تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا:} اس جملے میں احتباک ہے، یعنی دو جملوں کا ایک ایک حصہ دوسرے جملے کے قرینے کی وجہ سے حذف کر دیا ہے، جو کلام کے کمال جامعیت اور بلاغت کا آئینہ دار ہے۔ مفصل عبارت یوں تھی: {” اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ مُظْلِمًا لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا لِتَعْمَلُوْا فِيْهِ “} یعنی ”اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے رات کو تاریک بنا دیا، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا، تاکہ تم اس میں کام کرو۔“ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ نعمت متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے یاد کروائی ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۷)، فرقان (۴۷)، بنی اسرائیل (۱۲)، قصص (۷۱ تا ۷۳) اور لقمان (۲۹)۔
➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ: ” لَذُوْ فَضْلٍ “} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو کچھ عطا فرمایا ہے (زمین و آسمان، رات، دن، سورج، چاند اور خود ان کا وجود وغیرہ) وہ ان کا اللہ پر کوئی حق یا قرض نہیں بلکہ محض اس کا فضل ہے اور فضل بھی بہت بڑا کہ اس نے انھیں ضرورت کی ہر چیز بخشی، فرمایا: «وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا» [إبراہیم: ۳۴] ”اور تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے۔“ پھر انھیں عقل و تمیز عطا فرما کر مہلت بخشی اور نافرمانیوں کے باوجود فوراً گرفت نہیں فرمائی۔ مومن و کافر سب کو نعمتوں سے نوازتا ہے۔ یہ سب اس اکیلے کی پیدا کردہ اور عطا کردہ نعمتیں ہیں۔
➍ {وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ:} جب اس اکیلے نے رات دن کا یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں، کسی اور کا ان میں ذرہ برابر دخل نہیں، تو حق تو یہ تھا کہ اس کا شکر ادا کرتے، صرف اسی کو اپنا رب مانتے، اسی سے دعا کرتے اور اس کی آیات اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے، مگر ایسے لوگ بہت کم نکلے۔ اکثر لوگ ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتے، بلکہ مالک کے ساتھ شریک بنا کر اس کی ناشکری اور غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر روز انھیں نیند اور بیداری کی صورت میں موت کے بعد زندگی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ حق یہ تھا کہ اس روزانہ کے موت وحیات کے مشاہدے کے بعد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے تمام مخلوق کو زندہ کرنے کی قدرت پر ایمان رکھتے اور اس دن کے لیے تیاری کرتے، مگر انھوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر نہیں کیا، بلکہ ناشکری کی اور قیامت کے انکار پر جمے رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[81] یعنی اللہ تعالیٰ کی تو انسان پر اس قدر عنایات ہیں۔ مگر انسان ایسا ناشکرا اور نمک حرام واقع ہوا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» پڑھنے والے کو ساتھ ہی «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ اس آیت پر عمل ہو جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہی جب تک «فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» پڑھے تو «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ لیا کر۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقوله تعالى: {الله الذي جعل لكم الليل}؛ أي: لأجلكم جعل الله الليل مظلماً، {لتسكنوا فيه}: من حركاتكم التي لو استمرَّت لضرَّت؛ فتأوون إلى فرشكم، ويلقي الله عليكم النوم الذي يستريحُ به القلبُ والبدنُ، وهو من ضروريات الآدميِّ، لا يعيش بدونه، ويسكن فيه أيضاً كلُّ حبيب إلى حبيبه، ويجتمع الفكر، وتقلُّ الشواغل. {و} جعل تعالى {النهار مبصراً}: منيراً بالشمس المستمرَّة في الفلك، فتقومون من فرشكم إلى أشغالِكم الدينيَّة والدنيويَّة؛ هذا لذكرِهِ وقراءته، وهذا لصلاته، وهذا لطلبه العلم ودراستِهِ، وهذا لبيعه وشرائه، وهذا لبنائه أو حدادته أو نحوها من الصناعات، وهذا لسفرِهِ برًّا وبحراً، وهذا لفلاحته، وهذا لتصليح حيواناته. {إنَّ الله لَذو فضل}؛ أي: عظيم كما يدلُّ عليه التنكيرُ {على الناس}: حيث أنعم عليهم بهذه النعم وغيرها، وصرف عنهم النقم، وهذا يوجبُ عليهم تمام شكره وذكره. {ولكنَّ أكثر الناس لا يشكرونَ}: بسبب جهلهم وظلمهم. {وقليلٌ من عبادي الشكورُ}، الذين يقرُّون بنعمة ربِّهم ويخضعون لله ويحبُّونه، ويصرفونها في طاعة مولاهم ورضاه.