ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 47

اِلَیۡہِ یُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ؕ وَ مَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَکۡمَامِہَا وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ اَیۡنَ شُرَکَآءِیۡ ۙ قَالُوۡۤا اٰذَنّٰکَ ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَہِیۡدٍ ﴿ۚ۴۷﴾
اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹا یا جاتا ہے اور کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہبچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ انھیں پکارے گا کہاں ہیں میرے شریک ؟وہ کہیں گے ہم نے تجھے صاف بتا دیا ہے، ہم میں سے کوئی (اس کی) شہادت دینے والا نہیں۔ En
قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں
En
قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو ماده حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وه جنتی ہے سب کا علم اسے ہے اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وه جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواه نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) ➊ {اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ:} پچھلی آیت کے ضمن میں ہر نیک و بد عمل کی جزا کا ذکر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اکثر لوگ جزا کے بغیر فوت ہو جاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ اس کا نام ہی یوم الدین (جزا کا دن) ہے، کیونکہ اگر وہ نیک و بد کو جزا نہ دے تو یہ ظلم ہے، جب کہ وہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم کرنے والا نہیں۔ کفار چونکہ قیامت قائم ہونے اور اس پر اللہ تعالیٰ کے پوری طرح قادر ہونے کی بات کو دلیل کے ساتھ نہیں جھٹلا سکتے تھے، اس لیے انھوں نے جھٹلانے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ بار بار پوچھتے، قیامت کب ہو گی؟ گویا ان کی فرمائش پر وہ فوراً قائم نہ ہوئی تو کہہ سکیں گے کہ قیامت ہوتی تو آ جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ یعنی انسان، جن اور فرشتے، غرض جس کسی سے قیامت کے متعلق پوچھو وہ بے خبر ہو گا۔ کسی دوسرے سے پوچھنے کو کہے گا تو وہ بھی بے خبر ہو گا۔ پوچھتے پوچھتے سبھی جس کی طرف لوٹائیں گے کہ وہی بتا سکتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب بے خبر ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ نازعات (۴۲ تا ۴۴)، انعام (۵۹) اور سورۂ اعراف (۱۸۷) جبریل علیہ السلام نے انسانی شکل میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب ہو گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰] جس سے اس کے متعلق پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ مطلب یہ ہے کہ تم جس بات کے پیچھے پڑے ہو تمھیں اس سے کچھ حاصل نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم ہی نہیں، اس لیے تم یہ فکر کرو کہ اس دن تمھارا بنے گا کیا اور تم نے اس کے لیے تیاری کیا کی ہے؟
➋ { وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا: أَكْمَامٌ كِمٌّ} (کاف کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ غلاف یا پردہ جس کے اندر شروع میں پھل چھپا ہوتا ہے۔ { ثَمَرٰتٍ } جمع ہے اور نکرہ ہے، اس پر { مِنْ } آنے سے عموم میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف قیامت کا علم ہی نہیں، غیب کے متعلق جتنے بھی امور ہیں ان سب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، کسی نبی، ولی یا فرشتے کو غیب کے معاملات کا علم اسی حد تک ہو سکتا ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۵۹) اور سورۂ اعراف (۱۸۷)۔
➌{ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ:} دیکھیے سورۂ رعد (۸) اور سورۂ فاطر (۱۱)۔ یعنی قیامت کے علاوہ کسی پھل کے اپنے غلاف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے کے وقت کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، تو کیا آج تک تم نے اس وجہ سے کسی پھل کے اپنے غلاف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے سے اور دوسری بے شمار چیزوں کے واقع ہونے سے اس لیے انکار کیا ہے کہ اس کا متعین وقت تمھیں نہیں بتایا گیا، تو قیامت کا انکار صرف اس لیے کیوں کہ تمھیں اس کے برپا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا!؟
➍ {وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ اَيْنَ شُرَكَآءِيْ: يَوْمَ } فعل محذوف {اُذْكُرْ} کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن یاد کرو جب اللہ تعالیٰ مشرکین کو پکار کر کہے گا کہاں ہیں میرے شریک؟ { شُرَكَآءِيْ } (میرے شریک) سے مراد وہ ہیں جو انھوں نے بنا رکھے تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کا شریک کون ہو سکتا ہے!؟ اللہ تعالیٰ کا انھیں یہ کہنا صرف انھیں ذلیل کرنے کے لیے ہو گا، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں جسے وہ لے آئیں گے۔
