ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 6

وَ ابۡتَلُوا الۡیَتٰمٰی حَتّٰۤی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ۚ فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ ۚ وَ لَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسۡرَافًا وَّ بِدَارًا اَنۡ یَّکۡبَرُوۡا ؕ وَ مَنۡ کَانَ غَنِیًّا فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡ ۚ وَ مَنۡ کَانَ فَقِیۡرًا فَلۡیَاۡکُلۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ فَاِذَا دَفَعۡتُمۡ اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ فَاَشۡہِدُوۡا عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیۡبًا ﴿۶﴾
اور یتیموں کو آزماتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں، پھر اگر تم ان سے کچھ سمجھ داری معلوم کرو تو ان کے مال ان کے سپرد کردو اور فضول خرچی کرتے ہوئے اور اس سے جلدی کرتے ہوئے انھیں مت کھائو کہ وہ بڑے ہو جائیں گے۔ اور جو غنی ہو تو وہ بہت بچے اور جو محتاج ہو تو وہ جانے پہچانے طریقے سے کھالے، پھر جب ان کے مال ان کے سپرد کرو تو ان پر گواہ بنا لو اور اللہ پورا حساب لینے والا کافی ہے۔ En
اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے
En
اور یتیموں کو ان کے بالﻎ ہو جانے تک سدھارتے اور آزماتے رہو پھر اگر ان میں تم ہوشیاری اور حسن تدبیر پاؤ تو انہیں ان کے مال سونﭗ دو اور ان کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے ان کے مالوں کو جلدی جلدی فضول خرچیوں میں تباه نہ کر دو، مال داروں کو چاہئے کہ (ان کے مال سے) بچتے رہیں، ہاں مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق واجبی طور سے کھالے، پھر جب انہیں ان کے مال سونپو تو گواه بنا لو، دراصل حساب لینے واﻻ اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ {وَ ابْتَلُوا الْيَتٰمٰى …:} بلوغت کے لیے مرد کی علامت احتلام اور عورت کی حیض ہے، علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے (بلوغت کے سلسلے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یہ یاد رکھا ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور دن سے لے کر رات تک خاموشی نہیں۔ [أبو داوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم: ۲۸۷۳، و قال الألبانی صحیح]
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قریظہ کے دن ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو جس کے (زیر ناف) بال اگے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے بال نہیں اگے تھے اسے قتل نہیں کیا گیا، میں ان میں سے تھا جن کے بال ابھی نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔ [أبو داوٗد، الحدود، باب فی الغلام یصیب الحد: ۴۴۰۴، و قال الألبانی صحیح]
جنگ میں شرکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو چودہ سال کی عمر میں احد میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ خندق میں جائزہ لیا گیا تو پندرہ سال کے تھے، آپ نے اجازت دے دی۔ نافع نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو یہ حدیث پہنچائی تو انھوں نے کہا: بچے اور بڑے کا یہی فرق ہے۔ [بخاری، الشہادات، باب بلوغ الصبیان…: ۲۶۶۴] مگر ظاہر ہے کہ یہ فرق بچے اور اس بڑے کا ہے جسے جنگ میں شرکت کی اجازت ہے۔ محض بلوغت کی علامت احتلام ہے، اگر اس کا علم نہ ہو سکے تو زیر ناف بال اگنا ہے۔
