وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾
اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
En
اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے
En
اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 60) ➊ { وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ …:} آخرت کی یاد دہانی کے ساتھ ہی توحید کی تاکید فرمائی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار کے درمیان جھگڑے کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ آیت کے آخر میں جہنم کے ذکر کی صورت میں آخرت کا تذکرہ بھی فرما دیا۔
➋ ”دعا“ کا واحد حق دار ہونے کی دلیل کے طور پر اپنا تعارف {” رَبُّكُمْ“} (تمھارا رب) کے لفظ کے ساتھ کروایا کہ {” ادْعُوْنِيْۤ “} (مجھے پکارو) کا حکم تمھیں وہ دے رہا ہے جو ہر لمحے کسی کی شرکت کے بغیر تمھاری پرورش کر رہا ہے اور تمھاری ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔
➌ تمھارے رب نے فرمایا، تم مجھے پکارو، مجھ سے مانگو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا، میں تمھیں دوں گا۔ نہ مجھ سے بدگمان ہو، نہ کسی اور کو پکارتے یا اس سے مانگتے پھرو، یہ سمجھ کر کہ وہ تمھیں کچھ دے گا، یا تمھاری درخواستیں میرے دربار سے منظور کروا دے گا۔
➍ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، مگر دوسری جگہ قبولیت کے وعدے کے ساتھ کچھ شرطیں بھی ذکر فرمائیں، فرمایا: «وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ» [البقرۃ: ۱۸۶] ”اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ دعا تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں ضرور قبول ہوتی ہے، یا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا جلد قبول کر لیتا ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کر لیتا ہے، یا اس سے اتنی برائی ٹال دیتا ہے۔ [دیکھیے مسند أحمد: 18/3، ح: ۱۱۱۳۹، صحیح] دعا کی قبولیت کی شرطوں اور صورتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۸۶) کی تفسیر۔
➎ { اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ:} یہ جملہ دلیل ہے کہ دعا ہی عبادت اور پکارنا ہی بندگی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس سے فریاد کرتا ہے وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور جو مافوق الاسباب اشیاء کے لیے اس کے سوا کسی اور کو پکارتا ہے، یعنی ”یا علی مدد“ کہتا ہے، {” يَا شَيْخُ عَبْدَ الْقَادِرِ جِيْلَانِيْ شَيْئًا لِلّٰهِ “} کہتا ہے، بہاؤ الحق یا کسی خود ساختہ داتا، دستگیر، گنج بخش یا غریب نواز کو پکارتا ہے اور ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانے کی درخواست کرتا ہے، درحقیقت وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے، جو اس کے ہاں ناقابلِ معافی ہے۔ یہ کہنا کہ ہم ان بزرگ ہستیوں کو صرف پکارتے ہیں، ان کی عبادت نہیں کرتے، سراسر دھوکا ہے، جو مشرک اپنے آپ کو اور اللہ کے بندوں کو دے رہے ہیں، کیونکہ پکارنا ہی تو عبادت ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ» کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ] ”پکارنا ہی بندگی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ البقرۃ: ۲۹۶۹، و قال الألباني صحیح]
➏ { اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ …:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کے منکروں کے جھگڑے اور کج بحثی کا سبب بیان فرمایا تھا کہ وہ محض ان کے دلوں کا کبر اور جھوٹی بڑائی ہے جو انھیں کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اب فرمایا کہ جو لوگ اس کبر میں مبتلا ہیں، میری آیات اور میرے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور مجھ سے دعا نہیں کرتے وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ دنیا میں وہ جس قدر اونچے بنتے تھے قیامت کے دن اتنے ہی ذلیل و حقیر ہوں گے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا، نہ مانگنا غرور ہے۔ اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے۔“ (موضح)
