تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا......:} اپنی جان پر ظلم کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا اور آپ سے استغفار کروانا آپ کی زندگی کے ساتھ خاص تھا، آپ کی وفات کے بعد کسی صحابی سے ثابت نہیں کہ وہ آپ کی قبر مبارک پر آیا ہو اور آپ سے دعا کرنے کی درخواست کی ہو۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہاں ایک بدوی کی حکایت نقل کی ہے، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس آکر یہ آیت پڑھتے ہوئے کچھ شعر پڑھے اور کہا کہ میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور آپ کو سفارشی بناتا ہوں، اس پر قبر انور کے پاس بیٹھنے والے ایک شخص نے کہا، خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہے: ”اس بدوی کو بخش دیاگیا ہے۔“ لیکن یہ ایک حکایت ہے جو آیت کی مناسبت سے ذکر کر دی گئی ہے، یہ نہ آیت کی تفسیر ہے نہ حدیث ہے۔ ”الصارم المنکی (ص: ۲۳۸)“ میں لکھا ہے کہ اس حکایت کی سند نہایت کمزور ہے اور نبی کے خواب کے علاوہ کسی کا خواب دین میں دلیل بھی نہیں بنتا۔ آیت سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں آپ سے دعائے مغفرت کروائی جا سکتی تھی، مگر آپ کی وفات کے بعد اس آیت کی رو سے قبر پر جا کر سفارش اور دعا کی درخواست کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔
➌ { جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ:} اللہ تعالیٰ کی بخشش حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ و استغفار ضروری اور کافی ہے، لیکن یہاں جو کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر! وہ تیرے پاس آتے اور اللہ سے بخشش مانگتے اور تو بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتا، تو یہ اس لیے کہ چونکہ انھوں نے جھگڑے کے فیصلے کے لیے دوسروں کی طرف رجوع کر کے آپ کی شان کے نا مناسب حرکت کی تھی، اس لیے اس کے ازالے کے لیے انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی تاکید فرمائی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابو منصور صباغ نے اپنی کتاب میں جس میں مشہور قصے لکھے ہیں لکھا ہے کہ عتبی کا بیان ہے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربت کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے قرآن کریم کی اس آیت کو سنا اور آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے سامنے اپنے گناہوں کا استغفار کروں اور آپ کی شفاعت طلب کروں پھر اس نے یہ اشعار پڑھے «باخیر من دفنت بالقاع اعظمہ» «فطاب من طیبھن القاع والا کم» «نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ» «فیہ لعاف وفیہ الجودو الکرم»
پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی خواب میں کیا دیکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرما رہے ہیں جا اس اعرابی کو خوشخبری سنا اللہ نے اس کے گناہ معاف فرما دئیے (یہ خیال رہے کہ نہ تو یہ کسی حدیث کی کتاب کا واقعہ ہے نہ اس کی کوئی صحیح سند ہے) بلکہ آیت کا یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تھا وصال کے بعد نہیں جیسے کہ «جَاءُوكَ» کا لفظ بتلا رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ ’ ہر انسان کا ہر عمل اس کی موت کے ساتھ منقطع ہو جاتا ہے ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:1631] «وَاللهُ اَعْلَمُ» (مترجم)