➋ {فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا:} یعنی یتیموں کا امتحان اور ان کی تربیت کرتے رہو، جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پہلے تھوڑا سا مال دے کر ان کو کسی کام پر لگا کر دیکھو کہ آیا وہ مال کو بڑھاتے ہیں یا نہیں، پھر جب وہ بالغ ہو جائیں اور ان میں رشد ہو تو بلا توقف مال ان کے حوالے کر دو۔ { رُشْدًا } سے مراد عقلی اور دینی صلاحیت ہے، پس بالغ ہونے کے علاوہ مال کی سپرد داری کے لیے رشد بھی شرط ہے، اگر کسی شخص میں رشد نہیں ہے تو خواہ وہ بوڑھا ہی کیوں نہ ہو جائے متولی یا وصی کو چاہیے کہ وہ مال اس کے حوالے نہ کرے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
➌ { فَلْيَسْتَعْفِفْ عَفَّ يَعِفُّ (ض) } کا معنی بچنا ہے، { فَلْيَسْتَعْفِفْ } کا باب استفعال میں حروف کی زیادتی کی وجہ سے ترجمہ بہت بچے کیا گیا ہے۔
➍ {وَ مَنْ كَانَ فَقِيْرًا …:} جانا پہچانا طریقہ یہی ہے کہ اس کے اموال کی نگرانی کی اجرت جو معروف ہے، لے لے۔ دوسرا یہ کہ زیادہ سے زیادہ اتنا لے لے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔
➎ {فَاَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْ:} یتیم کے متولی یا وصی کو حکم ہے کہ گواہوں کے رو برو مال واپس کرے، تاکہ کل کو اس پر کوئی الزام نہ آئے۔ {وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا} کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کو تو مطمئن کر لو گے، مگر اصل حساب تو اللہ تعالیٰ نے لینا ہے، اس کا خاص خیال رکھو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یتیموں کے مال کے بارے میں ضروری ہدایات دینے کے بعد یہ فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تمہارے پاس رہا، تم اس کی کس طرح حفاظت کی اور جب مال ان کے سپرد کیا تو اس میں کوئی کمی بیشی یا کسی قسم کی تبدیلی کی یا نہیں، عام لوگوں کو تو تمہاری امانت داری یا خیانت کا شاید پتہ نہ چلے۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز چھپی نہیں۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے، کہ یہ بہت ذمہ داری کا کام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا " ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں، جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں، تم دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا، نہ کسی یتیم کے مال کا والی اور سرپرست " (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو تا آنکہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان میں اہلیت [9] معلوم کرو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو اور ضرورت سے زیادہ اور موزوں وقت سے پیشتر اس ارادہ سے ان کا [10] مال نہ کھاؤ کہ وہ بڑے ہو کر اس کا مطالبہ کریں گے۔ اور جو سرپرست کھاتا پیتا ہو اسے چاہئے کہ یتیم کے مال سے کچھ نہ لے اور جو محتاج ہو وہ اپنا حق الخدمت دستور [11] کے مطابق کھا سکتا ہے۔ پھر جب تم یتیموں کا مال انہیں واپس کرو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو۔ اور (یہ بھی یاد رکھنا کہ)[12] حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے
[9] نادان کو مال کی واپسی کی شرائط:۔
گویا یتیموں کو ان کا مال واپس کرنے کے لیے دو شرطیں ہیں۔ ایک بلوغت دوسرے رشد۔ یعنی مال کے صحیح طور پر استعمال کرنے کی اہلیت۔ یہ اہلیت معلوم کرنے کے لیے تمہیں ان کا تجربہ کرتے رہنا چاہیے اور یہ چیزیں معمولی معمولی باتوں سے بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ آیا وہ کفایت شعار ہے یا اجاڑنے والا ہے۔ خرید و فروخت کیسے کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جب تک یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں اس کا مال اس کے حوالہ نہ کرنا چاہیے اور اس صورت میں اس کا حکم وہی ہو گا جو مذکورہ بالا آیت میں نادانوں کے سلسلہ میں ذکر ہوا ہے۔ بلوغت کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ گرم ممالک میں لڑکے لڑکیاں جلد بالغ ہو جاتے ہیں۔ جبکہ سرد ممالک میں دیر سے ہوتے ہیں۔ البتہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کچھ ایسی علامات ضرور ہیں جو ان کے بالغ ہونے کا پتہ دیتی ہیں مثلاً لڑکوں کو احتلام ہونا اور عورتوں کو حیض آنا۔ اور چھاتیوں کا ابھر آنا خاص علامات ہیں۔ پھر کچھ علامات ایسی بھی ہیں جو ان دونوں نوعوں میں یکساں پائی جاتی ہیں۔ جیسے عقل داڑھ کا اگنا۔ آواز کا نسبتاً بھاری ہونا جسے گھنڈی پھوٹنا بھی کہتے ہیں اور بغلوں کے نیچے اور زیر ناف بال اگنا اور صرف مردوں کے لیے داڑھی اور مونچھ کے بال اگنا ہے اور ان سب میں سے پکی علامتیں وہی ہیں جو پہلے مذکور ہوئیں یعنی لڑکوں کو احتلام اور عورتوں کو حیض آنا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں نکاح نامہ پر بلوغت کی جو عمر درج ہے کہ لڑکی 16 سال سے اور لڑکا 18 سال سے کم نہ ہو یہ حد بندی غیر شرعی ہے۔ اور بالغ ہونے کے بعد ہی نکاح کی قید لگانا بھی غیر شرعی ہے۔ نیز اس میں نکاح ثانی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنے کی شرط بھی غیر شرعی ہے۔ اسی طرح عورت کے حق طلاق کی شق بھی غیر شرعی ہے۔
[10] یہاں پھر دو ایسی باتوں کا ذکر ہوا ہے جن سے یتیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ضرورت سے زیادہ مال خرچ کیا جائے اور دوسرے یہ کہ بلا ضرورت یا ضرورت پیش آنے سے پہلے ہی خرچ کیا جائے تاکہ وہ بڑے ہو کر اس کا مطالبہ نہ کرنے لگیں۔ اور یہ سب بد دیانتی کی راہیں ہیں جن سے یتیم کا نقصان ہو جاتا ہے لہٰذا ہر ایسی صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔
[11] یتیم کے ولی کا حق الخدمت:۔
یتیم کا متولی اگر کوئی کھاتا پیتا شخص ہے تو اسے یتیم کے مال میں سے حق الخدمت کے طور پر کچھ لینا قطعاً نا جائز ہے۔ ہاں اگر متولی تنگدست ہے تو مال کے تجارت پر لگانے اور حق المحنت کے طور پر ایسا واجبی سا خرچہ لے سکتا ہے جسے کوئی غیر جانبدار آدمی بھی واجبی قرار دے۔ نیز جو کچھ وہ حق الخدمت لے چوری چھپے نہ لے۔ بلکہ اعلانیہ متعین کر کے لے اور اس کا حساب رکھے۔
[12] جب یتیم میں مندرجہ بالا دونوں شرطیں پائی جائیں تو اس کا مال اسے واپس کر دیا جائے اور اس پر دو گواہ بھی بنا لیے جائیں تاکہ بعد میں اگر کوئی جھگڑا ہو یا کوئی چیز بعد میں یاد آئے تو اس کا تصفیہ کرنے میں آسانی رہے اور اگر یہ تحریری صورت میں ہو تو اور بھی بہتر ہے۔ اور پوری دیانتداری سے یہ فریضہ سرانجام دو۔ کیونکہ سب سے بڑا گواہ تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اور بد دیانتی کی صورت میں پورا پورا حساب لینے پر قادر بھی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کم عقل اور یتیموں کے بارہ میں احکامات ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے مال کے خرچ سے روک دینا چاہیئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مجنون و دیوانہ ہو یا کم عقل، بیوقوف ہو اور بےدین ہو، بری طرح اپنے مال کو لٹا رہا ہو، اسی طرح ایسا شخص جس پر قرض بہت چڑھ گیا ہو جسے وہ اپنے کل مال سے بھی ادا نہیں کر سکتا اگر قرض خواہ حاکم وقت سے درخواست کریں تو حاکم وہ سب مال اس کے قبضے سے لے لے گا اور اسے بےدخل کر دے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں «السُّفَهَاءَ» سے مراد تیری اولاد اور عورتیں ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7]‏‏‏‏
اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حکم بن عبینہ، حسن اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7]‏‏‏‏
