تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں نقصان پہنچاتا، ان کے آدمی شہید ہوتے تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے خبر یہ نہیں سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو تا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے صبر کے ثواب سمیٹتا یا شہادت کے بلند مرتبے تک پہنچ جاتا۔
اور اگر مسلمان مجاہدین کو اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے ساتھ لوٹتے تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے لمبے لمبے سانس لے کر ہائے وائے کرتا ہے اور اس طرح پچھتاتا ہے اور ایسے کلمات زبان سے نکالتا ہے گویا یہ تمہارا کبھی تھا یہ نہیں یہ دین تمہارا نہیں بلکہ اس کا دین ہے اور کہتا افسوس میں ان کے ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والابن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے۔
پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہونے والے مومنوں کو چاہیئے کہ ان سے جہاد کریں جو اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر رہے ہیں اپنے کفر اور عدم ایمان کے باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے دنیا بناتے ہیں۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں اٹھاتا اس کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر عن ضعفاء الإيمان المتكاسِلين عن الجهاد فقال: {وإنَّ منكُم}؛ أي: أيُّها المؤمنون، {لمن لَيُبَطِّئَنَّ}؛ أي: يتثاقل عن الجهاد في سبيل الله ضعفاً وخَوَراً وجُبناً. هذا الصحيح، وقيل: معناه لَيُبَطِّئَنَّ غَيْرَهُ؛ أي: يزهِّده عن القتال، وهؤلاء هم المنافقون، ولكنَّ الأول أولى لوجهين: أحدهما: قولُه: {منكم}، والخطاب للمؤمنين.
والثاني: قوله في آخر الآية: {كأن لم تَكُن بينَكُم وبينَه مودَّةٌ}؛ فإنَّ الكفَّار من المشركين والمنافقين قد قَطَعَ الله بينَهم وبينَ المؤمنين المودَّةَ.
وأيضاً؛ فإنَّ هذا هو الواقع؛ فإنَّ المؤمنين على قسمين: صادقون في إيمانِهِم أوْجَبَ لهم ذلك كمالَ التصديق والجهاد. وضعفاءُ دخلوا في الإسلام فصار معهم إيمانٌ ضعيفٌ لا يقوى على الجهادِ؛ كما قال تعالى: {قالتِ الأعرابُ آمَنَّا قُلْ لم تُؤْمِنوا ولكن قولوا أسْلَمْنا ... } إلى آخر الآيات.
ثم ذَكَرَ غاياتِ هؤلاء المتثاقلين ونهاية مقاصدهم، وأنَّ معظم قصدِهم الدُّنيا وحطامها، فقال: {فإنْ أصابَتْكم مصيبةٌ}؛ أي: هزيمةٌ وقتلٌ وظَفِر الأعداء عليكم في بعض الأحوال لِمَا لِلَّهِ في ذلك من الحِكَمِ، {قال} ذلك المتخلِّف: {قد أنعم الله عليَّ إذ لم أكُن معهم شهيداً}: رأى من ضَعْف عقلِهِ وإيمانِهِ أنَّ التقاعُدَ عن الجهادِ الذي فيه تلك المصيبةُ نعمةٌ، ولم يدرِ أن النعمة الحقيقيَّةَ هي التوفيق لهذه الطاعة الكبيرة التي بها يَقْوى الإيمانُ ويَسْلَم بها العبدُ من العقوبة والخسران، ويحصُلُ له فيها عظيمُ الثواب ورضا الكريم الوهَّاب، وأما القعود؛ فإنه وإن استراح قليلاً؛ فإنَّه يَعْقُبُه تعبٌ طويلٌ وآلامٌ عظيمةٌ، ويفوتُهُ ما يحصُلُ للمجاهدين.