ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 14

فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾
پس اللہ کو پکا رو، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہو، اگرچہ کافر برا مانیں۔ En
تو خدا کی عبادت کو خالص کر کر اُسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں
En
تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) ➊ {فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ: الدِّيْنَ } کا معنی عبادت بھی ہے اور اطاعت بھی۔ یعنی جب تمھاری روزی کا مالک وہی ہے تو اپنی عبادت اور اطاعت کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارو، اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔
➋ { وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ:} یعنی تمھارے اللہ واحد کو پکارنے سے کافر و مشرک ناک بھوں چڑھائیں گے، سو تم ایک اللہ کی عبادت و اطاعت پر قائم رہو، خواہ کافر اسے کتنا ہی ناپسند کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 یعنی جب سب کچھ اللہ ہی اکیلا کرنے والا ہے تو کافروں کو چاہے کتنا بھی ناگوار گزرے صرف اسی ایک اللہ کو پکارو اس کے لیے عبادت و اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ لہٰذا اللہ کو خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے پکارا کرو اگرچہ کافر اسے برا [17] ہی مانیں۔
[17] کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے حکم کے تحت سرگرم عمل ہیں :۔
ان آیات الٰہی میں غور کرنے سے یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے زبردست کنٹرول کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ لہٰذا تمہیں بھی خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کر کے باقی ساری کائنات کے ہم آہنگ ہو جانا چاہئے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کی ان قدرتوں میں غور و فکر گوارا ہی نہیں کرتے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان کی آنکھوں پر غفلت، تعصب اور تقلید آباء کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ اور انہی باتوں میں مگن رہنے میں ہی وہ خوشی محسوس کرتے ہیں اور انگر انہیں حقائق کی طرف توجہ دلائی جائے تو ان کا تسلیم کرنا تو درکنار، انہیں اس طرف توجہ دلانا بھی ناگوار محسوس ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