وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ ۪ وَ لَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۙ۸۹﴾
وہ چاہتے ہیں کاش کہ تم کفر کرو جیسے انھوں نے کفر کیا، پھر تم برابر ہو جائو، سو تم ان میں سے کسی طرح کے دوست نہ بنائو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کریں، پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انھیں پکڑو اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پائو اور نہ ان سے کوئی دوست بنائو اور نہ کوئی مددگار۔
En
وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ
En
ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وه ہیں تو بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو اور پھر سب یکساں ہو جاؤ، پس جب تک یہ اسلام کی خاطر وطن نہ چھوڑیں ان میں سے کسی کو حقیقی دوست نہ بناؤ، پھر اگر یہ منھ پھیر لیں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں، خبردار! ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ سمجھ بیٹھنا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 89) {وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً …: } معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقوں کی وہ قسم تھی جو مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتی تھی، دلیل اس کی یہ الفاظ ہیں: «{ فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِيَآءَ حَتّٰى يُهَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ }» ”تو ان میں سے کسی طرح کے دوست نہ بناؤ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کریں۔“ یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرور کرتے تھے مگر عملی طور پر اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھے، یا ساتھ دینے پر مجبور تھے۔ ان کے لیے معیار یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کر کے تمھارے پاس مدینہ آ جائیں اور تمھیں ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو اس صورت میں تم انھیں سچا بھی سمجھو اور ہمدرد بھی اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو اگرچہ وہ اسلام کا اظہار کریں ان سے کافروں جیسا سلوک کرو، کیونکہ دارالکفرمیں چلے جانے کے بعد ان کا کفر کھل کر سامنے آ گیا، اس لیے انھیں گرفتار کرو اور حل و حرم میں جہاں پاؤ انھیں قتل کرو اور انھیں اپنا دوست نہ بناؤ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
89۔ 1 ہجرت (ترک وطن) اس بات کی دلیل ہوگی کہ اب یہ مخلص مسلمان ہوگئے ہیں۔ اس صورت میں ان سے دوستی اور محبت جائز ہوگی۔ 89۔ 2 یعنی جب تمہیں ان پر قدرت و طاقت حاصل ہوجائے۔ 98۔ 3 حلال ہو یا حرام۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
89۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہو جاؤ جیسے وہ خود ہوئے ہیں تاکہ سب برابر ہو جائیں۔ لہذا ان میں سے کسی کو آپ دوست نہ بناؤ تا آنکہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت [123] کر کے نہ آ جائیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو جہاں انہیں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو۔ اور ان میں سے کسی کو بھی آپ نا دوست یا مددگار نہ بناؤ
[123] مدینہ کے پاس کے منافقین ان کی اقسام:۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ منافقوں کی ایک قسم ایسی بھی تھی جو مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرور کرتے تھے مگر عملی طور پر اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھے یا دینے پر مجبور تھے ان کے لیے معیار یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس مدینہ آجائیں اور تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں تو اس صورت میں تم انہیں سچا بھی سمجھو اور اپنا ہمدرد بھی۔ اور اگر وہ اسلام کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑنے کی قربانی دینے پر تیار نہیں حالانکہ وہ ایسا کر سکتے ہیں تو تم ان پر ہرگز اعتماد نہ کرو نہ انہیں اپنا دوست بناؤ اور نہ سمجھو اور اگر ایسے لوگ کافروں کے ساتھ تمہارے خلاف صف بستہ ہو جاتے ہیں تو انہیں قتل کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
منافقوں سے ہوشیار رہو ٭٭
اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی واپس لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کر دینا چاہیئے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں۔
اس پر یہ آیت اتری تو { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خودبخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1884] ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر واپس لوٹ آیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے تھے۔
اس پر یہ آیت اتری تو { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خودبخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1884] ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر واپس لوٹ آیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکہ میں کچھ لوگ تھے جو کلمہ گو تھے لیکن مسمانوں کے خلاف مشرکوں کی مدد کرتے تھے یہ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے مکہ سے نکلے، انہیں یقین تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی کیونکہ بظاہر کلمہ کے قائل تھے ادھر جب مدنی مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو ان میں بعض کہنے لگے ان نامرادوں سے پہلے جہاد کرو یہ ہمارے دشمنوں کے طرفدار ہیں اور بعض نے کہا سبحان اللہ جو لوگ تم جیسا کلمہ پڑھتے ہیں تم ان سے لڑوگے؟
صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھر نہیں چھوڑے، ہم کسطرح ان کے خون اور ان کے مال اپنے اوپر حلال کرسکتے ہیں؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا آپ خاموش تھے جو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ابی حاتم) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10/9:]
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے لڑکے فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی ہے جو مجھے عبداللہ بن ابی کی ایذاء سے بچائے اس پر اوس و خزرج کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن یہ قول غریب ہے، ان کے سوا اور اقوال بھی ہیں۔
اللہ نے انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ سچے مسلمان بھی ان جیسے گمراہ ہو جائیں ان کے دلوں میں اس قدر عداوت ہے، تو تمہیں ممانعت کی جاتی ہے کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں اپنا نہ سمجھو، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے دوست اور مددگار ہیں، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں کہ ان سے باقاعدہ جہاد کیا جائے۔
صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھر نہیں چھوڑے، ہم کسطرح ان کے خون اور ان کے مال اپنے اوپر حلال کرسکتے ہیں؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا آپ خاموش تھے جو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ابی حاتم) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10/9:]
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے لڑکے فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی ہے جو مجھے عبداللہ بن ابی کی ایذاء سے بچائے اس پر اوس و خزرج کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن یہ قول غریب ہے، ان کے سوا اور اقوال بھی ہیں۔
اللہ نے انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ سچے مسلمان بھی ان جیسے گمراہ ہو جائیں ان کے دلوں میں اس قدر عداوت ہے، تو تمہیں ممانعت کی جاتی ہے کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں اپنا نہ سمجھو، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے دوست اور مددگار ہیں، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں کہ ان سے باقاعدہ جہاد کیا جائے۔