تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”یہ کفارِ مکہ بھی عجیب شے ہیں، اگر ان کے پاس انھی میں سے ایک آدمی عربی میں قرآن لے کر آیا ہے تو کہتے ہیں کہ ایک عرب کا عربی قرآن پیش کرنا کوئی کمال نہیں، کمال تو اس وقت ہوتا جب یہ شخص کسی عجمی زبان فارسی، رومی یا ترکی میں قرآن پیش کرتا۔ حالانکہ اگر ہم ان کا مطالبہ مان لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی عجمی زبان میں قرآن نازل کر دیتے تو یہی لوگ اس وقت اعتراض کرتے کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ پیغمبر تو عربوں کو دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا ہے، لیکن قرآن ایسی زبان میں لے کر آیا ہے جسے عرب سمجھ بھی نہیں سکتے۔“ (اشرف الحواشی)
➋ {قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ:} اس کی تفسیر گزر چکی ہے، دیکھیے سورۂ یونس (۵۷) اور سورۂ بنی اسرائیل (۸۲)۔
➌ { وَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ …:} یعنی قرآن اگرچہ رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے، لیکن وہ ان کافروں کے حق میں کانوں کا بوجھ اور آنکھوں کا پردہ ہے۔ اس کی وجہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور تعصب ہے، اس میں قرآن کا کوئی قصور نہیں ہے، بالکل اسی طرح جیسے سورج روشنی دینے والی چیز ہے، لیکن اس کے طلوع ہوتے ہی چمگادڑ کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔
➍ {اُولٰٓىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ:} یہ ایک محاورہ ہے اور اس شخص کے حق میں استعمال ہوتا ہے جو کوئی بات نہ سمجھتا ہو۔ (قرطبی) یعنی یہ لوگ قرآن کو دل سے سننے کی کوشش نہیں کرتے، صرف اوپرے دل سے سنتے ہیں، اس لیے اس سے کوئی ہدایت نہیں پاتے۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی شخص کو دور سے پکارا جائے اور وہ آواز تو محسوس کرے مگر مطلب مراد کچھ نہ سمجھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[56] آپ ایسے اعتراض کرنے والوں سے کہئے کہ جن لوگوں کی عقل سلیم ہے وہ اسی قرآن سے راہ ہدایت بھی حاصل کر رہے ہیں اور اپنی روحانی بیماریوں سے شفا بھی پا رہے ہیں۔ اگر تم خود سننا، دیکھنا اور ہدایت حاصل ہی نہ کرنا چاہو تو اس میں اللہ کی کتاب کا کیا قصور ہے جو اسے موردِ الزام ٹھہراتے ہو؟
[58] دور سے پکارنے والے کی آواز کانوں میں پڑ تو جاتی ہے۔ مگر یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ کہنے والا کہہ کیا رہا ہے؟ یہی حال ان کافروں کا ہے کہ اگر قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑ بھی جائے تو چونکہ ان کی خواہش ہی نہیں ہوتی کہ اس سے کچھ ہدایت حاصل کریں۔ لہٰذا قرآنی آیات کے مفاہیم و مطالب ان پر دھند لائے ہی رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:198،199] مطلب یہ ہے کہ نہ ماننے کے بیسیوں حیلے ہیں نہ یوں چین نہ ووں چین۔ اگر قرآن کسی عجمی زبان میں اترتا تو بہانہ کرتے کہ ہم تو اسے صاف صاف سمجھ نہیں سکتے۔ مخاطب جب عربی زبان کے ہیں تو ان پر جو کتاب اترتی ہے وہ غیر عربی زبان میں کیوں اتر رہی ہے؟ اور اگر کچھ عربی میں ہوتی اور کچھ دوسری زبان میں تو بھی ان کا یہی اعتراض ہوتا کہ اس کی کیا وجہ؟
حسن بصری رحمہ اللہ کی قرأت «اَعْجَمِیٌّ» ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بھی یہی مطلب بیان کرتے ہیں۔ اس سے ان کی سرکشی معلوم ہوتی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن ایمان والوں کے دل کی ہدایت اور ان کے سینوں کی شفاء ہے۔ ان کے تمام شک اس سے زائل ہو جاتے ہیں اور جنہیں اس پر ایمان نہیں وہ تو اسے سمجھ ہی نہیں سکتے جیسے کوئی بہرا ہو، نہ اس کے بیان کی طرف انہیں ہدایت ہو جیسے کوئی اندھا ہو ‘۔
