ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 72

وَ اِنَّ مِنۡکُمۡ لَمَنۡ لَّیُبَطِّئَنَّ ۚ فَاِنۡ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ اِذۡ لَمۡ اَکُنۡ مَّعَہُمۡ شَہِیۡدًا ﴿۷۲﴾
اور بے شک تم میں سے یقینا کوئی ایسا بھی ہے جو ہر صورت دیر لگا دے گا، پھر اگر تمھیں کوئی مصیبت آپہنچی تو کہے گا بے شک اللہ نے مجھ پر انعام فرمایا، جب کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔ En
اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمداً) دیر لگاتا ہے۔ پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا
En
اور یقیناً تم میں بعض وه بھی ہیں جو پس وپیش کرتے ہیں، پھر اگر تمہیں کوئی نقصان ہوتا ہے تو وه کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 73،72) یہ مسلمانوں میں منافقوں کے کردار کا تذکرہ ہے، یعنی ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دیدہ و دانستہ اور حیلوں بہانوں سے جہاد پر نکلنے میں دیر کرتے ہیں اور پیچھے رہ جانے کی کوشش کرتے ہیں، پھر اگر اس سفر جہاد میں مسلمانوں کو کچھ تکلیف پہنچے تو بڑے خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں پیچھے رہ گیا، ورنہ مجھے بھی وہ دکھ اٹھانا پڑتا جو دوسرے مسلمانوں نے اٹھایا ہے اور اگر مسلمانوں کو فتح و خوشی نصیب ہو اور غنیمت کا مال ہاتھ لگے تو حسرت سے کہتے ہیں کہ اگر ہم بھی ان میں شامل ہوتے تو ہمارا بھی کام بن جاتا۔ یہ جملہ وہ اس انداز سے ادا کرتے جیسے پہلے ان کا اور مسلمانوں کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ ان دونوں صورتوں میں انھیں محض دنیاوی تکلیف اور دنیاوی مفادات ہی کا احساس ہوتا ہے، اخروی زندگی یا رضائے الٰہی سے انھیں کبھی غرض نہیں ہوتی اور یہی ان کے منافق ہونے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے کی دلیل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

72۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے۔ پس و پیش کا مطلب، جہاد میں جانے سے گریز کرتے اور پیچھے رہ جاتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