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَيُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَهَنَّمَ يُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِيْنَةِ الْخَبَالِ] [ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق، باب ما جاء في شدۃ الوعید للمتکبرین: ۲۴۹۲، و قال الألباني حسن] ”تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا، ہر طرف سے ذلت انھیں ڈھانک رہی ہو گی، پھر انھیں جہنم میں ایک قید خانے کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا، جس کا نام ”بولس“ ہے۔ ان پر آگوں کی آگ چڑھ رہی ہو گی، انھیں جہنمیوں کے جسموں سے نکلنے والا لہو اور پیپ پلائی جائے گی۔“ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے کہ اس سے مانگا جائے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهُ مَنْ لَّمْ يَسْأَلِ اللّٰهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ] [ترمذي، الدعوات، باب منہ: ۳۳۷۳، و حسنہ الألباني] ”جو اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہو جاتا ہے۔“ کیا خوب کہا ہے کہنے والے نے:
{اَللّٰهُ يَغْضَبُ إِنْ تَرَكْتَ سُؤَالَهُ
وَ تَرَي ابْنَ آدَمَ حِيْنَ يُسْأَلُ يَغْضَبُ}
”اللہ تعالیٰ غصے ہوتا ہے اگر تو اس سے مانگنا چھوڑ دے اور تو ابنِ آدم کو دیکھے گا کہ جب اس سے مانگا جائے غصے ہوتا ہے۔“
➋ ”دعا“ کا واحد حق دار ہونے کی دلیل کے طور پر اپنا تعارف {” رَبُّكُمْ“} (تمھارا رب) کے لفظ کے ساتھ کروایا کہ {” ادْعُوْنِيْۤ “} (مجھے پکارو) کا حکم تمھیں وہ دے رہا ہے جو ہر لمحے کسی کی شرکت کے بغیر تمھاری پرورش کر رہا ہے اور تمھاری ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔
➌ تمھارے رب نے فرمایا، تم مجھے پکارو، مجھ سے مانگو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا، میں تمھیں دوں گا۔ نہ مجھ سے بدگمان ہو، نہ کسی اور کو پکارتے یا اس سے مانگتے پھرو، یہ سمجھ کر کہ وہ تمھیں کچھ دے گا، یا تمھاری درخواستیں میرے دربار سے منظور کروا دے گا۔
➍ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، مگر دوسری جگہ قبولیت کے وعدے کے ساتھ کچھ شرطیں بھی ذکر فرمائیں، فرمایا: «وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ» [البقرۃ: ۱۸۶] ”اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ دعا تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں ضرور قبول ہوتی ہے، یا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا جلد قبول کر لیتا ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کر لیتا ہے، یا اس سے اتنی برائی ٹال دیتا ہے۔ [دیکھیے مسند أحمد: 18/3، ح: ۱۱۱۳۹، صحیح] دعا کی قبولیت کی شرطوں اور صورتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۸۶) کی تفسیر۔
➎ { اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ:} یہ جملہ دلیل ہے کہ دعا ہی عبادت اور پکارنا ہی بندگی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس سے فریاد کرتا ہے وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور جو مافوق الاسباب اشیاء کے لیے اس کے سوا کسی اور کو پکارتا ہے، یعنی ”یا علی مدد“ کہتا ہے، {” يَا شَيْخُ عَبْدَ الْقَادِرِ جِيْلَانِيْ شَيْئًا لِلّٰهِ “} کہتا ہے، بہاؤ الحق یا کسی خود ساختہ داتا، دستگیر، گنج بخش یا غریب نواز کو پکارتا ہے اور ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانے کی درخواست کرتا ہے، درحقیقت وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے، جو اس کے ہاں ناقابلِ معافی ہے۔ یہ کہنا کہ ہم ان بزرگ ہستیوں کو صرف پکارتے ہیں، ان کی عبادت نہیں کرتے، سراسر دھوکا ہے، جو مشرک اپنے آپ کو اور اللہ کے بندوں کو دے رہے ہیں، کیونکہ پکارنا ہی تو عبادت ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ» کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ] ”پکارنا ہی بندگی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ البقرۃ: ۲۹۶۹، و قال الألباني صحیح]
➏ { اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ …:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کے منکروں کے جھگڑے اور کج بحثی کا سبب بیان فرمایا تھا کہ وہ محض ان کے دلوں کا کبر اور جھوٹی بڑائی ہے جو انھیں کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اب فرمایا کہ جو لوگ اس کبر میں مبتلا ہیں، میری آیات اور میرے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور مجھ سے دعا نہیں کرتے وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ دنیا میں وہ جس قدر اونچے بنتے تھے قیامت کے دن اتنے ہی ذلیل و حقیر ہوں گے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا، نہ مانگنا غرور ہے۔ اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے۔“ (موضح)