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ’ ہمارا نازل کردہ یہ قرآن ایمان داروں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو تو ان کا نقصان ہی بڑھاتا ہے ‘۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی دور سے کسی سے کچھ کہہ رہا ہو کہ نہ اس کے کانوں تک صحیح الفاظ پہنچتے ہیں نہ وہ ٹھیک طرح مطلب سمجھتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:171] یعنی، ’ کافروں کی مثال اس کی طرح ہے جو پکارتا ہے مگر آواز اور پکار کے سوا کچھ اور اس کے کان میں نہیں پڑتا۔ بہرے گونگے اندھے ہیں پھر کیسے سمجھ لیں گے؟ ‘
ضحاک رحمہ اللہ نے یہ مطلب بیان فرمایا ہے کہ قیامت کے دن انہیں ان کے بدترین ناموں سے پکارا جائے گا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک مسلمان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جس کا آخری وقت تھا اس نے یکایک «لَبـَّیـْكَ» پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تجھے کوئی دیکھ رہا ہے یا کوئی پکار رہا ہے“؟ اس نے کہا ہاں سمندر کے اس کنارے سے کوئی بلا رہا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی جملہ پڑھا «اُولٰىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44]۔ [ابن ابی حاتم]
اس لیے یہ مہلت مقررہ ہے ورنہ ان کے کرتوت تو ایسے نہ تھے کہ یہ چھوڑ دیئے جائیں اور کھاتے پیتے رہیں۔ ابھی ہی ہلاک کر دیئے جاتے۔ یہ اپنی تکذیب میں بھی کسی یقین پر نہیں بلکہ شک میں ہی پڑے ہوئے ہیں۔ لرز رہے ہیں ادھر ادھر ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن فضله وكرمه؛ حيث أنزل كتابَه عربيًّا على الرسول العربيِّ بلسانِ قومه ليبيِّن لهم، وهذا مما يوجب لهم زيادةَ الاعتناء به والتلقِّي له والتسليم، وأنَّه لو جعله قرآناً أعجميًّا بلغة غير العرب؛ لاعترض المكذِّبون، وقالوا: {لولا فُصِّلَتْ آياتُه}؛ أي: هلاَّ بُيِّنت آياته ووُضِّحت وفُسِّرت، {أأعجميٌّ وعربيٌّ}؛ أي: كيف يكون محمدٌ عربيًّا والكتابُ أعجميًّا؟! هذا لا يكونُ. فنفى الله تعالى كلَّ أمر يكون فيه شبهةٌ لأهل الباطل عن كتابِهِ، ووصَفَه بكلِّ وصفٍ يوجب لهم الانقيادَ، ولكنِ المؤمنون الموفَّقون انتفعوا به وارتفعوا، وغيرُهم بالعكس من أحوالِهِم، ولهذا قال: {قل هو للذين آمنوا هُدىً وشفاءٌ}؛ أي: يهديهم لطريق الرشدِ والصراط المستقيم، ويعلِّمهم من العلوم النافعة ما به تحصُل الهداية التامَّةُ، وشفاءٌ لهم من الأسقام البدنيَّة والأسقام القلبيَّة؛ لأنَّه يزجر عن مساوئ الأخلاق وأقبح الأعمال، ويحث على التوبة النَّصوح التي تغسل الذُّنوب وتشفي القلب. {والذين لا يؤمنونَ}: بالقرآن {في آذانِهِم وقرٌ}؛ أي: صممٌ عن استماعه وإعراضٌ، {وهو عليهم عمىً}؛ أي: لا يبصرون به رشداً، ولا يهتدون به، ولا يزيدهم إلاَّ ضلالاً؛ فإنَّهم إذا ردُّوا الحقَّ؛ ازدادوا عمىً إلى عماهم وغيًّا إلى غيِّهم. {أولئك ينادَوْن من مكانٍ بعيدٍ}؛ أي: ينادون إلى الإيمان ويُدْعَوْن إليه فلا يستجيبون؛ بمنزلة الذي ينادَى وهو في مكان بعيدٍ، لا يسمع داعياً ولا يجيب منادياً. والمقصودُ أنَّ الذين لا يؤمنون بالقرآن لا ينتفعون بهُداه ولا يبصِرون بنورِهِ ولا يستفيدونَ منه خيراً؛ لأنَّهم سدُّوا على أنفسهم أبواب الهدى بإعراضهم وكفرِهم.