ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 71

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِیۡعًا ﴿۷۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے بچائو کا سامان پکڑو، پھر دستوں کی صورت میں نکلو، یا اکٹھے ہو کر نکلو۔ En
مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو
En
اے مسلمانو! اپنے بچاؤ کا سامان لے لو پھر گروه گروه بن کر کوچ کرو یا سب کے سب اکٹھے ہو کر نکل کھڑے ہو! En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 71) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم فرمایا اور اس کی ترغیب کے سلسلہ میں یہ بھی بتایا کہ اس اطاعت سے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت حاصل ہو گی۔ اب اس آیت میں جہاد کا حکم فرمایا، جو سب سے مشکل اطاعت ہے اور کفار و منافقین سے پورا بچاؤ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ حالات کے مطابق الگ الگ دستوں یا اکٹھے لشکر کی صورت نکلنے میں سے جو بہتر ہو اختیار کرو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

71۔ 1 حِذْرَکُمْ (اپنا بچاؤ اختیار کرو) اسلحہ اور سامان جنگ اور دیگر ذرائع سے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ اے ایمان والو! اپنے بچاؤ کا سامان ہر وقت اپنے پاس رکھو، [100] پھر خواہ الگ الگ دستوں کی شکل میں کوچ کرو یا سب اکٹھے مل کر کرو
[100] جنگ احد کے بعد مسلمانوں کی حالت اور احکام:۔
یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب مسلمان میدان احد میں ایک دفعہ شکست سے دو چار ہو چکے تھے اور ابو سفیان نے واپسی کے وقت اپنے خطبہ میں اپنی کامیابی کا اعلان بھی کیا تھا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ یہودیوں، منافقوں اور مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل کے حوصلے بڑھ گئے اور اسلام دشمنی میں اپنی کوششیں تیز تر کر دی تھیں۔ بسا اوقات ایسی خبریں آتیں کہ اب فلاں قبیلہ جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے اور اب فلاں قبیلہ مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی دور میں مسلمانوں سے پے در پے غداریاں بھی کی گئیں۔ ان کے مبلغین کو فریب سے دعوت دی جاتی اور قتل کر دیا جاتا تھا اور مدینہ کی حدود سے باہر مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نہ تھا۔ اور مدینہ پر ہر وقت خوف و ہراس طاری رہتا تھا۔ تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ ایک تو ہر وقت محتاط اور چاک و چوبند رہو اور اپنے ہتھیار اپنے پاس رکھا کرو۔ دوسرے اکا دکا سفر نہ کیا کرو بلکہ جب کسی سفر پر نکلنا ہو تو دستوں کی شکل میں یا سب اکٹھے مل کر نکلا کرو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو ٭٭
اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہو جائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لیے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں۔
جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں نقصان پہنچاتا، ان کے آدمی شہید ہوتے تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے خبر یہ نہیں سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو تا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے صبر کے ثواب سمیٹتا یا شہادت کے بلند مرتبے تک پہنچ جاتا۔
اور اگر مسلمان مجاہدین کو اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے ساتھ لوٹتے تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے لمبے لمبے سانس لے کر ہائے وائے کرتا ہے اور اس طرح پچھتاتا ہے اور ایسے کلمات زبان سے نکالتا ہے گویا یہ تمہارا کبھی تھا یہ نہیں یہ دین تمہارا نہیں بلکہ اس کا دین ہے اور کہتا افسوس میں ان کے ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والابن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے۔
پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہونے والے مومنوں کو چاہیئے کہ ان سے جہاد کریں جو اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر رہے ہیں اپنے کفر اور عدم ایمان کے باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے دنیا بناتے ہیں۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں اٹھاتا اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔
بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ کی راہ کے مجاہد کا ضامن خود اللہ عزوجل ہے یا تو اس فوت کر کے جنت میں پہنچائے گا جس جگہ سے وہ چلا ہے وہیں اجر و غنیمت کے ساتھ صیح سالم واپس لائے گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3123]‏‏‏‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»