تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ يُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا:} یہ کہنے کے بعد کہ وہی ہے جو تمھیں اپنی آیات (نشانیاں) دکھاتا ہے، اپنی ایک عظیم نشانی کا ذکر فرمایا۔ {” رِزْقًا “} سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ وہ انسان کے رزق کا سبب ہے۔ تمام نباتات اسی سے اگتی ہیں، جنھیں کھا کر وہ تمام جانور پلتے ہیں جو انسان کی خوراک ہیں یا اس کے کام آتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲)، جاثیہ (۵)، ابراہیم (۳۲)، ق (۹ تا ۱۱) اور سورۂ نحل (۱۰، ۱۱)۔
➌ {وَ مَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں تو بے شمار ہیں، مگر ان سے نصیحت رجوع کرنے والے ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اگر آدمی اپنی روزی ہی کو دیکھ لے کہ اسے مہیا کرنے میں قدرت کی کون کون سی چیزیں مصروف عمل ہیں اور کس طرح ایک دوسرے کی موافقت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تو کبھی شرک کی جرأت نہ کرے، کیونکہ ان تمام چیزوں کو بنانے اور چلانے والا ایک ہے۔ اگر وہ ایک نہ ہو تو کائنات ایک لمحہ کے لیے بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو شخص اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ لے اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے، وہ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی کوئی نصیحت حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کی آنکھوں پر تقلید آباء، تعصب اور عناد کے پردے پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى نعمه العظيمة على عباده بتبيين الحقِّ من الباطل بما يُري عباده من آياته النفسيَّة والآفاقيَّة والقرآنيَّة الدالَّة على كل مطلوب مقصودٍ، الموضِّحة للهدى من الضلال، بحيث لا يبقى عند الناظر فيها والمتأمِّل لها أدنى شكٍّ في معرفة الحقائق، وهذا من أكبر نعمه على عباده حيث لم يبق الحق مشتبهاً ولا الصواب ملتبساً بل نوَّع الدلالات ووضَّح الآيات؛ ليهلك من هلك عن بيِّنة ويحيا من حيَّ عن بيِّنة، وكلما كانت المسائل أجلَّ وأكبر؛ كانت الدلائل عليها أكثر وأيسر؛ فانظر إلى التوحيد، لما كانت مسألتُه من أكبر المسائل، بل أكبرها؛ كثرت الأدلة عليها العقليَّة والنقليَّة وتنوَّعت، وضرب الله لها الأمثال، وأكثر لها من الاستدلال، ولهذا ذكرها في هذا الموضع، ونبَّه على جملة من أدلتها، فقال: {فادْعوا اللهَ مخلصينَ له الدينَ}.
ولما ذكر أنَّه يري عباده آياته؛ نبَّه على آية عظيمة، فقال: {وينزِّلُ لكم من السماء رزقاً}؛ أي: مطراً به ترتزقون وتعيشون أنتم وبهائمكم، وذلك يدلُّ على أن النعم كلَّها منه؛ فمنه نعم الدين، وهي المسائل الدينيَّة والأدلة عليها وما يتبع ذلك من العمل بها، والنعم الدنيويَّة كلها كالنعم الناشئة عن الغيث الذي تحيا به البلاد والعباد، وهذا يدلُّ دلالةً قاطعةً أنه وحده هو المعبودُ الذي يتعيَّن إخلاص الدين له؛ كما أنه وحده المنعم. {وما يتذكَّرُ}: بالآيات حين يُذَكَّر بها {إلاَّ مَن ينيبُ}: إلى الله تعالى بالإقبال على محبَّته وخشيته وطاعته والتضرُّع إليه؛ فهذا الذي ينتفع بالآيات، وتصير رحمةً في حقِّه، ويزداد بها بصيرة.