تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا: ”أَكْمَامٌ“ ”كِمٌّ“} (کاف کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ غلاف یا پردہ جس کے اندر شروع میں پھل چھپا ہوتا ہے۔ {” ثَمَرٰتٍ “} جمع ہے اور نکرہ ہے، اس پر {” مِنْ “} آنے سے عموم میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے ”کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے۔“ مطلب یہ ہے کہ صرف قیامت کا علم ہی نہیں، غیب کے متعلق جتنے بھی امور ہیں ان سب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، کسی نبی، ولی یا فرشتے کو غیب کے معاملات کا علم اسی حد تک ہو سکتا ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۵۹) اور سورۂ اعراف (۱۸۷)۔
➌{ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ:} دیکھیے سورۂ رعد (۸) اور سورۂ فاطر (۱۱)۔ یعنی قیامت کے علاوہ کسی پھل کے اپنے غلاف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے کے وقت کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، تو کیا آج تک تم نے اس وجہ سے کسی پھل کے اپنے غلاف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے سے اور دوسری بے شمار چیزوں کے واقع ہونے سے اس لیے انکار کیا ہے کہ اس کا متعین وقت تمھیں نہیں بتایا گیا، تو قیامت کا انکار صرف اس لیے کیوں کہ تمھیں اس کے برپا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا!؟
➍ {وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ اَيْنَ شُرَكَآءِيْ: ” يَوْمَ “} فعل محذوف {”اُذْكُرْ“} کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن یاد کرو جب اللہ تعالیٰ مشرکین کو پکار کر کہے گا کہاں ہیں میرے شریک؟ {” شُرَكَآءِيْ “} (میرے شریک) سے مراد وہ ہیں جو انھوں نے بنا رکھے تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کا شریک کون ہو سکتا ہے!؟ اللہ تعالیٰ کا انھیں یہ کہنا صرف انھیں ذلیل کرنے کے لیے ہو گا، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں جسے وہ لے آئیں گے۔
➎ { قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيْدٍ:} یعنی وہ اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تجھے صاف بتا دیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اس کی شہادت دینے والا نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے، یعنی ہم نے تیرے ساتھ کبھی شرک کیا ہی نہیں۔ (دیکھیے انعام: ۲۲ تا ۲۴) حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ کبھی اپنے مشرک ہونے سے انکار کریں گے، کبھی بے اختیار اس کا اقرار کریں گے، پھر انکار کریں گے۔ (دیکھیے مومن: ۷۳، ۷۴) پھر شہادتیں پیش ہونے پر اقرار کے سوا کچھ چارہ نہ ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[62] ﴿اٰذنّٰكَ﴾ کے معنی ہیں ہم آپ کے گوش گزار کر تو چکے ہیں یعنی قیامت کے دن مشرک لوگ شرک کا انجام دیکھیں گے تو اپنے شرک کا اقرار کرنے کی بجائے صاف مکر جائیں گے۔ بعض علماء نے یہاں شہید سے شاہد مراد لیا ہے۔ یعنی آج ہمیں اپنے معبودوں میں سے کوئی بھی یہاں نظر نہیں آرہا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے «اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا» ۱؎ [79-النازعات:44] یعنی ’ قیامت کب ہو گی؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے ‘۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت «لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الاعراف:187] مطلب یہی ہے کہ ’ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے ‘، «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8] ’ جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [34-سبأ:3] ایک اور آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الانعام:59] یعنی ’ جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ‘۔ «وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:11] ’ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو ‘۔
قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ ’ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔
قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] یعنی ’ گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إخبارٌ عن سعة علمهِ تعالى واختصاصِهِ بالعلم الذي لا يطَّلع عليه سواه، فقال: {إليه يُرَدُّ علمُ الساعةِ}؛ أي: جميع الخلق يَرُدُّ علمها إلى الله تعالى، ويقرُّون بالعجز عنه؛ الرسلُ والملائكةُ وغيرُهم. {وما تَخْرُجُ من ثمراتٍ من أكمامها}؛ أي: وعائها الذي تخرُجُ منه، وهذا شاملٌ لثمرات جميع الأشجار التي في البلدان والبراري؛ فلا تخرُجُ ثمرةُ شجرةٍ من الأشجار إلاَّ وهو يعلمُها علماً تفصيليًّا. {وما تحمِلُ من أنثى}: من بني آدم وغيرهم من أنواع الحيوانات إلاَّ بعلمه، {ولا تضعُ} [أنثى حملَها] {إلاَّ بعلمِهِ}؛ فكيف سوَّى المشركون به تعالى مَنْ لا علم عنده ولا سمعَ ولا بصرَ؟ {ويوم يناديهم}؛ أي: المشركين به يوم القيامةِ توبيخاً وإظهاراً لكذِبِهم، فيقول لهم: {أين شركائي}: الذين زعمتُم أنَّهم شركائي، فعبدتُموهم وجادلتُم على ذلك وعاديتُم الرسل لأجلهم ؟ {قالوا}: مقرِّين ببطلان إلهيتهم وشركتهم مع الله: {آذَنَّاكَ ما مِنَّا من شهيدٍ}؛ أي: أعلمناك يا ربَّنا واشهدْ علينا أنَّه ما منَّا أحدٌ يشهد بصحة إلهيَّتهم وشركتهم؛ فكلُّنا الآن [قد] رجعنا إلى بطلان عبادتها وتبرَّأنا منها، ولهذا قال: {وضلَّ عنهم ما كانوا يَدْعونَ}: من دون الله؛ أي: ذهبت عقائدُهم وأعمالُهم التي أفَنَوا فيها أعمارهم على عبادة غير الله، وظنُّوا أنها تفيدُهم، وتدفعُ عنهم العذاب، وتشفع لهم عند اللهِ، فخاب سعيُهم، وانتقض ظنُّهم، ولم تُغْنِ عنهم شركاؤهم شيئاً. {وظنُّوا}؛ أي: أيقنوا في تلك الحال {ما لهم من مَحيصٍ}؛ أي: منقذٍ ينقذُهم ولا مغيثٍ ولا ملجأٍ. فهذه عاقبةُ من أشركَ بالله غيرَه، يُبَيِّنُها اللهُ لعباده، ليحذروا الشركَ به.