سعید بن جبیر فرماتے ہیں یتیم مراد ہیں، مجاہد عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ عورتیں مراد ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک عورتیں بیوقوف ہیں مگر جو اپنے خاوند کی اطاعت گزار ہوں۱؎ (‏‏‏‏ضعیف: اس کی سند میں عثمان بن ابی عاتکہ اور بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں)‏‏‏‏‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث مطول مروی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرکش خادم ہیں۔
پھر فرماتا ہے انہیں کھلاؤ پہناؤ اور اچھی بات کہو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں یعنی تیرا مال جس پر تیری گزر بسر موقوف ہے اسے اپنی بیوی بچوں کو نہ دے ڈال کہ پھر ان کا ہاتھ تکتا پھرے بلکہ اپنا مال اپنے قبضے میں رکھ اس کی اصلاح کرتا رہ اور خود اپنے ہاتھ سے ان کے کھانے کپڑے کا بندوبست کر اور ان کے خرچ اٹھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریرالطبری:7/570]‏‏‏‏
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور پھر بھی وہ اسے طلاق نہ دے دوسرا وہ شخص جو اپنا مال بیوقوف کو دیدے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے بیوقوف کو اپنا مال نہ دو تیسرا وہ شخص جس کا قرض کسی پر ہو اور اس نے اس قرض پر کسی کو گواہ نہ کیا ہو۔ ان سے بھلی بات کہو یعنی ان سے نیکی اور صلہ رحمی کرو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ محتاجوں سے سلوک کرنا چاہیئے اسے جسے بالفعل تصرف کا حق نہ ہو اس کے کھانے کپڑے کی خبرگیری کرنی چاہیئے اور اس کے ساتھ نرم زبانی اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہیئے۔
پھر فرمایا یتیموں کی دیکھ بھال رکھو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں، یہاں نکاح سے مراد بلوغت ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریرالطبری:7/584]‏‏‏‏ اور بلوغت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب اسے خاص قسم کے خواب آنے لگیں جن میں خاص پانی اچھل کر نکلتا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی یاد ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور نہ تمام دن رات چپ رہنا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
دوسری حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے جب تک بالغ نہ ہو، سوتے سے جب تک جاگ نہ جائے، مجنوں سے جب تک ہوش نہ آ جائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4398،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ پس ایک تو علامت بلوغ یہ ہے۔
دوسری علامت بلوغ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر ہو جائے اس کی دلیل بخاری مسلم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ احد والی لڑائی میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ اس لیے نہیں لیا تھا کہ اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی اور خندق کی لڑائی میں جب میں حاضر کیا گیا تو آپ نے قبول فرما لیا اس وقت میں پندرہ سال کا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2664]‏‏‏‏
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو آپ نے فرمایا: نابالغ بالغ کی حد یہی ہے،
تیسری علامت بلوغت کی زیر ناف کے بالوں کا نکلنا ہے، اس میں علماء کے تین قول ہیں ایک یہ کہ علامت بلوغ ہے دوسرے یہ کہ نہیں تیسرے یہ کہ مسلمانوں میں نہیں اور ذمیوں میں ہے اس لیے کہ ممکن ہے کسی دوا سے یہ بال جلد نکل آتے ہوں اور ذمی پر جوان ہوتے ہی جزیہ لگ جاتا ہے تو وہ اسے کیوں استعمال کرنے لگا؟
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سب کے حق میں یہ علامت بلوغت ہے کیونکہ اولاً تو جلی امر ہے علاج معالجہ کا احتمال بہت دور کا احتمال ہے ٹھیک یہی ہے کہ یہ بال اپنے وقت پر ہی نکلتے ہیں۔
