فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۶۵﴾
پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔
En
تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے
En
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 65) ➊ { فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ …:} اس آیت کی شان نزول میں ایک مسلمان اور یہودی کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کروانے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کروانے گیا تھا، جس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اس مسلمان کی گردن اڑا دی تھی۔ مگر یہ واقعہ سنداً صحیح نہیں ہے، جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی وضاحت کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے اصرار کے باوجود منافقوں کی بڑی بڑی گستاخیوں پر نہ انھیں قتل کرتے، نہ قتل کی اجازت دیتے اور وجہ یہ بتاتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ [مسلم، الزکوٰۃ، باب ذکر الخوارج: ۱۰۶۳]
➋ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما راوی ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کی نالیوں میں جھگڑا ہو گیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین اوپر کی جانب تھی، جہاں سے پانی آتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے انصاری کے حق میں رعایت کی سفارش کی اور فرمایا: ”اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو۔“ اس پر انصاری نے کہا: ” یہ اس لیے کہ زبیر (رضی اللہ عنہ) آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔“ مطلب یہ تھا کہ آپ نے اس رشتے کی رعایت کی ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف محسوس ہوئی اور فرمایا: ” زبیر! اپنے باغ کو اتناپانی دو کہ منڈیروں تک چڑھ جائے، پھر اس کے لیے چھوڑ دو۔“ پہلے آپ نے انصاری کی سفارش کی تھی، اب جب اس نے آپ کو غصہ دلایا تو آپ نے سفارش کے بجائے فیصلہ کیا اور زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا۔ زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ آیت: «{ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» اس بارے میں نازل ہوئی۔ [مسلم،الفضائل، باب وجوب اتباعہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۲۳۵۷۔ بخاری: ۴۵۸۵]
➌ { حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مومن ہونے کی تین شرطیں بیان کی ہیں، پہلی یہ کہ کسی بھی جھگڑے کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ لے جایا جائے۔ (دیکھیے نور: ۵۱۔ احزاب: ۳۶) دوسری یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کی جائے اور تیسری یہ کہ صاف اعلان کر کے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قرآن و سنت سے فیصلہ طلب کیا جائے گا۔ اس سے منکرین حدیث کے ایمان کی حقیقت پوری طرح کھل جاتی ہے۔ یہ آیت منکرین حدیث کے علاوہ ان لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے جن کے امام یا پیر کے خلاف کوئی آیت یا حدیث آ جائے تو وہ صرف دل میں تنگی ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ ماننے سے صاف انکار کر دیتے ہیں کہ کیا ہمارے امام کو اس آیت و حدیث کا علم نہ تھا، یا پھر اس کی تاویل کرنے یا اسے منسوخ قرار دینے کے لیے اپنی ساری قوت صرف کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت کے صریح الفاظ کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے خلاف دل میں ذرہ بھر تنگی یا نا پسندیدگی محسوس کی جائے تو یہ ایمان کے منافی ہے۔
➋ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما راوی ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کی نالیوں میں جھگڑا ہو گیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین اوپر کی جانب تھی، جہاں سے پانی آتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے انصاری کے حق میں رعایت کی سفارش کی اور فرمایا: ”اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو۔“ اس پر انصاری نے کہا: ” یہ اس لیے کہ زبیر (رضی اللہ عنہ) آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔“ مطلب یہ تھا کہ آپ نے اس رشتے کی رعایت کی ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف محسوس ہوئی اور فرمایا: ” زبیر! اپنے باغ کو اتناپانی دو کہ منڈیروں تک چڑھ جائے، پھر اس کے لیے چھوڑ دو۔