تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
یہی وجہ ہے کہ پوری امت مل کر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجے کو نہیں پا سکتی، نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد آنے والے ان کے درجے تک پہنچ سکتے ہیں، یہی حال بعد میں دعوت الی اللہ دینے والوں کا ہے۔ پھر بات میں ان سے بہتر کون ہو سکتا ہے جسے ان اعمال کا اجر بھی مل رہا ہو جو اس نے نہیں کیے۔ کوئی شخص خود کتنا بھی عمل کر لے یہ مقام کیسے حاصل کر سکتا ہے؟
➋ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت زبان کے ساتھ بھی ہے اور ہاتھ کے ساتھ بھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے ساتھ تلوار دے کر بھیجا گیا، آپ کے اصحاب نے آپ کا ساتھ دیا، پھر زبانی دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ اسلام مشرق سے مغرب تک پھیل گیا۔ یہی مناسبت ہے: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا» [الفتح: ۲۸] کے بعد: «مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ …» [الفتح: ۲۹] میں۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۴، ۱۱۰)۔
➌ قول میں سب سے بہتر ہونے کے لیے دوسری ضروری بات {” وَ عَمِلَ صَالِحًا “} ہے، یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ وہ خود بھی عمل صالح کریں۔ صالح عمل کا مطلب یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کے لیے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ (دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت) جو شخص دوسروں کو دعوت دے مگر خود اس کے خلاف عمل کرے اس کے لیے شدید وعید آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۴)۔
➍ تیسری بات {” وَ قَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ “} یعنی وہ ڈنکے کی چوٹ یہودی، نصرانی، ہندو، سکھ، کمیونسٹ، ڈیموکریٹ اور لبرل وغیرہ ہونے کے بجائے اپنے مسلم ہونے کا اعلان کرے، اس پر فخر کرے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ {” مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ “} یعنی مسلمانوں کی جماعت کا فرد ہونے پر اسے خوشی ہو اور کسی دین، مذہب، ملت یا معاشرے کو اسلام اور مسلمانوں سے بہتر نہ سمجھے۔ آج کل کے بعض ملحدوں کی طرح نہیں جو مسلمانوں میں پیدا ہو گئے، مگر وہ کفار سے اس قدر مرعوب ہیں کہ بعض اوقات یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ہم بدقسمتی سے مسلمانوں میں پیدا ہو گئے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
نہ بہ نظم شاعرِ خوش غزل، نہ بہ نثرِ ناثرِ بے بدل
بہ غلامیٔ شہِ عزوجل و بعاشقیٔ نبی خوشم
”نہ کسی خوب صورت غزل والے شاعر کی نظم پر اور نہ کسی بے مثال نثر لکھنے والے کی نثر پر، بلکہ میں کائنات کے بادشاہ عز و جل کی غلامی پر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر خوش ہوں۔“
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ذَاقَ طَعْمَ الْإِيْمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللّٰهِ رَبًّا وَ بِالإِْسْلاَمِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا] [مسلم، الإیمان، باب الدلیل علٰی أن من رضي باللہ ربا…: ۳۴۔ ترمذي: ۲۶۲۳] ”اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے { قیامت کے دن مؤذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:387]
سنن میں ہے { امام ضامن ہے اور مؤذن امانتدار ہے اللہ تعالیٰ اماموں کو راہ راست دکھائے اور موذنوں کو بخشے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:517،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اذان دینے والوں کا حصہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مثل جہاد کرنے والوں کے حصے کے ہے۔ اذان و اقامت کے درمیان ان کی وہ حالت ہے جیسے کوئی جہاد میں راہ اللہ میں اپنے خون میں لوٹ پوٹ ہو رہا ہو۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اگر میں مؤذن ہوتا تو پھر مجھے حج و عمرے اور جہاد کی اتنی زیادہ پروانہ نہ رہتی۔“
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے { اگر میں مؤذن ہوتا تو میری آرزو پوری ہو جاتی۔ اور میں رات کے نفلی قیام کی اور دن کے نفلی روزوں کی اس قدر تگ ودو نہ کرتا۔ میں نے سنا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار موذنوں کی بخشش کی دعا مانگی۔ اس پر میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں ہمیں یاد نہ فرمایا حالانکہ ہم اذان کہنے پر تلواریں تان لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! لیکن اے عمر! ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ مؤذنی غریب مسکین لوگوں تک رہ جائے گا۔ سنو عمر جن لوگوں کا گوشت پوست جہنم پر حرام ہے ان میں مؤذن ہیں } }۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { اس آیت میں بھی موذنوں کی تعریف ہے اس کا «حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ» کہنا اللہ کی طرف بلانا ہے }۔ ۱؎ [ضعیف]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مؤذنوں کے بارے میں اتری ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ عمل صالح کرتا ہے اس سے مراد اذان و تکبیر کے درمیان دو رکعت پڑھنا ہے۔“
جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:624]
ایک حدیث میں ہے کہ { اذان و اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی }۔۱؎ [سنن ابوداود:521،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں ”یہی لوگ حبیب اللہ ہیں۔ یہی اولیاء اللہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ کی باتیں مان لیں پھر دوسروں سے منوانے لگے اور اپنے ماننے میں نیکیاں کرتے رہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے رہے یہاں اللہ کے خلیفہ ہیں، بھلائی اور برائی نیکی اور بدی برابر برابر نہیں بلکہ ان میں بے حد فرق ہے جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر اور اس کی برائی کو اس طرح دفع کر۔“
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”تیرے بارے میں جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمابرداری کر اس سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسا کرنے سے تیرا جانی دشمن دلی دوست بن جائے گا ‘، اس وصیت پر عمل اسی سے ہو گا جو صابر ہو نفس پر اختیار رکھتا ہو اور ہو بھی نصیب دار کہ دین و دنیا کی بہتری اس کی تقدیر میں ہو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایمان والوں کو اللہ کا حکم ہے کہ وہ غصے کے وقت صبر کریں اور دوسرے کی جہالت پر اپنی بردباری کا ثبوت دیں اور دوسرے کی برائی سے در گزر کر لیں ایسے لوگ شیطانی داؤ سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے دشمن بھی پھر تو ان کے دوست بن جاتے ہیں۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں فرماتے تھے { «أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ العَلِيم مِنَ الشَّیطانِ الرَّجِيمِ مِن هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ومِنْ هَمَزَاتِ الشّيَاطِينِ وَأَعُوذَ بَكَ رَبِّي أَنْ يَحْضُرُونِ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:775،قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس مقام جیسا ہی مقام صرف سورۂ اعراف میں ہے جہاں ارشاد ہے «خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:199]، اور سورۃ مومنین کی آیت «اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ» ۱؎ [23-المؤمنون:96]، میں حکم ہوا ہے کہ ’ در گزر کرنے کی عادت ڈالو اور اللہ کی پناہ میں آ جایا کرو برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا کرو ‘ وغیرہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا استفهامٌ بمعنى النفي المتقرِّر؛ أي: لا أحد {أحسنُ قولاً}؛ أي: كلاماً وطريقةً وحالة {ممَّن دعا إلى الله}: بتعليم الجاهلين، ووعظ الغافلين والمعرِضين، ومجادلةِ المبطِلين؛ بالأمر بعبادة الله بجميع أنواعها، والحثِّ عليها، وتحسينها مهما أمكن، والزجر عما نهى الله عنه، وتقبيحِهِ بكلِّ طريق يوجب تركَه، خصوصاً من هذه الدعوة إلى أصل دين الإسلام وتحسينه، ومجادلة أعدائِهِ بالتي هي أحسن، والنهي عما يضادُّه من الكفرِ والشرك، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر. ومن الدعوة إلى الله تحبيبُهُ إلى عبادِهِ؛ بذِكْر تفاصيل نِعَمِهِ وسعةِ جودِهِ وكمال رحمتِهِ وذكرِ أوصاف كمالِهِ ونعوت جلاله.
ومن الدعوة إلى الله الترغيبُ في اقتباس العلم والهدى من كتاب الله وسنَّة رسوله، والحثُّ على ذلك بكلِّ طريق موصل إليه. ومن ذلك الحثُّ على مكارم الأخلاق، والإحسانُ إلى عموم الخلق، ومقابلةُ المسيء بالإحسان، والأمرُ بصلة الأرحام وبرِّ الوالدين. ومن ذلك الوعظُ لعموم الناس في أوقات المواسم والعوارض والمصائب بما يناسبُ ذلك الحال، إلى غير ذلك ممَّا لا تنحصر أفرادُه بما يشمله الدعوة إلى الخير كله، والترهيبُ من جميع الشرِّ.
ثم قال تعالى: {وعمل صالحاً}؛ أي: مع دعوته الخلق إلى الله بادَرَ هو بنفسِهِ إلى امتثال أمرِ الله بالعمل الصالح الذي يُرضي ربَّه، {وقال إنَّني من المسلمين}؛ أي: المنقادين لأمره، السالكين في طريقه، وهذه المرتبةُ تمامها للصدِّيقين الذين عملوا على تكميل أنفسِهم وتكميل غيرِهم وحصلت لهم الوراثةُ التامَّةُ من الرسل؛ كما أنَّ من أشرِّ الناس قولاً من كان من دعاة الضَّلال السالكين لسُبُله، وبين هاتين المرتبتين المتباينتين، التي ارتفعتْ إحداهما إلى أعلى علِّيين، ونزلت الأخرى إلى أسفل سافلين، مراتبُ لا يعلمُها إلاَّ الله، وكلها معمورةٌ بالخلق، ولكلٍّ درجاتٌ مما عملوا، وما ربُّك بغافل عما يعملون.