تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) میراث میں عورتوں کا حصہ (2) ورثہ خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ جائیداد خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ بہرحال وہ تقسیم ہو گا۔ (3) قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار محروم ہوں گے (4) ان قریبی رشتہ داروں کا حصہ بھی مقرر ہے جس کی تفصیل اسی سورۃ کی آیت نمبر 11 اور نمبر 12 میں آ رہی ہے (5) عورتوں کے علاوہ چھوٹے لڑکوں کو بھی وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا اور ورثہ کے مالک صرف وہ بیٹے سمجھے جاتے تھے جو دشمنوں سے لڑنے اور انتقام لینے کے اہل ہوں۔ اس آیت کی رو سے چھوٹے لڑکوں کو بھی برابر کا حق دلایا گیا اور حقیقتاً یہی بچے یتیم ہوتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
”ام کجہ“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہو گئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب ان شاءاللہ آئے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں؟ اس میں بھی دو قول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اسے باقی بتاتے ہیں مجاہد، ابن مسعود، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر، ابوالعالیہ، شعبی، حسن، سعید بن جیر، ابن سیرین، عطاء بن ابو رباح، زہری، یحییٰ بن معمر رحمہ اللہ علیہم بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے وجوب کے قائل ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/8]
سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، عروہ رحمہ اللہ نے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، زہری رحمہ اللہ کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں۔
ایک روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چنانچہ جب سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا: اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو۔ (ابن ابی حاتم)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کے خلاف ہے۔
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ «كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:141]، کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو، اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے۔
جیسے کہ سورۃ نون میں ہے کہ «أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ» * «فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ» * «أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ» * «وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ» * «فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ» * «بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ» ۱؎ [68-القلم:-27-22] ’ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لیے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے ‘۔
حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [بیہقی:159/4:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2743]
ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ ”میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بری طرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8725:ضعیف]
اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3678]
ان کے مال سے بچو، سورۃ البقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کر دیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:220] اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چنانچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كان العرب في الجاهلية من جبريَّتِهم وقسوتهم لا يورِّثون الضعفاء كالنساء والصبيان، ويجعلون الميراث للرجال الأقوياء؛ لأنهم بزعمهم أهل الحرب والقتال والنهب والسلب، فأراد الرب الرحيم الحكيم أن يشرع لعباده شرعاً يستوي فيه رجالهم ونساؤهم وأقوياؤهم وضعفاؤهم، وقدم بين يدي ذلك أمراً مجملاً لتتوطَّن على ذلك النفوس فيأتي التفصيل بعد الإجمال قد تشوقت له النفوس وزالت الوحشة التي منشؤها العادات القبيحة، فقال: {للرجال نصيب}؛ أي: قسط وحصة، {مما ترك}؛ أي: خلَّفَ، {الوالدان}؛ أي: الأب والأم، {والأقربون}؛ عموماً بعد خصوص، {وللنساء نصيب مما ترك الوالدان والأقربون}، فكأنه قيلَ: هل ذلك النصيب راجعٌ إلى العُرف والعادة وأن يرضخوا لهم ما يشاؤون أو شيئاً مقدَّراً؟ فقال تعالى: {نصيباً مفروضاً}؛ أي: قد قدَّره العليم الحكيم. وسيأتي إن شاء الله تقدير ذلك. وأيضاً؛ فهنا توهُّم آخر: لعل أحداً يتوهَّم أن النساء والولدان ليس لهم نصيب إلا من المال الكثير، فأزال ذلك بقوله: {مما قلَّ منه أو كَثُر}؛ فتبارك الله أحسن الحاكمين.