تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”قریظہ کے دن ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو جس کے (زیر ناف) بال اگے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے بال نہیں اگے تھے اسے قتل نہیں کیا گیا، میں ان میں سے تھا جن کے بال ابھی نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔“ [أبو داوٗد، الحدود، باب فی الغلام یصیب الحد: ۴۴۰۴، و قال الألبانی صحیح]
جنگ میں شرکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو چودہ سال کی عمر میں احد میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ خندق میں جائزہ لیا گیا تو پندرہ سال کے تھے، آپ نے اجازت دے دی۔ نافع نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو یہ حدیث پہنچائی تو انھوں نے کہا: ”بچے اور بڑے کا یہی فرق ہے۔“ [بخاری، الشہادات، باب بلوغ الصبیان…: ۲۶۶۴] مگر ظاہر ہے کہ یہ فرق بچے اور اس بڑے کا ہے جسے جنگ میں شرکت کی اجازت ہے۔ محض بلوغت کی علامت احتلام ہے، اگر اس کا علم نہ ہو سکے تو زیر ناف بال اگنا ہے۔
➋ {فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا:} یعنی یتیموں کا امتحان اور ان کی تربیت کرتے رہو، جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پہلے تھوڑا سا مال دے کر ان کو کسی کام پر لگا کر دیکھو کہ آیا وہ مال کو بڑھاتے ہیں یا نہیں، پھر جب وہ بالغ ہو جائیں اور ان میں رشد ہو تو بلا توقف مال ان کے حوالے کر دو۔ {” رُشْدًا “ } سے مراد عقلی اور دینی صلاحیت ہے، پس بالغ ہونے کے علاوہ مال کی سپرد داری کے لیے رشد بھی شرط ہے، اگر کسی شخص میں رشد نہیں ہے تو خواہ وہ بوڑھا ہی کیوں نہ ہو جائے متولی یا وصی کو چاہیے کہ وہ مال اس کے حوالے نہ کرے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
➌ { ”فَلْيَسْتَعْفِفْ“ ”عَفَّ يَعِفُّ (ض)“ } کا معنی بچنا ہے، { ”فَلْيَسْتَعْفِفْ“ } کا باب استفعال میں حروف کی زیادتی کی وجہ سے ترجمہ ”بہت بچے“ کیا گیا ہے۔
➍ {وَ مَنْ كَانَ فَقِيْرًا …:} جانا پہچانا طریقہ یہی ہے کہ اس کے اموال کی نگرانی کی اجرت جو معروف ہے، لے لے۔ دوسرا یہ کہ زیادہ سے زیادہ اتنا لے لے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔
➎ {فَاَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْ:} یتیم کے متولی یا وصی کو حکم ہے کہ گواہوں کے رو برو مال واپس کرے، تاکہ کل کو اس پر کوئی الزام نہ آئے۔ {”وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا“} کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کو تو مطمئن کر لو گے، مگر اصل حساب تو اللہ تعالیٰ نے لینا ہے، اس کا خاص خیال رکھو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[10] یہاں پھر دو ایسی باتوں کا ذکر ہوا ہے جن سے یتیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ضرورت سے زیادہ مال خرچ کیا جائے اور دوسرے یہ کہ بلا ضرورت یا ضرورت پیش آنے سے پہلے ہی خرچ کیا جائے تاکہ وہ بڑے ہو کر اس کا مطالبہ نہ کرنے لگیں۔ اور یہ سب بد دیانتی کی راہیں ہیں جن سے یتیم کا نقصان ہو جاتا ہے لہٰذا ہر ایسی صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔
[12] جب یتیم میں مندرجہ بالا دونوں شرطیں پائی جائیں تو اس کا مال اسے واپس کر دیا جائے اور اس پر دو گواہ بھی بنا لیے جائیں تاکہ بعد میں اگر کوئی جھگڑا ہو یا کوئی چیز بعد میں یاد آئے تو اس کا تصفیہ کرنے میں آسانی رہے اور اگر یہ تحریری صورت میں ہو تو اور بھی بہتر ہے۔ اور پوری دیانتداری سے یہ فریضہ سرانجام دو۔ کیونکہ سب سے بڑا گواہ تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اور بد دیانتی کی صورت میں پورا پورا حساب لینے پر قادر بھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں «السُّفَهَاءَ» سے مراد تیری اولاد اور عورتیں ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7]
اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حکم بن عبینہ، حسن اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7]
سعید بن جبیر فرماتے ہیں یتیم مراد ہیں، مجاہد عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ عورتیں مراد ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عورتیں بیوقوف ہیں مگر جو اپنے خاوند کی اطاعت گزار ہوں“ }، ۱؎ (ضعیف: اس کی سند میں عثمان بن ابی عاتکہ اور بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں) ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث مطول مروی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرکش خادم ہیں۔
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور پھر بھی وہ اسے طلاق نہ دے دوسرا وہ شخص جو اپنا مال بیوقوف کو دیدے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے بیوقوف کو اپنا مال نہ دو تیسرا وہ شخص جس کا قرض کسی پر ہو اور اس نے اس قرض پر کسی کو گواہ نہ کیا ہو۔ ان سے بھلی بات کہو یعنی ان سے نیکی اور صلہ رحمی کرو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ محتاجوں سے سلوک کرنا چاہیئے اسے جسے بالفعل تصرف کا حق نہ ہو اس کے کھانے کپڑے کی خبرگیری کرنی چاہیئے اور اس کے ساتھ نرم زبانی اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہیئے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی یاد ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور نہ تمام دن رات چپ رہنا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے جب تک بالغ نہ ہو، سوتے سے جب تک جاگ نہ جائے، مجنوں سے جب تک ہوش نہ آ جائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4398،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ایک تو علامت بلوغ یہ ہے۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو آپ نے فرمایا: نابالغ بالغ کی حد یہی ہے،
تیسری علامت بلوغت کی زیر ناف کے بالوں کا نکلنا ہے، اس میں علماء کے تین قول ہیں ایک یہ کہ علامت بلوغ ہے دوسرے یہ کہ نہیں تیسرے یہ کہ مسلمانوں میں نہیں اور ذمیوں میں ہے اس لیے کہ ممکن ہے کسی دوا سے یہ بال جلد نکل آتے ہوں اور ذمی پر جوان ہوتے ہی جزیہ لگ جاتا ہے تو وہ اسے کیوں استعمال کرنے لگا؟
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سب کے حق میں یہ علامت بلوغت ہے کیونکہ اولاً تو جلی امر ہے علاج معالجہ کا احتمال بہت دور کا احتمال ہے ٹھیک یہی ہے کہ یہ بال اپنے وقت پر ہی نکلتے ہیں۔
سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو کر یہ قبیلہ لڑائی سے باز آیا تھا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عن نے یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے لڑنے والے تو قتل کر دئیے جائیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں۔
غرائب ابی عبید میں ہے کہ ایک لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کی نسبت کہا کہ میں نے اس سے بدکاری کی ہے دراصل یہ تہمت تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے تہمت کی حد لگانی چاہی لیکن فرمایا دیکھ لو اگر اس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوں تو اس پر حد جاری کرو ورنہ نہیں دیکھا تو آگے نہ تھے چنانچہ اس پر سے حد ہٹا دی۔
اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہو گا اس لیے کہ اس نے اپنے کام کے بدلے لے لیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں کے نزدیک یہی صحیح ہے، اس لیے کہ آیت نے بغیر بدل کے مباح قرار دیا ہے۔
