تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ابن عاشور فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ تمہید ہے جہاد کے ان احکام کی جو ساتھ ہی شروع ہو رہے ہیں: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا }» [النساء: ۷۱] اور ان آیات کے ساتھ مناسبت یہ بھی ہے کہ اگر ہم ان پر ہجرت یا قتال یعنی «{ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ }» فرض کر دیتے تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے، لیکن اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور بے شمار اجر کا باعث ہوتا۔ یعنی ابھی تو ایمان کے اعلیٰ مدارج جو اسلام کی کوہان کی چوٹی ہیں، ان کا حکم بھی آنے والا ہے، کجا یہ کہ یہ لوگ فیصلے بھی کہیں اور سے کروانا چاہتے ہیں۔ [التحریر والتنویر]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھ کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں }۔ ۱؎ [الدر المنثور للسیوطی:324/2:مرسل و ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض الموت کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، اور نیکوکار ہیں۔ یہ سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4463] یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ { اے اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہو گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4463] علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔
مسند احمد میں ہے ایک شخص نے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:146/8:ضعیف]
ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاح اور مسانید وغیرہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت سے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا (حدیث) «اَلمْـَرْءُ مَـعَ مَـنْ اَحَبَّ» { ہر انسان اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا } سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3688]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنتی حبشی تو ایسا گورا چٹا ہوکر جنت میں جائے گا کہ اسکا پنڈا ایک ہزار برس کے فاصلے ہی نورانیت کے ساتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔ } پھر فرمایا { «لا الہ الا اللہ» کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہنے والے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں }
اس پر ایک اور صاحب نے کہا { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک نعمت جو کھڑی ہوگئی محض اسکے شکریہ میں یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے }
اور یہ آیتیں اتریں «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» سے «وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا» تک۔ ۱؎ [76-الإنسان:1-20] { تو حبشی صحابی رضی اللہ عنہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں } اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے رضی اللہ عنہ وارضاہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اتار رہے تھے ۱؎ [طبرانی کبیر:13595:ضعیف] یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے، اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ مستحق ہدایت و توفیق کون ہے؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه لو كَتَبَ على عباده الأوامرَ الشاقَّة على النفوس من قتل النفوس والخروج من الدِّيار؛ لم يفعلْه إلا القليلُ منهم والنادرُ؛ فَلْيَحْمَدوا ربَّهم ولْيَشْكُروه على تيسير ما أمَرَهم به من الأوامر التي تَسْهُلُ على كلِّ أحدٍ ولا يشقُّ فعلُها، وفي هذا إشارةٌ إلى أنه ينبغي أن يَلْحَظَ العبدُ ضدَّ ما هو فيه من المكروهات؛ لتخفَّ عليه العباداتُ، ويزدادَ حمداً وشكراً لربِّه.
ثم أخبر أنَّهم لو {فعلوا ما يُوعَظونَ به}؛ أي: ما وُظِّفَ عليهم في كلِّ وقتٍ بحسبه، فبذلوا هممهم، ووفَّروا نفوسهم للقيام به وتكميله، ولم تطمح نفوسهم لما لم يَصِلوا إليه، ولم يكونوا بصدده، وهذا هو الذي ينبغي للعبد أن ينظر إلى الحالة التي يلزمُهُ القيام بها، فيكملها، ثم يتدرَّج شيئاً فشيئاً، حتى يصلَ إلى ما قُدِّر له من العلم والعمل في أمر الدين والدُّنيا، وهذا بخلاف من طمحتْ نفسُهُ إلى أمرٍ لم يصلْ إليه ولم يؤمرْ به بعدُ؛ فإنه لا يكاد يصل إلى ذلك بسبب تفريق الهمة وحصول الكسل وعدم النشاط؛ ثم رتَّب ما يحصُلُ لهم على فعل ما يوعظون به، وهو أربعةُ أمورٍ:
أحدها: الخيريَّةَ في قوله: {لكان خيراً لهم}؛ أي: لكانوا من الأخيار المتَّصفين بأوصافِهِم من أفعال الخير التي أُمروا بها؛ أي: وانتفى عنهم بذلك صفة الأشرار؛ لأنَّ ثبوت الشيء يستلزم نفي ضدِّه.
الثاني: حصول التثبيت والثبات وزيادتُه؛ فإنَّ الله يثبِّتُ الذين آمنوا بسبب ما قاموا به من الإيمان الذي هو القيام بما وُعِظوا به، فيثبِّتُهم في الحياة الدُّنيا عند ورود الفتن في الأوامر والنواهي والمصائب، فيحصُل لهم ثباتٌ يوفَّقون به لفعل الأوامر وترك الزواجر التي تقتضي النفسُ فعلها وعند حلول المصائب التي يكرهها العبدُ، فيوفَّق للتثبيت بالتوفيق للصبر أو للرِّضا أو للشكر، فينزل عليه معونةٌ من الله للقيام بذلك، ويحصُلُ لهم الثبات على الدين عند الموت وفي القبر. وأيضاً؛ فإن العبد القائم بما أمر به لا يزال يتمرَّن على الأوامر الشرعية حتى يألفَها ويشتاقَ إليها وإلى أمثالها فيكون ذلك معونةً له على الثبات على الطاعات.