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَيُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَهَنَّمَ يُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِيْنَةِ الْخَبَالِ] [ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق، باب ما جاء في شدۃ الوعید للمتکبرین: ۲۴۹۲، و قال الألباني حسن] ”تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا، ہر طرف سے ذلت انھیں ڈھانک رہی ہو گی، پھر انھیں جہنم میں ایک قید خانے کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا، جس کا نام ”بولس“ ہے۔ ان پر آگوں کی آگ چڑھ رہی ہو گی، انھیں جہنمیوں کے جسموں سے نکلنے والا لہو اور پیپ پلائی جائے گی۔“ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے کہ اس سے مانگا جائے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهُ مَنْ لَّمْ يَسْأَلِ اللّٰهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ] [ترمذي، الدعوات، باب منہ: ۳۳۷۳، و حسنہ الألباني] ”جو اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہو جاتا ہے۔“ کیا خوب کہا ہے کہنے والے نے:
{اَللّٰهُ يَغْضَبُ إِنْ تَرَكْتَ سُؤَالَهُ
وَ تَرَي ابْنَ آدَمَ حِيْنَ يُسْأَلُ يَغْضَبُ}
”اللہ تعالیٰ غصے ہوتا ہے اگر تو اس سے مانگنا چھوڑ دے اور تو ابنِ آدم کو دیکھے گا کہ جب اس سے مانگا جائے غصے ہوتا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
60۔ 1 گزشتہ آیت میں جب اللہ نے وقوع قیامت کا تذکرہ فرمایا تو اب اس آیت میں ایسی راہنمائی دی جا رہی ہے، جسے اختیار کر کے انسان آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہو سکے، اس آیت میں دعا سے اکثر مفسرین نے عبادت مراد لی ہے یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ جیسا کہ حدیث میں میں بھی دعا کو عبادت بلکہ عبادت کا مغز قرار دیا گیا، بعض کہتے ہیں کہ دعا سے مراد دعا ہی ہے۔ یعنی اللہ سے جلب نفع اور دفع ضرر کا سوال کرنا، کیونکہ دعا کے شرعی اور حقیقی معنی طلب کرنے کے ہیں، دوسرے مفہوم میں اس کا استعمال مجازی ہے۔ علاوہ ازیں دعا بھی اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے اور حدیث مذکورہ کی رو سے بھی عبادت ہے کیونکہ مافوق الاسباب طریقے سے کسی کو حاجت روائی کے لئے پکارنا اس کی عبادت ہے اور عبادت اللہ کے سوا کسی کی جائز نہیں۔ 60۔ 2 یہ اللہ کی عبادت سے انکار و اعراض یا اس میں دوسروں کو بھی شریک کرنے والوں کا انجام ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
60۔ آپ کے پروردگار نے فرمایا ہے: ”مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ناک بھوں چڑھاتے [78] ہیں عنقریب ذلیل و خوار [79] ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
[78] دعا اور عبادت ایک ہی چیز ہے بلکہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دعا یا کسی کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا اور عبادت ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس آیت کے پہلے جملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے پکارا کرو میں تمہاری پکار کو قبول کرتا ہوں اور دوسرے جملہ میں فرمایا کہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں۔ جو اس آیت پر واضح دلیل ہے کہ دعا اور عبادت ایک ہی چیز ہے پھر اس مفہوم کی تائید احادیث صحیحہ سے بھی ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الدعاء هو العبادة» (یعنی پکارنا ہی اصل عبادت ہے) اور ایک مرتبہ یوں فرمایا: «الدعاء مخ العبادة» (یعنی دعا ہی عبادت کا مغز یا اصل عبادت ہے) [ترمذي، ابواب التفسير زير آيت هذا] دعا عبادت کیسے ہے؟
