ترجمہ و تفسیر — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 43

مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدۡ قِیۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ وَّ ذُوۡ عِقَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۴۳﴾
تجھے نہیں کہا جائے گا مگر وہی جو ان رسولوں سے کہا گیا جو تجھ سے پہلے تھے اور بے شک تیرا رب یقینا بڑی بخشش والا اور بہت دردناک عذاب والا ہے۔ En
تم سے وہی باتیں کہیں جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے
En
آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، یقیناً آپ کا رب معافی واﻻ اور دردناک عذاب واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) ➊ { مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اگر کفار مکہ آپ کو جادوگر، شاعر، کاہن، دیوانہ، کذاب، متکبر یا اس قسم کے دوسرے ناموں سے یاد کرکے آپ کو ایذا دیتے ہیں تو آپ اطمینان رکھیں، ان کے رکھے ہوئے ناموں میں سے کوئی ایسی چیز نہیں جس کا طعنہ آپ سے پہلے رسولوں کو نہ مل چکا ہو، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور نہ پہلے شخص ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھانا پڑی ہو۔ سورۂ ذاریات میں فرمایا: «‏‏‏‏كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ (52) اَتَوَاصَوْا بِهٖ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ» [الذاریات: ۵۲، ۵۳] اسی طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے، کوئی رسول نہیں آیا مگر انھوں نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔ کیا انھوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سرکش لوگ ہیں۔ کفار کی ایسی تمام باتوں پر رسولوں نے صبر کیا اور پوری ہمت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے، یہی فریضہ آپ کا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ» ‏‏‏‏ [الأحقاف: ۳۵] پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کر۔
➋ { اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ: } یعنی اتنی ایذا اور بدزبانی کے باوجود اگر یہ لوگ توبہ کرکے ایمان لے آئیں تو تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے ({مَغْفِرَةٍ } کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) اور اگر اپنے کفر پر اصرار کریں تو وہ نہایت دردناک عذاب والا بھی ہے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں ان کی اس بد زبانی کا بدلا دینا آپ کا کام نہیں ہے، یہ ہمارا اختیار اور ہماری مرضی ہے کہ ہم انھیں ایمان کی توفیق سے نواز کر بخش دیں یا انھیں کفر پر رہنے دیں اور عذابِ الیم چکھائیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ اَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۲۸] تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں، یا وہ ان پر مہربانی فرمائے یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