“ پہلے آپ نے انصاری کی سفارش کی تھی، اب جب اس نے آپ کو غصہ دلایا تو آپ نے سفارش کے بجائے فیصلہ کیا اور زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا۔ زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ آیت: «{ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» اس بارے میں نازل ہوئی۔ [مسلم،الفضائل، باب وجوب اتباعہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۲۳۵۷۔ بخاری: ۴۵۸۵]
➌ { حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مومن ہونے کی تین شرطیں بیان کی ہیں، پہلی یہ کہ کسی بھی جھگڑے کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ لے جایا جائے۔ (دیکھیے نور: ۵۱۔ احزاب: ۳۶) دوسری یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کی جائے اور تیسری یہ کہ صاف اعلان کر کے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قرآن و سنت سے فیصلہ طلب کیا جائے گا۔ اس سے منکرین حدیث کے ایمان کی حقیقت پوری طرح کھل جاتی ہے۔ یہ آیت منکرین حدیث کے علاوہ ان لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے جن کے امام یا پیر کے خلاف کوئی آیت یا حدیث آ جائے تو وہ صرف دل میں تنگی ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ ماننے سے صاف انکار کر دیتے ہیں کہ کیا ہمارے امام کو اس آیت و حدیث کا علم نہ تھا، یا پھر اس کی تاویل کرنے یا اسے منسوخ قرار دینے کے لیے اپنی ساری قوت صرف کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت کے صریح الفاظ کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے خلاف دل میں ذرہ بھر تنگی یا نا پسندیدگی محسوس کی جائے تو یہ ایمان کے منافی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
65۔ 1 اس آیت کا شان نزول ایک یہودی اور مسلمان کا واقعہ عموماً بیان کیا جاتا ہے جو بارگاہ رسالت سے فیصلے کے باوجود حضرت عمر ؓ سے فیصلہ کروانے گیا جس پر حضرت عمر ؓ نے اس مسلمان کا سر قلم کردیا۔ لیکن سنداً یہ واقعہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ ابن کثیر نے بھی وضاحت کی، صحیح واقعہ یہ ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب ہے کہ حضرت زبیر ؓ کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد تھے۔ اور ایک آدمی کا کھیت کو سیراب کرنے والے (نالے) کے پانی پر جھگڑا ہوگیا۔ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا آپ نے صورت حال کا جائزہ لے کر جو فیصلہ دیا تو وہ اتفاق سے حضرت زبیر ؓ کے حق میں تھا، جس پر دوسرے آدمی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی زاد ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات یا فیصلے سے اختلاف تو کجا دل میں انقباض بھی محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے۔ یہ آیت منکریں حدیث کے لئے لمحہ فکریہ ہے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کر لیں پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری [97] طرح سر تسلیم خم کر دیں۔
[97] یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے جس میں ایک مستقل قانون دیا گیا ہے جو صرف مقدمہ کے منافق کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری امت کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ جو مسلمان آپ کے ارشاد، حکم یا فیصلہ کو بدل و جان قبول کر لینے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کر دینے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ اور آپ کے ارشادات، احکام اور فیصلے سب کچھ کتب احادیث میں مذکور ہو چکے ہیں۔ اب جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور شخص، عالم، پیر یا امام کے قول کو ترجیح دے گا وہ بھی اس حکم میں داخل ہے۔ یہ آیت بھی امت کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے میں ہماری رہنما اور کسوٹی ہے۔ اس آیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کتاب و سنت کی موجودگی میں قیاس کرنا حرام ہے۔ اس مضمون کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ”کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو اس چیز کے تابع نہ بنا دے جو میں لے کر آیا ہوں۔“ [شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل ثانی]
