے دیتا ہے اور کسی کو کم یہ اس کی مشیئت پر منحصر ہے۔ البتہ ہر ایک کو دیتا ضرور ہے۔ جتنا رزق اس نے کسی کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ کوئی طاقت یا کوئی ہستی اس کی مقدار کو نہ بڑھا سکتی ہے اور نہ اس کا رزق کم کر سکتی یا روک سکتی ہے۔ کیونکہ وہ خود سب سے بڑھ کر طاقتور اور زبردست ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

غفور و رحیم اللہ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا «وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ [11-ھود: 6]‏‏‏‏، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کر دیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ۔
الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کر لے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے۔ بد نیتی کے باعث عقبیٰ تو برباد کر ہی چکا تھا۔ دنیا بھی نہ ملی تو دونوں جہان سے بھی گیا اور تھوڑی سی دنیا مل بھی گئی تو کیا۔
دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [17- الإسراء: 21-18]‏‏‏‏، یعنی جو شخص دنیا کا ہو گا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہو گا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لیے جو کوشش کرنی چاہیئے کرے گا اور وہ با ایمان بھی ہو گا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر بند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لیے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا۔[مسند احمد:134/5:اسناد قوی]‏‏‏‏۔