پس فرمان ہے کہ تیرے احکام کو یہ کشادہ دلی سے تسلیم کر لیا کریں اپنے دل میں پسندیدگی نہ لائیں تسلیم کلی تمام احادیث کے ساتھ رہے، نہ تو احادیث کے ماننے سے رکیں نہ انہیں ہٹانے کے اسباب ڈھونڈیں نہ ان کے مرتبہ کی کسی اور چیز کو سمجھیں نہ ان کی تردید کریں نہ ان کا مقابلہ کریں نہ ان کے تسلیم کرنے میں جھگڑیں جیسے فرمان رسول ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اس چیز کا تابع نہ بنا دے جسے میں لایا ہوں }۔ ۱؎ [فتح الباری:289/13،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ جس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کشادگی ہو جائے لیکن جب انصاری نے اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [4-النساء:65] اسی بارے میں نازل ہوئی ہے،
مسند احمد کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ یہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری تھے ۱؎ [صحیح بخاری:2708] اور روایت میں ہے دونوں میں جھگڑا یہ تھا کہ پانی کی نہر سے پہلے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ پڑتا تھا پھر اس انصاری کا انصاری کہتے تھے کہ پانی روکو مت یونہی پانی دونوں باغوں میں ایک ساتھ آئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2359]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دوسرے سے پوچھا کیا یہ سچ ہے؟ اس نے اقرار کیا آپ نے فرمایا اچھا تم دونوں یہاں ٹھہرو میں آتا ہوں اور فیصلہ کر دیتا ہوں تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تلوار تانے آ گئے اور اس شخص کی جس نے کہا تھا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیجئیے گردن اڑا دی دوسرا شخص یہ دیکھتے ہی دوڑا بھاگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور اگر میں بھی جان بچا کر بھاگ کر نہ آتا تو میری بھی خیر نہ تھی۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عمر کو ایسا نہیں جانتا تھا کہ وہ اس جرات کے ساتھ ایک مومن کا خون بہا دے گا } اس پر یہ آیت اتری اور اس کا خون برباد گیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بری کر دیا، لیکن یہ طریقہ لوگوں میں اس کے بعد بھی جاری نہ ہو جائے اس لیے اس کے بعد ہی یہ آیت اتری «وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ» ۱؎ [4-النساء:66] جو آگے آتی ہے۔ (ابن ابی حاتم) ابن مردویہ میں بھی یہ روایت ہے جو غریب اور مرسل ہے اور ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى خبراً في ضمنِهِ الأمرُ والحثُّ على طاعة الرسول والانقيادِ له، وأنَّ الغاية من إرسال الرسل أن يكونوا مطاعين ينقادُ لهم المرسَل إليهم في جميع ما آمروا به ونَهوا عنه، وأن يكونوا معظَّمين تعظيمَ المطاع للمطيع ، وفي هذا إثبات عصمة الرُّسل فيما يبلِّغونَهُ عن اللهِ وفيما يأمرونَ به ويَنْهَوْنَ عنه؛ لأنَّ الله أمر بطاعتهم مطلقاً؛ فلولا أنهم معصومون لا يشرعون ما هو خطأ؛ لما أمر بذلك مطلقاً. وقوله: {بإذن الله}؛ أي: الطاعة من المطيع صادرة بقضاء الله وقدرِهِ؛ ففيه إثباتُ القضاء والقَدَر، والحثُّ على الاستعانة بالله، وبيان أنَّه لا يمكَّنُ الإنسان إن لم يُعِنْه الله أن يطيع الرسول.
ثم أخبر عن كرمِهِ العظيم وجُودِهِ ودعوته لمن اقترف السيِّئات أن يعترِفوا ويتوبوا ويستغفِروا الله، فقال: {ولو أنَّهم إذ ظَلَموا أنفُسَهم جاؤوك}؛ أي: معترفين بذنوبهم باخِعين بها. {فاستَغْفَروا الله واستغفرَ لهم الرسولُ لوجدوا الله توَّاباً رحيماً}؛ أي: لتاب عليهم بمغفرتِهِ ظُلْمَهم ورَحِمَهُم بقَبول التوبة والتوفيق لها والثواب عليها. وهذا المجيء إلى الرسول - صلى الله عليه وسلم - مختصٌّ بحياتِهِ؛ لأنَّ السياق يدلُّ على ذلك؛ لكون الاستغفار من الرسول لا يكون إلاَّ في حياتِهِ، وأمَّا بعد موتِهِ؛ فإنَّه لا يطلب منه شيءٌ، بل ذلك شركٌ.