اور بالخصوص اس آیت کا شان نزول کتب احادیث میں درج ذیل مذکور ہے:
اختلافات کے خاتمہ کا واحد حل رسول اللہﷺ کی اتباع کا جواب:۔
سیدنا عروہ بن زبیرؓ روایت کرتے ہیں کہ زبیرؓ (میرے باپ) اور ایک انصاری میں حرہ میں واقع پانی کی نالی پر جھگڑا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیرؓ کو کہا ”تم اپنے درختوں کو پانی پلا لو پھر اسے اپنے ہمسایہ کے باغ میں جانے دو۔“ یہ سن کر وہ انصاری کہنے لگا ”کیوں نہیں آخر زبیر آپ کی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیرؓ کو کہا ”زبیر! اپنے کھیت کو پانی پلاؤ اور جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے اس کے لیے پانی نہ چھوڑو۔“ یعنی جب انصاری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کو اس کا پورا حق دلایا۔ جبکہ آپ کے پہلے حکم میں دونوں کی رعایت ملحوظ تھی۔ زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی مقدمہ میں نازل ہوئی۔
[بخاری، کتاب التفسیر و کتاب المساقاۃ، باب سکر الانہار۔۔ مسلم، کتاب الفضائل باب وجوب اتباعہ]
[بخاری، کتاب التفسیر و کتاب المساقاۃ، باب سکر الانہار۔۔ مسلم، کتاب الفضائل باب وجوب اتباعہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ضامن نجات ہے ٭٭
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «باذن اللہ» سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی قدرت و مشیت پر موقوف ہے، جیسے اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ» ۱؎ [3-آل عمران:152] یہاں بھی «اذن» سے مراد امر قدرت اور مشیت ہے یعنی اس نے تمہیں ان پر غلبہ دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ عاصی اور خطا کاروں کو ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیئے اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عرض کرنا چاہیئے کہ آپ ہمارے لیے دعائیں کیجئے جب وہ ایسا کریں گے تو یقیناً اللہ ان کی طرف رجوع کرے گا انہیں بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔
ابو منصور صباغ نے اپنی کتاب میں جس میں مشہور قصے لکھے ہیں لکھا ہے کہ عتبی کا بیان ہے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربت کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے قرآن کریم کی اس آیت کو سنا اور آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے سامنے اپنے گناہوں کا استغفار کروں اور آپ کی شفاعت طلب کروں پھر اس نے یہ اشعار پڑھے «باخیر من دفنت بالقاع اعظمہ» «فطاب من طیبھن القاع والا کم» «نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ» «فیہ لعاف وفیہ الجودو الکرم»
ابو منصور صباغ نے اپنی کتاب میں جس میں مشہور قصے لکھے ہیں لکھا ہے کہ عتبی کا بیان ہے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربت کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے قرآن کریم کی اس آیت کو سنا اور آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے سامنے اپنے گناہوں کا استغفار کروں اور آپ کی شفاعت طلب کروں پھر اس نے یہ اشعار پڑھے «باخیر من دفنت بالقاع اعظمہ» «فطاب من طیبھن القاع والا کم» «نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ» «فیہ لعاف وفیہ الجودو الکرم»
جن جن کی ہڈیاں میدانوں میں دفن کی گئی ہیں اور ان کی خوشبو سے وہ میدان ٹیلے مہک اٹھے ہیں، اے ان تمام میں سے بہترین ہستی، میری جان اس قبر پر سے صدقے ہو جس کا ساکن تو ہے جس میں پارسائی سخاوت اور کرم ہے۔
پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی خواب میں کیا دیکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرما رہے ہیں جا اس اعرابی کو خوشخبری سنا اللہ نے اس کے گناہ معاف فرما دئیے (یہ خیال رہے کہ نہ تو یہ کسی حدیث کی کتاب کا واقعہ ہے نہ اس کی کوئی صحیح سند ہے) بلکہ آیت کا یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تھا وصال کے بعد نہیں جیسے کہ «جَاءُوكَ» کا لفظ بتلا رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ ’ ہر انسان کا ہر عمل اس کی موت کے ساتھ منقطع ہو جاتا ہے ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:1631] «وَاللهُ اَعْلَمُ» (مترجم)
پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی خواب میں کیا دیکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرما رہے ہیں جا اس اعرابی کو خوشخبری سنا اللہ نے اس کے گناہ معاف فرما دئیے (یہ خیال رہے کہ نہ تو یہ کسی حدیث کی کتاب کا واقعہ ہے نہ اس کی کوئی صحیح سند ہے) بلکہ آیت کا یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تھا وصال کے بعد نہیں جیسے کہ «جَاءُوكَ» کا لفظ بتلا رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ ’ ہر انسان کا ہر عمل اس کی موت کے ساتھ منقطع ہو جاتا ہے ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:1631] «وَاللهُ اَعْلَمُ» (مترجم)
پھر اللہ تعالیٰ اپنی بزرگ اور مقدس ذات کی قسم کھا کر فرماتے ہے کہ کوئی شخص ایمان کی حدود میں نہیں آ سکتا جب تک کہ تمام امور میں اللہ کے اس آخر الزمان افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سچا حاکم نہ مان لے اور آپ کے ہر حکم ہر فیصلے ہر سنت اور ہر حدیث کو قابل قبول اور حق صریح تسلیم نہ کرنے لگے، دل کو اور جسم کو یکسر تابع رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ بنا دے۔ غرض جو بھی ظاہر باطن چھوٹے بڑے کل امور میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل اصول سمجھے وہی مومن ہے۔
پس فرمان ہے کہ تیرے احکام کو یہ کشادہ دلی سے تسلیم کر لیا کریں اپنے دل میں پسندیدگی نہ لائیں تسلیم کلی تمام احادیث کے ساتھ رہے، نہ تو احادیث کے ماننے سے رکیں نہ انہیں ہٹانے کے اسباب ڈھونڈیں نہ ان کے مرتبہ کی کسی اور چیز کو سمجھیں نہ ان کی تردید کریں نہ ان کا مقابلہ کریں نہ ان کے تسلیم کرنے میں جھگڑیں جیسے فرمان رسول ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اس چیز کا تابع نہ بنا دے جسے میں لایا ہوں }۔ ۱؎ [فتح الباری:289/13،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پس فرمان ہے کہ تیرے احکام کو یہ کشادہ دلی سے تسلیم کر لیا کریں اپنے دل میں پسندیدگی نہ لائیں تسلیم کلی تمام احادیث کے ساتھ رہے، نہ تو احادیث کے ماننے سے رکیں نہ انہیں ہٹانے کے اسباب ڈھونڈیں نہ ان کے مرتبہ کی کسی اور چیز کو سمجھیں نہ ان کی تردید کریں نہ ان کا مقابلہ کریں نہ ان کے تسلیم کرنے میں جھگڑیں جیسے فرمان رسول ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اس چیز کا تابع نہ بنا دے جسے میں لایا ہوں }۔ ۱؎ [فتح الباری:289/13،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کسی شخص سے نالیوں سے باغ میں پانی لینے کے بارے میں جھگڑا ہو پڑا تو { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر (رضی اللہ عنہ) تم پانی پلا لو اس کے بعد پانی کو انصاری کے باغ میں جانے دو اس پر انصاری نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا ہے فرمایا زبیر (رضی اللہ عنہ) تم پانی پلا لو پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ باغ کی دیواروں تک پہنچ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔}
پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ جس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کشادگی ہو جائے لیکن جب انصاری نے اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [4-النساء:65] اسی بارے میں نازل ہوئی ہے،
مسند احمد کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ یہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری تھے ۱؎ [صحیح بخاری:2708] اور روایت میں ہے دونوں میں جھگڑا یہ تھا کہ پانی کی نہر سے پہلے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ پڑتا تھا پھر اس انصاری کا انصاری کہتے تھے کہ پانی روکو مت یونہی پانی دونوں باغوں میں ایک ساتھ آئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2359]
پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ جس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کشادگی ہو جائے لیکن جب انصاری نے اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [4-النساء:65] اسی بارے میں نازل ہوئی ہے،
