تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{” رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ “} میں {” رَفِيْعُ “} کو اگر متعدی مانا جائے تو معنی ہو گا، وہ درجوں کو بہت بلند کرنے والا ہے، جیسا کہ فرمایا: «نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ» [یوسف: ۷۶] ”ہم جسے چاہتے ہیں درجوں میں بلند کر دیتے ہیں۔“
➋ {يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ:” الرُّوْحَ “} سے مراد یہاں ”وحی “ ہے، جیسا کہ فرمایا: «يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [النحل: ۲] ”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔“ مزید تشریح سورۂ نحل کی اس آیت کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➌ { لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ: ” التَّلَاقِ “ ” لَقِيَ يَلْقٰي“} (ع) سے باب تفاعل کا مصدر ہے، اصل میں {”تَلَاقِيْ“} ہے، ایک دوسرے سے ملنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی اس لیے نازل فرماتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ مراد قیامت کا دن ہے، جس میں جانیں جسموں کے ساتھ ملیں گی اور سب لوگ ایک دوسرے سے ملیں گے۔ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کی جزا سے ملے گا، ظالم و مظلوم ملیں گے، آسمان والے فرشتے زمین کے انسانوں سے ملیں گے اور مخلوق خالق سے ملے گی، جو ان کا حساب لے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[19] (روح کے مختلف معانی کے لئے دیکھئے سورۃ النحل کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 3) مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اپنے کسی بندے پر وحی بھیجنے کے سلسلہ میں تمہارے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی تم وحی کے ٹھیکیدار ہو کہ تمہاری مرضی کے خلاف اللہ تعالیٰ کسی کی طرف وحی نہ بھیج سکے۔ وہ خالصتاً اپنی مرضی اور اپنی صوابدید کے مطابق جس پر چاہتا ہے اپنی وحی نازل فرماتا ہے۔
[20] ملاقات سے مراد بندے کی اپنے پروردگار سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔ اور جنوں، انسانوں اور شیطانوں کی ایک دوسرے سے بھی۔ قیامت کے دن سب کی ایک دوسرے سے ملاقات ہو جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [16- النحل: 2]، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26- الشعراء: 194-192] یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔
صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔[صحیح مسلم:2577]
پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» [31- لقمان: 28] یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [54- القمر: 50] یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ من جلاله وكماله ما يقتضي إخلاص العبادة له، فقال: {رفيع الدرجات ذو العرش}؛ أي: العلي الأعلى، الذي استوى على العرش واختصَّ به وارتفعتْ درجاتُه ارتفاعاً بايَنَ به مخلوقاتِهِ وارتفع به قدرُهُ وجلَّت أوصافُهُ وتعالت ذاتُه أن يتقرَّب إليه إلا بالعمل الزكي الطاهر المطهَّر، وهو الإخلاص الذي يرفع درجات أصحابه ويقرِّبهم إليه ويجعلهم فوق خلقِهِ. ثم ذكر نعمته على عباده بالرسالة والوحي، فقال: {يُلقي الرُّوحَ}؛ أي: الوحي الذي للأرواح والقلوب بمنزلة الأرواح للأجساد؛ فكما أنَّ الجسد بدون الروح لا يحيا ولا يعيش؛ فالروح والقلب بدون روح الوحي لا يَصْلُحُ ولا يفلحُ؛ فهو تعالى {يُلْقي الرُّوحَ من أمرِهِ}: الذي فيه نفع العباد ومصلحتهم {على مَن يشاءُ من عبادِهِ}: وهم الرسل الذين فضَّلهم، واختصَّهم لوحيه ودعوة عباده.
والفائدة في إرسال الرسل هو تحصيل سعادة العبادِ في دينهم ودنياهم وآخرتهم، وإزالة الشقاوة عنهم في دينهم ودنياهم وآخرتهم، ولهذا قال: {لِيُنذِرَ}: من ألقى الله إليه الوحي {يَوْمَ التَّلاقِ}؛ أي: يخوِّف العباد بذلك ويحثهم على الاستعداد له بالأسباب المنجية مما يكون فيه؛ وسمَّاه يوم التلاق لأنَّه يلتقي فيه الخالق والمخلوق، والمخلوقون بعضُهم مع بعض، والعاملون وأعمالُهم وجزاؤهم.