ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 70

ذٰلِکَ الۡفَضۡلُ مِنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیۡمًا ﴿٪۷۰﴾
یہی اللہ کی طرف سے خاص فضل ہے اور اللہ کافی ہے سب کچھ جاننے والا۔ En
یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے
En
یہ فضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 69 میں تا آیت 71 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ ایسا فضل اللہ ہی کی طرف سے ہو گا اور (حقیقت جاننے کے لیے) اللہ تعالیٰ کا علیم ہونا ہی کافی ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذٰلِكَ الْفَضْلُ یہ فضیلت جو انھوں نے حاصل کی ہے ﴿ مِنَ اللّٰهِ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انھیں اس کی توفیق سے نوازا، اس کے حصول میں ان کی مدد کی اور انھیں اتنا زیادہ ثواب عطا کیا کہ ان کے اعمال وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے ﴿ وَؔ كَ٘فٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان میں سے کون ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے، جن پر ان کا دل اور اعضاء متفق ہوں، ثواب جزیل (زیادہ اجر) کا مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك الفضل}: الذي نالوه {من الله}: فهو الذي وفَّقهم لذلكَ وأعانَهم عليه، وأعطاهم من الثواب ما لا تبلُغُه أعمالُهم. {وكفى بالله عليماً}: يعلم أحوالَ عبادِهِ ومن يستحقُّ منهم الثوابَ الجزيلَ بما قام به من الأعمال الصالحةِ التي تواطأ عليها القلبُ والجوارحُ.