وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ وَ ظَنُّوۡا مَا لَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۴۸﴾
اور ان سے غائب ہو جائیں گے وہ جنھیں وہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں
اور یہ جن (جن) کی پرستش اس سے پہلے کرتے تھے وه ان کی نگاه سے گم ہوگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کے لیے کوئی بچاؤ نہیں
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 48) ➊ { وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ:} یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چاروں طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جنھیں پکارتے رہے، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آ جائے، انھیں عذاب سے چھڑا لے، یا اس میں کچھ کمی ہی کروا دے، مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔
➋ {وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ: ”حَاصَ يَحِيْصُ حَيْصًا “} (ض) بھاگنا۔ {” مَحِيْصٍ “} مصدر میمی ہے یا ظرف۔ مصدر کا معنی ہو گا بھاگنے کی کوئی صورت اور ظرف کا معنی ہے بھاگنے کی کوئی جگہ۔ ”ظن“ کا لفظ گمان کے علاوہ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۴۶) یہاں بھی {” ظَنُّوْا “} یقین کے معنی میں ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی اور کسی کو کوئی شک باقی نہیں رہے گا، حتی کہ کفار خود کو یقین ہو جانے کا اقرار کریں گے، فرمایا: «رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [السجدۃ: ۱۲] ”اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج کہ ہم نیک عمل کریں، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ مریم (۳۸)، سورۂ ق (۲۲) اور سورۂ انعام (۳۰)۔ مطلب یہ ہے کہ کفار کے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کوئی انھیں نظر نہیں آئے گا اور انھیں یقین ہو جائے گا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھاگ نکلنے کی کوئی جگہ ہے نہ اس کی کوئی صورت۔
➋ {وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ: ”حَاصَ يَحِيْصُ حَيْصًا “} (ض) بھاگنا۔ {” مَحِيْصٍ “} مصدر میمی ہے یا ظرف۔ مصدر کا معنی ہو گا بھاگنے کی کوئی صورت اور ظرف کا معنی ہے بھاگنے کی کوئی جگہ۔ ”ظن“ کا لفظ گمان کے علاوہ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۴۶) یہاں بھی {” ظَنُّوْا “} یقین کے معنی میں ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی اور کسی کو کوئی شک باقی نہیں رہے گا، حتی کہ کفار خود کو یقین ہو جانے کا اقرار کریں گے، فرمایا: «رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [السجدۃ: ۱۲] ”اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج کہ ہم نیک عمل کریں، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ مریم (۳۸)، سورۂ ق (۲۲) اور سورۂ انعام (۳۰)۔ مطلب یہ ہے کہ کفار کے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کوئی انھیں نظر نہیں آئے گا اور انھیں یقین ہو جائے گا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھاگ نکلنے کی کوئی جگہ ہے نہ اس کی کوئی صورت۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 یعنی وہ ادھر ادھر ہوگئے اور حسب گمان انہوں نے کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ 48۔ 2 یہ گمان، یقین کے معنی میں ہیں یعنی قیامت والے دن وہ یقین کرنے پر مجبور ہوں گے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا " وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا "18۔ الکہف:53)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ اور اس سے پہلے جنہیں وہ پکارا کرتے تھے ان سے گم ہو جائیں گے [63] اور وہ یقین کر لیں گے کہ اب ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔
[63] یعنی قیامت کی ہولناکیوں سے اس قدر گھبرائے ہوئے اور حواس باختہ ہوں گے کہ انہیں سمجھ ہی نہ آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب دیں اور دنیا میں وہ اپنے معبودوں کے متعلق جو تصورات جمائے بیٹھے تھے کہ وہ اللہ سے سفارش کر کے ہمیں بچا لیں گے، سب کچھ بھول جائیں گے کیونکہ انہیں صاف نظر آرہا ہو گا کہ آج کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا، نہ ہی عذاب سے بچنے کی کوئی صورت یا کوئی جگہ نظر آتی ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
علم الٰہی کی وسعتیں ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کب آئے گی؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں ‘۔ { تمام انسانوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی جبرائیل علیہ السلام نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں } }۔۱؎ [صحیح بخاری:50]
قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے «اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا» ۱؎ [79-النازعات:44] یعنی ’ قیامت کب ہو گی؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے ‘۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت «لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الاعراف:187] مطلب یہی ہے کہ ’ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے ‘، «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8] ’ جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [34-سبأ:3] ایک اور آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الانعام:59] یعنی ’ جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ‘۔ «وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:11] ’ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو ‘۔
قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ ’ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔
قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] یعنی ’ گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔
قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے «اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا» ۱؎ [79-النازعات:44] یعنی ’ قیامت کب ہو گی؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے ‘۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت «لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الاعراف:187] مطلب یہی ہے کہ ’ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے ‘، «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8] ’ جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [34-سبأ:3] ایک اور آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الانعام:59] یعنی ’ جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ‘۔ «وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:11] ’ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو ‘۔
قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ ’ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔
قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] یعنی ’ گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