43۔ 1 یعنی پچھلی قوموں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کے لئے جو کچھ کہا یہ ساحر ہیں، مجنون ہیں، کذاب ہیں وغیرہ وغیرہ، وہی کچھ کفار مکہ نے بھی آپ کو کہا۔ یہ گویا آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپکی تکذیب اور آپ کی سحر، کذب اور جنون کی طرف نسبت، نئی نہیں ہے، ہر پیغمبر کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52؀ۚ اَتَوَاصَوْا بِهٖ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ 53؀ۚ) 51۔ الزایات:53-52) دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کو بھی کہی گئی تھیں اس لیے کہ تمام شریعتیں ان باتوں پر متفق رہی ہیں بلکہ سب کی اولین دعوت ہی توحید و اخلاص تھی۔ (فتح القدیر)۔ 43۔ 2 یعنی اہل ایمان و توحید کے لئے جو مستحق مغفرت ہیں۔ 43۔ 3 ان کے لئے جو کافر اور اللہ کے پیغمبروں کے دشمن ہیں۔ یہ آیت بھی سورة حجر کی آیت کی طرح ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ آپ سے بھی وہی کچھ کہا جا رہا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں کو کہا [53] جا چکا ہے۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار معاف کر دینے والا بھی ہے۔ اور دردناک [54] عذاب دینے والا بھی۔
[53] رسولوں کو قوم سے کیا کچھ سننا پڑا؟
اس طرح کی آیات کا نزول وقتاً فوقتاً ہوا اور بارہا ہوا اور ہونا چاہئے بھی تھا۔ کیونکہ تیرہ سالہ دور نبوت سارے کا سارا ہی کفار کے ہاتھوں ایذا رسانیوں میں گزرا۔ جن کی ایک قسم استہزاء اور اعتراضات بھی تھے۔ استہزاء اللہ کی آیات سے ہوتا تھا۔ اللہ کے رسول سے بھی اور مسلمانوں سے بھی۔ مثلاً یہی کہ کیا یہی شخص اللہ کو رسالت کے لیے ملا تھا؟ یہ تو جادوگر ہے، کاہن، شاعر ہے مجنون ہے۔ اسی طرح یہ کہ اگر تم اپنے اس کام سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا مار ہی ڈالیں گے۔ یا یہ کہ تمہارے پیروکار کچھ کمینے اور رذیل سے آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ ہم تو ان کی موجودگی میں تمہارے پاس بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے چہ جائیکہ تمہاری باتیں سنیں۔ ایسی باتیں جو آپ کفار سے سنتے رہتے ہیں۔ پہلے رسولوں کو بھی یہ سب باتیں سننا پڑی تھیں۔
[54] یہ اللہ تعالیٰ کی صفت حلم اور عفو ہی ہے کہ وہ اپنے دین کی اور اپنے فرمانبردار بندوں کی اس طرح توہین ہوتے دیکھ کر بھی ان سے درگزر کئے جاتا اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے۔ ورنہ اس کے صاحب انتقام ہونے کا تو یہی تقاضا تھا کہ انہیں فوراً کسی دردناک عذاب سے تباہ کر ڈالتا۔ مگر وہ اس عذاب کو مؤخر کئے جا رہا ہے اور یہ سب کچھ اس کی مشیئت کے تحت ہو رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿مَا یُقَالُ لَكَ نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے بارے میں اے رسول! یہ اقوال جو آپ کی تکذیب کرنے والوں اور آپ سے عناد رکھنے والوں کی زبان سے صادر ہو رہے ہیں۔ ﴿اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ مگر وہی جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا یعنی یہ اقوال ان اقوال کی جنس سے ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہے گئے، بلکہ بسااوقات انھوں نے ایک جیسی بات کہی، مثلاً: انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی امتوں نے اخلاص للہ اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت پر تعجب کا اظہار کیا اور ہر ممکن طریقے سے اس دعوت کو رد کیا۔ وہ بھی کہتے تھے: ﴿مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُنَا (يٰسٓ:36؍15) تم ہماری ہی طرح بشر ہو۔ اسی طرح ان کا اپنے رسولوں سے معجزات کا مطالبہ کرنا جن کا دکھانا ان پر لازم نہ تھا اور اسی قسم کے دیگر الفاظ جو اہل تکذیب کی زبان سے صادر ہوئے۔ چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ تمام انبیاء و مرسلین نے کفار کی ایذا رسانی اور ان کی تکذیب پر صبر کیا اس لیے آپ بھی صبر کیجیے جس طرح آپ سے قبل انبیاء و مرسلین نے صبر کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو توبہ اور اسباب مغفرت کی طرف آنے کی دعوت دی اور انھیں اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے ڈرایا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ بے شک آپ کا رب معاف کردینے والا بھی ہے یعنی تیرا رب عظیم مغفرت کا مالک ہے جو اس شخص کے ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے جو توبہ کر کے گناہ سے رک جاتا ہے۔ ﴿وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ اور دردناک سزا دینے والا بھی ہے۔ اس شخص کے لیے دردناک عذاب ہے جو تکبر کرتے ہوئے گناہ پر اصرار کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {ما يُقالُ لك}: أيُّها الرسول من الأقوال الصادرةِ ممَّن كذَّبك وعاندك {إلاَّ ما قد قيل للرسل من قبلِكَ}؛ أي: من جنسها، بل ربَّما إنهم تكلَّموا بكلام واحدٍ؛ كتعجبِّ جميع الأمم المكذِّبة للرُّسل من دعوتهم إلى الإخلاص لله وعبادتِهِ وحدَه لا شريك له، وردِّهم هذا بكلِّ طريق يقدرون عليه، وقولهم: ما أنتم إلا بشرٌ مثلنا، واقتراحُهم على رسلهم الآياتِ التي لا يلزمُهُم الإتيانُ بها ... ونحو ذلك من أقوال أهل التكذيب؛ لما تشابهت قلوبهم في الكفر؛ تشابهتْ أقوالهم، وصَبَرَ الرسلُ عليهم السلام على أذاهم وتكذيبِهم؛ فاصْبِرْ كما صبر مَنْ قبلك.

ثم دعاهم إلى التوبةِ والإتيانِ بأسباب المغفرة، وحذَّرهم من الاستمرار على الغيِّ، فقال: {إنَّ ربَّك لذو مغفرةٍ}؛ أي: عظيمة يمحو بها كلَّ ذنب لمن أقلع وتاب، {وذو عقابٍ أليم}: لمن أصرَّ واستكبر.