دوسری دلیل مسند احمد کی حدیث ہے، جس میں سیدنا عطیہ قرضی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو قریظہ کی لڑائی کے بعد ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے حکم دیا کہ ایک شخص دیکھے جس کے یہ بال نکل آئے ہوں اسے قتل کر دیا جائے اور نہ نکلے ہوں اسے چھوڑ دیا جائے چنانچہ یہ بال میرے بھی نہ نکلے تھے مجھے چھوڑ دیا گیا،۱؎ [سنن ابوداود:4404،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو کر یہ قبیلہ لڑائی سے باز آیا تھا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عن نے یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے لڑنے والے تو قتل کر دئیے جائیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں۔
غرائب ابی عبید میں ہے کہ ایک لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کی نسبت کہا کہ میں نے اس سے بدکاری کی ہے دراصل یہ تہمت تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے تہمت کی حد لگانی چاہی لیکن فرمایا دیکھ لو اگر اس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوں تو اس پر حد جاری کرو ورنہ نہیں دیکھا تو آگے نہ تھے چنانچہ اس پر سے حد ہٹا دی۔
پھر فرماتا ہے جب تم دیکھو کہ یہ اپنے دین کی صلاحیت اور مال کی حفاظت کے لائق ہو گئے ہیں تو ان کے ولیوں کو چاہیئے کہ ان کے مال انہیں دے دیں۔ بغیر ضروری حاجت کے صرف اس ڈر سے کہ یہ بڑے ہوتے ہی اپنا مال ہم سے لے لیں گے تو ہم اس سے پہلے ہی ان کے مال کو ختم کر دیں ان کا مال نہ کھاؤ۔ جسے ضرورت نہ ہو خود امیر ہو کھاتا پیتا ہو تو اسے تو چاہیئے کہ ان کے مال میں سے کچھ بھی نہ لے، مردار اور بہے ہوئے خون کی طرح یہ مال ان پر حرام محض ہے، ہاں اگر والی مسکین محتاج ہو تو بیشک اسے جائز ہے کہ اپنی پرورش کے حق کے مطابق وقت کی حاجت اور دستور کے موجب اس مال میں سے کھا پی لے اپنی حاجت کو دیکھے اور اپنی محنت کو، اگر حاجت محنت سے کم ہو تو حاجت کے مطابق لے اور اگر محنت حاجت سے کم ہو تو محنت کا بدلہ لے لے، پھر ایسا ولی اگر مالدار بن جائے تو اسے اس کھائے ہوئے اور لیے ہوئے مال کو واپس کرنا پڑے گا یا نہیں؟
اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہو گا اس لیے کہ اس نے اپنے کام کے بدلے لے لیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں کے نزدیک یہی صحیح ہے، اس لیے کہ آیت نے بغیر بدل کے مباح قرار دیا ہے۔
اور مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال نہیں ایک یتیم میری پرورش میں ہے تو کیا میں اس کے کھانے سے کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس یتیم کا مال اپنے کام میں لا سکتا بشرطیکہ حاجت سے زیادہ نہ اڑا، نہ جمع کر، نہ یہ ہو کہ اپنے مال کو تو بچا رکھے اور اس کے مال کو کھاتا چلا جائے۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:186/2:جید اسناد]‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2872،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
ابن حبان وغیرہ میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے یتیم کو ادب سکھانے کے لیے ضرورتاً کس چیز سے ماروں؟ فرمایا:جس سے تو اپنے بچے کو تنبیہہ کرتا ہے اپنا مال بچا کر اس کا مال خرچ نہ کر نہ اس کے مال سے دولت مند بننے کی کوشش کر۱؎ [صحیح ابن حبان:4244]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میرے پاس بھی اونٹ ہیں اور میرے ہاں جو یتیم پل رہے ہیں ان کے بھی اونٹ ہیں میں اپنی اونٹنیاں دودھ پینے کے لیے فقیروں کو تحفہ دے دیتا ہوں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ ان یتیموں کی اونٹنیوں کا دودھ پی لوں؟ آپ نے فرمایا اگر ان یتیموں کی گمشدہ اونٹنیوں کو تو ڈھونڈ لاتا ہے ان کے چارے پانی کی خبرگیری رکھتا ہے، ان کے حوض درست کرتا رہتا ہے اور ان کی نگہبانی کیا کرتا ہے تو بیشک دودھ سے نفع بھی اٹھا لیکن اس طرح کہ نہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچے،نہ حاجت سے زیادہ لے، ۱؎ [موطا:33/2،934]‏‏‏‏