➎ { قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيْدٍ:} یعنی وہ اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تجھے صاف بتا دیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اس کی شہادت دینے والا نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے، یعنی ہم نے تیرے ساتھ کبھی شرک کیا ہی نہیں۔ (دیکھیے انعام: ۲۲ تا ۲۴) حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ کبھی اپنے مشرک ہونے سے انکار کریں گے، کبھی بے اختیار اس کا اقرار کریں گے، پھر انکار کریں گے۔ (دیکھیے مومن: ۷۳، ۷۴) پھر شہادتیں پیش ہونے پر اقرار کے سوا کچھ چارہ نہ ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 یعنی اللہ کے سوا اس کے وقوع کا علم کسی کو نہیں۔ اس لئے جب حضرت جبرائیل ؑ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ' اس کی بابت مجھے بھی اتنا علم ہے، جتنا تجھے ہے، میں تجھ سے زیادہ نہیں جانتا۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا) 79۔ النازعات:44) 47۔ 2 یہ اللہ کے علم کا محیط کا بیان ہے اور اس کی صفت علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے یعنی اس طرح کا علم کامل کسی کو حاصل نہیں، حتیٰ کے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی نہیں انہیں بھی اتنا ہی علم ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے سے بتلا دیتا ہے۔ 47۔ 3 یعنی آج ہم میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اور جو بھی پھل اپنے شگوفہ سے نکلتا ہے یا مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی [61] ہے تو یہ سب کچھ اللہ کے علم سے ہوتا ہے۔ اور جس دن اللہ ان مشرکوں کو پکار کر پوچھے گا کہ“ کہاں ہیں میرے شریک؟“ تو کہیں گے: ”ہم آپ سے عرض [62] کر چکے ہیں کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں“
[61] جواب کا رخ اس طرف موڑ دینا جس کا تعلق عملی زندگی سے ہو :۔
اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کا یہ حال ہے کہ شگوفہ کے اندر اس کے پھل کے نکلنے تک جو کیفیات گزرتی ہیں اور رحم مادر میں جنین پر جو جو مرحلے پیش آتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ ایسی ہی علیم ہستی جب یہ خبر دے رہی ہے کہ قیامت یقینی طور پر آنے والی ہے تو تمہیں اس بات پر یقین کر لینا چاہئے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی تو اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور یہ بات بتانا مشیئت الٰہی کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس طرح تخلیق انسانی کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ کافروں کا یہ مشغلہ سا بن گیا تھا کہ وہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کرتے رہتے تھے تو اس کے جواب میں مختلف مقامات پر مختلف جوابات دیئے گئے ہیں اور ان میں وہ پہلو اختیار کیا گیا ہے جس کا تعلق عملی زندگی سے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی دستور تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ راستہ میں کسی شخص نے زور سے پکارا: یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”تجھ پر افسوس! کیا تو نے اس کے لیے کچھ تیاری کر لی ہے“ [مسلم۔ کتاب البرو الصلۃ والادب۔ باب المرء مع من احب]
[62] ﴿اٰذنّٰكَ کے معنی ہیں ہم آپ کے گوش گزار کر تو چکے ہیں یعنی قیامت کے دن مشرک لوگ شرک کا انجام دیکھیں گے تو اپنے شرک کا اقرار کرنے کی بجائے صاف مکر جائیں گے۔ بعض علماء نے یہاں شہید سے شاہد مراد لیا ہے۔ یعنی آج ہمیں اپنے معبودوں میں سے کوئی بھی یہاں نظر نہیں آرہا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

علم الٰہی کی وسعتیں ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کب آئے گی؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں ‘۔ { تمام انسانوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی جبرائیل علیہ السلام نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں } }۔۱؎ [صحیح بخاری:50]‏‏‏‏
قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے «اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا» ۱؎ [79-النازعات:44]‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت کب ہو گی؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے ‘۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت «لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الاعراف:187]‏‏‏‏ مطلب یہی ہے کہ ’ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے ‘، «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8]‏‏‏‏ ’ جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [34-سبأ:3]‏‏‏‏ ایک اور آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [6-الانعام:59]‏‏‏‏ یعنی ’ جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ‘۔ «وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:11]‏‏‏‏ ’ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو ‘۔
قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ ’ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔
قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [18-الكهف:53]‏‏‏‏ یعنی ’ گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے، جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء و مرسلین اور فرشتے وغیرھم اس بارے میں اپنے عجز اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔ ﴿وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں۔ یعنی اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی طور پر جانتا ہے۔
﴿وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ۔ بنی آدم اور تمام حیوانات میں سے حاملہ جو حمل اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ﴿وَلَا تَ٘ضَعُ اور نہ كوئی حاملہ بچہ جنم دیتی ہے ﴿ اِلَّا بِعِلْمِهٖ مگر اس کے علم سے۔ مشرکین نے ان ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا جو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں۔ ﴿وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کو، زجروتوبیخ کے طور پر اور ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے پکارے گا اور فرمائے گا: ﴿اَیْنَ شُ٘رَؔكَآءِیْ میرے شریک کہاں ہیں۔ جن کو تم میرا شریک سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرتے تھے اس کی بنا پر تم جھگڑتے اور رسولوں سے عداوت رکھتے تھے۔ ﴿قَالُوْۤا وہ اپنے خودساختہ معبودوں کی الوہیت اور ان کی شرکت کے بطلان کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍ ہم آپ سے کہہ چکے کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں۔ یعنی اے ہمارے رب ہم تیرے سامنے اقرار کرتے ہیں، تو گواہ رہنا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان معبودان باطل کی الوہیت اور شرکت کی گواہی نہیں دیتا۔ اب ہم سب ان کی عبادت کے بطلان کا اقرار اور ان سے براء ت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یعنی ان کے وہ تمام عقائد اور اعمال اکارت جائیں گے جن کے اندر انھوں نے غیراللہ کی عبادت کرتے ہوئے عمریں گزاریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہ خودساختہ معبود انھیں کوئی فائدہ دیں گے، ان سے عذاب دور کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے۔ ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی، ان کا گمان جھوٹا ثابت ہوگا اور ان کے خودساختہ شرکاء ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ ﴿وَظَنُّوْا اور اس حال میں انھیں یقین آ جائے گا ﴿مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ کہ کوئی ان کو بچانے والا ہے نہ کوئی مدد کو پہنچنے والا اور نہ ان کو کوئی جائے پناہ ہی ملے گی۔ یہ ہے اس شخص کا انجام جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شرک سے بچیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبارٌ عن سعة علمهِ تعالى واختصاصِهِ بالعلم الذي لا يطَّلع عليه سواه، فقال: {إليه يُرَدُّ علمُ الساعةِ}؛ أي: جميع الخلق يَرُدُّ علمها إلى الله تعالى، ويقرُّون بالعجز عنه؛ الرسلُ والملائكةُ وغيرُهم. {وما تَخْرُجُ من ثمراتٍ من أكمامها}؛ أي: وعائها الذي تخرُجُ منه، وهذا شاملٌ لثمرات جميع الأشجار التي في البلدان والبراري؛ فلا تخرُجُ ثمرةُ شجرةٍ من الأشجار إلاَّ وهو يعلمُها علماً تفصيليًّا. {وما تحمِلُ من أنثى}: من بني آدم وغيرهم من أنواع الحيوانات إلاَّ بعلمه، {ولا تضعُ} [أنثى حملَها] {إلاَّ بعلمِهِ}؛ فكيف سوَّى المشركون به تعالى مَنْ لا علم عنده ولا سمعَ ولا بصرَ؟ {ويوم يناديهم}؛ أي: المشركين به يوم القيامةِ توبيخاً وإظهاراً لكذِبِهم، فيقول لهم: {أين شركائي}: الذين زعمتُم أنَّهم شركائي، فعبدتُموهم وجادلتُم على ذلك وعاديتُم الرسل لأجلهم ؟ {قالوا}: مقرِّين ببطلان إلهيتهم وشركتهم مع الله: {آذَنَّاكَ ما مِنَّا من شهيدٍ}؛ أي: أعلمناك يا ربَّنا واشهدْ علينا أنَّه ما منَّا أحدٌ يشهد بصحة إلهيَّتهم وشركتهم؛ فكلُّنا الآن [قد] رجعنا إلى بطلان عبادتها وتبرَّأنا منها، ولهذا قال: {وضلَّ عنهم ما كانوا يَدْعونَ}: من دون الله؛ أي: ذهبت عقائدُهم وأعمالُهم التي أفَنَوا فيها أعمارهم على عبادة غير الله، وظنُّوا أنها تفيدُهم، وتدفعُ عنهم العذاب، وتشفع لهم عند اللهِ، فخاب سعيُهم، وانتقض ظنُّهم، ولم تُغْنِ عنهم شركاؤهم شيئاً. {وظنُّوا}؛ أي: أيقنوا في تلك الحال {ما لهم من مَحيصٍ}؛ أي: منقذٍ ينقذُهم ولا مغيثٍ ولا ملجأٍ. فهذه عاقبةُ من أشركَ بالله غيرَه، يُبَيِّنُها اللهُ لعباده، ليحذروا الشركَ به.