اور مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال نہیں ایک یتیم میری پرورش میں ہے تو کیا میں اس کے کھانے سے کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اس یتیم کا مال اپنے کام میں لا سکتا بشرطیکہ حاجت سے زیادہ نہ اڑا، نہ جمع کر، نہ یہ ہو کہ اپنے مال کو تو بچا رکھے اور اس کے مال کو کھاتا چلا جائے۔“ ۱؎ [مسند احمد:186/2:جید اسناد] ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2872،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میرے پاس بھی اونٹ ہیں اور میرے ہاں جو یتیم پل رہے ہیں ان کے بھی اونٹ ہیں میں اپنی اونٹنیاں دودھ پینے کے لیے فقیروں کو تحفہ دے دیتا ہوں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ ان یتیموں کی اونٹنیوں کا دودھ پی لوں؟ آپ نے فرمایا اگر ان یتیموں کی گمشدہ اونٹنیوں کو تو ڈھونڈ لاتا ہے ان کے چارے پانی کی خبرگیری رکھتا ہے، ان کے حوض درست کرتا رہتا ہے اور ان کی نگہبانی کیا کرتا ہے تو بیشک دودھ سے نفع بھی اٹھا لیکن اس طرح کہ نہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچے،نہ حاجت سے زیادہ لے، ۱؎ [موطا:33/2،934]
عطاء بن رباح عکرمہ ابراہیم نخعی عطیہ عوفی حسن بصری رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کے اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ بطور قرض کھائے اور بھی مفسرین سے یہ مروی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں معروف سے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھائے اور روایت میں آپ سے یہ مروی ہے کہ وہ اپنے ہی مال کو صرف اپنی ضرورت پوری ہو جانے کے لائق ہی خرچ کرے تاکہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ پڑے۔
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر ایسی بےبسی ہو جس میں مردار کھانا جائز ہو جاتا ہے تو بیشک کھا لے لیکن پھر ادا کرنا ہو گا، یحییٰ بن سعید انصار اور ربیعہ رحمہ اللہ علیہم سے اس کی تفسیر یوں مروی ہے کہ اگر یتیم فقیر ہو تو اس کا ولی اس کی ضرورت کے موافق دے اور پھر اس ولی کو کچھ نہ ملے گا، لیکن عبارت میں یہ ٹھیک نہیں بیٹھتا اس لیے کہ اس سے پہلے یہ جملہ بھی ہے کہ جو غنی ہو وہ کچھ نہ لے، یعنی جو ولی غنی ہو تو یہاں بھی یہی مطلب ہو گا جو ولی فقیر ہو نہ یہ کہ جو یتیم فقیر ہو۔
پھر اولیاء سے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اور تم دیکھ لو کہ ان میں تمیز آ چکی ہے تو گواہ رکھ کر ان کے مال ان کے سپرد کر دو، تاکہ انکار کرنے کا وقت ہی نہ آئے، یوں تو دراصل سچا شاہد اور پورا نگراں اور باریک حساب لینے والا اللہ ہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ولی نے یتیم کے مال میں نیت کیسی رکھی؟ آیا خورد برد کیا تباہ و برباد کیا جھوٹ سچ حساب لکھا اور دیا یا صاف دل اور نیک نیتی سے نہایت چوکسی اور صفائی سے اس کے مال کا پورا پورا خیال رکھا اور حساب کتاب صاف رکھا، ان سب باتوں کا حقیقی علم تو اسی دانا و بینا نگران و نگہبان کو ہے۔
صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں ناتواں پاتا ہوں اور جو اپنے لیے چاہتا ہوں وہی تیرے لیے بھی پسند کرتا ہوں خبردار! ہرگز دو شخصوں کا بھی سردار اور امیر نہ بننا نہ کبھی کسی یتیم کا ولی بننا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1826]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الابتلاء هو: الاختبار والامتحان، وذلك بأن يُدْفَعَ لليتيم المقارب للرشد الممكن رشده شيء من ماله، ويتصرف فيه التصرف اللائق بحاله، فيتبين بذلك رشده من سفهه؛ فإن استمر غير محسن للتصرف؛ لم يدفع إليه ماله، بل هو باق على سفهه، ولو بلغ عمراً كثيراً؛ فإن تبيَّن رشدُه وصلاحُه في ماله وبلغ النكاح؛ {فادفعوا إليهم أموالهم} كاملة موفرة، {ولا تأكلوها إسرافاً}؛ أي: مجاوزة للحدِّ الحلال الذي أباحه الله لكم من أموالكم إلى الحرام الذي حرمه الله عليكم من أموالهم؛ {وبِداراً أن يكبروا}، أي: ولا تأكلوها في حال صغرهم التي لا يمكنهم فيها أخذها منكم، ولا منعكم من أكلها تبادرون بذلك أن يكبروا فيأخذوها منكم ويمنعوكم منها، وهذا من الأمور الواقعة من كثير من الأولياء الذين ليس عندهم خوف من الله ولا رحمة ومحبة للمولَّى عليهم، يرون هذه الحالَ حالَ فرصةٍ، فيغتنمونها ويتعجلون ما حرم الله عليهم، فنهى الله تعالى عن هذه الحالة بخصوصها.