عطاء بن رباح عکرمہ ابراہیم نخعی عطیہ عوفی حسن بصری رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ تنگ دستی کے دور ہو جانے کے بعد وہ مال یتیم کو واپس دینا پڑے گا اس لیے کہ اصل تو ممانعت ہے البتہ ایک وجہ سے جواز ہو گیا تھا جب وہ وجہ جاتی رہی تو اس کا بدل دینا پڑے گا جیسے کوئی بےبس اور مضطر ہو کر کسی غیر کا مال کھا لے لیکن حاجت کے نکل جانے کے بعد اگر اچھا وقت آیا تو اسے واپس دینا ہو گا، دوسری دلیل یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب تخت خلافت پر بیٹھے تو اعلان فرمایا تھا کہ میری حیثیت یہاں یتیم کے والی کی حیثیت ہے اگر مجھے ضرورت ہی نہ ہوئی تو میں بیت المال سے کچھ نہ لوں گا اور اگر محتاجی ہوئی تو بطور قرض لوں گا جب آسانی ہوئی پھر واپس کر دوں گا (‏‏‏‏ابن ابی الدنیا) یہ حدیث سعید بن منصور میں بھی ہے اور اس کی سند صحیح ہے، بیہقی میں بھی یہ حدیث ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کے اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ بطور قرض کھائے اور بھی مفسرین سے یہ مروی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں معروف سے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھائے اور روایت میں آپ سے یہ مروی ہے کہ وہ اپنے ہی مال کو صرف اپنی ضرورت پوری ہو جانے کے لائق ہی خرچ کرے تاکہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ پڑے۔
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر ایسی بےبسی ہو جس میں مردار کھانا جائز ہو جاتا ہے تو بیشک کھا لے لیکن پھر ادا کرنا ہو گا، یحییٰ بن سعید انصار اور ربیعہ رحمہ اللہ علیہم سے اس کی تفسیر یوں مروی ہے کہ اگر یتیم فقیر ہو تو اس کا ولی اس کی ضرورت کے موافق دے اور پھر اس ولی کو کچھ نہ ملے گا، لیکن عبارت میں یہ ٹھیک نہیں بیٹھتا اس لیے کہ اس سے پہلے یہ جملہ بھی ہے کہ جو غنی ہو وہ کچھ نہ لے، یعنی جو ولی غنی ہو تو یہاں بھی یہی مطلب ہو گا جو ولی فقیر ہو نہ یہ کہ جو یتیم فقیر ہو۔
دوسری آیت میں ہے: «وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ» [6-الأنعام:152]‏‏‏‏ الخ یعنی ’ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ ہاں بطور اصلاح کے پھر اگر تمہیں حاجت ہو تو حسب حاجت بطریق معروف اس میں سے کھاؤ پیو ‘۔
پھر اولیاء سے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اور تم دیکھ لو کہ ان میں تمیز آ چکی ہے تو گواہ رکھ کر ان کے مال ان کے سپرد کر دو، تاکہ انکار کرنے کا وقت ہی نہ آئے، یوں تو دراصل سچا شاہد اور پورا نگراں اور باریک حساب لینے والا اللہ ہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ولی نے یتیم کے مال میں نیت کیسی رکھی؟ آیا خورد برد کیا تباہ و برباد کیا جھوٹ سچ حساب لکھا اور دیا یا صاف دل اور نیک نیتی سے نہایت چوکسی اور صفائی سے اس کے مال کا پورا پورا خیال رکھا اور حساب کتاب صاف رکھا، ان سب باتوں کا حقیقی علم تو اسی دانا و بینا نگران و نگہبان کو ہے۔
صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ناتواں پاتا ہوں اور جو اپنے لیے چاہتا ہوں وہی تیرے لیے بھی پسند کرتا ہوں خبردار! ہرگز دو شخصوں کا بھی سردار اور امیر نہ بننا نہ کبھی کسی یتیم کا ولی بننا۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح مسلم:1826]‏‏‏‏