مسند احمد کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ یہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری تھے ۱؎ [صحیح بخاری:2708] اور روایت میں ہے دونوں میں جھگڑا یہ تھا کہ پانی کی نہر سے پہلے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ پڑتا تھا پھر اس انصاری کا انصاری کہتے تھے کہ پانی روکو مت یونہی پانی دونوں باغوں میں ایک ساتھ آئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2359]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ دونوں دعویدار سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ تھے آپ کا فیصلہ ان میں یہ ہوا کہ پہلے اونچے والا پانی پلا لے پھر نیچے والا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5559/3:مرسل و ضعیف] دوسری ایک زیادہ غریب روایت میں شان نزول یہ مروی ہے کہ دو شخص اپنا جھگڑا لے کر دربار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے آپ نے فیصلہ کر دیا لیکن جس کے خلاف فیصلہ تھا اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے آپ نے فرمایا بہت اچھا ان کے پاس چلے جاؤ جب یہاں آئے تو جس کے موافق فیصلہ ہوا تھا اس نے سارا ہی واقعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہہ سنایا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دوسرے سے پوچھا کیا یہ سچ ہے؟ اس نے اقرار کیا آپ نے فرمایا اچھا تم دونوں یہاں ٹھہرو میں آتا ہوں اور فیصلہ کر دیتا ہوں تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تلوار تانے آ گئے اور اس شخص کی جس نے کہا تھا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے گردن اڑا دی دوسرا شخص یہ دیکھتے ہی دوڑا بھاگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور اگر میں بھی جان بچا کر بھاگ کر نہ آتا تو میری بھی خیر نہ تھی۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عمر کو ایسا نہیں جانتا تھا کہ وہ اس جرات کے ساتھ ایک مومن کا خون بہا دے گا } اس پر یہ آیت اتری اور اس کا خون برباد گیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بری کر دیا، لیکن یہ طریقہ لوگوں میں اس کے بعد بھی جاری نہ ہو جائے اس لیے اس کے بعد ہی یہ آیت اتری «وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ» ۱؎ [4-النساء:66] جو آگے آتی ہے۔ (ابن ابی حاتم) ابن مردویہ میں بھی یہ روایت ہے جو غریب اور مرسل ہے اور ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دوسرے سے پوچھا کیا یہ سچ ہے؟ اس نے اقرار کیا آپ نے فرمایا اچھا تم دونوں یہاں ٹھہرو میں آتا ہوں اور فیصلہ کر دیتا ہوں تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تلوار تانے آ گئے اور اس شخص کی جس نے کہا تھا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے گردن اڑا دی دوسرا شخص یہ دیکھتے ہی دوڑا بھاگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور اگر میں بھی جان بچا کر بھاگ کر نہ آتا تو میری بھی خیر نہ تھی۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عمر کو ایسا نہیں جانتا تھا کہ وہ اس جرات کے ساتھ ایک مومن کا خون بہا دے گا } اس پر یہ آیت اتری اور اس کا خون برباد گیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بری کر دیا، لیکن یہ طریقہ لوگوں میں اس کے بعد بھی جاری نہ ہو جائے اس لیے اس کے بعد ہی یہ آیت اتری «وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ» ۱؎ [4-النساء:66] جو آگے آتی ہے۔ (ابن ابی حاتم) ابن مردویہ میں بھی یہ روایت ہے جو غریب اور مرسل ہے اور ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
دوسری سند سے مروی ہے دو شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے آپ نے حق والے کے حق میں ڈگری دے دی لیکن جس کے خلاف ہوا تھا اس نے کہا میں راضی نہیں ہوں آپ نے پوچھا تو کیا چاہتا ہے؟ کہا یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں دونوں وہاں پہنچے جب یہ واقعہ جناب سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سنا تو فرمایا تمہارا فیصلہ وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ اب بھی خوش نہ ہوا اور کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو وہاں گئے پھر وہ ہوا جو آپ نے اوپر پڑھا۔ ۱؎ [مسند الفاروق:575/2:مرسل و ضعیف] (تفسیر حافظ ابواسحاق)