72۔ تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو (دیدہ دانستہ) پیچھے رہ جاتا ہے پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو کہتا ہے: ”مجھ پر تو اللہ نے بہت احسان کیا ہے کہ [101] میں ان میں موجود نہ تھا“
[101] یہ خطاب منافقوں کے لیے ہے اور جنگ کے دوران ان کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دیدہ دانستہ اور حیلوں بہانوں سے جہاد پر نکلنے میں دیر کرتے اور پیچھے رہ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اگر اس سفر جہاد میں مسلمانوں کو کچھ تکلیف پہنچے تو بڑے خوش ہوتے اور کہتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں پیچھے رہ گیا۔ ورنہ مجھے بھی وہی دکھ اٹھانا پڑتا جو دوسرے مسلمانوں نے اٹھایا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو ٭٭
اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہو جائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لیے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں۔
جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں نقصان پہنچاتا، ان کے آدمی شہید ہوتے تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے خبر یہ نہیں سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو تا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے صبر کے ثواب سمیٹتا یا شہادت کے بلند مرتبے تک پہنچ جاتا۔
اور اگر مسلمان مجاہدین کو اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے ساتھ لوٹتے تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے لمبے لمبے سانس لے کر ہائے وائے کرتا ہے اور اس طرح پچھتاتا ہے اور ایسے کلمات زبان سے نکالتا ہے گویا یہ تمہارا کبھی تھا یہ نہیں یہ دین تمہارا نہیں بلکہ اس کا دین ہے اور کہتا افسوس میں ان کے ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والابن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے۔
پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہونے والے مومنوں کو چاہیئے کہ ان سے جہاد کریں جو اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر رہے ہیں اپنے کفر اور عدم ایمان کے باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے دنیا بناتے ہیں۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں اٹھاتا اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔
بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ کی راہ کے مجاہد کا ضامن خود اللہ عزوجل ہے یا تو اس فوت کر کے جنت میں پہنچائے گا جس جگہ سے وہ چلا ہے وہیں اجر و غنیمت کے ساتھ صیح سالم واپس لائے گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3123]‏‏‏‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ مِنْكُمْ لَ٘مَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔ یعنی اے اہل ایمان! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لیے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔
اول: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ مِنْكُمْ تم میں سے اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔
ثانی: آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ كَاَنْ لَّمْ تَكُ٘نْۢ بَیْنَؔكُمْ وَبَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ گویا کہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کر دیا۔ نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں: (۱) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لیے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (۲) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لیے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُ٘لْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا …﴾ (الحجرات: 49؍14) عرب دیہاتی کہتے ہیں: ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض و غایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ ﴿ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ پھر اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے یعنی اگر تمھیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے ﴿ قَالَ یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے ﴿ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُ٘نْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کر لیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر عن ضعفاء الإيمان المتكاسِلين عن الجهاد فقال: {وإنَّ منكُم}؛ أي: أيُّها المؤمنون، {لمن لَيُبَطِّئَنَّ}؛ أي: يتثاقل عن الجهاد في سبيل الله ضعفاً وخَوَراً وجُبناً. هذا الصحيح، وقيل: معناه لَيُبَطِّئَنَّ غَيْرَهُ؛ أي: يزهِّده عن القتال، وهؤلاء هم المنافقون، ولكنَّ الأول أولى لوجهين: أحدهما: قولُه: {منكم}، والخطاب للمؤمنين.

والثاني: قوله في آخر الآية: {كأن لم تَكُن بينَكُم وبينَه مودَّةٌ}؛ فإنَّ الكفَّار من المشركين والمنافقين قد قَطَعَ الله بينَهم وبينَ المؤمنين المودَّةَ.

وأيضاً؛ فإنَّ هذا هو الواقع؛ فإنَّ المؤمنين على قسمين: صادقون في إيمانِهِم أوْجَبَ لهم ذلك كمالَ التصديق والجهاد. وضعفاءُ دخلوا في الإسلام فصار معهم إيمانٌ ضعيفٌ لا يقوى على الجهادِ؛ كما قال تعالى: {قالتِ الأعرابُ آمَنَّا قُلْ لم تُؤْمِنوا ولكن قولوا أسْلَمْنا ... } إلى آخر الآيات.

ثم ذَكَرَ غاياتِ هؤلاء المتثاقلين ونهاية مقاصدهم، وأنَّ معظم قصدِهم الدُّنيا وحطامها، فقال: {فإنْ أصابَتْكم مصيبةٌ}؛ أي: هزيمةٌ وقتلٌ وظَفِر الأعداء عليكم في بعض الأحوال لِمَا لِلَّهِ في ذلك من الحِكَمِ، {قال} ذلك المتخلِّف: {قد أنعم الله عليَّ إذ لم أكُن معهم شهيداً}: رأى من ضَعْف عقلِهِ وإيمانِهِ أنَّ التقاعُدَ عن الجهادِ الذي فيه تلك المصيبةُ نعمةٌ، ولم يدرِ أن النعمة الحقيقيَّةَ هي التوفيق لهذه الطاعة الكبيرة التي بها يَقْوى الإيمانُ ويَسْلَم بها العبدُ من العقوبة والخسران، ويحصُلُ له فيها عظيمُ الثواب ورضا الكريم الوهَّاب، وأما القعود؛ فإنه وإن استراح قليلاً؛ فإنَّه يَعْقُبُه تعبٌ طويلٌ وآلامٌ عظيمةٌ، ويفوتُهُ ما يحصُلُ للمجاهدين.