اب ہم یہ دیکھیں گے کہ دعا عبادت کیسے ہے؟ دعا کرنے والا دعا اس وقت کرتا ہے جب کسی چیز کے حصول یا کسی مصیبت کے دفعیہ کے ظاہری اسباب مفقود ہوں۔ اور جس کو پکارتا ہے وہ یہ سمجھ کر پکارتا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے میری پکار کو سن رہا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ اس کا باطنی اسباب پر اتنا تصرف ضرور ہے کہ وہ میری تکلیف کو رفع کر سکتا ہے یا میری حاجت پوری کر سکتا ہے۔ گویا پکاری جانے والی ہستی کا ایک تو عالم الغیب نیز سمیع و بصیر ہونا ضروری ہوا۔ اور یہ صفت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی نہیں ہو سکتی۔ دوسرے جب تک اسباب کائنات میں اس کا تصرف تسلیم نہ کیا جائے اس سے دعا کرنا ایک فعل عبث قرار پاتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات کو کسی دوسری ہستی میں تسلیم کرنا اسے اللہ کا ہمسر یا شریک سمجھنا ہے اور یہی چیز عین شرک ہے۔ اور جس شخص نے اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کو الوہیت کا یہ مقام دے دیا تو وہ اس کے مقابلہ میں از خود بندگی کے مقام پر اتر آیا گویا پکاری جانے والی ہستی اس کی معبود بن گئی اور یہ پکارنے والا عبادت گزار اور اس کی پکار عین عبادت ہوئی۔ اللہ مانگنے سے خوش اور نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے اور یہی عبادت کا خاصہ ہے: واضح رہے کہ انسان اللہ سے دعا کرتا ہے اور وہ کبھی قبول ہوتی ہے کبھی نہیں ہوتی، کبھی بہت مدت بعد جا کر ہوتی ہے تو اس کے کچھ آداب ہیں اور کچھ اسباب ہیں اور کچھ موانع ہیں۔ جن کی تفصیل احادیث میں مذکور ہے۔ یہاں صرف یہ بات ذہن نشین کرانا مطلوب ہے کہ دعا قبول نہ بھی ہو تو بھی اس کا بہت فائدہ ہے۔ کیونکہ دعا بذات خود عبادت ہے۔ اور جتنی دیر اس نے دعا مانگنے میں لگائی وہ مدت گویا اس نے عبادت ہی میں گزار دی۔ لہٰذا ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم اللہ سے دعا مانگتے رہیں۔ مانگتے رہیں۔ اس کا قبول کرنا نہ کرنا، یا بدیر قبول کرنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سے مانگنا اور مانگتے رہنا عین تقاضائے بندگی ہے۔ اور جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا تو یہ بات عبادت سے انکار یا تکبر کی علامت ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ مانگنے سے خوش اور نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے اور یہ سب مفہوم عبادت کے لفظ میں شامل ہیں۔
[79] یہ ان کے تکبر کی سزا ہو گی۔ قیامت کے دن خوب جوتے کھائیں گے اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔
[79] یہ ان کے تکبر کی سزا ہو گی۔ قیامت کے دن خوب جوتے کھائیں گے اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دعا کی ہدایت اور قبولیت کا وعدہ ٭٭
اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان پر قربان جائیں کہ وہ ہمیں دعا کی ہدایت کرتا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے اے وہ اللہ جسے وہ بندہ بہت ہی پیارا لگتا ہے جو بکثرت اس سے دعائیں کیا کرے۔ اور وہ بندہ اسے سخت برا معلوم ہوتا ہے جو اس سے دعا نہ کرے۔ اے میرے رب یہ صفت تو صرف تیری ہی ہے۔ شاعر کہتا ہے «اللہ یغضب ان ترکت سوالہ وبنی ادم حین یسال یغضب» یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جب تو اس سے نہ مانگے تو وہ ناخوش ہوتا ہے اور انسان کی یہ حالت ہے کہ اس سے مانگو تو وہ روٹھ جاتا ہے۔ حضرت کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کو تین چیزیں ایسی دی گئی ہیں کہ ان سے پہلے کی کسی امت کو نہیں دی گئیں بجز نبی علیہ السلام کے۔
دیکھو ہر نبی علیہ السلام کو اللہ کا فرمان یہ ہوا ہے کہ تو اپنی امت پر گواہ ہے۔ لیکن تمام لوگوں پر گواہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کیا ہے۔ اگلے نبیوں سے کہا جاتا تھا کہ تجھ پر دین میں حرج نہیں۔ لیکن اس امت سے فرمایا گیا کہ تمہارے دین میں تم پر کوئی حرج نہیں ہر نبی علیہ السلام سے کہا جاتا تھا کہ مجھے پکار میں تیری پکار قبول کروں گا لیکن اس امت کو فرمایا گیا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار قبول فرماؤں گا۔ [ابن ابی حاتم]
دیکھو ہر نبی علیہ السلام کو اللہ کا فرمان یہ ہوا ہے کہ تو اپنی امت پر گواہ ہے۔ لیکن تمام لوگوں پر گواہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کیا ہے۔ اگلے نبیوں سے کہا جاتا تھا کہ تجھ پر دین میں حرج نہیں۔ لیکن اس امت سے فرمایا گیا کہ تمہارے دین میں تم پر کوئی حرج نہیں ہر نبی علیہ السلام سے کہا جاتا تھا کہ مجھے پکار میں تیری پکار قبول کروں گا لیکن اس امت کو فرمایا گیا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار قبول فرماؤں گا۔ [ابن ابی حاتم]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا چار خصلتیں ہیں جن میں سے ایک میرے لیے ہے ایک تیرے لیے ایک تیرے اور میرے درمیان اور ایک تیرے درمیان اور میرے دوسرے بندوں کے درمیان۔ جو خاص میرے لیے ہے وہ تو یہ کہ صرف میری ہی عبادت کر اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر۔ اور جو تیرا حق مجھ پر ہے وہ یہ کہ تیرے ہر عمل خیر کا بھرپور بدلہ میں تجھے دوں گا۔ اور جو تیرے میرے درمیان ہے وہ یہ کہ تو دعا کر اور میں قبول کیا کروں۔ اور چوتھی خصلت جو تیرے اور میرے اور دوسرے بندوں کے درمیان ہے وہ یہ کہ تو ان کیلئے وہ چاہ جو اپنے لیے پسند رکھتا ہے۔[مسند ابویعلیٰ:2757:ضعیف]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دعا عین عبادت ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔[مسند احمد:267/4:صحیح] یہ حدیث سنن میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2969،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن حبان اور حاکم بھی اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں۔
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دعا عین عبادت ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔[مسند احمد:267/4:صحیح] یہ حدیث سنن میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2969،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن حبان اور حاکم بھی اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں۔
مسند میں ہے جو شخص اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔ [مسند احمد:443/2:صحیح]
سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی موت کے بعد ان کی تلوار کے درمیان میں سے ایک پرچہ نکلا جس میں تحریر تھا کہ تم اپنے رب کی رحمتوں کے مواقع کو تلاش کرتے رہو بہت ممکن ہے کہ کسی ایسے وقت تم دعائے خیر کرو کہ اس وقت رب کی رحمت جوش میں ہو اور تمہیں وہ سعادت مل جائے جس کے بعد کبھی بھی حسرت و افسوس نہ کرنا پڑے۔ (الرامھرمزی فئ المحدث الفاصل بین الراوی والواعی[ص:497]،[برقم:615:ضعیف)
آیت میں عبادت سے مراد دعا اور توحید ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن متکبر لوگ چونٹیوں کی شکل میں جمع کئے جائیں گے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ان کی اوپر ہو گی انہیں بولس نامی جہنم کے جیل خانے میں ڈالا جائے گا اور بھڑکتی ہوئی سخت آگ ان کے سروں پر شعلے مارے گی۔ انہیں جہنمیوں کا لہو پیپ اور پاخانہ پیشاب پلایا جائے گا۔[مسند احمد:179/2:صحیح]
سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی موت کے بعد ان کی تلوار کے درمیان میں سے ایک پرچہ نکلا جس میں تحریر تھا کہ تم اپنے رب کی رحمتوں کے مواقع کو تلاش کرتے رہو بہت ممکن ہے کہ کسی ایسے وقت تم دعائے خیر کرو کہ اس وقت رب کی رحمت جوش میں ہو اور تمہیں وہ سعادت مل جائے جس کے بعد کبھی بھی حسرت و افسوس نہ کرنا پڑے۔ (الرامھرمزی فئ المحدث الفاصل بین الراوی والواعی[ص:497]،[برقم:615:ضعیف)
آیت میں عبادت سے مراد دعا اور توحید ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن متکبر لوگ چونٹیوں کی شکل میں جمع کئے جائیں گے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ان کی اوپر ہو گی انہیں بولس نامی جہنم کے جیل خانے میں ڈالا جائے گا اور بھڑکتی ہوئی سخت آگ ان کے سروں پر شعلے مارے گی۔ انہیں جہنمیوں کا لہو پیپ اور پاخانہ پیشاب پلایا جائے گا۔[مسند احمد:179/2:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ایک بزرگ فرماتے ہیں میں ملک روم میں کافروں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو گیا تھا ایک دن میں نے سنا کہ ہاتف غیب ایک پہاڑ کی چوٹی سے بہ آواز بلند کہہ رہا ہے۔ اے اللہ! اس پر تعجب ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے تیرے سوا دوسرے کی ذات سے امیدیں وابستہ رکھتا ہے۔ اے اللہ! اس پر بھی تعجب ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے اپنی حاجتیں دوسروں کے پاس لے جاتا ہے۔ پھر ذرا ٹھہر کر ایک پر زور آواز اور لگائی اور کہا پورا تعجب اس شخص پر ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے دوسرے کی رضا مندی حاصل کرنے کیلئے وہ کام کرتا ہے جن سے تو ناراض ہو جائے۔ یہ سن کر میں نے بلند آواز سے پوچھا کہ تو کوئی جن ہے یا انسان؟ جواب آیا کہ انسان ہوں۔ تو ان کاموں سے اپنا دھیان ہٹا لے جو تجھے فائدہ نہ دیں۔ اور ان کاموں میں مشغول ہو جاؤ جو تیرے فائدے کے ہیں۔